<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خلائی_تحقیق &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ae%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c_%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:49 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>خلائی_تحقیق &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>چین نے خلا میں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کے دو نئے گروپ روانہ کر دیے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/2113/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/2113/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 09:58:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جیوکوان]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_مشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%da%86%db%8c%d9%86-%d9%86%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d9%85%d9%88%d9%b9-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%b3%d9%86%da%af-%d8%b3%db%8c%d9%b9%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%b9%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[چین نے جیوکوان لانچ سینٹر سے یاؤگان سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں روانہ کر کے مقررہ مدار میں پہنچا دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">چین نے خلائی تحقیق، زمینی مشاہدے اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کے دو نئے گروپس کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر دیے ہیں۔ یہ خلائی مشن بیجنگ کے وقت کے مطابق ہفتے کی صبح عمل میں لایا گیا، جس کے دوران جدید ترین سیٹلائٹس کو انتہائی کامیابی کے ساتھ ان کے مقررہ مدار میں داخل کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں ملک کے معروف اور انتہائی اہم جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے یہ تمام کارروائی انجام دی گئی، جہاں تمام متعلقہ حکام، خلائی سائنسدان اور تکنیکی ماہرین موجود تھے۔ سیٹلائٹس کی روانگی کا یہ پیچیدہ عمل انتہائی کامیابی کے ساتھ طے شدہ مراحل کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصول ہونے والی تفصیلی رپورٹس کے مطابق خلا میں بھیجے جانے والے ان سیٹلائٹس میں یاؤگان ترپنواں گروپ شامل ہے جس کے سیٹلائٹس سات سے نو تک ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ہی یاؤگان چھپنواں گروپ بھی بھیجا گیا ہے جس کے سیٹلائٹس انیس سے اکیس تک پر مشتمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تمام جدید مصنوعی سیارے بغیر کسی تکنیکی رکاوٹ یا تاخیر کے پوری طرح کامیابی کے ساتھ اپنے مقررہ مدار میں داخل ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنے طے شدہ فرائض کی انجام دہی کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام مصنوعی سیاروں کو خلا میں کامیابی سے پہنچانے کے لیے طاقتور لانگ مارچ فور بی کیریئر راکٹ کا باقاعدہ استعمال کیا گیا، جس نے اس خلائی مشن کو بہترین انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس تسلیم شدہ راکٹ کے ذریعے سیٹلائٹس کو ان کے مطلوبہ مقام پر درستگی کے ساتھ نصب کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، یہ خلائی مشن دراصل معروف لانگ مارچ کیریئر راکٹ سیریز کا مجموعی طور پر چھ سو تہتر واں فلائٹ مشن تھا۔ یہ سنگ میل چینی خلائی پروگرام کی مسلسل کامیابی اور اس کی جدید تکنیکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلا میں بھیجے گئے یہ جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس بنیادی طور پر متعدد کثیر المقاصد سائنسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ ان کا وسیع دائرہ کار سائنسی تجربات کے ساتھ ساتھ اہم زمینی امور کا احاطہ کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان جدید سیٹلائٹس کی مدد سے زمین کے جغرافیائی حالات اور قدرتی وسائل کا تفصیلی سروے کیا جائے گا، جو ملکی ترقی، منصوبہ بندی اور وسائل کے موثر اور بہتر استعمال میں بھرپور مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ یہ جدید خلائی آلات مختلف ماحولیاتی اور موسمیاتی معلومات فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے، جس سے متعلقہ اداروں کو موسمی تبدیلیوں اور دیگر زمینی تغیرات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زراعت کے اہم شعبے میں بھی ان سیٹلائٹس سے بھرپور مدد لی جائے گی، بالخصوص فصلوں کی پیداوار کا درست تخمینہ لگانے اور زرعی معیشت کو بہتر بنانے میں یہ انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔ اس سے کسانوں اور متعلقہ زرعی اداروں کو قبل از وقت درست اور بروقت اعداد و شمار مل سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قدرتی آفات کی بروقت روک تھام اور ان سے ہنگامی حالات میں ہونے والے نقصانات میں کمی لانا بھی ان سیٹلائٹس کے اہم ترین مقاصد میں نمایاں طور پر شامل ہے۔ ہنگامی صورتحال اور ممکنہ قدرتی خطرات کی بروقت نشاندہی سے جانی و مالی نقصان کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چین کا یہ نیا خلائی قدم ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کی بڑھتی ہوئی مہارت اور تسلسل کو بخوبی ظاہر کرتا ہے۔ ملک میں خلائی تحقیق کے نئے منصوبے تیزی سے جاری ہیں اور ان جدید سیٹلائٹس کے ذریعے سائنسی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق یہ سیٹلائٹس مستقبل میں اہم خلائی ڈیٹا کے حصول میں بنیادی کردار ادا کریں گے اور ملک کے آئندہ تحقیقی و ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی نئی راہیں ہموار کریں گے۔ لانگ مارچ راکٹ سیریز کی یہ شاندار کامیابی چینی خلائی ادارے کے لیے ایک اور بڑا اعزاز ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/2113/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خلا سے زمین پر کوئی سرحد نظر نہیں آتی، فرانسیسی خلا باز کا جذباتی پیغام</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/93/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/93/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 07:58:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خلائی_اسٹیشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خلا]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_مشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زمین]]></category>
		<category><![CDATA[سائنسی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/93/</guid>

					<description><![CDATA[یورپی خلائی ایجنسی کی سوفی ایڈنوٹ نے خلا میں 235 دن گزار کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا، زمین واپسی پر تجربات شیئر کیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی خلا باز سوفی ایڈنوٹ نے خلا میں طویل قیام کے بعد زمین پر واپسی پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلندی سے دیکھنے پر زمین پر کوئی جغرافیائی تقسیم یا سرحدیں نظر نہیں آتیں، بلکہ یہ ایک قیمتی سیارہ ہے جو ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) سے وابستہ 44 سالہ سوفی ایڈنوٹ نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مجموعی طور پر 235 دن گزارے۔ یہ دورانیہ کسی بھی یورپی خلا باز کی جانب سے مدار میں مسلسل قیام کا ایک نیا اور اہم ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمنی کے شہر کولون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوفی ایڈنوٹ نے بتایا کہ خلا میں آٹھ ماہ کے دوران انہوں نے انسانی جذبات کے ہر پہلو کا تجربہ کیا۔ زمین سے 400 کلومیٹر کی بلندی پر موجودگی نے انہیں یہ احساس دلایا کہ انسانیت کو سرحدوں سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوفی ایڈنوٹ جمعرات کے روز اپنے تین ساتھی خلا بازوں کے ہمراہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں ایک خلائی کیپسول کے ذریعے بحفاظت زمین پر واپس پہنچیں۔ انہوں نے بتایا کہ واپسی کے وقت سمندر میں شدید لہروں کے باعث کیپسول کو تقریباً 25 منٹ تک مشکل حالات کا سامنا رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمنی واپسی کے موقع پر سوفی ایڈنوٹ جسمانی طور پر کچھ کمزور دکھائی دیں اور انہیں چلنے پھرنے کے لیے طبی عملے کی مدد درکار تھی۔ ماہرین کے مطابق خلا میں طویل قیام کے دوران کششِ ثقل کی عدم موجودگی انسانی جسم پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوفی ایڈنوٹ نے اعتراف کیا کہ زمین پر واپس آنا ان کے لیے انتہائی خوشی کا باعث ہے، تاہم جسمانی طور پر دوبارہ معمول پر آنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلا میں گزارا گیا وقت ان کے لیے ایک یادگار تجربہ رہا جس نے ان کی سوچ کو وسعت دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی خلائی ایجنسی کے حکام نے بھی سوفی ایڈنوٹ کے اس مشن کو سراہا ہے اور اسے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مشنز سے نہ صرف سائنسی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے بارے میں بھی آگاہی ملتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلا بازوں کا یہ مشن بین الاقوامی تعاون کی ایک بہترین مثال ہے، جس میں مختلف ممالک کے ماہرین نے مل کر کام کیا۔ سوفی ایڈنوٹ کا پیغام دنیا بھر میں امن اور باہمی رواداری کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوفی ایڈنوٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مختلف جغرافیائی اور سیاسی تنازعات جاری ہیں۔ ان کا یہ جذباتی پیغام یاد دلاتا ہے کہ کائنات کے وسیع تناظر میں زمین کی اہمیت اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری تمام انسانوں پر یکساں عائد ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلائی سفر کے دوران سوفی ایڈنوٹ نے مختلف سائنسی تجربات بھی کیے جن سے مستقبل کے خلائی مشنز میں مدد ملے گی۔ ان تجربات کا مقصد انسانی جسم پر خلا کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنا اور ان کے تدارک کے لیے جدید طریقے وضع کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوفی ایڈنوٹ کی واپسی کے بعد اب ان کی صحت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہ جلد از جلد اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ یورپی خلائی ایجنسی نے ان کی ہمت اور عزم کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مشن نہ صرف سوفی ایڈنوٹ کے لیے بلکہ پوری یورپی خلائی ایجنسی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ آنے والے وقتوں میں اس طرح کے مزید مشنز کے ذریعے خلا کے بارے میں مزید رازوں سے پردہ اٹھایا جائے گا اور انسانیت کے لیے نئی راہیں کھلیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/93/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
