<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جیف_بیزوس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ac%db%8c%d9%81_%d8%a8%db%8c%d8%b2%d9%88%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 21 Oct 2026 08:58:13 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>جیف_بیزوس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>2045 تک خلا میں انسانوں کی بستیوں کا امکان، جیف بیزوس کی پیشگوئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/1694/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/1694/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:58:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایلون_مسک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پینل_ڈسکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیک_ویک]]></category>
		<category><![CDATA[جیف_بیزوس]]></category>
		<category><![CDATA[خلا]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_آبادی]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_سفر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/2045-%d8%aa%da%a9-%d8%ae%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d8%aa%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[ایمازون کے بانی جیف بیزوس کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں لاکھوں افراد خلا میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کا نظام بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور ٹیکنالوجی کی ترقی انسانی زندگی کو زمین تک محدود رکھنے کے بجائے کائنات کے دیگر حصوں تک پھیلانے کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے۔ دنیا بھر کے نامور کاروباری اور تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں انسانوں کے لیے کرہ ارض سے باہر زندگی بسر کرنے کے نئے اور حیران کن مواقع پیدا ہوں گے۔ اس حوالے سے خلائی تحقیق اور جدید ایجادات پر کام کرنے والے ادارے مستقبل کے حوالے سے مختلف نوعیت کے منصوبے اور تخمینے پیش کر رہے ہیں تاکہ انسانیت کے دائرہ کار کو وسعت دی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشہور عالمی ادارے ایمازون اور خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس نے ایک اہم بیان میں یہ پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ دو دہائیوں کے دوران لاکھوں انسان زمین کا طواف چھوڑ کر خلا میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق خلائی ٹیکنالوجی میں ہو رہی تیز رفتار پیشرفت مستقبل میں انسانوں کے لیے زمین سے باہر اپنے گھر بنانے اور کام کرنے کے وسیع ترین امکانات پیدا کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیف بیزوس نے اپنے خیالات کا اظہار اٹلی میں منعقد ہونے والے ٹیک ویک کے دوران ایک تفصیلی گفتگو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں خلا میں انسانی آبادی کا قیام محض کسی مجبوری کے تحت نہیں ہوگا بلکہ لوگ اپنی ذاتی دلچسپی اور مرضی کی بنیاد پر بھی خلائی بستیوں کا رخ کریں گے۔ تاہم اس تمام تصور کی عملی تکمیل کا انحصار براہ راست تکنیکی ترقی اور خلا میں ضروری رہائشی انتظامات کی کامیابی پر ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلائی امور پر بات کرتے ہوئے جیف بیزوس نے مزید کہا کہ چاند یا دیگر خلائی سیاروں پر پیچیدہ، مشکل اور خطرناک نوعیت کے کام انجام دینے کے لیے انسانوں کے بجائے جدید روبوٹس کا استعمال زیادہ مؤثر اور نسبتاً کم خرچ ثابت ہو سکتا ہے۔ روبوٹس کے ذریعے ایسے کٹھن امور باآسانی سر انجام دیے جا سکیں گے جن کے لیے انسانوں کو زمین سے لاکھوں میل دور خلا میں لے جانا انتہائی مہنگا اور پیچیدہ عمل بن جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے باعث دنیا بھر میں ملازمتوں کے مستقبل سے متعلق پائے جانے والے خدشات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جیف بیزوس کا کہنا تھا کہ نئی ایجادات مجموعی طور پر انسانی معاشرے کی فلاح و بہبود اور خوش حالی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ماضی میں زرعی آلات اور دیگر انقلابی ایجادات نے انسانی زندگی کو بہتر اور آسان بنایا، اسی طرح جدید ترین ٹیکنالوجی بھی دنیا بھر میں معاشی ترقی کے نئے اور وسیع مواقع پیدا کرے گی۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس تبدیلی سے گھبرانے کے بجائے اس سے ہم آہنگ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین بھی مستقبل میں خلائی شعبے کے اندر روزگار کے نئے اور شاندار امکانات کے حوالے سے انتہائی پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کو خلا میں جا کر کام کرنے اور انتہائی پُرکشش معاوضے والی ملازمتیں حاصل کرنے کے نادر مواقع مل سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادھر برقی گاڑیوں اور خلائی جہاز بنانے والی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک بھی انسانوں کو مریخ سمیت نظام شمسی کے دیگر سیاروں تک بحفاظت پہنچانے کے عزم پر بڑی تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف انسانوں کو مریخ کی سرخ زمین پر آباد کرنا ہے تاہم ان تمام بلند و بانگ منصوبوں کی کامیابی کا دارمدار تکنیکی پیشرفت پر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلائی صنعت سے وابستہ دیگر سائنسدانوں اور ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ دو ہزار تیس کی دہائی کے دوران خلا میں انسانوں کے مستقل طور پر رہنے اور کام کرنے کے امکانات مزید ٹھوس حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کائنات کے نادیدہ گوشوں کو کھنگالنے کے لیے یہ سفر انسانیت کی بقا اور ترقی کے لیے ایک نیا باب ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ خلا میں مستقل انسانی آبادکاری کے راستے میں کئی سنگین نوعیت کی رکاوٹیں بھی حائل ہیں۔ خلا میں آکسیجن کی فراہمی، خوراک کا انتظام، پینے کا صاف پانی، توانائی کی مسلسل دستیابی، انسانی صحت کے تحفظ اور اس پورے عمل پر آنے والے بھاری بھرکم اخراجات جیسے بڑے چیلنجز پر قابو پانا اشد ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام تر تکنیکی اور طبی مشکلات کے باوجود کیا واقعی آنے والے برسوں تک خلا میں لاکھوں انسان آباد ہو سکیں گے؟ جیف بیزوس اور دیگر بین الاقوامی ٹیکنالوجی رہنماؤں کی یہ پیشگوئی مستقبل کی ایک انتہائی دلچسپ اور سحر انگیز تصویر پیش کرتی ہے، جو آنے والے وقت میں انسانی عزم کی نئی معراج ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال بڑے پیمانے پر خلا میں انسانی آبادی کا قیام ایک متوقع مستقبل کا حسین تصور ہی ہے کوئی حتمی اور اٹل حقیقت نہیں، تاہم آنے والی دو دہائیاں یہ بات واضح کر دیں گی کہ انسان زمین سے باہر نئی دنیا بسانے کے اس خواب کو کس حد تک حقیقت کا جامہ پہنا پاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاوہ ازیں، سائنسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا زمین کے وسائل محدود ہونے کے بعد خلائی ہجرت انسانی نسل کو بچانے کا واحد ذریعہ بنے گی یا نہیں۔ اس حوالے سے ہونے والی مسلسل سائنسی تحقیق اور تجربات اس بات کا تعین کریں گے کہ آنے والی صدیوں میں انسانوں کا اصل مسکن کون سا سیارہ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/1694/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جیف بیزوس کی اے آئی کے حوالے سے حیرت انگیز پیشگوئی سامنے آگئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/290/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/290/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 11:38:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[ایمازون]]></category>
		<category><![CDATA[اے_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیشگوئی]]></category>
		<category><![CDATA[جیف_بیزوس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[ماہرین]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ac%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c%d8%b2%d9%88%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%92-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%b3%db%92-%d8%ad%db%8c%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%86%da%af/</guid>

					<description><![CDATA[ایمازون کے بانی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے مستقبل میں لوگوں کو کم کام کرنا پڑے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایمازون کے بانی جیف بیزوس نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے بارے میں ایک دلچسپ اور حیرت انگیز پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت انسانی زندگی اور کاروباری انداز یکسر تبدیل ہو جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے وضاحت کی کہ اے آئی کے فروغ کے بعد لوگوں کو روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے اور بہترین زندگی گزارنے کے لیے طویل گھنٹے کام کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیف بیزوس کا ماننا ہے کہ معیشت کے زیادہ مؤثر ہونے کے نتیجے میں کچھ افراد کے لیے ہفتے میں صرف 3 دن کام کرنا بھی ممکن ہو جائے گا اور وہ اس کم وقت میں اپنے پورے خاندان کی کفالت کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اس معاشی تبدیلی کے بعد گھر کے اخراجات چلانے کے لیے میاں اور بیوی دونوں کو بیک وقت ملازمتیں کرنے کی مجبوری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایک فرد کی کمائی بھی کافی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے اس منظر نامے پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی مرضی کے مطابق اپنے کام کے اوقات میں کمی کر سکیں گے اور حتیٰ کہ ضرورت نہ پڑنے پر ملازمت چھوڑنے کا انتخاب بھی کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمازون کے بانی کے مطابق ایسی ممکنہ صورتِ حال میں کاروباری اداروں اور کمپنیوں کے لیے نئے ملازمین کو بھرتی کرنا ایک مشکل چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ زیادہ تر افراد کو اضافی ملازمتوں کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے انکشاف کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی موجودگی کی وجہ سے کاروباری ادارے کم تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بھی پہلے سے کہیں زیادہ مقدار میں سامان اور مصنوعات تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیف بیزوس نے روایتی خدشات کے برعکس یہ مؤقف اپنایا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی اس ٹیکنالوجی کو ملازمتوں کے لیے کسی قسم کا خطرہ یا نقصان دہ تصور نہیں کرتے بلکہ اسے خوش آئند قرار دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے نزدیک اس ٹیکنالوجی کی بدولت عام انسان کا معیارِ زندگی کافی بہتر ہو جائے گا جبکہ محنت اور کام کا دورانیہ بھی پہلے کی نسبت کافی حد تک کم ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے معاشرے میں بیروزگاری بڑھنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس مستقبل میں کمپنیوں کو اپنی افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کی بنیادی وجہ یہ ہوگی کہ لوگ اپنی مرضی اور پسند کے تحت طویل کے بجائے کم کام کرنے کو ترجیح دیں گے اور اپنی زندگی کے دیگر امور پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم جیف بیزوس نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ضروری نہیں ہے کہ ہفتے میں محض 3 دن کام کرنے سے متعلق یہ پیشگوئی بہت جلد یا فوری طور پر حقیقت کا روپ دھار لے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اس پیشگوئی کا مکمل انحصار مناسب معاوضے، کام کے دورانیے کے تعین اور گھریلو آمدنی کے ذرائع پر ہوگا جنہیں طے ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/290/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
