<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.56.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جسٹن_لینگر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d9%86_%d9%84%db%8c%d9%86%da%af%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 08 Nov 2026 16:48:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>جسٹن_لینگر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>عثمان خواجہ کا سینڈ پیپر گیٹ اسکینڈل پر مؤقف، کسی کو تنہا نہیں چھوڑا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/7358/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/7358/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 08 Nov 2026 16:48:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلیا_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیو_اسمتھ]]></category>
		<category><![CDATA[بال_ٹیمپرنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹن_لینگر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیوڈ_وارنر]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سینڈ_پیپر_گیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عثمان_خواجہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کرکٹ_آسٹریلیا]]></category>
		<category><![CDATA[کیپ_ٹاؤن_ٹیسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[کیمرون_بینکرافٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/?p=7358</guid>

					<description><![CDATA[سابق آسٹریلوی کرکٹر نے اپنی آپ بیتی میں 2018 کے تنازع پر پوری ٹیم کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سابق آسٹریلوی بلے باز عثمان خواجہ نے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل جسے &#039;سینڈ پیپر گیٹ&#039; کہا جاتا ہے، کے حوالے سے اپنے حالیہ انکشافات پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑا اور نہ ہی ان کا مقصد کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتوار کے روز انسٹاگرام پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں 39 سالہ سابق کرکٹر نے کہا کہ وہ 2018 سے اس معاملے پر کھل کر بات کرنا چاہتے تھے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عثمان خواجہ نے اپنی آپ بیتی کے ایک اقتباس میں دعویٰ کیا تھا کہ 2018 میں جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران ہونے والی بال ٹیمپرنگ سے پوری آسٹریلوی ٹیم آگاہ تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ نے پوری ٹیم کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی اور وہی اصل متاثرین ہیں، جبکہ ٹیم کے دیگر ارکان بشمول خود ان کے، اس معاملے میں برابر کے شریک تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ وہ ان تینوں کھلاڑیوں سے بات کر چکے ہیں اور انہیں انصاف دلانے کے خواہاں ہیں تاکہ پوری ٹیم مل کر اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرے اور آگے بڑھ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عثمان خواجہ نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ انہوں نے اپنی کتاب کی تشہیر کے لیے یہ انکشافات کیے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ اس سے قبل بھی کئی بار سچ بولنے کی کوشش کر چکے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بتایا کہ 2018 میں جب تینوں کھلاڑیوں پر پابندی عائد ہوئی تھی، تب بھی انہوں نے بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسٹیو اسمتھ نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عثمان خواجہ کے مطابق 2021 میں بھی جب آسٹریلوی باؤلرز نے بال ٹیمپرنگ سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا، تب بھی وہ حقیقت بتانا چاہتے تھے مگر اس وقت کے کوچ جس ٹن لین گر سے مشاورت کے بعد انہوں نے خاموشی اختیار کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اعتراف کیا کہ 2022 میں ٹیم میں واپسی کے بعد وہ خود کو اس معاملے پر بات کرنے میں غیر محفوظ محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ ٹیم کے مفاد کو مقدم رکھتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ مارچ 2018 میں کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران آسٹریلوی کھلاڑیوں کو گیند کی حالت خراب کرنے کے لیے سینڈ پیپر کا استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا جس کے بعد کرکٹ آسٹریلیا کو ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عثمان خواجہ نے جنوری میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی اور وہ اپنے 88 ٹیسٹ میچوں کے کیریئر کے بعد اب اپنی آپ بیتی کے ذریعے ماضی کے واقعات پر روشنی ڈال رہے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/7358/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
