<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>حکومت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:45 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>حکومت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے اثر سے نکلے تو سیاست کیلئے بہتر ہوگا: خواجہ آصف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1583/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1583/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 11:57:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اپوزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ_ہاؤس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%ab%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d9%86%da%a9%d9%84%db%92-%d8%aa%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سیاست میں کوئی دروازہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوتا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے سحر سے باہر نکل آئیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر اپوزیشن جماعت سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا اور دباؤ سے آزاد ہو کر زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرے تو اس کی سیاسی بقا اور استحکام کے لیے یہ انتہائی سودمند ثابت ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی سیاسی فضا میں مختلف جماعتوں کے درمیان مکالمے اور کشیدگی کا ملا جلا ماحول پایا جاتا ہے۔ انہوں نے پارلیمانی سیاست کے اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ جمہوریت میں غیر لچکدار رویے اور ناقابل واپسی فیصلے کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے ماضی کے سیاسی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے اندر دشمنیاں اور دوستیاں دائمی نہیں ہوتیں بلکہ وقت اور حالات کے ساتھ باہمی تعلقات کا رخ بدلتا رہتا ہے۔ ان کے نزدیک سیاستدانوں کے لیے ہمیشہ دروازے کھلے رہنے چاہئیں تاکہ ضرورت پڑنے پر قومی مفاد میں راستے نکالے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ہی جماعت کے کسی دوسرے رہنما کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں گے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ جے یو آئی کے سربراہ کی جانب سے کچھ روز قبل سخت زبان استعمال کی گئی تھی جس پر انہوں نے سیاسی نکتہ چینی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی میدان میں اختلاف رائے ایک فطری عمل ہے لیکن جب گفتگو میں تلخی حد سے بڑھ جائے تو اس پر سیاسی ردعمل دینا بھی سیاسی جماعتوں کا حق بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق پارلیمانی روایات کے دائرے میں رہ کر ہی تمام امور پر بحث ہونی چاہیے تاکہ جمہوریت کا وقار برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریک انصاف کے اندرونی حالات کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی صفوں کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے اندر موجود سنجیدہ حلقے اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ محاذ آرائی اور مزاحمتی سیاست کو اب خیرباد کہہ دینا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت احتجاجی سیاست کو چھوڑ کر آئینی اور پارلیمانی دائرے میں آ کر سیاسی عمل کا حصہ بنتی ہے تو انہیں سیاسی میدان میں کافی زیادہ گنجائش اور پذیرائی مل سکتی ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ لچکدار رویہ ہی جمہوری نظام کو مضبوط کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے تاکہ معاشی چیلنجز سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے اور تمام جماعتوں کو اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمنٹ کے اندر اور باہر رہنماؤں کے ایسے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی فضا میں مکالمے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی مسائل کا آئینی حل تلاش کیا جا سکے اور محاذ آرائی کا خاتمہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیاسی منظر نامے میں پارلیمنٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر ایوان کے اندر سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تناظر میں وزیر دفاع نے ایک بار پھر دہرایا کہ اگر اپوزیشن جماعت اپنے رویے میں تبدیلی لائے اور غیر ضروری دباؤ سے باہر نکلے تو قومی سیاست میں ایک نئے اور مثبت دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1583/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ مسترد، بیرسٹر گوہر اور ناصر عباس کا اظہارِ خیال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/173/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/173/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 14:38:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئین]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/173/</guid>

					<description><![CDATA[اپوزیشن رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شہریوں کو متاثر کرنے والے آپریشنز کی حمایت سے انکار کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی منظر نامے میں حالیہ پیش رفت کے دوران اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالات کے نفاذ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے ان اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے انتظامی فیصلے صوبے کی منتخب حکومت کو کمزور کرنے اور سیاسی انتقام کا تسلسل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کو اس طرح سے ہٹانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی سنگین نوعیت کے معاشی اور سلامتی کے چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں متنازعہ اقدامات سے وفاق کی اکائیوں میں مزید خلیج پیدا ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے صوبے کے کروڑوں نوجوانوں کو کیا تاثر مل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے زور دیا کہ ملک بھر میں قانون کی بالادستی اور آئین کا احترام ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل جبر یا انتظامی تسلط میں نہیں بلکہ باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بتایا کہ ان کے سینکڑوں کارکن پہلے ہی جیلوں میں بند ہیں اور سیاسی جبر کا بازار گرم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عام شہریوں کو کسی بھی قسم کے عسکری آپریشنز یا کارروائیوں میں نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ عام شہریوں کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کی حمایت نہیں کریں گے۔ امن و امان کی بحالی کے لیے قومی عزم اور نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے حکمران اتحاد کو کڑی تنقید کا ہدف بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے انتخابات میں اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کیا تھا لیکن اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ملک کو مزید بحرانوں سے بچانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے سیاسی اور جمہوری ڈھانچے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ موجودہ حالات میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، آئینی حدود کا پاس رکھنا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ غیرمعمولی اقدامات سے ملک میں سیاسی استحکام کی بجائے مزید ابتری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بھی اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی کارکنوں پر درج جھے مقدمات ختم کیے جائیں اور جیلوں میں قید افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کے مطابق پندرہ سو سے زائد کارکنان اس وقت پنجاب کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پچھلے چند روز کے دوران بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے کئی مواقع ضائع کیے گئے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر سنجیدہ نیت کے ساتھ مذاکرات کیے جاتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں اور مکالمہ ہی تمام مسائل کی بنیادی کنجی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امن و امان کے قیام کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس قومی لائحہ عمل کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا تھا کہ مخصوص سیاسی مفادات کے لیے سکیورٹی اداروں کو استعمال کرنے سے ملک کو اندرونی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے جس سے صرف دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور معاشی بدحالی نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے حکومت تمام تر توجہ سیاسی مخالفین کو دبانے پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے جنہیں مسترد کیا وہ آج اقتدار پر قابض ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/173/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
