<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جے_ڈی_وینس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ac%db%92_%da%88%db%8c_%d9%88%db%8c%d9%86%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 04 Nov 2026 23:58:11 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>جے_ڈی_وینس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکہ: نائب صدر جے ڈی وینس نے مڈٹرم انتخابات میں شکست کی وجہ ایران جنگ کو قرار دے دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/5022/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/5022/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 23:58:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[جے_ڈی_وینس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکن_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مڈٹرم_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[وائٹ_ہاؤس]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/5022/</guid>

					<description><![CDATA[ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری تنازع پر کھل کر سوالات اٹھا دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی عبرت ناک شکست کا ذمہ دار ایران کے خلاف جنگ کو ٹھہرایا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک تفصیلی بیان میں انہوں نے کہا کہ تنازع کی وجہ سے پارٹی کو ایوانِ بالا سینیٹ میں اگلے چھ برس کے لیے کنٹرول سے ہاتھ دھونا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ شکست کی اصل وجہ سب کو معلوم ہے اور مستقبل کے حوالے سے کسی بھی دیانت دارانہ گفتگو کا آغاز یہیں سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اگر کوئی یہ دلیل دیتا ہے کہ سینیٹ ہارنا اس قیمت کے لائق تھا تو وہ شوق سے ایسا کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جارج ڈبلیو بش کے دور میں ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر رہنے والے مارک پفائل نے بتایا کہ جے ڈی وینس نے اپنی انتظامیہ کی سیاسی غلطی کا اعتراف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آپ غلطی کریں تو اس کا اعتراف کریں اور نائب صدر نے اس سیاسی ناگہانیت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے ڈی وینس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میک امریکہ گریٹ اگین تحریک کا ممکنہ جانشین اور 2028ء کے صدارتی انتخابات کا امیدوار سمجھا جاتا ہے۔ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان آٹھ ماہ سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ اور ایران کے درمیان یہ طویل کشمکش دونوں ممالک کی معیشتوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی ہے۔ تہران کے حوالے سے جے ڈی وینس کے بیانات انتظامیہ کے دیگر اہم ارکان کے مقابلے میں زیادہ نرم رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق ڈیموکریٹک رکن کانگریس نِک راہال کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس واضح طور پر ٹرمپ سے فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسا کہ آنے والے مہینوں میں دیگر ریپبلکنز بھی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اندرونی حلقوں میں پہلے بھی یہ خبریں تھیں کہ جے ڈی وینس شروع ہی سے ایران کے خلاف جنگ پر تحفظات رکھتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابات کے بعد اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے ایک معروف پولسٹر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جن امریکیوں نے 2024ء میں ٹرمپ کو ووٹ دیا لیکن 2026ء میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا، ان کے مطابق ایران جنگ کا خاتمہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی بنیادی مطالبات تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں شکست کے بعد واضح کیا کہ انہیں یہ تنازع شروع کرنے پر کوئی پشیمانی نہیں ہے۔ وال اسٹریٹ جریدے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بالکل درست کیا اور اگر موقع ملا تو وہ یہ عمل دوبارہ دہرائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/5022/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایران جنگ امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں شکست کی بنیادی وجہ بنی: نائب صدر جے ڈی وینس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4989/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4989/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 19:28:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_کانگریس]]></category>
		<category><![CDATA[ایران_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جے_ڈی_وینس]]></category>
		<category><![CDATA[چک_شومر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹک_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکن_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[وائٹ_ہاؤس]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4989/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مڈ ٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ناکامی کی ذمہ داری ایران جنگ اور معاشی بحران پر عائد کر دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں حکمران ریپبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف جاری جنگ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں جے ڈی وینس نے لکھا کہ پارٹی کی ناکامی کی اصل وجہ جنگ ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات کا اشارہ دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نائب صدر نے کہا کہ اگر کوئی یہ دلیل دینا چاہتا ہے کہ اگلے 6 سال کے لیے سینیٹ کی اکثریت کھونا ایک مناسب قیمت تھی تو وہ یہ موقف اپنا سکتا ہے، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو ووٹ دینے والے اہم ووٹرز نے 2026 کے مڈ ٹرم میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے ڈی وینس کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایران جنگ، معاشی مشکلات اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کی خواہش ووٹرز کے فیصلے پر اثر انداز ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس طویل عرصے سے امریکی فوجی مداخلت کے ناقد رہے ہیں اور وہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر بھی تحفظات رکھتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابات میں ریپبلکنز کی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں ناکامی کے بعد 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے جے ڈی وینس کی صدارتی دوڑ میں پوزیشن متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منگل کے روز ہونے والے انتخابات میں اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو شدید سیاسی جھٹکا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ میں ڈیموکریٹک قائد چک شومر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چک شومر کا کہنا تھا کہ کانگریس کے پاس موجود مالیاتی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے صدر کو امریکی عوام کی منظوری کے بغیر جنگ جاری رکھنے سے روکا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی عوام کو ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران میں جنگ کس مقصد کے لیے لڑی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب امریکی وائٹ ہاؤس نے انتخابات کے بعد ایکس پر ایک پیغام جاری کیا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ پیغام دیا گیا کہ ٹرمپ اب بھی ملک کے صدر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائٹ ہاؤس کے اس پیغام کے باوجود ڈیموکریٹس کو کانگریس میں اکثریت ملنے کے بعد صدر ٹرمپ کے لیے نئی قانون سازی اور اہم تقرریوں کی منظوری مشکل ہو جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ووٹرز میں مہنگائی، ٹیرف اور ایران جنگ کے باعث قیمتوں میں اضافے سے شدید بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے وی ٹو کے اختیار کو استعمال کرنے کا اشارہ دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں وائٹ ہاؤس اور نئی ڈیموکریٹک اکثریت والی کانگریس کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4989/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے قطری سفارتی وفد تہران پہنچ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/3232/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/3232/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 14:17:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[جے_ڈی_وینس]]></category>
		<category><![CDATA[خلیج]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[سیز_فائر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b0%d8%a7%da%a9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%82%d8%b7/</guid>

					<description><![CDATA[قطری وفد دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے اور ممکنہ سیز فائر معاہدے کی بحالی کے لیے سرگرم ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے قطر کی فعال سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے میں قطری ثالثوں کا ایک اہم وفد جمعہ کی صبح ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گیا ہے تاکہ دونوں حریف ممالک کے درمیان معطل سفارتی رابطوں کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر این اے کے مطابق یہ سفارتی مشن قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے سینئر مشیر کی قیادت میں تہران پہنچا ہے۔ اس اعلیٰ سطح کے وفد کی آمد کا بنیادی مقصد واشنگتن اور تہران کے مابین ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی بحالی کے لیے فریقین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ سفارتی پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی دارالحکومت واشنگتن سے خطے کے حوالے سے متضاد اور مختلف نوعیت کے اشارے موصول ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضاعی کے نام ایک خط ارسال کیا گیا تھا جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر کا یہ خط تہران میں انتہائی مثبت انداز میں وصول کیا گیا ہے اور ایرانی حکام کی طرف سے اس کے مناسب جواب کے حوالے سے مختلف زاویوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ قطری وفد کا تہران کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے تاکہ ایرانی حکام سے باضابطہ جواب حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے خلیجی ممالک کے اتحادیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی وسطی مدتی انتخابات کے بعد کسی بھی ممکنہ عسکری صورتحال کے لیے پوری طرح تیار رہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس قسم کے بیانات کے بعد سفارتی سطح پر تناؤ کم کرنے کی کوششیں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطری وفد کی جانب سے ایرانی حکام تک پہنچائے جانے والے خط میں براہ راست امن کی کوئی مخصوص اور سخت شرائط پیش کرنے کے بجائے مذاکرات کے لیے ایک نئے اور لچکدار فریم ورک کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سفارتی اقدام کا مقصد امریکہ کی طرف سے متوقع ممکنہ فضائی حملوں یا سخت عسکری کارروائیوں کے سلسلے کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تہران میں موجود باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر کے اس خط کا مجموعی لہجہ پچھلی امریکی انتظامیہ کے بیانات اور رویے کے مقابلے میں کافی احترام والا تھا جسے تہران میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ تاہم، اس کے باوجود ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی حتمی سرکاری ردعمل عوامی سطح پر سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطری وفد اپنے اس دورے کے دوران تہران میں قیام کے دوران ایرانی اعلیٰ حکام اور وزارت خارجہ کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کرے گا۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی موجودہ پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال، دوطرفہ امور اور آئندہ کے مذاکرات کے مراحل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفارتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ قطری وفد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان خلیجی ملک کے توسط سے تعطل کا شکار رابطہ بحال کرنے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ اس مشن کی کامیابی سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق اگر فریقین کے درمیان جاری یہ پس پردہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھتی ہے تو آئندہ ایک ہفتے کے اندر قطر کے دارالحکومت دوحہ یا ترکی کے شہر استنبول میں ایک اور اعلیٰ سطحی ملاقات متوقع ہے۔ اس ممکنہ اجلاس میں دونوں فریقین مذاکرات کے باضابطہ آغاز اور اس کی شرائط پر بات چیت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے کے سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ قطر کی یہ ثالثی مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑی فوجی محاذ آرائی کو روکنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی نے پہلے ہی خطے کے امن و امن کو شدید خطرے میں ڈال رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر اس سے قبل بھی بین الاقوامی تنازعات کے حل میں ایک کامیاب ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس بار بھی امریکی ایرانی تعلقات میں جمی برف کو پگھلانے کی سنجیدہ کوشش کر رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں تہران میں ہونے والی ان خفیہ ملاقاتوں اور قطری وفد کے مشن کی کامیابی پر مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز کے دوران یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ تہران واشنگتن کی اس نئی سفارتی پیشکش پر کیا حتمی موقف اختیار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ آیا فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/3232/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جے ڈی وینس کا اسرائیلی انتخابات میں کسی امیدوار کی حمایت سے گریز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1676/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1676/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 07:16:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جے_ڈی_وینس]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%ac%db%92-%da%88%db%8c-%d9%88%db%8c%d9%86%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے داخلی انتخابات میں مداخلت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی امیدوار کی حمایت کریں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران اسرائیلی انتخابات کے حوالے سے اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اسرائیل کے داخلی سیاسی عمل میں کسی بھی فریق کی حمایت یا مخالفت سے گریز کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جے ڈی وینس کا موقف ٹرمپ کی پالیسی سے مختلف دکھائی دیتا ہے جس پر عالمی سیاسی حلقوں میں تبصرے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ان کی توجہ مکمل طور پر امریکی سیاست اور اپنے ملک کے وسط مدتی انتخابات پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف امریکی امیدواروں کی حمایت کرنے کے پابند ہیں اور دیگر ممالک کے انتخابات میں مداخلت نہیں چاہتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو ستائیس اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ ان کی سیاسی مہم کے دوران امریکی حمایت کو کافی اہمیت دی جا رہی تھی، تاہم وینس کے بیان نے اس صورتحال کو ایک نیا رخ دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے ڈی وینس کا یہ فیصلہ ان کی سابقہ سیاسی سرگرمیوں سے بظاہر مختلف معلوم ہوتا ہے۔ ماضی میں وہ ہنگری کے پارلیمانی انتخابات کے دوران وزیراعظم وکٹر اوربان کی حمایت کے لیے بڈاپسٹ کا دورہ کر چکے ہیں اور یورپی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ وینس کا یہ بیان ان کے مستقبل کے سیاسی عزائم کی عکاسی بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ مستقبل میں امریکی صدارتی امیدوار بننے کی خواہش رکھتے ہیں، اگرچہ انہوں نے اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ماضی میں مختلف موقف اپنائے ہیں۔ ابتدا میں انہوں نے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جنگی مہم کی مخالفت کی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے اس فوجی حکمت عملی کا دفاع بھی کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جون کے مہینے میں جب امریکا اور ایران کے درمیان مختصر جنگ بندی ہوئی تھی، تو اس وقت اسرائیلی حکام کی جانب سے تنقید کی گئی تھی۔ اس موقع پر جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے اہم اتحادی امریکا پر تنقید کرتے ہوئے احتیاط سے کام لے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وینس نے اس وقت زور دیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے واحد سربراہ مملکت ہیں جو موجودہ پیچیدہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ مخلصانہ ہمدردی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیح دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی نائب صدر کا حالیہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے برعکس، موجودہ امریکی قیادت اسرائیل کے داخلی معاملات میں براہ راست مداخلت سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیل میں جاری انتخابی گہما گہمی کے دوران نیتن یاہو اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی حمایت کا حصول ان کی انتخابی مہم کا ایک اہم حصہ رہا ہے، جس پر اب عالمی سطح پر نظریں جمی ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی سیاست میں جے ڈی وینس کا شمار اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی جانب سے اسرائیلی انتخابات سے لاتعلقی کا اعلان واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل قریب میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وینس کا یہ غیر جانبدارانہ موقف اسرائیل اور امریکا کے باہمی تعلقات پر کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ فی الحال، امریکی نائب صدر نے اپنے بیان کے ذریعے تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1676/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نضال حسن کی پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/906/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/906/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 22:37:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جے_ڈی_وینس]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d9%88%d9%86%d9%84%da%88-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b6%d8%a7%d9%84-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر نے فورٹ ہڈ فائرنگ کیس کے مجرم کی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کا متنازع منصوبہ ترک کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے مجرم نضال حسن کی سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کا اپنا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نضال حسن امریکی فوج میں بطور ماہرِ نفسیات خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 فوجیوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں 2013 میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ کا ابتدائی مؤقف یہ تھا کہ اس پھانسی کو آن لائن براہِ راست دکھایا جانا چاہیے تاکہ دنیا بھر میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کو ایک واضح پیغام دیا جا سکے اور یہ منظر ایک عبرت کا نشان بن سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم اس تجویز کے سامنے آنے کے بعد امریکی حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی صدر کے اس فیصلے سے کھل کر اختلاف کیا اور کہا کہ وہ خود اس قسم کی نشریات دیکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے پر امریکا کے 72 ریٹائرڈ جرنیلوں، ایڈمرلز اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام نے بھی حکومت کو ایک خط لکھا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پھانسی کی براہِ راست نشریات کے منصوبے کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان فوجی حکام کا کہنا تھا کہ اس طرح کی نشریات اخلاقی اور پیشہ ورانہ اقدار کے منافی ہوں گی۔ دباؤ بڑھنے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے نیک نیت لوگ کسی کو مرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ نضال حسن کی سزائے موت پر اپنے مقررہ وقت پر عمل درآمد کیا جائے گا، تاہم اب اسے کسی بھی پلیٹ فارم پر براہِ راست نشر نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی تشہیر کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ 5 نومبر 2009 کو پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں نضال حسن نے فوجی اڈے کے اندر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 13 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد سے نضال حسن کی سزا پر عمل درآمد کا معاملہ طویل عرصے تک قانونی پیچیدگیوں اور بحث کا شکار رہا ہے۔ اب جبکہ حتمی فیصلہ سامنے آ چکا ہے، سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی انتظامیہ نے اس فیصلے کو حتمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور مجرم کو اس کے کیے کی سزا دی جائے گی، تاہم اخلاقی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے نشریات سے گریز کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کا خیرمقدم ان حلقوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے جو اسے ایک غیر روایتی اور غیر ضروری اقدام قرار دے رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکی عدالتی اور فوجی روایات کے عین مطابق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب جبکہ براہِ راست نشریات کا تنازع ختم ہو چکا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام جلد ہی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/906/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
