<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>حوثی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 10:26:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>حوثی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکا کی ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی تیاری، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d9%85%da%a9%d9%86%db%81-%d8%a8%da%91%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d9%85%da%a9%d9%86%db%81-%d8%a8%da%91%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 11:38:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جوہری_تنصیبات]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[خلیجی_ممالک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d9%85%da%a9%d9%86%db%81-%d8%a8%da%91%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر غور، خطے میں کشیدگی میں اضافہ۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ بڑی فوجی کارروائی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے خلیجی ممالک کو ایران پر ممکنہ حملوں کے منصوبوں سے آگاہ کر دیا ہے، جن میں جوہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں ٹیکساس سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کا ایک اضافی یونٹ اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ طیارہ بردار بحری بیڑے کے جنگی گروپ اور میرینز دستے کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت موقف اپناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران 1979 سے امریکا کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے تہران پر ہزاروں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فوجی کارروائی کو اپنی بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے سفارتی وعدوں سے پھرنے کا طویل ریکارڈ رکھتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پینٹاگون کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف جاری کشیدگی پر امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ رقم جولائی کے تخمینے سے 25 فیصد زیادہ ہے، جس میں اسلحے کی خریداری اور فوجی سازوسامان کی تبدیلی شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین کے مندوب فوکانگ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا حل صرف سفارت کاری ہے۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کرے کیونکہ اس سے خطے میں مزید تباہی پھیل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی صورتحال پر تشویش جتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے عالمی معائنہ کاروں کی ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی محدود ہو گئی ہے، جس سے جوہری مواد کی نگرانی متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں کشیدگی کا اثر سعودی عرب اور یمن تک بھی پہنچ چکا ہے۔ سعودی فوجی اتحاد نے حوثیوں کی جانب سے طائف کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ جدہ اور ینبع میں ہنگامی الرٹس بھی جاری کیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمنی مسلح افواج کے ترجمان ماجد النزیلی کے مطابق حوثی ملیشیا کے خلاف &#039;فجر الیمن&#039; آپریشن کے تحت گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1382 حملے کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں باب المندب اور تعز سمیت مختلف علاقوں میں حوثی دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران کی وزارت خارجہ کے اہلکار محمود مال کی نے قطر پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ثالثی کی ذمہ داریاں نبھائے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے کسی ملک کی سرزمین یا تنصیبات کا استعمال علاقائی اعتماد کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران کے سیکرٹری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل محسن رضائی نے حوثی عہدیدار ابراہیم محمد الدیلمی سے ملاقات میں فلسطین اور غزہ کے دفاع میں حوثیوں کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے خطے کے ممالک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی کانگریس رکن سہ اس صبر امنیم نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث امریکا میں مہنگائی بڑھی ہے اور ہیلتھ کیئر سسٹم پر دباؤ پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی مشکلات کے اثرات عوام پر مرتب ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری یہ کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک خطے میں امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بڑی جنگ کو روکا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d9%85%da%a9%d9%86%db%81-%d8%a8%da%91%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی خطرات میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 03:36:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[جوہری_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں جاری کشیدگی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی فوجی افسران کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران سے اسرائیل کے وجود کو خطرات لاحق ہیں اور ایرانی سپریم لیڈر نے ایک بار پھر ایٹم بم تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار اسرائیل ٹرمپ سے پوچھے بغیر ایران پر حملہ کرے گا اور ایران میں حکومت کا تختہ الٹنا ہی واحد حل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ چھڑتی ہے تو جوابی حملے جاری رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں جبکہ انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات بھی نشانے پر آسکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن رضائی نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف ایک اور جنگ شروع کی گئی تو خطے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد دس گنا زیادہ ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک اب ایران کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں دو افراد کی ہلاکت اور آبنائے ہرمز میں تناؤ کے باعث عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق سعودی عرب کی معیشت پر ان حملوں کا اثر فی الحال محدود ہے، تاہم جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال بدستور ایک بڑا خطرہ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں سال سعودی معیشت کے حجم میں 3.3 فیصد تک کمی کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران کے اندر بھی معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے جس کے پیشِ نظر ایرانی حکام نے بینکوں سے امریکی ڈالر خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ اب خریدار یومیہ ایک ہزار ڈالر تک کی خریداری کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے انتخابات کے بعد ایران کے جوہری مراکز، میزائل ذخائر اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی کی ہے۔ دونوں ممالک کی افواج ممکنہ حملوں کی مشقیں بھی تیز کر چکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی نقل و حرکت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مشنز کے لیے آپریشنل تیاری بہتر بنانے کے لیے امریکی فوج معمول کے مطابق اہلکاروں اور سازوسامان کی نقل و حرکت کرتی رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن رضائی نے یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حوثی کوئی ایرانی ملٹری یونٹ نہیں ہیں اور یمنی سرزمین سے متعلق تمام فیصلے یمنی خود کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کا ذمہ دار ہے، باب المندب کا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر جاری ان تنازعات نے خطے کے ممالک کو بھی اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خلیجی ممالک میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث سفارتی سطح پر بھی ہلچل دیکھی جا رہی ہے اور مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی عرب کے دفاع کے لیے مصری پارلیمان کی منظوری، فوجی کردار پر بحث تیز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%85%d8%b5%d8%b1%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%85%d8%b5%d8%b1%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 22:17:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بحیرہ_احمر]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[خلیجی_ممالک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[عبدالفتاح_السیسی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%85%d8%b5%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے سعودی سلامتی کی حمایت کے اعلان کے بعد قاہرہ کے ممکنہ عسکری کردار پر خطے میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع کے لیے پارلیمانی منظوری طلب کیے جانے کے بعد، خطے میں مصری عسکری کردار کے حوالے سے بحث اور سفارتی سرگرمیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ قومی دفاعی کونسل نے سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے مقابلے میں ہر ممکنہ حمایت فراہم کرنے کی توثیق کر دی ہے، جس کے بعد ایوانِ نمائندگان میں اس معاملے پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے بعض اہم علاقوں اور تنصیبات پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں قاہرہ کا یہ موقف سامنے آیا ہے۔ مصری قیادت کا کہنا ہے کہ برادر ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچنے کی صورت میں تماشائی کا کردار ادا نہیں کیا جائے گا اور ریاض کو درکار سکیورٹی تعاون فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کے مطابق مصر کا یہ قدم خارجہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کے بجائے روایتی سٹریٹجک شراکت داری اور خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات کا تسلسل ہے۔ ماضی میں بھی مصر اور خلیجی ریاستوں کے درمیان سلامتی کے امور پر قریبی تعاون جاری رہا ہے جو خطے میں استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب کی سلامتی مصر کے اپنے معاشی مفادات کے لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ نہرِ سویز سے ہونے والی تجارت کا براہِ راست تعلق خطے کے امن سے ہے۔ اس سمندری راستے کا تحفظ مصری معیشت اور زرِ مبادلہ کے حصول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، یمنی پارلیمان سے وابستہ بعض حلقوں نے مصر کو اس معاملے سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ مصری حلقوں میں بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کے بجائے دفاعی نوعیت کا تعاون ہی مناسب حکمت عملی ہوگی۔ مصری آئین کے تحت ملک سے باہر کسی بھی عسکری مشن کے لیے ایوانِ نمائندگان کی دو تہائی اکثریت اور قومی دفاعی کونسل کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنہ 2013 کے بعد سے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب نے مصر کو کثیر جہتی معاشی امداد اور مرکزی بینک میں فنڈز جمع کروا کر اہم تعاون فراہم کیا ہے۔ بعض مالیاتی ذخائر کی میعاد پوری ہونے کے قریب ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے نزدیک حالیہ دفاعی اقدامات کو براہِ راست مالی لین دین سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصر اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں اور دونوں ممالک علاقائی استحکام کے لیے قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔ سعودی عرب کے سابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ریاض کے پاس اپنے دفاع کے لیے کافی صلاحیتیں موجود ہیں جن میں مکہ دفاعی اتحاد جیسے پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں، تاہم سیاسی اور سٹریٹجک سطح پر مصر کی حمایت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصر اس سے قبل بھی خطے میں سکیورٹی تعاون کے مختلف معاہدوں اور بحری اتحادوں کا حصہ رہا ہے جن کا مقصد بین الاقوامی جہاز رانی اور تجارت کے راستوں کو محفوظ بنانا تھا۔ حالیہ پیش رفت کے بعد قاہرہ اور ریاض کے درمیان سکیورٹی امور پر مزید ہم آہنگی پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ علاقائی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیتھم ہاؤس کے ماہر احمد ابو دوح کا کہنا ہے کہ قاہرہ وسیع عسکری اتحادوں میں شمولیت سے گریز کرتے ہوئے خلیجی ممالک کے ساتھ دو طرفہ سٹریٹجک شراکت داری کو برقرار رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ماہرین کے مطابق مصر اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات میں حالیہ ہم آہنگی خطے کی موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">العربیہ فاؤنڈیشن کے سربراہ سمیر راغب کے مطابق، مصری صدر کے حالیہ بیانات سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ قاہرہ کے دوران ہونے والی مفاہمتوں کا نتیجہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف علاقائی امور پر یکساں موقف پایا جاتا ہے جو کسی بھی مشترکہ لائحہ عمل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے سابق میجر جنرل عبداللہ غانم القحطانی کا موقف ہے کہ سعودی ریاست اپنے دفاع کے لیے درکار تمام عسکری صلاحیتیں اور دفاعی انتظامات رکھتی ہے۔ ان کے مطابق مصر کی جانب سے فراہم کیا جانے والا تعاون بنیادی طور پر سیاسی حمایت اور بحری گزرگاہوں کے تحفظ پر مرکوز ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصری آئین کی دفعہ 152 کے تحت بیرون ملک عسکری مشن کے لیے تمام آئینی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ فیصلے کو قانونی اور ادارہ جاتی تائید حاصل ہو سکے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور معاشی تعاون کے کئی تاریخی ادوار رہے ہیں جو اس سٹریٹجک رشتے کو مزید مستحکم بناتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%b9-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%85%d8%b5%d8%b1%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن تنازع میں روس کا کردار: توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b2%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b2%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 20:16:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انصار_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[خانہ_جنگی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b2%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[روس یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران حوثی تحریک اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمن میں جاری طویل خانہ جنگی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں روس کی جانب سے اپنایا گیا سفارتی مؤقف عالمی مبصرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ماسکو اس تنازع میں ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر خود کو پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ یمن کی جائز حکومت کی حمایت کرتے ہیں، تاہم ساتھ ہی حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، کے ساتھ بھی ان کے طویل عرصے سے دوستانہ اور سفارتی رابطے قائم ہیں۔ یہ دوہرا رویہ روس کو خطے میں سٹریٹجک رسائی فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارت خارجہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کے حوثی نمائندوں کے ساتھ رابطے معمول کا حصہ ہیں۔ رواں برس کے دوران حوثی وفود نے ماسکو کا دورہ کیا اور روسی حکام سے ملاقاتیں کیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب روس نے عدن میں اپنی قونصلر سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا مرکز ہے۔ اس اقدام کو یمن کی جائز حکومت کے لیے ایک علامتی کامیابی اور حمایت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یمن تنازع سے روس کو کئی تزویراتی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جس سے روسی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ باب المندب کے راستے سمندری تجارت متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین جنگ کے تناظر میں بھی یمن کی صورتحال روس کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس تنازع نے امریکہ اور مغربی ممالک کی توجہ یوکرین سے ہٹا کر مشرق وسطیٰ کی جانب مرکوز کر دی ہے، جو ماسکو کے لیے ایک سیاسی موقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس نے سعودی عرب کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو مستحکم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں میں جنگ بندی، دشمنی کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے تاکہ سعودی عرب کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں روسی جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کا وعدہ بھی دونوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی ایک کڑی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، روس نے عوامی سطح پر سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کے باوجود، تاحال کسی بھی فریق نے باضابطہ طور پر ماسکو کو اس کردار کے لیے مدعو نہیں کیا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خود کو کسی پر مسلط نہیں کرنا چاہتے بلکہ پرامن حل کے خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے ساتھ بھی روس کے رابطے جاری ہیں۔ یہ گروپ جنوبی یمن میں اپنی الگ شناخت کے لیے کوشاں ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ روس یمن کے تمام اہم دھڑوں تک رسائی رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی میڈیا اور بلاگرز کے مطابق، حوثیوں کی بحری کارروائیاں ان کے زیر کنٹرول علاقے کے حجم سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی صلاحیتوں نے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے راستوں پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس کا فائدہ روس کو مل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں یمن کا تنازع کس رخ پر جائے گا، یہ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم روس کی جانب سے اپنایا گیا یہ توازن برقرار رکھنے کا طریقہ کار اسے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر برقرار رکھے ہوئے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b2%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کیلئے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 20:37:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران حوثی تنظیم کو ڈرون، میزائل اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایک معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے اہداف کی نشاندہی اور اہم انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے حوثیوں کو جدید ڈرون، میزائل، ریڈار سسٹم اور دیگر عسکری سازوسامان کی فراہمی جاری ہے۔ اس معاونت کے نتیجے میں حوثی تنظیم سعودی عرب کے اندر مؤثر اور جدید حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران حوثی تنظیم کے ساتھ فرنٹ لائن پر موجود ہیں اور انہیں جنگی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی عسکری حکمت عملی میں آنے والی تبدیلی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں ایران سے براہ راست رہنمائی مل رہی ہے۔ یہ تعلق محض سرپرستی تک محدود نہیں بلکہ تزویراتی تعاون پر مبنی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے فراہم کردہ میزائلوں کی ممکنہ رینج 1200 میل تک ہو سکتی ہے، جس سے سعودی عرب اور اسرائیل کا پورا علاقہ ان کی زد میں آ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ صورتحال امریکی انتظامیہ اور خلیجی ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششیں ایران اور حوثیوں کے بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ سے متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ حوثی تنظیم اپنی آزادانہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیتی ہے اور بہت سے فیصلے خود کرتی ہے۔ وہ اپنے کچھ ہتھیار مقامی طور پر تیار کرنے کے ساتھ ساتھ چین سے بھی پرزے حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثیوں کی ترجیحات بنیادی طور پر یمن کے اندرونی معاملات سے جڑی ہوئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ رواں موسم گرما تک یہ تنظیم امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سے کسی حد تک لاتعلق رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب پر حملوں میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران یمن کے تنازع میں کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران یمن میں پُرامن حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور یمن میں حوثیوں کے مخالف اتحاد کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً ایران پر حوثیوں کی پشت پناہی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم ایران ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں یمن کی صورتحال اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں، اس کا انحصار فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات کے عمل پر ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن تنازعہ، سعودی عرب اور حوثیوں کے زیرِ استعمال عسکری ہتھیاروں کا جائزہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%db%81-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%db%81-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 15:17:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلحہ]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بیلسٹک_میزائل]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_تریۢ]]></category>
		<category><![CDATA[جنگی_طیارے]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%db%81-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[میدہ خَبروں کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین جاری کشیدگی میں بیلسٹک میزائل، ڈرونز اور جدید لڑاکا طیاروں کا استعمال جاری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمن میں حوثی تحریک انصار اللہ اور سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مختلف اقسام کے عسکری ہتھیاروں کا استعمال سامنے آ رہا ہے۔ اس تنازعے میں فریقین کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں، نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز کے ساتھ ساتھ جدید لڑاکا طیاروں کو بھی بروئے کار لایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تنازعات کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کارروائیوں میں ایسے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں جو ہزاروں کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان عسکری سازوسامان میں فضائی دفاعی نظام اور مختلف اقسام کے میزائل بھی شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثیوں کے عسکری اسلحہ خانے میں درمیانی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل نمایاں حیثیت رکھتے ہیں جن کی رفتار اور وزن اٹھانے کی صلاحیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے زیرِ استعمال بعض جدید میزائل اور ڈرون ایرانی ڈیزائن پر مبنی ہیں جنہیں مقامی سطح پر تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلاسل میں حوثیوں کی جانب سے استعمال ہونے والے نمایاں میزائلوں میں ’فلسطین 2‘ بھی شامل ہے جو تقریباً اکیس سو کلومیٹر سے زائد کے فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس میزائل کی رفتار انتہائی زیادہ بتائی جاتی ہے جو مبینہ طور پر آواز کی رفتار سے بھی کئی گناہ تیز سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثیوں کے پاس موجود دیگر میزائلوں میں ’ذوالفقار‘ بھی شامل ہے جسے ’برکان 3‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ بارہ سو کلومیٹر سے زیادہ دور تک مار کر سکتا ہے۔ فوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ میزائل بھی ایک مخصوص ڈیزائن کا تبدیل شدہ ورژن ہو سکتا ہے جو نمایاں تباہ کن صلاحیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، حوثی فورسز کے زیرِ استعمال ڈرونز میں قلیل فاصلے تک پرواز کرنے والا ’رجوم‘ ڈرون بھی شامل ہے جو کئی مارٹر گولے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ نگرانی اور طویل فاصلے کے لیے ’صماد 1‘ ڈرون بھی استعمال کیا جاتا ہے جسے بعد ازاں یک طرفہ حملوں کے قابل بھی بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب یمن کے اندرونی حصوں میں کارروائیوں کے لیے بنیادی طور پر اپنی فضائی قوت اور لڑاکا طیاروں پر انحصار کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی اور یورپی ساختہ جنگی طیاروں کے علاوہ جدید حملہ آور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں جو مختلف میزائلوں اور خودکار توپوں سے لیس ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سلطلنت سعودی عرب کے عسکری بیڑے میں نمایاں مقام رکھنے والا امریکی ساختہ ایف پندرہ لڑاکا طیارہ تین ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طیارے کو مختلف عسکری مشنز اور فضائی کارروائیوں میں بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ سعودی فضائیہ میں یورپ میں تیار کردہ یوروفائٹر ٹائفون لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں جو زمینی اہداف پر حملوں اور دیگر فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ طیارے طویل فاصلہ طے کرنے اور تیز رفتار پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عسکری ذخیرے میں امریکی ساختہ اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جنہیں فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں اور خودکار توپوں سے لیس کیا گیا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر مخصوص آپریشنل حالات میں دشمن کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ برسوں میں یمن میں کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز میں ’سکائی واسپ‘ بھی شامل ہے جسے ایک امریکی اور سعودی کمپنی نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس ڈرون کی پرواز کی طویل حد اور رفتار اسے نگرانی اور حملوں کے لیے مفید بناتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی جریدوں اور تحقیقی اداروں کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب دفاعی نظاموں پر سالانہ اربوں ڈالر کے اخراجات کرتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی بجٹ کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔ ریاض اپنے دفاعی پروگرام کے تحت مختلف ممالک کے جدید ترین دفاعی نظام استعمال کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے دفاعی نظاموں میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹم سب سے زیادہ نمایاں ہیں جو ملکی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے کام کرتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ نظام دشمن کی جانب سے داغے جانے والے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%db%81-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی عرب کو حوثیوں کیخلاف اسرائیلی مدد قبول کرنی چاہیے، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 01:57:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جوہری_معاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران کے حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیل کی جانب سے ملنے والی مدد کی پیشکش کو قبول کر لینا چاہیے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام سعودی عرب کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل خطے میں سعودی عرب کے لیے ایک مددگار ساتھی کے طور پر سامنے آیا ہے اور ان کے درمیان تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سیکیورٹی معاملات میں اس طرح کی پیشکشوں پر غور کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی قیادت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ تہران کی جانب سے جاری سرگرمیوں اور بیانات پر ان کی گہری نظر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ایران کے ہر اقدام اور بیان کی مکمل معلومات حاصل ہیں اور وہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ایرانی قیادت میں ایسا کوئی نہیں بچا جس کے ساتھ بامقصد بات چیت کی جا سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض معاملات میں ان کا ردعمل شاید توقع سے زیادہ سخت رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور امریکہ کے باہمی تعلقات پر بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ سعودی حکام امریکی حمایت اور تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں گہرا تعلق قائم ہے جو خطے کے استحکام کے لیے اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے تنازع کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اس جنگ کو ختم کرنے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یوکرین کی سٹارلنک تک رسائی محدود کرنے میں ان کا یا ایلون مسک کا کوئی کردار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر نے مزید کہا کہ یوکرین کی سٹار شیلڈ نظام تک رسائی محدود کرنے میں امریکہ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کی انتظامیہ اس طرح کے تکنیکی معاملات میں براہ راست مداخلت نہیں کر رہی ہے جیسا کہ کچھ حلقوں میں دعویٰ کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس اور چین کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کے لیے نئے معاہدے کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث مختلف ممالک کے درمیان سیکیورٹی اتحاد اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔ خطے میں جاری حوثیوں کے حملوں اور دیگر سیکیورٹی چیلنجز نے نئی صف بندیوں کو جنم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کے اس بیان سے خطے کی سیاست میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعاون کے حوالے سے امریکی حمایت کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے حوالے سے سخت موقف اپنانے کے بعد اب خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان اسی حکمت عملی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک امریکی صدر کے اس مشورے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ عالمی سیاست کے ماہرین اس بیان کو خطے میں جاری طاقت کے توازن میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن: عدن ایئرپورٹ کے قریب میزائل حملہ، حوثیوں کا سعودی کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%b9%d8%af%d9%86-%d8%a7%db%8c%d8%a6%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%b9%d8%af%d9%86-%d8%a7%db%8c%d8%a6%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 22:16:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_اتحاد]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[عدن]]></category>
		<category><![CDATA[عدن_ایئرپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%b9%d8%af%d9%86-%d8%a7%db%8c%d8%a6%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں ایئرپورٹ کے نزدیک دو میزائل گرنے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمن کے شہر عدن میں واقع بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب جمعہ کے روز دو زوردار میزائل حملے ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں کی آوازیں اتنی شدید تھیں کہ دور دور تک سنی گئیں اور مقامی صحافیوں نے بھی ان دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثی باغیوں نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا بنیادی ہدف ایئرپورٹ کے نزدیک قائم سعودی فوجی کمانڈ سینٹر تھا۔ یہ مرکز سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے زیر انتظام علاقے میں واقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدن شہر کو یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا عبوری دارالحکومت سمجھا جاتا ہے۔ حوثی باغی طویل عرصے سے یمن کے شمالی حصوں پر قابض ہیں اور یمنی حکومت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میزائل گرنے کے اس تازہ واقعے کے بعد تاحال کسی قسم کے جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ سیکیورٹی حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس حملے سے ایک روز قبل بھی عدن میں صدارتی محل کے احاطے پر حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔ یمنی حکام کے مطابق اس گزشتہ واقعے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن میں جاری خانہ جنگی کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ حوثی باغی وقتاً فوقتاً سعودی عرب کی حدود اور یمن میں حکومتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کرتے رہتے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی برادری یمن میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے تاہم فریقین کے مابین جاری لڑائی کے باعث مذاکرات کی کوششیں تاحال بار آور ثابت نہیں ہو سکیں۔ خطے میں کشیدگی کے باعث انسانی بحران بھی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی اتحادی افواج کی جانب سے حوثیوں کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے جوابی کارروائیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ گزشتہ عرصے کے دوران اتحادی افواج نے حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمنی حکومت اور سعودی اتحاد کا موقف رہا ہے کہ حوثی باغی خطے میں امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ دوسری جانب حوثی اپنی کارروائیوں کو دفاعی اور مزاحمتی قرار دے کر جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدن ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے اس تازہ حملے نے ایک بار پھر یمن کی سیکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس حملے کی مذمت کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدن میں موجود سیکیورٹی فورسز نے ایئرپورٹ کے اطراف کے علاقوں میں گشت بڑھا دیا ہے تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔ شہر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل قریب میں یمن کی صورتحال پر عالمی طاقتوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عام شہریوں کو جنگی کارروائیوں سے دور رکھیں اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%b9%d8%af%d9%86-%d8%a7%db%8c%d8%a6%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن کے حوثیوں کے خلاف اسرائیل کی مدد قبول کرنے پر امریکی صدر کا بیان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 20:16:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_صدر]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن میں حوثیوں کے خلاف اسرائیلی تعاون حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے اسرائیل کی عسکری مدد کو قبول کر لے۔ وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس تنازع میں اسرائیل سعودی عرب کے لیے ایک مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے پیش رفت پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ تاہم، امریکی صدر کی جانب سے اس معاملے پر کسی نئے باضابطہ معاہدے یا مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ابراہام معاہدوں کے تحت متعدد عرب ممالک نے امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ اس کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے تاحال اس معاملے پر محتاط رویہ اپنایا گیا ہے اور سعودی قیادت نے اب تک اسرائیل کے ساتھ کھلے سفارتی یا عسکری تعلقات قائم نہیں کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی میڈیا کی کچھ رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ماضی میں حوثیوں کے خلاف اسرائیلی فوجی مدد کی پیشکشوں میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ ان رپورٹس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست عسکری تعاون سے سعودی عوام میں منفی ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن میں جاری خانہ جنگی کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال کافی عرصے سے کشیدہ ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے، جبکہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی ماضی میں پیش آتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور مختلف ممالک اپنے سیکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم، سعودی عرب کی جانب سے اس مشورے پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی انتظامیہ طویل عرصے سے خطے میں اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کو اسی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد حوثیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن کا بحران برسوں سے جاری ہے جس کے نتیجے میں انسانی بحران اور سیکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس تنازع کے پرامن حل کے لیے مختلف کوششیں کرتی رہی ہے، تاہم حوثیوں اور عرب اتحاد کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق، سعودی عرب اپنی سیکیورٹی کے لیے خود مختار دفاعی صلاحیتوں پر انحصار کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اگرچہ خطے میں سیکیورٹی تعاون کے نئے امکانات پر بات چیت ہوتی رہتی ہے، لیکن عملی طور پر اسرائیل کے ساتھ تعاون کا فیصلہ بہت پیچیدہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا سعودی عرب امریکی صدر کے اس مشورے کو کسی عملی شکل میں ڈھالتا ہے یا پھر اپنی روایتی خارجہ پالیسی پر قائم رہتا ہے۔ فی الحال، سعودی قیادت کی جانب سے اس معاملے پر خاموشی برقرار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک بھی خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں اور یمن تنازع کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ تمام فریقین کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حوثیوں نے علاقائی فریقین کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی: ترجمان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%81%d8%b1%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af-%d8%b3%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%81%d8%b1%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af-%d8%b3%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 15:57:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ترکی_المالکی]]></category>
		<category><![CDATA[حرمین_شریفین]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[شاہ_خالد_ایئرپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[صعدہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%81%d8%b1%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ حرمین شریفین کا دفاع ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ریاض سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے بعض علاقائی فریقین کی براہ راست مدد اور سہولت کاری کے ذریعے جدید عسکری ٹیکنالوجیز حاصل کر لی ہیں۔ انہوں نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ یہ جدید وسائل اور آلات امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میجر جنرل ترکی المالکی کا مزید کہنا تھا کہ حرمین شریفین کا مقدس دفاع تمام تر مسلم دنیا اور اتحادی افواج کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے تمام ادارے اور ممالک پوری طرح متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے حرمین شریفین کو براہ راست نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں ایک نہایت گھناؤنا اور ناقابل برداشت فعل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے واضح کیا کہ اتحادی افواج نے یمن کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے حوثیوں کے متعدد راکٹ لانچ پلیٹ فارمز کو کامیابی کے ساتھ تباہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ پہاڑی سلسلوں میں چھپائے گئے جنگی ساز و سامان کے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ مزید حملے روکے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حوثی عناصر نے صنعا، صعدہ اور امران کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں اپنے خفیہ گودام تعمیر کر رکھے تھے جہاں سے وہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔ اتحادی افواج نے ان ٹھکانوں کی نشاندہی کے بعد موثر اور بروقت کارروائیاں سر انجام دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میجر جنرل ترکی المالکی نے عالمی برداری کو آگاہ کیا کہ یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ حوثی شدت پسند اپنے حملوں اور عسکری سرگرمیوں کے دوران عام شہری اثاثوں اور تنصیبات کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ شہریوں کی موجودگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس طرح کے اقدامات کرنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے بتایا کہ حالیہ عرصے کے دوران مملکت کے اہم ہوائی اڈوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جن میں سے شاہ خالد ایئر پورٹ پر ہونے والے حملے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایئر پورٹس کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات سے ہزاروں بے گناہ عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صرف یکم اکتوبر سے لے کر اب تک شاہ خالد ایئرپورٹ کو کم و بیش بیس مختلف حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان تمام کارروائیوں میں دہشت گردوں کی جانب سے جدید ڈرون طیاروں اور میزائلوں کا استعمال کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ شاہ خالد ایئرپورٹ پر ہونے والے ان حوثی حملوں کے نتیجے میں اب تک سترہ قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اتحادی افواج نے ان تمام حملوں کا انتہائی موثر انداز میں جواب دیا ہے اور ہوائی اڈوں کے دفاع کو مزید فول پروف بنا دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک اور کارروائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ حوثی ملیشیا کو ایک بہت بڑا آپریشنل دھچکا اس وقت لگا جب تعز کے مقام پر ان کا ایک اہم کمانڈر جنرل اکرم عامر اپنے دیگر ساتھیوں سمیت سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتحادی افواج کے ترجمان نے عزم ظاہر کیا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے فضائی اور زمینی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک خطے سے اس خطرے کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرق وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی عسکری کارروائیاں خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔ اتحادی افواج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں عوام کے تحفظ کے لیے بروئے کار لائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%81%d8%b1%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af-%d8%b3%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
