<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.8.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جنسی_زیادتی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c_%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 14 Oct 2026 00:57:02 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>جنسی_زیادتی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکی کارنیل یونیورسٹی میں طالبات سے زیادتی کے الزامات کے بعد تقریبات پر پابندی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%86%db%8c%d9%84-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%86%db%8c%d9%84-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 00:57:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[جنسی_زیادتی]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[طلبہ_تنظیمیں]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کارنیل_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[کیمپس_لائف]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[نیویارک]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%86%db%8c%d9%84-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک طالبہ کی جانب سے اجتماعی زیادتی کے مقدمے کے اندراج کے بعد تعلیمی سال کے اختتام تک طلبہ تنظیموں کی رہائشی عمارتوں میں تقریبات پر پابندی عائد کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکا کی معروف تعلیمی درسگاہ کارنیل یونیورسٹی میں طالبات کے تحفظ اور جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے الزامات کے پیش نظر انتظامیہ نے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تعلیمی سال کے اختتام تک طلبہ تنظیموں کی رہائشی عمارتوں میں ہر قسم کی تقریبات منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ ایک متاثرہ طالبہ کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں یونیورسٹی کے ایک طلبہ کلب کی تقریب کے دوران مبینہ اجتماعی زیادتی کا الزام لگایا گیا تھا۔ متاثرہ طالبہ نے اپنی شکایت میں مؤقف اختیار کیا کہ تقریب کے دوران اسے نشہ آور اشیا دی گئیں جس کے بعد متعدد افراد نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی کے صدر مائیکل کوٹلیکوف نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبات کی حفاظت کو یقینی بنانا یونیورسٹی کی اولین ترجیح ہے اور ادارے کی جانب سے ماضی میں ہونے والی کوتاہیوں کا اعتراف کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے طلبہ کی رجسٹریشن فوری طور پر معطل کر دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے عملے کی تعداد میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ شکایات درج کرانے کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ طلبہ بلا خوف و خطر اپنی شکایات حکام تک پہنچا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے نیویارک اسٹیٹ پولیس کے خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں گی تاکہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات مکمل کی جا سکیں اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کے حوالے سے مقامی استغاثہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ٹامپکنز کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی میتھیو وان ہاؤٹن کے مطابق انہیں یونیورسٹی کی جانب سے واقعے کے حوالے سے انتہائی محدود معلومات فراہم کی گئی تھیں، جس میں صرف چند صفحات پر مشتمل بیان اور سوشل میڈیا چیٹ شامل تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریاستی حکام کی جانب سے مقدمہ نہ چلانے اور گواہوں کے بیانات خود ریکارڈ نہ کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے ریاستی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کو اس پورے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ طالبہ کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی مؤکلہ کو اس واقعے کے بعد سے مختلف ذرائع سے دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔ وکیل کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور تحقیقات کو کسی دباؤ کے بغیر مکمل کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کارنیل یونیورسٹی انتظامیہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کیمپس کے ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ نئی پالیسیوں کا مقصد طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں کو ضابطہ اخلاق کے دائرہ کار میں لانا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ کی جانب سے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کیمپس میں طالبات کی حفاظت کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے خاتمے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات اٹھائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں کے کردار اور ان کی رہائشی عمارتوں میں ہونے والی سرگرمیوں پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اپنی نگرانی کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ کی اخلاقی اور جسمانی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کارنیل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ تحقیقات کے دوران حکام کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔ یونیورسٹی کا عزم ہے کہ جو بھی اس واقعے میں ملوث پایا گیا، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرہ طالبہ کو انصاف کی فراہمی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال یونیورسٹی کیمپس میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر انتظامیہ کو دیں۔ تعلیمی سال کے اختتام تک جاری رہنے والی یہ پابندی یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%86%db%8c%d9%84-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
