<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خبریں_پاکستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ae%d8%a8%d8%b1%db%8c%da%ba_%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 28 Oct 2026 08:56:53 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>خبریں_پاکستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/3121/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/3121/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:56:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افضل_رؤف]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_منشیات_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_ایچ_او]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدالتیں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_افسر]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_ریکارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%da%a9%d9%88%d9%b9-%d9%84%da%a9%da%be%d9%be%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے افضل رؤف کو دو سو روپے جرمانے کی سزا پچاس ہزار کے مچلکوں کے عوض معطل کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت کے علاقے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او پر عائد کی جانے والی جرمانے کی سزا کو معطل کرنے کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی متعلقہ پولیس افسر کی جانب سے عدالت میں مقدمے کا درکار ریکارڈ پیش نہ کرنے پر عمل میں لائی گئی تھی، جس پر نچلی عدالت نے سخت قدم اٹھایا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسدادِ منشیات عدالت لاہور نے پولیس ریکارڈ کی عدم دستیابی اور بروقت پیش نہ کیے جانے کی بنا پر ایس ایچ او افضل رؤف کو دو سو روپے کے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے بعد پولیس حلقوں میں ہلچل مچ گئی تھی اور اس معاملے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس افسر افضل رؤف کی جانب سے اس عدالتی فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا اور ایک اپیل دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سزا کا یہ حکم حقائق کے منافی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ ہائیکورٹ اس سزا کو کالعدم قرار دے یا کم از کم معطل کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج نے ایس ایچ او افضل رؤف کی اس اپیل پر سماعت کی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد اہم احکام صادر کیے۔ عدالت نے جرمانے کی سزا کو پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض معطل کرنے کا حکم دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتِ عالیہ نے اس قانونی کارروائی کے دوران متعلقہ ٹرائل کورٹ سے تمام متعلقہ ریکارڈ بھی فوراً طلب کر لیا ہے۔ ریکارڈ کی موجودگی کے بغیر عدالت کسی بھی مقدمے میں حتمی یا مزید قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھا سکتی، اس لیے ریکارڈ کی فراہمی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مقدمے کے مکمل ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ ریکارڈ کے گہرے معائنے اور جانچ پڑتال کے بعد ہی اس کیس میں آئندہ کی مزید عدالتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے اس اپیل پر سماعت کے بعد متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں اور آئندہ سماعت تک سزا پر عملدرآمد معطل کر رکھا ہے۔ اس نوعیت کے عدالتی امور میں پولیس ریکارڈ کی بروقت فراہمی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی عدالتوں کی جانب سے تفتیشی افسران اور تھانہ جات کے ایس ایچ اوز کو ہمیشہ یہ سخت ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ مقدمات کا تمام ریکارڈ مقررہ وقت پر پیش کریں۔ اس طرح کے احکام انصاف کی بروقت فراہمی اور ٹرائل کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے ذمہ دار حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عدالتی احکام کی تعمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جاتا ہے اور قانون کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ ہائیکورٹ کے اس حکم کے بعد اب آئندہ سماعت پر مزید پیشرفت متوقع ہے جس میں کیس کے حقائق کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کوٹ لکھپت پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کے خلاف اس کارروائی اور پھر ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے دوران ریکارڈ کی بروقت پیشی انتہائی ضروری ہے۔ ریکارڈ کی کمی کی وجہ سے عدالتی وقت کا ضیاع ہوتا ہے جس سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسدادِ منشیات عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کی حساسیت بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ان میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ایسے مقدمات میں پولیس افسران کی کوتاہی کو عدالتیں عام طور پر برداشت نہیں کرتی ہیں اور سخت نوٹس لیتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایس ایچ او افضل رؤف کی اپیل پر ہونے والی آئندہ سماعت میں لاہور ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ سے منگوائے گئے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس جائزے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ آیا نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے یا اس میں کوئی ترمیم کی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے اس نوعیت کے احکام انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ پولیس حکام اور عدالتی عملے کے درمیان اس طرح کے معاملات میں بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پورے معاملے کی اگلی سماعت کے دوران فریقین کے وکلاء اپنے دلائل مزید واضح انداز میں عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق تمام قانونی مراحل کو قواعد و ضوابط کے مطابق ہی مکمل کیا جائے گا تاکہ عدالتی احکام کی پاسداری یقینی ہو۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/3121/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد ہائیکورٹ: ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے کی معافی مسترد، توہین عدالت کی کارروائی شروع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/425/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/425/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 11:17:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[توہین_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_سرفراز_ڈوگر]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زمان_وٹو]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%85%d9%85%d8%a8%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%b9-%d8%b3%db%8c-%da%88%db%8c-%d8%a7%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے بیماری کا بہانہ بنا کر پیش نہ ہونے پر ممبر اسٹیٹ زمان وٹو کی غیر مشروط معافی کی استدعا مسترد کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے بیماری کا عذر پیش کر کے عدالت میں پیش نہ ہونے والے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ کے خلاف باضابطہ طور پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم قانونی اور عدالتی معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ زمان وٹو کی جانب سے کی جانے والی معافی کی ابتدائی استدعا کو یکسر مسترد کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو اپنے کونسل نذیر جواد کے ہمراہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے جہاں ان کی جانب سے عدالت سے معافی مانگنے کی کوشش کی گئی لیکن عدالت نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی ڈی اے کے وکیل نذیر جواد نے عدالت میں اپنے مؤکل زمان وٹو کی نمائندگی کرتے ہوئے عدالت سے غیر مشروط معافی کی استدعا پیش کی تھی تاکہ اس معاملے کو یہیں ختم کیا جا سکے لیکن عدالت نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سماعت کے دوران دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پہلے توہین عدالت سے متعلق اس مخصوص کیس کو بھگتایا جائے گا اور مرکزی پٹیشن کی سماعت اس قانونی کارروائی کے مکمل ہونے کے بعد ہی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس موقع پر سخت احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ آنے والی سماعت پر پراسیکیوٹر مکمل تیاری کے ساتھ عدالت کے روبرو پیش ہوں تاکہ اس سنگین معاملے کو قانون کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے اور تمام حقائق واضح ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے یاد دلایا کہ عدالت کی جانب سے گزشتہ سماعت پر بھی ایک واضح اور صریح آرڈر جاری کیا گیا تھا جس میں متعلقہ افسر کی عدالتی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا تھا اور ان کی عدم حاضری کا نوٹس لیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے مزید نشاندہی کی کہ یہ امر ریکارڈ پر موجود ہے کہ متعلقہ افسر گزشتہ موقع پر دوسری عدالت میں تو پیش ہوئے لیکن اس معزز عدالت کے روبرو حاضر نہیں ہوئے جو عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی ڈی اے کے وکیل نذیر جواد نے عدالت میں صفائی پیش کرنے کی کوشش کی اور یہ مؤقف اپنانے کی کوشش کی کہ ایسا نہیں ہے اور ان کے مؤکل نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ مکمل طور پر بیمار ہیں یا پیش ہونے سے قاصر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نذیر جواد نے عدالت کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ زمان وٹو اس لیے دوسری عدالت میں پیش ہوئے تھے تاکہ وہاں جاری کارروائی جلد از جلد نمٹائی جا سکے اور اس کے بعد وہ اس عدالت میں آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وکیل کے اس عذر پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ کیا عدالت کا تحریری حکم غلط تھا جس میں صاف درج ہے کہ وہ بیماری کا بہانہ بنا کر دوسری عدالت میں پیش ہوئے لیکن یہاں نہیں آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی احکامات کی اس قسم کی عدول حکمی اور پس و پیش کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ عدالتی وقار کا تحفظ سب سے مقدم ہے اور قانون سب کے لیے یکساں طور پر برابر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی کارروائی کے اختتام پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے رجسٹرار آفس کو فوری طور پر سخت ہدایات جاری کیں کہ توہینِ عدالت کے اس زیر سماعت کیس کی ایک بالکل الگ اور مستقل فائل تیار کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے ان تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد توہین عدالت کے اس کیس کی مزید سماعت کو آئندہ تاریخ تک کے لیے باضابطہ طور پر ملتوی کر دیا ہے جس میں فریقین کے وکلاء مزید دلائل پیش کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم عدالتی پیش رفت کے بعد وفاقی دارالحکومت کے بڑے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام کے لیے قانونی و عدالتی ذمہ داریاں مزید سخت ہو گئی ہیں اور سب کی نظریں اس مقدمے کے اگلے قانونی مراحل پر لگی ہوئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/425/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
