<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خاندان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>خاندان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اولاد نہ ہونے پر خاندان نے کبھی دباؤ نہیں ڈالا، جواد احمد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/2561/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/2561/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 13:37:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اداکار]]></category>
		<category><![CDATA[ازدواجی_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرویو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[جواد_احمد]]></category>
		<category><![CDATA[خاندان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a7%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%af-%d9%86%db%81-%db%81%d9%88%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%af%d8%a8%d8%a7%d8%a4/</guid>

					<description><![CDATA[معروف گلوکار جواد احمد نے اپنی ازدواجی زندگی اور معاشرتی رویوں پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے معروف گلوکار اور سماجی کارکن جواد احمد نے حال ہی میں اپنی نجی زندگی اور معاشرتی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنی ازدواجی زندگی میں اولاد نہ ہونے کے معاملے پر کبھی بھی اپنے خاندان کی جانب سے کسی قسم کے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک انٹرویو کے دوران جواد احمد کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان ایک ترقی پسند سوچ کا حامل ہے، جس کی وجہ سے انہیں کبھی بھی اس طرح کی صورتحال میں کسی دباؤ یا تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ان کے والدین اور دیگر عزیزوں نے ہمیشہ ان کی ذاتی زندگی کے فیصلوں کا احترام کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوکار نے اس موقع پر معاشرے میں رائج اس رویے پر بھی بات کی جس کے تحت مرد اکثر اولاد نہ ہونے کی صورت میں دوسری شادی کا سہارا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قانون اور مذہب مرد کو ایک سے زائد شادیوں کی اجازت دیتے ہیں، تاہم عملی طور پر دو خواتین کے درمیان مکمل انصاف کرنا ایک انتہائی مشکل اور تقریباً ناممکن عمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جواد احمد نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مردوں کو دوسری شادی کرنے کے بجائے اپنی پہلی ازدواجی زندگی کو خوش اسلوبی سے نبھانے اور اسی رشتے کے ساتھ زندگی گزارنے کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ ازدواجی رشتوں میں پائیداری اور باہمی احترام ہی اصل کامیابی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اولاد نہ ہونا ایک قدرتی عمل ہو سکتا ہے اور اسے کسی بھی انسان کے لیے ایک بڑا مسئلہ یا ناکامی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق، معاشرے کو چاہیے کہ وہ ایسے معاملات میں حساسیت کا مظاہرہ کرے اور جوڑوں پر بلاوجہ کا دباؤ نہ ڈالے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جواد احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ زندگی کے ہر موڑ پر انسان کو اپنی سوچ کو مثبت رکھنا چاہیے اور معاشرتی دباؤ کے بجائے اپنے ضمیر اور اصولوں کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔ ان کی اس گفتگو کو سوشل میڈیا پر کافی سراہا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معاشرے میں شادی اور اولاد سے متعلق روایتی سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے۔ جواد احمد جیسے فنکاروں کا اس طرح کے حساس موضوعات پر بات کرنا نوجوان نسل کے لیے ایک مثبت پیغام ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوکار نے اپنی گفتگو کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلوں سے مکمل طور پر مطمئن ہیں اور انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ان کا خاندان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کرنے کے بجائے اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جواد احمد کے مداحوں نے ان کے اس بیان کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایک معروف شخصیت کی جانب سے اس طرح کے خیالات کا اظہار معاشرے میں موجود فرسودہ روایات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ جواد احمد نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک گلوکار کے طور پر کیا تھا لیکن بعد ازاں وہ سماجی خدمات کے میدان میں بھی کافی فعال ہو گئے۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو انہیں دیگر فنکاروں سے ممتاز کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، انہوں نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ ازدواجی زندگی میں باہمی محبت، اعتماد اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہی سب سے اہم چیز ہے۔ اولاد کا نہ ہونا کسی بھی رشتے کے خاتمے یا دوسری شادی کی وجہ نہیں بننا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی یہ گفتگو ایک ایسے معاشرتی مکالمے کا حصہ ہے جس میں شادی، خاندان اور ذاتی آزادی جیسے اہم موضوعات پر بحث کی جا رہی ہے۔ جواد احمد کا یہ موقف ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو معاشرتی دباؤ کا شکار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/2561/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>والد کے خلاف سنگین الزامات پر میگھن مارکل آبدیدہ ہوگئیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/2543/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/2543/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 10:37:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[آرچی]]></category>
		<category><![CDATA[اداکار]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[برطانوی_شاہی_خاندان]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[تنازع]]></category>
		<category><![CDATA[تھامس_مارکل]]></category>
		<category><![CDATA[خاندان]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فلم]]></category>
		<category><![CDATA[لالی_ووڈ]]></category>
		<category><![CDATA[موسیقی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%af-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b3%d9%86%da%af%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%b2%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%af%da%be%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[برطانوی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی میگھن مارکل والد تھامس مارکل سینئر کے خلاف تشویشناک انکشافات پر شدید صدمے سے دوچار ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانوی شاہی خاندان کے سابقہ فعال رکن اور اب راہیں جدا کرنے والے شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل کو ایک مرتبہ پھر سے شدید ذاتی و خاندانی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کے والد کے حوالے سے کچھ انتہائی ہولناک اور سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس تازہ ترین اور چونکا دینے والی صورتحال نے دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ حاصل کر رکھی ہے جبکہ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سے سوشل میڈیا اور خبر رساں اداروں میں اس کا چرچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈیا ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس انتہائی مشکل وقت میں میگھن مارکل نے اپنے شوہر شہزادہ ہیری اور اپنے دونوں کم سن بچوں کے ہمراہ اپنے رہائشی ملک سے باہر ایک مختصر تفریحی اور سکون بخش دورے پر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس عارضی روانگی کا بنیادی مقصد ذرائع ابلاغ کی مسلسل توجہ اور دباؤ سے کسی حد تک دور رہ کر چند روز پرسکون ماحول میں گزارنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بتایا گیا ہے کہ اس مختصر چھٹی کے دوران میگھن مارکل اپنے قریبی دوستوں کے ایک مخصوص حلقے کے ساتھ وقت گزار رہی ہیں تاکہ اس ذہنی تنازع اور صدمے سے باہر نکل سکیں جس نے انہیں اندرونی طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس دوران شہزادہ ہیری بھی ہر قدم پر اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود ہیں اور اس مشکل گھڑی میں ان کی مکمل ڈھارس بندھا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پورے تنازع کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میگھن مارکل کے سوتیلے بھائی تھامس جونیئر کی جانب سے ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین نوعیت کا دعویٰ کیا گیا۔ تھامس جونیئر کا یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں ہلچل مچ گئی کیونکہ معاملہ معصوم بچوں سے جڑا ہوا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوتیلے بھائی کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں اپنے والد تھامس مارکل سینئر کے سامان اور ذاتی چیزوں سے مبینہ طور پر بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی کچھ انتہائی مکروہ تصاویر اور مواد ملا ہے۔ اس نوعیت کے الزامات نے نہ صرف خاندانی حلقوں کو حیرت میں ڈالا بلکہ اس نے تمام اخلاقی حدود کو بھی پامال کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان ہلا دینے والے اور سنگین الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد میگھن مارکل شدید صدمے اور افسردگی کی کیفیت میں مبتلا ہو گئی ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے ان کے اعصاب پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور وہ اس خبر کو سننے کے بعد خود کو سنبھال نہیں پا رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطلاعات کے مطابق اس پورے تنازع کے دوران جب میگھن مارکل نے اپنی پانچ سالہ بیٹی للیبیٹ کو دیکھا تو ان کے ذہن میں دنیا بھر کے متاثرہ اور معصوم بچوں کا خیال آیا۔ اس دردناک احساس کے تحت وہ بے اختیار ہو کر رو پڑیں کیونکہ ایک ماں کے لیے اس قسم کے الزامات کو برداشت کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کٹھن گھڑی میں میگھن مارکل کے دوست احباب اور ان کے دیرینہ جاننے والے مسلسل پیغامات اور رابطوں کے ذریعے ان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے دوستوں کا یہ ماننا ہے کہ ایک ماں ہونے کے ناطے اس قسم کے ہولناک انکشافات سامنے آنا کسی بھی فرد کے لیے ناقابل برداشت صدمہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ تنازع اور ان سنگین الزامات کے تناظر میں اپنے ایک پرانے یا حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے میگھن مارکل کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے والد کو اپنے بچوں سے بہت پہلے ہی دور رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے اس وقت بھی واضح کیا تھا کہ یہ قدم اٹھانے کا بنیادی مقصد بچوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میگھن مارکل کا اپنے اس موقف میں مزید یہ کہنا تھا کہ خاندانی سطح پر اس قسم کے سخت فیصلے لینا ان کے لیے آسان نہیں تھا لیکن بچوں کی سلامتی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ انہوں نے اس موقع پر امید ظاہر کی تھی کہ متعلقہ حکام معاشرے کے دیگر بچوں کے تحفظ کے لیے بھی موثر اقدامات کر رہے ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطانوی شاہی خاندان سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے امریکہ میں سکونت اختیار کی تھی اور وہ اکثر اپنی فلاحی سرگرمیوں کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے خاندانی اسکینڈلز اور تنازعات وقتاً فوقتاً ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تازہ ترین واقعے نے شاہی خاندان کے اردگرد موجود پرانے خاندانی تنازعات کو ایک بار پھر سرخیوں کا حصہ بنا دیا ہے جس پر مبصرین اور میڈیا کی گہری نظر ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ذاتی زندگی کے راز اور خاندانی تلخیاں بعض اوقات شخصیات کے لیے شدید ذہنی اذیت کا باعث بن جاتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/2543/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>برطانیہ: راجہ ناصر محمود کی والدہ کے انتقال پر کمیونٹی کا اظہارِ تعزیت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/44/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/44/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:16:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[برمنگھم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_کمیونٹی]]></category>
		<category><![CDATA[تعزیت]]></category>
		<category><![CDATA[خاندان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راجہ_ناصر_محمود]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/44/</guid>

					<description><![CDATA[برمنگھم سنٹرل مسجد میں مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی، کمیونٹی کی اہم شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے پریس کلب مڈلینڈز کے صدر راجہ ناصر محمود اور جوائنٹ سیکرٹری سیما یعقوب کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر کمیونٹی نے یکجہتی اور ہمدردی کی ایک شاندار مثال قائم کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحومہ کے انتقال کی خبر سنتے ہی برطانیہ بھر میں مقیم پاکستانیوں میں غم کی لہر دوڑ گئی تھی۔ راجہ ناصر محمود اور سیما یعقوب اپنی والدہ کی آخری رسومات اور تدفین کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کے دوستوں اور احباب نے تعزیت کا سلسلہ شروع کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سے واپسی کے بعد برمنگھم کی سنٹرل مسجد میں مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں برطانیہ کے مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور سوگوار خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاتحہ خوانی کے دوران قونصل جنرل فہد امجد، مختلف مساجد کے خطباء، علماء و مشائخ اور کمیونٹی کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ ہائی کمشنر پاکستان عثمان ٹیپو اور دیگر سفارتی حکام کی جانب سے بھی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس کلب کے اراکین نے آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ شرکاء نے مرحومہ کی مغفرت کے لیے خصوصی دعائیں کیں اور سوگوار خاندان کو اس مشکل گھڑی میں صبر و تحمل کی تلقین کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر شرکاء نے کہا کہ ماں کا سایہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ راجہ ناصر محمود کی والدہ کی وفات پر کمیونٹی کا اکٹھا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ دیارِ غیر میں بسنے والے پاکستانی ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا اور غم بانٹنا ہماری ثقافتی اور مذہبی اقدار کا حصہ ہے۔ راجہ ناصر محمود کی شخصیت اور ان کے سماجی روابط نے لوگوں کو ان کے دکھ میں شریک ہونے پر آمادہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران علماء نے والدین کی اہمیت اور ان کی خدمت کے فضائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اولاد کی کامیابی کے پیچھے والدین کی دعائیں اور ان کی بہترین تربیت کا عمل دخل ہوتا ہے جو زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راجہ ناصر محمود نے اپنے ساتھیوں اور کمیونٹی کے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دوستوں اور احباب نے جس محبت کا اظہار کیا ہے، اس نے ان کے غم کو کافی حد تک ہلکا کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے اس موقع پر ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ خوشی اور غم کے ہر موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ اتحاد اور بھائی چارہ ہی بیرونِ ملک پاکستانیوں کی اصل پہچان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحومہ کے لیے دعائیہ کلمات کا سلسلہ تقریب کے اختتام تک جاری رہا۔ شرکاء نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق دے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے اختتام پر فاتحہ خوانی کی گئی اور مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ برمنگھم کی سنٹرل مسجد میں ہونے والی یہ تعزیتی نشست انسانی ہمدردی اور باہمی احترام کی ایک یادگار مثال ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/44/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
