<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.38.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>حوثی_حملے &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c_%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 15:26:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>حوثی_حملے &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: خلیجی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور آئی ایم ایف کے خدشات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2193/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2193/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 19:17:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[جی_سی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[خلیجی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%d8%ae%d9%84%db%8c%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b4%d8%aa%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[خطے میں جاری تنازعات کے باعث توانائی کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں متاثر، آئی ایم ایف نے خلیجی ممالک کی معاشی نمو میں کمی کا خدشہ ظاہر کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مشرق وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین جاری کشیدگی نے خطے کی معاشی صورتحال کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس تنازع کے نتیجے میں خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ میں سے پانچ ممالک کی معیشتیں سکڑاؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل اور گیس کی برآمدات میں کمی اور بحری نقل و حمل میں حائل رکاوٹیں اس معاشی دباؤ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ سلامتی کے خدشات کے باعث نہ صرف توانائی کا شعبہ بلکہ سیاحت اور فضائی سفر جیسے اہم ذرائع آمدن بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کی معاشی شرح نمو میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ ان ممالک کے برعکس، عمان واحد ملک ہے جس کی معیشت کے مثبت سمت میں رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، کیونکہ اس کی بندرگاہیں آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اپنی وژن 2030 کی پالیسیوں اور متنوع معاشی ڈھانچے کے باعث نسبتاً بہتر پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے۔ ملک کی مشرق-مغرب پائپ لائن اسے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے اس کی برآمدات کے لیے متبادل راستے میسر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب قطر، کویت اور بحرین جیسے ممالک توانائی کی برآمدات اور اشیائے ضروریہ کی درآمد کے لیے آبنائے ہرمز پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس انحصار کے باعث ان ممالک کو موجودہ بحران کے دوران زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں متبادل راستوں کی تلاش میں دشواری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آکسفورڈ اکنامکس کے ماہرین کے مطابق، سعودی عرب کی بڑی مقامی منڈی اور نوجوان آبادی اسے معاشی جھٹکے سہ نے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، ملک کا وسیع جغرافیہ بھی حملوں کے اثرات کو محدود رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، جس سے روزمرہ کی سرگرمیاں جزوی طور پر برقرار رہتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، حوثی گروپ کی جانب سے توانائی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور آرامکو کے انتظامی کمپلیکس پر ہونے والے حملوں نے معاشی اور سلامتی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے شعبے کے علاوہ، ہوا بازی کی صنعت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز کو 2026 میں اربوں ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ پروازوں کے راستے تبدیل کرنے اور مسافروں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسافروں کی تعداد میں نمایاں کمی اس بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ سیاحت اور تفریحی شعبے پر انحصار کرنے والے ممالک کو زیادہ نقصان پہنچا ہے، جبکہ سعودی عرب میں مذہبی سیاحت کے باعث اثرات کسی حد تک محدود رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلیجی سٹاک مارکیٹوں پر بھی جنگ کے اثرات واضح ہیں۔ رئیل اسٹیٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں کے انڈیکسز میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ اگرچہ کچھ مارکیٹوں نے بحالی کی کوشش کی ہے، لیکن سرمایہ کاروں کا اعتماد اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ صورتحال کاروباری لاگت میں اضافے اور مجموعی معاشی نمو میں سست روی کا باعث بن سکتی ہے، جس سے خطے کے تمام ممالک متاثر ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی طور پر خلیجی معیشتوں نے ماضی میں بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی بحرانوں کا سامنا کیا ہے۔ تاہم، موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور جنگی حالات نے ان ممالک کے لیے نئے اور پیچیدہ چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں جن سے نمٹنا ایک بڑی آزمائش ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتیں اب اپنی معاشی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کر رہی ہیں تاکہ ان بحرانوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ توانائی کے متبادل راستوں کی تلاش اور غیر تیل شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا ان ممالک کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے معاشی نقصان سے بچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2193/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مکہ دفاعی معاہدہ: ترکی کی جانب سے سعودی عرب کو عسکری معاونت کی تیاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1157/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1157/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 20:18:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ترکی]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[خطے_کی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_معاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رجب_طیب_اردوغان]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%da%a9%db%81-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%81-%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ترکی کی وزارتِ دفاع نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد کے لیے قانونی اور عسکری روڈ میپ پر کام شروع کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ترکی کی وزارتِ قومی دفاع نے سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری تعاون فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ حکمت عملی وضع کرنا شروع کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور اتحادی ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک وزارتِ دفاع کے مطابق، اس عسکری حمایت کا حتمی خاکہ ترکیہ کی گرینڈ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد طے پائے گا۔ آئینی تقاضوں کے تحت، بیرونِ ملک فوج بھیجنے یا کسی بھی دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پارلیمان کی توثیق لازمی ہے، جس کے لیے حکومت جلد قرارداد پیش کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترکی کا مؤقف ہے کہ مکہ معاہدہ ایک خالصتاً دفاعی نوعیت کا اتحاد ہے۔ ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا نہیں بلکہ جب معاہدے کا کوئی فریق حملے کا شکار ہوتا ہے تو اس کے دفاع کے لیے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ممکنہ عسکری تعاون کے دائرہ کار میں فضائی دفاعی نظام، لاجسٹک سپورٹ اور انٹیلیجنس معاونت شامل ہو سکتی ہے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ تعاون کی نوعیت کا تعین سعودی عرب کی ضروریات، زمینی پیش رفت اور فریقین کے مابین باہمی اتفاقِ رائے سے کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ترکی نے خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صدر رجب طیب اردوغان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکی سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترکی اس پورے عمل کے دوران ایک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ صدر اردوغان نے واضح کیا ہے کہ ترکی کسی بھی تنازع کو نسلی یا فرقہ وارانہ زاویے سے نہیں دیکھتا بلکہ اس کی ترجیح خطے میں قیامِ امن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں ترک حکام کی جانب سے ایران سمیت دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی رابطے جاری ہیں۔ وزیر خارجہ حقان فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے درکار سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکہ اتحاد کی سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی نے پانچ اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب کو فوری عسکری مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، اتحاد کے ادارہ جاتی عمل کے ابھی مکمل نہ ہونے کے سبب عسکری حمایت سے متعلق اقدامات میں وقت لگنے کی بات کہی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترکی کے آئین کا آرٹیکل 92 پارلیمان کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بیرونِ ملک ترک مسلح افواج کی تعیناتی کے حوالے سے فیصلہ کرے۔ حکومت کو توقع ہے کہ پارلیمان سے سادہ اکثریت کے ساتھ اس قرارداد کی منظوری حاصل کر لی جائے گی، جس کے بعد عملی اقدامات شروع ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ہوائی اڈوں پر حالیہ حملوں کے بعد سے ریاض کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے پر بات چیت ہو رہی ہے۔ ترکی کی جانب سے ملنے والی ممکنہ مدد کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترکی کا یہ فیصلہ مکہ اتحاد کے اس اصول پر مبنی ہے کہ کسی ایک رکن پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ مکہ معاہدے کے تحت تمام فریقین ایک دوسرے کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں تاکہ خطے میں کسی بھی قسم کی جارحیت کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سعودی عرب کو عسکری حمایت فراہم کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کا سعودی عرب کی مدد کرنا ایک اچھا اقدام ہے اور یہ خطے کے لیے مثبت ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1157/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/911/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/911/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 23:17:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آرامکو]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7%d9%85-%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%af%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%aa%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سلامتی کونسل نے سعودی عرب کی خودمختاری کی حمایت کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری تنصیبات پر حملوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام 15 رکن ممالک نے ایک متفقہ بیان جاری کرتے ہوئے سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کونسل نے ان کارروائیوں کو علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سعودی آرامکو کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ شہری آبادی اور اہم انفراسٹرکچر پر حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 14 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سلامتی کونسل نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے حقِ دفاع کی توثیق کی ہے تاکہ وہ اپنی سرزمین کا تحفظ کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سلامتی کونسل نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کونسل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر جہاز رانی کی آزادی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کونسل کے ارکان نے حوثی ملیشیا کو اسلحہ، مالی وسائل اور تکنیکی معاونت کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یمن میں امن کے قیام کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں یمن کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے احترام کا اعادہ کیا گیا ہے۔ سلامتی کونسل نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کریں اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں خطے میں ایرانی مداخلت کا نتیجہ ہیں۔ ریاض کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی برادری کی جانب سے اس متفقہ بیان کو سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ایک اہم حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سلامتی کونسل کا یہ اقدام حوثی باغیوں پر دباؤ بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا تاکہ وہ جنگ بندی کی طرف آئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ یمن میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، بلکہ اس کا حل صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کونسل نے یمنی فریقین پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مذاکرات میں سنجیدگی سے حصہ لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے برائے یمن بھی فریقین کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ سلامتی کونسل کا حالیہ بیان ان سفارتی کوششوں کو مزید تقویت فراہم کرے گا تاکہ یمن میں دیرپا امن کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے بھی ماضی میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/911/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
