<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جمہوریت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 19:26:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>جمہوریت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>28 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تاحال موصول نہیں ہوا، سعید غنی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/4411/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/4411/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 12:13:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[28_ویں_آئینی_ترمیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پیپلز_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعید_غنی]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/politics/28-%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d9%88%d8%af%db%81-%d8%aa%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d9%85%d9%88%d8%b5%d9%88%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی مسودے کے جائزے کے بعد ہی اپنا موقف طے کرے گی، جمہوریت اور معیشت کی مضبوطی کے لیے ہر اقدام کی حمایت کریں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ کے صوبائی وزیر برائے لیبر، ہیومن ریسورس اینڈ سوشل پروٹیکشن سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو تاحال مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم کا کوئی مسودہ موصول نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعید غنی نے واضح کیا کہ پارٹی قیادت مسودے کی شقوں کا بغور اور تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی اس پر اپنا حتمی موقف اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسودہ سامنے نہیں آتا، اس وقت تک کسی بھی قسم کی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان تمام ترامیم کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے جو ملک میں جمہوریت کے استحکام اور معاشی بہتری کے لیے معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی کا بنیادی مقصد قومی مفاد اور جمہوری اقدار کا تحفظ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ کراچی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور پورے پاکستان کے لوگوں کو روزگار فراہم کرنے والے اس شہر کو خصوصی توجہ اور حمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی استحکام کے لیے کراچی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعید غنی نے گفتگو کے دوران اس بات کو سراہا کہ کراچی کی کاروباری اور صنعتی سرگرمیاں قومی معیشت کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس شہر کی ترقی کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مزید اقدامات کیے جانے چاہئیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/4411/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>برازیل میں صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ، لولا دا سلوا اور فلیویو بولسونارو میں سخت مقابلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2384/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2384/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 20:17:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[برازیل]]></category>
		<category><![CDATA[برازیل_الیکشن]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%d8%b1%d8%a7%d8%b2%db%8c%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b5%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[لاطینی امریکا کی سب سے بڑی معیشت میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے جس پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برازیل میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جس میں موجودہ صدر لوئیز ان اس یو لولا دا سلوا اور دائیں بازو کے سینیٹر فلیویو بولسونارو کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کے باعث انتخابی نتائج کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل رواں ماہ 4 اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات میں فلیویو بولسونارو نے 47 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے برتری حاصل کی تھی، جبکہ صدر لولا دا سلوا تقریباً 45 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ کسی بھی امیدوار کی جانب سے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کرنے کے باعث انتخاب دوسرے مرحلے تک پہنچ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلیویو بولسونارو، جو سابق صدر جائر بولسونارو کے صاحبزادے ہیں، نے ریو ڈی جنیرو میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ملک میں حقیقی تبدیلی کا وقت آ چکا ہے۔ انہیں اپنے والد کے سیاسی حامیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلیویو بولسونارو کی انتخابی مہم کے دوران جرائم کی روک تھام، معاشی مشکلات کا خاتمہ اور حکومتی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی جیسے معاملات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ان کی کامیابی سے ملک میں ایک نئی سمت کا تعین ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب موجودہ صدر لولا دا سلوا نے ساؤ برنارڈو ڈو کامپو میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے پولنگ اسٹیشن کے باہر موجود اپنے حامیوں سے ملاقات بھی کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لولا دا سلوا اپنی انتخابی مہم میں سماجی بہبود، غربت میں کمی اور جمہوری اداروں کے تحفظ پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں۔ ان کے حامیوں نے دوسرے مرحلے سے قبل اپنی مہم کو انتہائی منظم طریقے سے چلایا تاکہ ووٹرز کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برازیل میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے بند ہونے کا شیڈول تھا، جو گرین وچ معیاری وقت کے مطابق رات 8 بجے کے مساوی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران مہنگائی، روزگار کی فراہمی، جرائم، بدعنوانی اور ملکی معیشت جیسے موضوعات سرفہرست رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق ووٹرز کا یہ فیصلہ نہ صرف برازیل کی آئندہ داخلی پالیسیوں کے لیے اہم ہے بلکہ اس کے اثرات امریکا اور لاطینی امریکا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پر بھی مرتب ہوں گے۔ برازیل لاطینی امریکا کی سب سے بڑی معیشت ہے، جس کے باعث اس کے سیاسی فیصلوں کو عالمی سطح پر دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ پولنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو سکے۔ حکام نے ووٹرز سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے مستقبل کے لیے اپنا فیصلہ سنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برازیل کے عوام اس انتخاب کو ملک کی معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ملک کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی اور آنے والے برسوں میں برازیل کی پالیسیاں کیا رخ اختیار کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا بھر کے تجزیہ کار برازیل کے ان انتخابات کو لاطینی امریکا کے سیاسی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دونوں امیدواروں کی جانب سے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ عوام کے ووٹوں سے ہی ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ممکنہ طور پر سیاسی جماعتوں کے درمیان ردعمل سامنے آئے گا۔ ملک میں جمہوری عمل کی مضبوطی کے لیے ان انتخابات کو ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے جس پر عالمی مبصرین کی بھی گہری نظریں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2384/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی آئی کو سیاسی عمل سے باہر نہیں کیا جا سکتا: شوکت یوسف زئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1996/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1996/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 12:57:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دشتگردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%b9%d9%85%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%a7%db%81%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسف زئی نے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو ملکی سیاست سے مائنس کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے وفاقی حکومت کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو سیاسی منظرنامے سے نکالنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ملک کی ایک بڑی اور مقبول سیاسی قوت ہے جسے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور اسے کسی بھی سازش کے ذریعے پسپا نہیں کیا جا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پر جتنے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہے اور حکمرانوں کو الزامات کی سیاست ترک کر کے زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت کو تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کے بارے میں کسی قسم کا بھی شک ہے تو وہ ملک میں فوری طور پر آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد کروا لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی رہنما نے ضلع کرک کے علاقے میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اندمناک واقعے میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت پولیس کے چار بہادر جوانوں کی شہادت پر پورا خیبر پختونخوا سوگوار ہے۔ انہوں نے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے یہ سپاہی ہمارے ہیرو ہیں جن کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جاری قومی جنگ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی عناصرِ بد کے ساتھ جماعت کا کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم اور تمام ادارے ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور پی ٹی آئی نے ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی نے مزید کہا کہ وزیروں اور مشیروں کو بیانات دیتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس وقت ملک اتحاد اور یکجہتی کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے کیونکہ اب عوام کو عملی اقدامات اور کارکردگی کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی ترجمان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کو پشاور میں بیٹھ کر صرف پریس کانفرنسیں کرنے کے بجائے کرک جا کر شہدا کے جنازوں میں شرکت کرنی چاہئے تھی اور غمزدہ لواحقین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ زبانی جمع خرچ سے اب معاملات حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات اور متاثرہ خاندانوں کی دل جوئی وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاق اور صوبے کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو ماضی میں مالی مشکلات اور فنڈز کی عدم دستیابی کا سامنا رہا ہے جبکہ اب وفاقی سطح پر حالات مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس کو کتنے وسائل میسر ہیں اور کون سی حکومت کس طرح عوامی خدمت کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی کے اندرونی امور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی میں کسی بھی قسم کے اختلافات کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا اور انہیں مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی پارٹی کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں اور ان فیصلوں کو غلط رنگ دینے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف چیئرمین بیرسٹر گوہر کی قیادت میں مکمل طور پر متحد ہے اور قومی و صوبائی اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی تنظیم میں کسی قسم کی ردوبدل کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جنید اکبر بدستور صوبائی صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ تحریک انصاف نے ملکی دفاع اور سلامتی پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور جب بھی وطن عزیز کو کسی بیرونی یا اندرونی خطرے کا سامنا ہوا، پارٹی نے ہمیشہ ریاست اور اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ عوامی طاقت سے لیس اس جماعت کو دباؤ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، شوکت یوسف زئی نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کتنا ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے حکمران جماعت الزامات کی سیاست میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی آئین کے دائرے میں رہ کر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے کے عوام نے جن لوگوں پر اعتماد کیا ہے ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور حکومت کو صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر آہنگ اور ہم آہنگی ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، بشرطیکہ سیاسی انتقام کی بجائے عوام کی فلاح کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پی ٹی آئی اپنے مؤقف پر قائم رہے گی اور عوامی حقوق کی جنگ ہر سطح پر لڑی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1996/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے اثر سے نکلے تو سیاست کیلئے بہتر ہوگا: خواجہ آصف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1583/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1583/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 11:57:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اپوزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ_ہاؤس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%ab%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d9%86%da%a9%d9%84%db%92-%d8%aa%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سیاست میں کوئی دروازہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوتا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے سحر سے باہر نکل آئیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر اپوزیشن جماعت سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا اور دباؤ سے آزاد ہو کر زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرے تو اس کی سیاسی بقا اور استحکام کے لیے یہ انتہائی سودمند ثابت ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی سیاسی فضا میں مختلف جماعتوں کے درمیان مکالمے اور کشیدگی کا ملا جلا ماحول پایا جاتا ہے۔ انہوں نے پارلیمانی سیاست کے اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ جمہوریت میں غیر لچکدار رویے اور ناقابل واپسی فیصلے کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے ماضی کے سیاسی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے اندر دشمنیاں اور دوستیاں دائمی نہیں ہوتیں بلکہ وقت اور حالات کے ساتھ باہمی تعلقات کا رخ بدلتا رہتا ہے۔ ان کے نزدیک سیاستدانوں کے لیے ہمیشہ دروازے کھلے رہنے چاہئیں تاکہ ضرورت پڑنے پر قومی مفاد میں راستے نکالے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ہی جماعت کے کسی دوسرے رہنما کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں گے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ جے یو آئی کے سربراہ کی جانب سے کچھ روز قبل سخت زبان استعمال کی گئی تھی جس پر انہوں نے سیاسی نکتہ چینی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی میدان میں اختلاف رائے ایک فطری عمل ہے لیکن جب گفتگو میں تلخی حد سے بڑھ جائے تو اس پر سیاسی ردعمل دینا بھی سیاسی جماعتوں کا حق بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق پارلیمانی روایات کے دائرے میں رہ کر ہی تمام امور پر بحث ہونی چاہیے تاکہ جمہوریت کا وقار برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریک انصاف کے اندرونی حالات کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی صفوں کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے اندر موجود سنجیدہ حلقے اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ محاذ آرائی اور مزاحمتی سیاست کو اب خیرباد کہہ دینا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت احتجاجی سیاست کو چھوڑ کر آئینی اور پارلیمانی دائرے میں آ کر سیاسی عمل کا حصہ بنتی ہے تو انہیں سیاسی میدان میں کافی زیادہ گنجائش اور پذیرائی مل سکتی ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ لچکدار رویہ ہی جمہوری نظام کو مضبوط کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے تاکہ معاشی چیلنجز سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے اور تمام جماعتوں کو اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمنٹ کے اندر اور باہر رہنماؤں کے ایسے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی فضا میں مکالمے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی مسائل کا آئینی حل تلاش کیا جا سکے اور محاذ آرائی کا خاتمہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیاسی منظر نامے میں پارلیمنٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر ایوان کے اندر سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تناظر میں وزیر دفاع نے ایک بار پھر دہرایا کہ اگر اپوزیشن جماعت اپنے رویے میں تبدیلی لائے اور غیر ضروری دباؤ سے باہر نکلے تو قومی سیاست میں ایک نئے اور مثبت دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1583/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سانحہ کارساز کو انیس برس مکمل، بلاول بھٹو کا جمہوریت کے تسلسل پر زور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1229/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1229/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 08:17:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اٹھارہ_اکتوبر]]></category>
		<category><![CDATA[بلاول_بھٹو_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[بینظیر_بھٹو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پیپلز_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[پیپلز_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سانحہ_کارساز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%a7%d9%86%d8%ad%db%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d8%b2-%da%a9%d9%88-%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3-%d9%85%da%a9%d9%85%d9%84-%d8%a8%d9%84%d8%a7%d9%88%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی تاریخی وطن واپسی کے موقع پر ہونے والے کارساز دھماکے کے انیس برس بیت گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن شہید بینظیر بھٹو کی تاریخ ساز وطن واپسی کے موقع پر کراچی میں پیش آنے والے کارساز خودکش دھماکے کو انیس برس مکمل ہو گئے ہیں۔ اس المناک واقعے کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں شہداء کی قربانیوں کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور پیپلز پارٹی کے زیراہتمام مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کا وہ دن ملکی سیاسی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب بینظیر بھٹو طویل جلاوطنی ختم کر کے کراچی پہنچی تھیں جہاں ان کے استقبال کے لیے عوام کا سمندر امڈ آیا تھا۔ اسی جلوس کے دوران کارساز کے مقام پر دہشت گردوں کی جانب سے ہولناک خودکش حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جیالے اور سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کارساز کی انیسویں برسی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ انتہاپسندی اور تشدد کسی بھی صورت میں ہماری جمہوری جدوجہد کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی کے وابستگان نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس وقت شہید بینظیر بھٹو کی بھرپور حفاظت کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلاول بھٹو زرداری کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ شہداء کی یاد منانا دراصل جمہوریت اور قربانی کے اس عہد کی تجدید کرنے کے مترادف ہے جو ہم نے عوام سے کر رکھا ہے۔ آئین کی مکمل بالادستی، جمہوری اداروں کا استحکام اور عامتہ الناس کے بنیادی حقوق کا حصول ہمارے مشن کا بنیادی حصہ ہے جس کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں بھی سانحہ کارساز کے شہداء کی یادگار پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری رہا جہاں پارٹی رہنماؤں اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ضلع شرقی کے زیر اہتمام ایک خصوصی دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی اور مقامی رہنماؤں نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رہنما وقار مہدی نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے کسی بھی قسم کی دھمکیوں یا خائف کرنے والے عناصر کی پرواہ کیے بغیر وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کارساز کا یہ واقعہ پاکستانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے جس نے ملک کی سیاسی فضا کو گہرا متاثر کیا لیکن اس کے باوجود سیاسی کارکنوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ سانحہ کے متاثرین اور شہداء کے لواحقین آج بھی اس دن کو انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں اس قربانی کو فراموش نہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر کے سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی اس برسی کے موقع پر سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اجتماعی عزم کو دہرایا جا رہا ہے۔ جمہوریت پسند قوتیں اس دن کو اس بات کی علامت کے طور پر دیکھتی ہیں کہ قربانیاں دے کر ہی ملک میں آئینی نظام کو بچایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں بھی دعائیہ تقریبات منعقد کیں گئیں جن میں شہداء کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بینظیر بھٹو کا مشن ہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخ کے اس کٹھن موڑ پر پارٹی قیادت اور جیالوں کا اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی کارکن جمہوری اصولوں کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ کارساز کے شہداء کی قربانیوں نے ملکی تاریخ میں جمہوریت کی شمع کو روشن رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انیسویں برسی کے موقع پر کراچی سمیت ملک بھر میں سیکورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ تقریبات پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوں۔ تمام سیاسی مبصرین نے اس سانحے کو پاکستانی جمہوریت کی تاریخ کا ایک سنگ میل قرار دیا ہے جس نے سیاسی عمل کو نئی سمت دی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1229/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سانحہ کارساز کے 19 برس مکمل، شہدا کی یاد میں کراچی میں تقریب کا انعقاد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1158/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1158/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 20:37:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بے_نظیر_بھٹو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پیپلز_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سانحہ_کارساز]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%a7%d9%86%d8%ad%db%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-19-%d8%a8%d8%b1%d8%b3-%d9%85%da%a9%d9%85%d9%84-%d8%b4%db%81%d8%af%d8%a7-%da%a9%db%8c-%db%8c%d8%a7%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[اٹھارہ اکتوبر 2007 کو بے نظیر بھٹو کے استقبالی جلوس پر ہونے والے حملے کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں اٹھارہ اکتوبر 2007 کا دن ملکی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا المناک باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آج اس سانحہ کارساز کو گزرے ہوئے انیس برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر اس واقعے میں جان گنوانے والوں کے لواحقین کا غم آج بھی تازہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس روز سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو طویل جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس پہنچی تھیں۔ ان کے استقبال کے لیے کراچی ایئرپورٹ سے کارساز تک کارکنوں کا ایک جم غفیر موجود تھا، جہاں ہر طرف خوشی اور جوش و خروش کا سماں دیکھنے میں آ رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کارکنوں کی بڑی تعداد کے باعث قافلے کی رفتار انتہائی سست تھی اور ایئرپورٹ سے کارساز تک کا مختصر فاصلہ طے کرنے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ اس دوران فضا نعروں سے گونج رہی تھی اور ہر چہرے پر ایک نئے سیاسی سفر کی امید دکھائی دیتی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم یہ خوشیاں اس وقت سوگ میں بدل گئیں جب کارساز کے قریب یکے بعد دیگرے دو زور دار دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں نے استقبالی جلوس کو ہلا کر رکھ دیا اور لمحوں میں ہی جشن کا ماحول ماتم میں تبدیل ہو گیا، جس سے ہر طرف تباہی پھیل گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ہولناک دہشت گردی کے واقعے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ دھماکوں کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور ایمبولینسز کے سائرن فضا میں گونجتے رہے جبکہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سانحہ کارساز کے شہدا کی یاد میں ہر سال اٹھارہ اکتوبر کو یادگار شہدا پر حاضری دی جاتی ہے۔ اس موقع پر لواحقین اور سیاسی کارکنان پھول چڑھاتے ہیں اور شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی انتھونی نوید نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کارساز محض ایک دہشت گرد حملہ نہیں بلکہ جمہوری جدوجہد کا ایک ایسا دردناک باب ہے جس نے کئی خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیے اور گھروں کے چراغ بجھا دیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ سانحہ کارساز میں دی جانے والی قربانیوں کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن پیش آنے والا واقعہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک سیاہ دھبے کی طرح ہے جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے انیس برس بیت جانے کے باوجود اس دن کی یادیں ان لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس سانحے میں کھویا۔ یہ دن جمہوریت کے لیے دی گئی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور شہدا کے ورثا کے لیے ایک جذباتی دن ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سانحے نے ملک بھر میں سوگ کی فضا پیدا کر دی تھی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا۔ آج بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن اس مقام پر جمع ہو کر شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی فضاؤں میں آج بھی ان دھماکوں کی گونج محسوس کی جا سکتی ہے جو اس وقت کے پرامن استقبالی جلوس کو نشانہ بنا کر کی گئی تھی۔ یہ واقعہ ملکی سکیورٹی کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا جس نے سیاسی حالات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج بھی اس سانحے کے متاثرین انصاف اور اپنے پیاروں کی یاد میں اشکبار دکھائی دیتے ہیں۔ حکومتی اور سیاسی سطح پر اس دن کی مناسبت سے تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ ان قربانیوں کو یاد رکھا جا سکے جو جمہوریت کی بحالی کے لیے دی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اٹھارہ اکتوبر کا دن ہمیشہ ایک اہم اور المناک دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوری عمل کے دوران کس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور کتنی قیمتی جانیں اس سفر میں قربان ہوئیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1158/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سسٹم ری بوٹ ہو چکا ہے، جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، فیصل واوڈا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1028/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1028/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 00:17:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_و_قانون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[حکومتی_کارکردگی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سسٹم_ری_بوٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹر_فیصل_واوڈا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مسائل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%b3%d9%b9%d9%85-%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d9%88%d9%b9-%db%81%d9%88-%da%86%da%a9%d8%a7-%db%81%db%92-%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa-%da%a9%d9%88-%d9%85%d8%b6%d8%a8%d9%88%d8%b7/</guid>

					<description><![CDATA[سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملکی سیاسی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس ماہ قبل کی گئی ان کی پیش گوئیوں میں سے تین درست ثابت ہو چکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ملک کا سیاسی نظام اب &#039;ری بوٹ&#039; ہو چکا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد جمہوریت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے مزید مستحکم بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ وہ نہ تو مارشل لا کے حامی ہیں اور نہ ہی صدارتی نظام کے خواہشمند ہیں۔ ان کے مطابق جمہوریت کا ری بوٹ ہونا دراصل اس نظام کو درست سمت میں لانے اور اسے عوامی مفاد کے مطابق چلانے کا ایک عمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام صوبوں میں یکساں ترقی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صرف ایک صوبے پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے پورے ملک میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ عوام کو سیاسی نعروں، پریس کانفرنسوں اور ڈنڈے جھنڈے کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ عوام کی بنیادی ترجیحات میں آٹا، چینی، دودھ، تعلیم اور صحت کی سہولیات شامل ہیں جو انہیں سستے اور معیاری انداز میں درکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قیادت عوام کے لیے عملی طور پر کام کرے گی تو عوام انہیں عزت دیں گے، بصورت دیگر سیاسی قیادت کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اب کارکردگی دکھانے کا وقت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر فیصل واوڈا نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جن لوگوں نے غریب عوام کی خدمت کے دعوے کیے، وہ آج خود ارب پتی بن چکے ہیں جبکہ عام آدمی مہنگائی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کو اپنی توجہ سیاسی جوڑ توڑ کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر مرکوز کرنی چاہیے۔ عملی اقدامات ہی وہ واحد راستہ ہیں جس کے ذریعے ملک میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل واوڈا نے اپنی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں کہ ملک میں آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق نظام کا چلنا ہی بقا کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں سیاسی استحکام آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو اپنی کارکردگی کا معیار بلند کرنا ہوگا۔ عوام اب وعدوں کے بجائے عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں، اور یہی وہ معیار ہے جس پر اب ہر سیاسی جماعت کو پرکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وفاقی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک میں جاری سیاسی عمل کا مقصد عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے، سیاسی نظام پر عوامی تنقید کا سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ جیسے بڑے صوبوں میں بھی تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور وہاں بھی دودھ کی نہریں نہیں بہہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو اپنی کارکردگی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کے خواہاں ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور ہر شہری کو اس کے بنیادی حقوق میسر ہوں۔ انہوں نے سیاسی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1028/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مولانا فضل الرحمٰن نے کبھی گورنر شپ کا مطالبہ نہیں کیا، رانا ثناء اللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1015/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1015/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 22:57:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثناء_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_شپ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d9%b0%d9%86-%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a8%da%be%db%8c-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b4%d9%be/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک سنجیدہ سیاستدان ہیں اور ان کے ساتھ تعلقات میں کوئی کشیدگی نہیں ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کی تردید کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے کبھی بھی حکومت سے گورنر شپ کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک نامور اور سنجیدہ سیاستدان ہیں جو آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہ کر اپنی سیاست کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ سیاسی معاملات پر بات چیت کا عمل جاری رہتا ہے اور وہ جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیر داخلہ نے کسی مخصوص جماعت یا شخصیت کا نام نہیں لیا تھا، اس لیے اس بیان کو کسی کی ذات سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاسی معاملات میں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ نے مزید بتایا کہ الیکشن 2024 کے بعد حکومتی اتحاد کی یہ خواہش تھی کہ مولانا فضل الرحمٰن حکومت کا حصہ بنیں، تاہم انہوں نے اس پیشکش سے معذرت کر لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مولانا کا اپنا سیاسی فیصلہ تھا جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس معاملے پر ہمیشہ ایک متوازن اور سنجیدہ موقف اپنایا ہے۔ انہوں نے نہ تو اس کی شدید مخالفت کی اور نہ ہی غیر مشروط تائید کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں حکومت کے پاس ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے سخت فیصلے کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں بچا تھا جو کہ ناگزیر ہو چکا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ جے یو آئی نے پارلیمان کے اندر ہمیشہ اپنی جمہوری سوچ کا اظہار کیا ہے اور وہ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات ہونا معمول کی بات ہے لیکن قومی مفاد پر سب کو متفق ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی ناراضگی کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی رہنما حکومت سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرنے والوں کو آج دوسروں پر تنقید کرنا زیب نہیں دیتا۔ ان کا اشارہ ان سیاستدانوں کی جانب تھا جو طویل عرصے تک اقتدار کے ایوانوں میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل کرتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ نے اس تناظر میں کہا کہ ہمیں ماضی کی تلخیوں کو چھوڑ کر مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ معاشی بحرانوں سے نمٹا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی مشیر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ملکی حالات کس نہج پر ہیں۔ ان کے ساتھ رابطے بحال ہیں اور سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد ملک میں امن و امان کا قیام اور معاشی ترقی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں رانا ثناء اللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر عوامی مسائل کے حل کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کسی بھی قسم کے سیاسی بحران کے امکان کو مسترد کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1015/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں امن و امان اور سیاسی استحکام کا چیلنج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/507/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/507/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 01:37:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_فیصلے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_استحکام]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%88-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں قومی مفاد اور جمہوری استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک میں جب بھی سیاسی عدم استحکام یا سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں تو قومی سطح پر بحث و مباحثے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور اس کے انتظامی اثرات کے حوالے سے مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ایک مؤثر اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی انتظامی فیصلے کا انحصار اس کے قانونی جواز اور عوامی فلاح کے نتائج پر ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی جماعتوں کے مابین اختلافات اپنی جگہ، لیکن جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے مکالمہ اور رابطے ناگزیر ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی بارہا جمہوری استحکام اور سیاسی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمہوریت کا مطلب محض انتخابات کا انعقاد نہیں، بلکہ اس میں عوامی نمائندگی، آئینی حدود کا احترام اور جوابدہی کے اصول شامل ہیں۔ صوبے میں انتظامی معاملات کو چلانے کے لیے ایک ایسے بندوبست کی ضرورت ہے جو عوامی اعتماد کو بحال کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب سیاسی محاذ آرائی قومی سلامتی اور عوامی فلاح کے معاملات پر حاوی ہو جاتی ہے تو اس کا براہِ راست نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کو اس وقت ایک مستقل قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو جمہوریت، قانون کی حکمرانی، معاشی ترقی اور قومی سلامتی کو یکجا کر سکے۔ ماضی کے دائروں میں گھومنے کے بجائے مستقبل کی طرف پائیدار راستہ اختیار کرنا وقت کا تقاضا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا کے دیگر ممالک کی مثالیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ تباہی اور مشکلات سے گزرنے والی قومیں بھی مسلسل محنت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے ترقی کی منازل طے کر سکتی ہیں۔ ویت نام جیسے ممالک کی تعمیرِ نو اس کی واضح مثال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی ترقی کا سفر سیاسی کشمکش اور داخلی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ اداروں کی مضبوطی، تعلیم، اور سرمایہ کاری کے لیے پرامن ماحول کا قیام بنیادی شرط ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال میں اصل امتحان یہ ہے کہ امن و امان کی بہتری اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ کسی بھی حکومتی فیصلے کی افادیت اس کے اعلان سے نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج سے ثابت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر عوام کی زندگیوں میں بہتری آتی ہے اور دہشت گردی میں کمی واقع ہوتی ہے، تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ یہ عمل قومی یکجہتی اور اجتماعی رویوں کے درست تعین کا متقاضی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو قیامِ پاکستان کا مقصد مسلمانوں کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنے مذہبی، سیاسی اور سماجی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔ آج بھی قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ہم ان اصولوں پر کاربند رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/507/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جمہوریت کو ری بوٹ کرنے اور نئی ٹیم کو کارکردگی دکھانا ہوگی: فیصل واوڈا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/474/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/474/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 21:57:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_صصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa-%da%a9%d9%88-%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d9%88%d9%b9-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%b9%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%88-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ملکی نظام میں تبدیلی ناگزیر ہے اور خیبرپختونخوا میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملک کے سیاسی حالات اور نظامِ حکومت پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ملکی حالات میں جمہوریت کو از سر نو ترتیب دینے اور اسے فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بہتر بنانے کے لیے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی گزشتہ پریس کانفرنس میں کہے گئے ایک ایک لفظ پر آج بھی قائم ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو عناصر ملک کے مفادات کے خلاف سرگرم ہیں یا پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہیں، انہیں اس کے سنگین اور سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی مجموعی انتظامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صوبے کو ذاتی جاگیر کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عامتہ الناس کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ غریب شہریوں کے بچے حادثات کی نذر ہو رہے ہیں جبکہ جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پا رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ روایتی اور نام نہاد جمہوری طریقوں کی وجہ سے ریاست کو اندرونی طور پر متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ اصلاحات کے ذریعے ایک بہتر اور شفاف نظام قائم کیا جا سکتا ہے جس سے جمہوریت کے اصل فوائد عوام کو مل سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل واوڈا کے مطابق نظام کو ری بوٹ کرنے کا مقصد پورے ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں لانا ہے جو عوام کے لیے مفید ثابت ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی ٹیم کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے ایک سو اسی دن کی مدت میں اپنی کارکردگی ثابت کر کے دکھانا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ خیبرپختونخوا کی انتظامی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کسی بھی قسم کی ناکامی کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ ٹیم اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام رہتی ہے تو ان کی جگہ زیادہ بہتر اور اہل افراد کو لایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جماعت پر پابندی عائد کرنے سے متعلق انہوں نے دس ماہ قبل ہی بات کر دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت ثابت کرے گا کہ ان کی کہی گئی یہ بات کس حد تک درست تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ سیاسی جماعت کے احتجاجی مظاہروں اور حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ احتجاج میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد بہت کم تھی۔ انہوں نے شرکاء کی تعداد محض چھ سو کے قریب بتاتے ہوئے پارٹی کی سیاسی حکمت عملی پر سوالیہ نشان اٹھایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی سطح پر سیاسی شخصیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی مبینہ نااہلی کا عمل بھی باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی نمائندوں اور حکومتی عہدیداروں کو اپنی ذمہ داریاں مکمل دیانت اور کارکردگی کے ساتھ نبھانا ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ گندی جمہوریت کی وجہ سے پاکستان کے اندر بے شمار مسائل پیدا ہوئے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایک اچھی اور شفاف جمہوریت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام آگے بھی چلتا رہے گا لیکن اس میں بروقت اور ضروری تبدیلیاں لانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر فیصل واوڈا نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ غریب طبقے کے بچوں کا گٹروں میں گر کر جاں بحق ہونا انتہائی دلخراش ہے اور اس قسم کے حادثات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عام آدمی کو نظام سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر حکومتی امور چلانے والی موجودہ ٹیم کارکردگی دکھانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہتی ہے تو اس صورت میں قیادت اور ذمہ داران کو تبدیل کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/474/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
