<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>حماس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ad%d9%85%d8%a7%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 15:19:46 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>حماس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4477/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4477/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 15:43:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[المواصی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگی_جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[حماس]]></category>
		<category><![CDATA[خان_یونس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریمال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غزہ]]></category>
		<category><![CDATA[فلسطین]]></category>
		<category><![CDATA[فلسطینی_عوام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%ba%d8%b2%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%da%88%d8%b1%d9%88%d9%86-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[فلسطین ہلال احمر سوسائٹی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے میں شہری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس سے جانی نقصان ہوا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ کے مختلف حصوں میں جاری کارروائیوں کے دوران مزید پانچ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ فلسطین ہلال احمر سوسائٹی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق تازہ ترین کارروائیاں غزہ کے مختلف علاقوں میں کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غزہ شہر میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں ایک شہری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جو تل الہوا کے علاقے میں الخور چوک کے قریب موجود تھی۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک فرد جاں بحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر پانچ شہادتیں ریکارڈ کی گئی ہیں تاہم دیگر مقامات پر ہونے والے جانی نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل گزشتہ روز خان یونس کے علاقے المواصی میں ڈرون حملے کے دوران پانچ فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہوئے تھے جن میں فرائض انجام دینے والے پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ اسی طرح غزہ سٹی کے ریمال محلے میں ایک اور ڈرون حملے میں چار سالہ بچے سمیت تین فلسطینی جاں بحق ہو گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ان تمام حملوں کو سوچی سمجھی کارروائیاں اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم کا بیان میں کہنا تھا کہ ڈیوٹی پر مامور پولیس افسران کو نشانہ بنانے کا مقصد علاقے میں بحالی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا اور بدامنی پھیلانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4477/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسرائیلی انٹیلیجنس چیف کا نیتن یاہو کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/743/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/743/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 22:37:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلیجنس]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حماس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[رونن_بار]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%86%d9%b9%db%8c%d9%84%db%8c%d8%ac%d9%86%d8%b3-%da%86%db%8c%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d8%aa%d9%86-%db%8c%d8%a7%db%81%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[شن بیت کے سابق سربراہ رونن بار نے وزیراعظم پر جھوٹے الزامات لگا کر ساکھ متاثر کرنے کا الزام عائد کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی &#039;شن بیت&#039; کے سابق سربراہ رونن بار نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں سات اکتوبر کے واقعات کے بعد سے سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رونن بار نے اپنے مقدمے میں موقف اختیار کیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے ان پر یہ سنگین الزام عائد کیا کہ انہیں حماس کے حملے کی پیشگی اطلاع تھی لیکن انہوں نے حکومت کو بروقت مطلع نہیں کیا۔ سابق انٹیلیجنس چیف کے مطابق یہ بیان ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے میں رونن بار نے تقریباً 30 لاکھ شیکل یعنی نو لاکھ 75 ہزار امریکی ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی دستاویزات کے مطابق رونن بار نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سات اکتوبر کے حملے سے قبل متعدد بار سکیورٹی خطرات سے متعلق انتباہات جاری کیے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 23 جولائی 2023 کو نیتن یاہو کے ساتھ ایک محفوظ ٹیلی فون لائن پر گفتگو کے دوران ممکنہ جنگ کے بارے میں تزویراتی انتباہ دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق انٹیلیجنس سربراہ نے مزید انکشاف کیا کہ 21 اگست کو بھی انہوں نے غزہ سے حملوں میں اضافے کے خدشات کا اظہار کیا تھا اور مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق یکم اکتوبر 2023 کو بھی انہوں نے فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے حملوں کے بڑھتے ہوئے امکانات سے خبردار کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رونن بار کا کہنا ہے کہ انہوں نے انٹیلیجنس رپورٹس کی روشنی میں اہم رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی تجویز بھی دی تھی، تاہم اس تجویز پر عمل نہیں کیا گیا۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ان انتباہات کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب رونن بار نے سات اکتوبر کے واقعے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کا اعتراف بھی کیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ شن بیت اس حملے کو روکنے کے لیے درکار انٹیلیجنس فراہم کرنے میں ناکام رہا تھا، جس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے نتیجے میں اسرائیل میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا تھا اور کئی افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا تھا۔ اس واقعے نے اسرائیل کی سکیورٹی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے تھے اور تب سے ہی اعلیٰ حکومتی اور سکیورٹی عہدیداروں کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ مقدمہ نیتن یاہو کی حکومت کے لیے ایک نئی قانونی اور سیاسی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے ابھی تک اس مقدمے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم قانونی ماہرین اسے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رونن بار کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے اندرونی سکیورٹی اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد کا فقدان کس حد تک بڑھ چکا ہے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران مزید اہم انکشافات متوقع ہیں جو مستقبل میں ملکی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیل میں جاری اس قانونی جنگ پر عالمی مبصرین کی بھی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ سات اکتوبر کے واقعات کے بعد سے نیتن یاہو کی حکومت کو اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے، اور اب اپنے ہی سابق انٹیلیجنس چیف کی جانب سے مقدمہ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ رونن بار نے اپنے استعفے کے وقت بھی انٹیلیجنس ناکامی کا اعتراف کیا تھا، لیکن اب وہ اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے قانونی راستے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ یہ مقدمہ ثابت کرے گا کہ آیا وزیراعظم کے بیانات سیاسی مقاصد کے لیے تھے یا انٹیلیجنس کی حقیقی ناکامی کا نتیجہ۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے پر مزید عدالتی کارروائی کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ عدالت کس طرح ان الزامات اور جوابی الزامات کا جائزہ لیتی ہے۔ اسرائیل کی تاریخ میں یہ ایک منفرد کیس ہے جہاں ایک انٹیلیجنس چیف نے اپنے ہی وزیراعظم کو عدالت میں کھڑا کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/743/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری، تازہ فضائی حملوں میں مزید 5 فلسطینی شہید</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/94/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/94/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 07:59:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[حماس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/94/</guid>

					<description><![CDATA[غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فورسز کی جانب سے مسلسل حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری فضائی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے نتیجے میں مزید پانچ فلسطینی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مقامی طبی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ ہلاکتیں غزہ شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والے تازہ حملوں کے دوران ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق غزہ شہر میں پانڈا مال کے قریب اسرائیلی طیاروں نے ایک رہائشی مقام کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ طبی امدادی ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا، جہاں ان کی شناخت کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح کے ایک اور واقعے میں غزہ کے جنوبی حصے میں واقع التفاح محلے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک فضائی حملے کے نتیجے میں ایک اور فلسطینی شہری شہید ہو گیا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے ان حملوں کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور شہری اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی حکام کی جانب سے ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ عسکری صلاحیتیں بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم حماس نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تنظیم کسی بھی قسم کے حملوں یا اسلحہ جمع کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے، بلکہ اسرائیل خود امن معاہدے کو سبوتاژ کر رہا ہے۔ حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ برس امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے میں غزہ کی تعمیر نو کا اہم پہلو شامل تھا، تاہم فریقین کے درمیان حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا جیسے معاملات پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث معاہدے پر عمل درآمد تعطل کا شکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غزہ کے محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1400 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ان مسلسل حملوں نے غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران ان کے چار فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد سے اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 74 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو ایک بڑی انسانی المیہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم تاحال کسی بھی بڑی طاقت کی جانب سے اسرائیل کو ان حملوں سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر لمحہ موت کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی تنظیموں نے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ دہرایا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ میں خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بغیر انسانی زندگیوں کو بچانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی جارحیت کے باعث غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، جس میں ہسپتال، اسکول اور رہائشی عمارتیں شامل ہیں۔ تعمیر نو کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی دوبارہ حملوں نے شہریوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلسطینی قیادت نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرے۔ غزہ میں جاری صورتحال پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل قریب میں جنگ بندی کے معاہدے کی بحالی کے امکانات تاحال معدوم نظر آتے ہیں، کیونکہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور مطالبات میں تضاد برقرار ہے۔ غزہ کے عوام اس وقت شدید مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/94/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
