<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>حوثی_باغی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c_%d8%a8%d8%a7%d8%ba%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>حوثی_باغی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1663/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1663/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 05:17:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اتحادی_افواج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_باغی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرون_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض_ایئرپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%a7%d8%aa%d8%ad%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%a7%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%af%db%8c%d9%86%db%81-%d9%85%d9%86%d9%88%d8%b1%db%81-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سعودی زیر قیادت اتحادی افواج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چاروں ڈرونز کو اپنے اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی فضا میں ناکارہ بنا دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے ایک اہم دفاعی کارروائی کے دوران مدینہ منورہ اور مملکت کے مشرقی علاقوں کی جانب بڑھنے والے چار مشتبہ ڈرونز کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فضائی سیکیورٹی کے چیلنجز کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتحادی افواج کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیان کے مطابق، دفاعی نظام نے ان ڈرونز کی نقل و حرکت کو بروقت شناخت کر لیا تھا۔ کارروائی کے دوران چاروں ڈرونز کو ان کے اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی فضا میں کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال اس واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ڈرونز کہاں سے بھیجے گئے تھے اور ان کا حتمی ہدف کیا تھا۔ اس واقعے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع بھی تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ سعودی عرب اپنی فضائی حدود کے تحفظ اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے عزم پر قائم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف جاری آپریشن &#039;فجر الیمن&#039; میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ یمنی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے خلاف 744 حملے کیے گئے ہیں جن میں بڑی تعداد میں جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی کے مطابق ان کارروائیوں میں حوثی ملیشیا کے کمانڈ سینٹرز، اسلحہ کے گوداموں اور اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ صوبہ تعز میں بھی حوثی باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب میں فضائی سیکیورٹی کے پیش نظر ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حوالے سے بھی نئے ضوابط نافذ کیے گئے ہیں۔ 10 اکتوبر سے عارضی طور پر بند رہنے والا یہ ایئرپورٹ اب سخت ترین شرائط کے ساتھ دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سول ایوی ایشن اتھارٹی کے تازہ نوٹم کے مطابق، ریاض ایئرپورٹ پر آمد اور روانگی کے لیے اب ایوی ایشن حکام سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہنگامی صورتحال میں بھی ریاض کو متبادل ایئرپورٹ کے طور پر استعمال کرنے پر پابندی عائد ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سعودی عرب نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا ہے۔ اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ وہ مملکت کی خودمختاری اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی جانب سے وقتاً فوقتاً ایسے فضائی حملوں کو ناکام بنانے کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ان واقعات کے بعد سعودی حکام کی جانب سے سیکیورٹی الرٹ جاری کیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی برادری بھی مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ فضائی اور زمینی حملوں کے اس سلسلے کو روکا جا سکے جو عام شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سعودی عرب اپنے دفاعی نظام کو مزید جدید بنانے پر کام کر رہا ہے۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر ہی یقین رکھیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1663/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن: سرکاری فوج کے 700 سے زائد حملے، متعدد حوثی جنگجو ہلاک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1637/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1637/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 02:19:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعز]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_باغی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فوجی_آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[ماجد_النزیلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%92-700-%d8%b3%db%92-%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d8%af-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[یمنی فوج نے مختلف محاذوں پر کارروائی کرتے ہوئے حوثی باغیوں کے مراکز اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمن کی مسلح افواج نے ملک کے مختلف حصوں میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک بڑی اور مربوط فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں فوج نے 700 سے زائد حملے کیے ہیں جن میں باغیوں کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کارروائیوں کا مقصد حوثی جنگجوؤں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا اور ان کے زیر قبضہ علاقوں کو واگزار کرانا ہے۔ اس دوران سیکڑوں باغی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فوجی ترجمان کے مطابق کارروائیوں میں حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، مضبوط ٹھکانوں اور اسلحہ بردار مورچوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ باغیوں کے اجتماع کے مقامات اور ان کی رسد کے راستوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آپریشن میں یمنی فضائیہ کے جنگی طیاروں، جدید ڈرونز، فیلڈ آرٹلری، راکٹ لانچرز اور ماہر اسنائپر یونٹس نے حصہ لیا ہے۔ ان مربوط حملوں کے نتیجے میں باغیوں کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ پسپائی پر مجبور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ تعز میں یمنی فورسز کی پیش قدمی تیزی سے جاری ہے جہاں باغیوں کی دفاعی لائنیں ٹوٹ چکی ہیں۔ حکومتی افواج نے اس اہم علاقے میں اپنی پوزیشنیں مستحکم کر لی ہیں جس سے حوثیوں کی مزاحمت کمزور پڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرقی، جنوبی اور مغربی محاذوں پر بھی یمنی فوج نے اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔ ان علاقوں میں باغیوں کی اضافی نفری کی تعیناتی کو روکنے کے لیے سخت ناکہ بندی کی گئی ہے تاکہ ان کی کمک کے ذرائع کو مکمل طور پر کاٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کا کہنا ہے کہ ان فوجی کارروائیوں کے دوران صرف اور صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہری آبادی اور اہم شہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں تاکہ نقصان نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری تنازع کے باعث ملکی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے۔ سرکاری فوج کی جانب سے حالیہ کارروائیاں اس عزم کا اظہار ہیں کہ ملک کے تمام حصوں میں ریاستی رٹ کو بحال کیا جائے گا اور باغیوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فوجی ماہرین کے مطابق 700 سے زائد حملوں کا یہ سلسلہ یمن کی عسکری تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے حوثی باغیوں کی عسکری صلاحیتوں کو زبردست دھچکا لگا ہے اور ان کی کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی سطح پر بھی ان کارروائیوں کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عام شہریوں کو باغیوں کے جبر سے نجات ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یمنی فوج کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنے علاقوں کی مکمل آزادی کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثی باغیوں کی جانب سے اب تک ان حملوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ انہیں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کی پسپائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرکاری فوج کی حکمت عملی کامیاب ثابت ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی برادری بھی یمن کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ یمن میں امن و امان کی بحالی کے لیے سرکاری فوج کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1637/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی اور کویتی وزرائے خارجہ کا حوثی حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1636/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1636/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 02:18:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جراح_جابر_الاحمد_الصباح]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_باغی]]></category>
		<category><![CDATA[خطے_کی_سلامتی]]></category>
		<category><![CDATA[خلیجی_ممالک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_پریس_ایجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_رابطے]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d9%88%db%8c%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b2%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%b1%d8%ac%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور کویتی ہم منصب نے ٹیلی فونک رابطے میں خطے کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور کویت کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم ٹیلی فونک رابطے کے دوران خطے میں امن و امان کی صورتحال اور حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان ہونے والی اس گفتگو میں دونوں برادر ممالک کے مابین گہرے تعلقات اور یکجہتی کا اعادہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں رہنماؤں نے حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حوثی باغیوں کی جانب سے جاری دھمکیاں اور حملے نہ صرف سعودی عرب اور کویت بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنے شہریوں اور حدود کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کویتی وزیر خارجہ نے اس موقع پر سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے کویت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ کویت ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ دہشت گرد عناصر کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ شہری علاقوں پر حملے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں اور ان کارروائیوں سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور کویت کے درمیان اس ٹیلی فونک رابطے کو خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی طے کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ باہمی مشاورت اور تعاون کے ذریعے خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر قابل ذکر ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے وقتاً فوقتاً کی جانے والی کارروائیوں پر سعودی عرب اور کویت سمیت خلیجی ممالک کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب نے ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی ہے تاہم اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا واضح موقف اپنا رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کویتی قیادت نے بھی ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور خطے میں کسی بھی بیرونی مداخلت یا دہشت گردی کے خلاف سعودی موقف کی مکمل حمایت کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1636/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا حوثی حملوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1531/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1531/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 23:57:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_باغی]]></category>
		<category><![CDATA[خلیج_تعاون_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_سالمیت]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%af%db%81-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ نے ٹیلی فونک رابطے میں خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی جارحیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے سعودی عرب کی شہری تنصیبات پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ناگزیر ہے تاکہ تنازعات کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سعودی عرب نے اپنے ہوائی اڈوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے اقدامات سخت کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کو ناکام بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے درمیان بھی علاقائی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے اہم بات چیت ہوئی ہے جس میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی اور سفارتی ہم آہنگی کو مزید بڑھا دیا ہے تاکہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی جانب سے بارہا یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی برادری حوثیوں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے متحد ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی سطح پر جاری ان کوششوں کا مقصد نہ صرف موجودہ بحران کا حل نکالنا ہے بلکہ مستقبل میں بھی خطے کو کسی بھی قسم کی جنگی صورتحال سے محفوظ رکھنا ہے تاکہ معاشی اور سماجی ترقی کا عمل جاری رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے بھی ماضی میں سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے اور خطے میں امن کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1531/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن: سرکاری افواج کی تعز میں پیش قدمی، حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1388/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1388/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 02:16:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعز]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_باغی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سراری]]></category>
		<category><![CDATA[سناماہ]]></category>
		<category><![CDATA[صنعاء]]></category>
		<category><![CDATA[عدن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%a7%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%8c%d8%b4-%d9%82%d8%af%d9%85%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[یمنی فوج نے جنوبی تعز کے محاذوں پر حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی میں اہم پیش رفت اور بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے ملک کے اسٹریٹجک صوبے تعز کے مختلف محاذوں پر حوثی جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں عسکری توازن پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فوج کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی دستوں نے جنوبی تعز کے علاقوں سناماہ اور سراری کے محاذوں پر بھرپور کارروائی کی ہے۔ اس دوران باغیوں کے زیر قبضہ متعدد پوزیشنوں پر دباؤ بڑھایا گیا اور دفاعی مورچوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عسکری حکام کے مطابق حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر ایک جامع جارحانہ کارروائی شروع کی گئی تھی جس کے دوران مخالف گروپ کے ٹھکانوں اور ساز و سامان کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان محاذوں پر دونوں اطراف سے شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ زمینی پیش قدمی کو یقینی بنانے اور باغیوں کی سپلائی لائن کو مفلوج کرنے کے لیے تعز کے شمال مغربی حصے میں حوثی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر تین فضائی حملے بھی کیے گئے۔ ان فضائی ضربوں نے مخالفین کی نقل و حرکت کو شدید متاثر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ تعز یمن کی طویل خانہ جنگی کے دوران ایک انتہائی اہم اور حساس میدان جنگ رہا ہے۔ یہ علاقہ ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں اور جنوبی ساحلی پٹی کے درمیان بنیادی زمینی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے فریقین اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن میں تعز شہر گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل کشیدگی اور محاصرے کی کیفیت میں گھرا ہوا ہے۔ حوثی فورسز نے شہر کے اہم داخلی راستوں پر ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس سے مقامی آبادی کو سنگین مشکلات اور نقل و حمل کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں بحران کا باقاعدہ آغاز سال 2014 کے اواخر میں ہوا تھا جب حوثی تحریک نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر کے حکومتی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد قانونی حکومت کو عارضی طور پر جنوبی شہر عدن منتقل ہونا پڑا تھا جہاں سے ریاستی امور چلائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعد ازاں یمنی تنازع ایک وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں عسکری جھڑپوں نے طول پکڑا۔ حالیہ برسوں میں حکومت کی صدارتی قیادت کونسل نے مختلف دھڑوں کو متحد کر کے حوثی پیش قدمی روکنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعز کے جنوبی اور مغربی اضلاع میں گزشتہ چند ماہ سے وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جنگ بندی کی کوششیں کی گئیں، تاہم زمینی سطح پر بعض علاقوں میں عسکری کشیدگی بدستور برقرار رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق تعز میں جاری جھڑپوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہسپتالوں تک رسائی، خوراک کی ترسیل اور روزمرہ کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں طویل راستوں کے استعمال کی وجہ سے لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمنی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ فوجی پیش رفت کا مقصد تعز کے اطراف قائم محاصرے کے دباؤ کو کم کرنا اور شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ حکومتی فورسز نے مختلف قبائلی اور مقامی دھڑوں کے تعاون سے اپنے قدم مضبوط کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی محاذ پر اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے یمن میں جامع اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں بدستور جاری ہیں۔ مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے فریقین پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ وہ سیاسی عمل کی بحالی کی جانب پیش رفت کریں تاکہ مستقل فائر بندی ممکن ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1388/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن ڈان آف یمن جاری، 1326 حملے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1368/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1368/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 22:37:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آپریشن_ڈان_آف_یمن]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعز]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_باغی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%ba%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7-%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[یمنی فوج نے مارب اور تعز کے محاذوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمن کی مسلح افواج نے ملک میں جاری کشیدگی کے دوران حوثی باغیوں کے خلاف جاری &#039;آپریشن ڈان آف یمن&#039; میں بڑی کامیابیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ سرکاری فورسز کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثی ٹھکانوں پر 1,326 حملے کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فوجی ترجمان کے مطابق ان کارروائیوں میں حوثی باغیوں کے اجتماعات، فوجی گاڑیوں، قلعہ بند ٹھکانوں اور فائرنگ کی پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس آپریشن میں یمنی فضائیہ کے جنگی طیاروں اور جدید ڈرونز نے بھرپور حصہ لیا جس سے باغیوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی فوجی جائزے کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران تقریباً 370 حوثی جنگجو ہلاک یا غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں فوجی گاڑیاں اور عسکری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ یا ناکارہ کر دیا گیا ہے، جس سے باغیوں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارب کے مغربی علاقے میں واقع مشرقی محاذ پر سرکاری فورسز نے اہم پیش قدمی کی ہے۔ اس پیش قدمی کے نتیجے میں باغیوں کی نقل و حرکت اور کمک پہنچانے کے راستوں کو محدود کر دیا گیا ہے، جس سے ان کی دفاعی پوزیشن کمزور پڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنوبی اور مغربی محاذوں پر بھی سرکاری فوج نے دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ ان علاقوں میں حوثی باغیوں کی فوجی صف بندی کو درہم برہم کر دیا گیا ہے، جس سے ان کے لیے مزید کمک منتقلی اور نئے مورچے سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعز کے محاذ پر سرکاری فورسز اور عوامی مزاحمتی گروپوں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم پوزیشنز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس دوران باغیوں کے زیر استعمال بھاری ہتھیار اور دیگر عسکری سازوسامان بھی سرکاری فوج کے قبضے میں آ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام حملے انتہائی درستگی کے ساتھ صرف فوجی اہداف پر کیے گئے ہیں۔ شہری آبادی اور اہم شہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمنی فوج کی جانب سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ان کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے مقاصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثی باغیوں کی جانب سے تاحال ان نقصانات کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ سرکاری فورسز نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے باغیوں پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی برادری یمن میں جاری اس طویل تنازع کے پرامن حل کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم زمینی صورتحال کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان فوجی محاذ آرائی میں شدت دیکھی جا رہی ہے جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمنی عوام کو امید ہے کہ سرکاری فورسز کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں ملک میں جاری غیر یقینی صورتحال کے خاتمے اور پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1368/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن کے حوثی باغیوں کو 16 ممالک سے میزائل پرزے ملنے کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/893/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/893/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 21:16:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلحہ_سمگلنگ]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_باغی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%ba%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-16-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d8%b3%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[ماہرین کی رپورٹ کے مطابق حوثی میزائل ٹیکنالوجی کے لیے ایران پر انحصار کم کر کے مقامی پیداوار بڑھا رہے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایک نئی بین الاقوامی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یمن میں سرگرم حوثی باغی اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے دنیا بھر کے 16 مختلف ممالک سے پرزہ جات حاصل کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ان کے ہتھیاروں کی تیاری کا نیٹ ورک وسیع ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے اب میزائل ٹیکنالوجی کے لیے ایران پر اپنا انحصار بتدریج کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے بجائے انہوں نے مقامی سطح پر میزائل تیار کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے جس سے ان کی عسکری طاقت میں تبدیلی آئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فراہم کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یمن پہنچنے والے میزائلوں کے پرزوں میں سے صرف 5 فیصد ہی ایرانی ساختہ تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حوثی اب عالمی منڈی سے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپنے مطلوبہ پرزے اور خام مال حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حوثیوں کو ابھی بھی جدید میزائل ٹیکنالوجی کے کچھ اہم شعبوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر میزائلوں کے انجن اور ٹھوس راکٹ ایندھن کی تیاری میں انہیں تکنیکی رکاوٹوں کا سامنا ہے جو ان کی خود کفالت میں بڑی رکاوٹ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایران سے یمن تک اسلحہ اور پرزہ جات کی سمگلنگ کے لیے سمندری راستوں کا استعمال اب بھی جاری ہے۔ یہ سمندری راستے حوثیوں کے عسکری سپلائی چین کا ایک اہم اور حساس حصہ سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثیوں کی جانب سے مقامی سطح پر میزائل سازی کی صلاحیت میں بہتری کا مطلب یہ ہے کہ وہ طویل عرصے تک اپنے عسکری آپریشنز جاری رکھنے کی پوزیشن میں ہیں۔ یہ پیش رفت یمن کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی مانیٹرنگ گروپس اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آخر یہ 16 ممالک کون سے ہیں اور ان کے پرزے کس طرح حوثیوں تک پہنچ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے مزید سخت نگرانی اور اقدامات کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حوثیوں کو ملنے والے پرزہ جات کی سپلائی لائن کو مکمل طور پر نہ روکا گیا تو ان کی میزائل ٹیکنالوجی مزید جدید ہو سکتی ہے۔ اس لیے عالمی سطح پر اسلحہ کی سمگلنگ روکنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششیں اکثر ان عسکری سرگرمیوں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے ہتھیاروں کے حصول کے نئے ذرائع تلاش کرنا امن مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کا تعین اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ اپنے میزائل پروگرام کے لیے درکار ٹیکنالوجی اور خام مال کے حصول میں کس حد تک کامیاب رہتے ہیں۔ عالمی طاقتیں اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید دور میں غیر ریاستی عناصر کس طرح عالمی سپلائی چین کا غلط استعمال کر کے اپنی عسکری طاقت کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی سلامتی کے اداروں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/893/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/866/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/866/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 17:37:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_باغی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[صدارتی_کمپلیکس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[معمر_الاریانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%b5%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%da%a9%d9%85%d9%be%d9%84%db%8c%da%a9%d8%b3-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[یمنی حکام کے مطابق حوثیوں نے صدارتی کمپلیکس کو پانچ میزائلوں سے نشانہ بنایا، وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان محفوظ رہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمن کے دارالحکومت میں واقع صدارتی کمپلیکس پر حوثی باغیوں کی جانب سے شدید میزائل حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے سکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حوثیوں نے جمعرات کے روز صدارتی کمپلیکس کو ہدف بنایا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ باغیوں کی جانب سے کمپلیکس پر مجموعی طور پر پانچ میزائل داغے گئے جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حملے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ حکام کے مطابق اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ دیگر زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے حوالے سے یمنی حکومت نے بتایا ہے کہ وزیراعظم اور کابینہ کے دیگر ارکان حملے کے وقت کمپلیکس میں موجود تھے تاہم وہ تمام مکمل طور پر محفوظ رہے ہیں۔ حکومتی ترجمان نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب حوثی باغیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ باغی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے میزائلوں نے صدارتی کمپلیکس کے اندر قائم ملٹری آپریشنز ہیڈکوارٹرز اور اسلحے کے ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثی ترجمان کے مطابق یہ حملہ سعودی افسران کے زیر انتظام چلنے والے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ تاہم یمنی حکام نے باغیوں کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی کسی فوجی تنصیب کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن میں جاری خانہ جنگی کے باعث صورتحال کافی عرصے سے کشیدہ ہے۔ حوثی باغی وقتاً فوقتاً سرکاری تنصیبات اور اہم مقامات کو نشانہ بناتے رہتے ہیں جس سے خطے میں قیام امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگتا ہے اور عام شہریوں کی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی برادری نے یمن میں جاری اس کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے فریقین سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن میں سیاسی استحکام کے لیے مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حملے نہ صرف سکیورٹی صورتحال کو مزید خراب کرتے ہیں بلکہ انسانی بحران میں بھی اضافے کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی انتظامیہ نے واقعے کے بعد دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ اہم سرکاری عمارتوں اور حساس تنصیبات کے گرد سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمنی وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اپنی سرزمین کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ باغیوں کے ان مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد سے علاقے میں فضا سوگوار ہے اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میزائل کہاں سے داغے گئے اور اس حملے میں کون سے جدید ہتھیار استعمال کیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن کے عوام طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں تاہم حوثیوں کی جانب سے اس طرح کی کارروائیاں امن عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/866/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/861/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/861/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 17:16:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_باغی]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[صدارتی_محل]]></category>
		<category><![CDATA[عدن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%b9%d8%af%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b5%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d9%85%d8%ad%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[یمن کے بندرگاہی شہر عدن میں واقع معاشیق صدارتی محل پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں دو سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو گئے جبکہ کابینہ کے ارکان محفوظ رہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمن کے جنوبی ساحلی شہر عدن میں واقع صدارتی محل ’معاشیق کمپلیکس‘ پر حوثی باغیوں نے جمعرات کے روز شدید میزائل حملہ کیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں محل کی حفاظت پر مامور دو سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ حکومتی عہدیداران کے مطابق وزیراعظم اور کابینہ کے دیگر ارکان محفوظ رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمنی حکومت کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حوثی باغیوں کی جانب سے صدارتی کمپلیکس کو مجموعی طور پر پانچ میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے وقت کابینہ کے ارکان محل کے اندر موجود تھے، تاہم خوش قسمتی سے وہ کسی بڑے جانی نقصان سے بچ گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق عدن میں واقع معاشیق محل کے قریب پہاڑی سلسلے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد سکیورٹی گیٹ کے قریب بھی دو زوردار دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے گئے اور ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب حوثی باغیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ باغیوں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے کمپلیکس کے اندر قائم ایک ملٹری آپریشنز ہیڈکوارٹرز اور اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا ہے، جس کا انتظام مبینہ طور پر سعودی افسران کے پاس تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران عدن شہر کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی عدن میں سرکاری تنصیبات اور حکومتی شخصیات کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جس کے باعث ملک میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مسلسل کشیدہ رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ حملے کے بعد یمنی حکومت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکومتی ترجمان نے اس کارروائی کو ملکی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسے امن کی کوششوں کے منافی قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن میں جاری اس طویل تنازعے نے ملک کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر رکھا ہے، جہاں لاکھوں افراد خوراک اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے بارہا فریقین سے جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدن میں ہونے والے اس تازہ حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے یمن کے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش ہو سکتے ہیں، جس سے پہلے ہی کمزور معیشت مزید متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سکیورٹی ماہرین کے مطابق عدن جیسے حساس علاقے میں صدارتی محل تک میزائلوں کا پہنچنا سکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومت کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن کی صورتحال پر نظر رکھنے والے عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک سیاسی حل کی جانب سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوتی، اس طرح کے پرتشدد واقعات کے تسلسل کا خدشہ برقرار رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حملے کے بعد عدن کی فضاؤں میں سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمنی وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان کی خیریت کی خبر ملنے کے بعد حکومتی حلقوں میں اطمینان پایا جاتا ہے۔ تاہم، جاں بحق ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کے لواحقین کے لیے یہ ایک بڑا صدمہ ہے، جن کی قربانیوں کو سرکاری سطح پر سراہا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی دہشت گردی کے باوجود اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانا جاری رکھے گی۔ یمنی حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جارحیت کا نوٹس لے اور ملک میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/861/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن کا حوثی باغیوں کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی کے استعمال کا معاملہ چین کے سامنے اٹھا دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/728/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/728/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 20:56:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افراح_الزوبہ]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_باغی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%ba%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%da%86%db%8c%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[یمنی حکومت نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے ہتھیاروں کی تیاری میں چینی پرزوں کے مبینہ استعمال کی تحقیقات کی جائیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمنی حکومت نے حوثی باغیوں کی جانب سے ہتھیاروں کی تیاری میں چینی ساختہ ٹیکنالوجی اور آلات کے مبینہ استعمال کا معاملہ چین کے سامنے اٹھا دیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوہرے استعمال کی حامل مصنوعات پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمنی وزیر خارجہ افراح الزوبہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یمن اور چین کے حکام کے مابین ان مصنوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے جنہیں شہری مقاصد کے ساتھ ساتھ فوجی سرگرمیوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افراح الزوبہ کے مطابق چینی حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے اور اس حوالے سے متعلقہ معلومات حاصل کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ یمن نے چین کو ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل &#039;کانفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ&#039; نامی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ حوثی باغی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جدید بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حوثی ایران کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی پرزے حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض میزائلوں کے پرزوں کے ساتھ ایسی شپنگ دستاویزات برآمد ہوئی ہیں جن پر چینی سپلائرز کے نام درج ہیں۔ تاہم، ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے اور چین کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری تنازع شدت اختیار کر چکا ہے جس میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ اور یمنی حکومت کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اس تنازع میں سعودی عرب یمنی حکومت کا ایک اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی برادری اور خطے کے ممالک یمن میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہیں، تاہم حوثی باغیوں کی جانب سے ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے استعمال کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثی باغی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ٹیکنالوجی کی ترسیل پر کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چین نے ماضی میں بھی عالمی تنازعات میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔ یمنی حکومت کو امید ہے کہ چین اس معاملے میں اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے تحقیقات میں مدد فراہم کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، حوثی باغیوں کی جانب سے میزائل سازی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی خبریں عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ مختلف بین الاقوامی ادارے ان ہتھیاروں کے ذرائع کا سراغ لگانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن میں جاری خانہ جنگی کے باعث انسانی بحران بھی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ عالمی ادارے بارہا فریقین سے جنگ بندی اور پرامن مذاکرات کی اپیل کر چکے ہیں تاکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/728/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
