<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جدید_ٹیکنالوجی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ac%d8%af%db%8c%d8%af_%d9%b9%db%8c%da%a9%d9%86%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:35 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>جدید_ٹیکنالوجی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ناسا کی جانب سے انتہائی سرد موسم میں کارآمد جدید بیٹری تیار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/2226/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/2226/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 23:16:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹیمس_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[برقی_گاڑیاں]]></category>
		<category><![CDATA[بیٹری_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%86%d8%a7%d8%b3%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d8%af-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک ایسی سالڈ اسٹیٹ بیٹری تیار کر لی ہے جو منفی درجہ حرارت میں بھی اپنی فعالیت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی خلائی ادارے ناسا نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم پیشرفت کرتے ہوئے ایسی جدید بیٹری تیار کر لی ہے جو انتہائی شدید سرد موسم میں بھی کارکردگی دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ایجاد مستقبل میں خلائی مشنز کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئی ٹیکنالوجی کو ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تناظر میں تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد چاند پر دوبارہ انسانی مشنز بھیجنا ہے۔ یہ بیٹریاں چاند کی سطح پر چلنے والی گاڑیوں، سائنسی آلات اور خلانوردوں کے ہنگامی سامان کو توانائی فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹس کی رپورٹس کے مطابق ناسا کے اسپیئرز پروجیکٹ کے تحت اس بیٹری کے تھرمل ویکیوم ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ان تجربات کے دوران بیٹری نے منفی 170 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے انتہائی سرد درجہ حرارت کو کامیابی سے برداشت کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجرباتی نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ سالڈ اسٹیٹ بیٹری منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ کے شدید سرد ماحول میں بھی کام کرنے کی اہلیت رکھتی ہے، اگرچہ اس دوران اس کی کارکردگی میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق اس بیٹری کی بہترین کارکردگی منفی 60 سے لے کر مثبت 80 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس درجہ حرارت کے دوران بیٹری نے انتہائی مستحکم اور موثر انداز میں توانائی فراہم کرنے کا مظاہرہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال یہ بیٹریاں تجربہ گاہ میں تیار کیے گئے چھوٹے نمونوں کی شکل میں موجود ہیں اور انہیں ابھی خلا میں عملی طور پر نہیں آزمایا گیا ہے۔ تاہم ابتدائی نتائج نے سائنسدانوں میں اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے امیدیں پیدا کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹیکنالوجی کے کامیاب تجربات سے یہ امکان بھی روشن ہو گیا ہے کہ مستقبل میں زمین پر استعمال ہونے والی برقی گاڑیوں کے لیے بھی زیادہ محفوظ اور کارآمد بیٹریاں تیار کی جا سکیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برقی گاڑیوں کے شعبے میں اس ایجاد سے بیٹریوں کی پائیداری اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ سرد موسم میں الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کے مسائل کو حل کرنے میں یہ ٹیکنالوجی ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناسا کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنا کر عملی استعمال کے قابل بنا لیا گیا تو یہ خلائی تحقیق کے ساتھ ساتھ عام انسانی زندگی میں بھی برقی آلات کے استعمال کو آسان اور محفوظ تر بنا دے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئی بیٹری کی تیاری کو خلائی ٹیکنالوجی میں ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ چاند کی سطح پر رات کے وقت درجہ حرارت انتہائی نیچے گر جاتا ہے، جہاں عام بیٹریاں ناکارہ ہو جاتی ہیں، یہ نئی بیٹری وہاں کارآمد ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے وقتوں میں ناسا اس ٹیکنالوجی کو مزید جانچنے کے لیے مزید تجربات کرے گا تاکہ اسے خلائی مشنز میں شامل کرنے سے قبل مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔ اس پیشرفت پر عالمی سائنسی حلقوں میں بھی گہری دلچسپی لی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید بیٹری کی تیاری سے نہ صرف خلائی مشنز کے لیے درکار توانائی کے مسائل حل ہوں گے بلکہ یہ ٹیکنالوجی زمین پر موجود بیٹریوں کی کارکردگی کو بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ اس کے استعمال سے برقی گاڑیوں کی افادیت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/2226/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>صدر آصف زرداری کا جرمنی کا کامیاب دورہ مکمل، صحت کے شعبے میں تعاون پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2202/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2202/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 20:36:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_آئی_ایف_سی]]></category>
		<category><![CDATA[برلن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_جرمنی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیمنز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%b2%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%b1%d9%85%d9%86%db%8c-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[صدر مملکت نے جرمن کمپنی سیمنز کے وفد سے ملاقات کی اور پاکستان میں صحت کی سہولیات کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے پر زور دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت آصف علی زرداری جرمنی کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ برلن ایئرپورٹ پر اعلیٰ جرمن حکام اور جرمنی میں تعینات پاکستانی سفیر سلمان شریف نے صدر مملکت کو الوداع کیا۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری نے جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ یہ دورہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے تعطل کے بعد ہوا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور خیرسگالی کے نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برلن میں قیام کے دوران صدر مملکت کی سیمنز ہیلتھ کمپنی کے ایگزیکٹو نائب صدر ڈینیئل فریش اور شعبہ حکومتی امور کی سربراہ ویرونیکا فسٹر سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان کے شعبہ صحت میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن وفد نے پاکستان کے شعبہ صحت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ وفد نے صدر مملکت کو بتایا کہ ان کے نمائندے جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں وہ صحت کی صنعت میں استعداد کار بڑھانے اور تکنیکی معاونت کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر آصف علی زرداری نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سیمنز جیسے اداروں کے تکنیکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں صحت کی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تحقیق اور ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت نے کہا کہ ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ معیاری اور سستی صحت کی سہولیات ہر شہری تک پہنچائی جائیں، بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہنے والے محروم طبقات کو ان سہولیات سے مستفید کرنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے سیمنز کی جانب سے پاکستان میں برسوں سے جاری خدمات کو سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیمنز کے وفد نے کینسر، فالج اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے جدید تکنیکی حل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وفد نے سندھ کے محکمہ صحت کی جانب سے کیے گئے منظم اقدامات کی تعریف کی اور پاکستان میں اپنے جاری منصوبوں کو مزید وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زرداری نے تجویز دی کہ سیمنز اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے دیگر صنعتی اور سماجی شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کو متنوع بنائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے پلیٹ فارم کے ذریعے مکمل ادارہ جاتی تعاون کا یقین دلایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، صوبائی وزراء شرجیل میمن اور جام خان شورو بھی موجود تھے۔ وفد نے صدر مملکت کو پاکستان میں کمپنی کی کامیابیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیمنز کمپنی کئی دہائیوں سے پاکستان میں فعال ہے اور کراچی سمیت ملک کے تین بڑے شہروں میں اس کے 100 سے زائد ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ تعاون پاکستان کے صنعتی اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مملکت کے اس دورے کو پاکستان اور جرمنی کے درمیان معاشی اور سفارتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں صحت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن قیادت کی جانب سے صدر زرداری کا پرتپاک استقبال دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مستقبل میں باہمی روابط کو مزید مستحکم کیا جائے گا تاکہ عوامی سطح پر بھی تعلقات کو فروغ مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2202/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ڈرائیو ان سینما: جدید ٹیکنالوجی اور بدلتے رجحانات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/interesting/2153/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/interesting/2153/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 14:56:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دلچسپ و عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انفلیٹیبل_اسکرین]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_ایم_ریڈیو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تفریح]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ_و_عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرائیو_ان_سینما]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سنیما]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فلم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/interesting/%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%88-%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%8c%d9%86%d9%85%d8%a7-%d8%ac%d8%af%db%8c%d8%af-%d9%b9%db%8c%da%a9%d9%86%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[ڈرائیو ان سینما میں جدید انفلیٹیبل اسکرین اور ایف ایم ریڈیو ٹیکنالوجی کے استعمال نے تفریح کے انداز کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دور میں تفریحی سرگرمیوں کے بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ ڈرائیو ان سینما کے تصور میں بھی جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کھلے آسمان تلے فلم دیکھنے کا یہ تجربہ اب پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور سہولت بخش بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈرائیو ان سینما میں سب سے نمایاں تبدیلی &#039;انفلیٹیبل اسکرین&#039; کا تعارف ہے۔ یہ دیوہیکل اسکرین عام حالات میں ایک واٹر پروف خول میں بند رہتی ہے، تاہم فلم دکھانے کے وقت ایک خودکار پمپ کے ذریعے اس میں ہوا بھر دی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ٹیکنالوجی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ کھلے میدانوں میں مستقل اسکرینوں کو شدید موسم، دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھنا ایک چیلنج تھا۔ اب یہ اسکرین چند لمحوں میں تیار ہو جاتی ہے اور اسے زمین میں گڑی میخوں سے مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شو ختم ہونے کے بعد ایک بٹن دبانے سے یہ اسکرین دوبارہ اپنی اصل حالت میں واپس آ جاتی ہے۔ اس جدید نظام کے تحت تمام اسکرینیں ایک مرکزی پروجیکشن روم سے منسلک ہوتی ہیں جہاں سے وائی فائی کے ذریعے فلم کے سگنلز منتقل کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کی آواز کو ناظرین تک پہنچانے کے لیے اب پرانے دور کے تاروں والے اسپیکرز کی ضرورت نہیں رہی۔ اس کے بجائے اب ایف ایم ریڈیو ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے فلم کی آواز براہ راست گاڑیوں کے ریڈیو پر نشر کی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نظام کی بدولت ناظرین اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر یا کھلی فضا میں دستی ریڈیو کے ذریعے فلم کے ڈائیلاگز اور موسیقی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہ طریقہ کار نہ صرف سہولت بخش ہے بلکہ پارکنگ کے وسیع رقبے پر تاروں کے جال سے بھی نجات دلاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈرائیو ان سینما میں غروب آفتاب کے بعد عام طور پر دو مختلف شوز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لوگ شام ڈھلتے ہی وہاں پہنچنا شروع کر دیتے ہیں اور اپنی پسندیدہ جگہ پر بیٹھ کر تفریحی لمحات گزارتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینما کے احاطے میں موجود بار بی کیو کی سہولت اور مختلف ریسٹورنٹس ناظرین کے لیے کھانے پینے کے بہترین انتظامات فراہم کرتے ہیں۔ لوگ اپنی سہولت کے مطابق فلم کے دوران کسی بھی وقت دوسری اسکرین کا رخ کر سکتے ہیں یا واپس جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عام طور پر ان سینماؤں میں ماضی کی مشہور بلاک بسٹر فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ نئی فلموں کے پروڈیوسرز کھلی فضا میں فلم کی نمائش کو معیار کے برعکس سمجھتے ہیں، جس کے باعث پرانی فلموں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ جدید طرز کا تفریحی نظام خاندانوں اور دوستوں کے لیے ایک پرسکون ماحول فراہم کرتا ہے۔ کھلے میدان میں بیٹھ کر فلم دیکھنے کا یہ تجربہ روایتی سینما گھروں سے بالکل مختلف اور منفرد ہوتا ہے جو لوگوں میں کافی مقبول ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کی ان تبدیلیوں نے ڈرائیو ان سینما کو ایک نئی زندگی دی ہے۔ اب یہ صرف فلم دیکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل تفریحی پیکج بن چکا ہے جہاں لوگ اپنی مرضی کے ماحول میں وقت گزار سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس شعبے میں مزید جدت آنے کی توقع ہے، جس سے ناظرین کے تجربے کو مزید بہتر بنایا جا سکے گا۔ ڈرائیو ان سینما کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ تفریح کے پرانے انداز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر کے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح کے اقدامات سے تفریحی مقامات پر رش کو منظم کرنے اور سہولیات کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ڈرائیو ان سینما کا یہ ماڈل اب دنیا بھر میں ایک مقبول رجحان کے طور پر ابھر رہا ہے جس کی پذیرائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/interesting/2153/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آئی میکس فلم سازی: روایتی سیلولائڈ اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا موازنہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/1309/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/1309/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 16:38:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_میکس]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پروجیکشن]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_فلم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سکرین]]></category>
		<category><![CDATA[سنیما]]></category>
		<category><![CDATA[سیلولائڈ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%85%db%8c%da%a9%d8%b3-%d9%81%d9%84%d9%85-%d8%b3%d8%a7%d8%b2%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%a7%db%8c%d8%aa%db%8c-%d8%b3%db%8c%d9%84%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%da%88/</guid>

					<description><![CDATA[آئی میکس سنیما کی دیوہیکل اسکرین اور جدید پروجیکشن سسٹم کے پیچھے کارفرما تکنیکی مہارتوں اور اخراجات کا ایک تفصیلی جائزہ۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فلم سازی کی دنیا میں آئی میکس (IMAX) ٹیکنالوجی ایک منفرد مقام رکھتی ہے، جو ناظرین کو ایک الگ اور شاندار بصری تجربہ فراہم کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ارتقاء میں سیلولائڈ فلم اور جدید ڈیجیٹل سسٹم دونوں کا اہم کردار رہا ہے اور ان کا موازنہ دلچسپ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روایتی آئی میکس فلم سازی میں بنیادی طور پر 65 ایم ایم کی سیلولائڈ فلم استعمال کی جاتی رہی ہے۔ بعد ازاں اسے زوم کرکے 70 ایم ایم کے پرنٹ میں تبدیل کیا جاتا تھا، جس سے تصویر کا معیار انتہائی شفاف اور جاندار بن جاتا ہے جو بڑے پردے پر نمایاں ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حقیقی آئی میکس (Real IMAX) کے تحت کچھ تجربات میں براہ راست 70 ایم ایم کی فلم کے فیتے کو شوٹنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس عمل سے نہ صرف وقت، پیسہ اور محنت بچی بلکہ تصویر کی کوالٹی میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی جو 70 ایم ایم کے عام پروجیکٹرز پر بہترین دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ڈیجیٹل آئی میکس کا نظام مکمل طور پر مختلف ہے۔ اس میں سیلولائڈ فلم کے بجائے میموری کارڈز اور جدید ڈیجیٹل کیمرے استعمال کیے جاتے ہیں، جو تصویر کو براہ راست ڈیجیٹل سگنلز کی صورت میں محفوظ کر لیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل آئی میکس کا سب سے بڑا فائدہ اس کی سہولت اور کم لاگت ہے۔ ایڈیٹنگ کے بعد ان ڈیجیٹل سگنلز کو خاص پروجیکٹرز کے ذریعے بڑی اسکرین پر دکھایا جاتا ہے، جس میں 24 فریم فی سیکنڈ کا معیاری فارمولا اپنایا جاتا ہے تاکہ روانی برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، فلمی صنعت کے کئی نامور پروڈیوسرز اور ہدایت کار اب بھی پرانی طرز کی سیلولائڈ فلم کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سیلولائڈ پر بننے والی فلم کے رنگوں کی گہرائی اور صفائی ڈیجیٹل سسٹم کے مقابلے میں زیادہ فطری اور پرکشش ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی میکس سنیما کے قیام کے اخراجات انتہائی زیادہ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں آئی میکس کے ایک پرنٹ کی تیاری پر ایک کروڑ روپے سے زائد لاگت آتی ہے، جس کی وجہ سے ٹکٹ کی قیمتیں بھی عام فلموں سے تقریباً 2 سے 3 گنا زیادہ رکھی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک آئی میکس اسکرین کی بلندی تقریباً 80 فٹ تک ہوتی ہے، جو سات سے آٹھ منزلہ عمارت کے برابر ہے۔ اس دیوہیکل اسکرین کی خاص بناوٹ کی وجہ سے سنیما ہال کا ڈیزائن بھی عام سنیما سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنیما ہال کے اندر نشستوں کی ترتیب بھی ایک خاص تکنیکی معیار کے مطابق رکھی جاتی ہے جس میں راستے اور خالی جگہ چھوڑنا پڑتی ہے۔ عام سنیما کے مقابلے میں آئی میکس ہال میں نشستوں کی تعداد کم ہوتی ہے تاکہ ہر ناظر کو بہترین ویو مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنیما کی عمارت، اسکرین، نشستیں، ساؤنڈ سسٹم اور پروجیکشن سسٹم پر کروڑوں روپے کے اخراجات اٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئی میکس سنیما کو چلانا ایک مہنگا اور تکنیکی طور پر مشکل عمل سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جہاں ڈیجیٹل آئی میکس کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی، وہاں ڈیجیٹل فلم سے روایتی آئی میکس کے فلم پرنٹ بنوا لیے جاتے ہیں۔ یہ عمل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ناظرین کو ہر جگہ ایک جیسا معیاری اور اعلیٰ درجے کا بصری تجربہ فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی میکس کے ڈیجیٹل پروجیکٹرز ڈیجیٹل سگنل کو کارڈ سے اٹھا کر دوبارہ تصویری روپ دیتے ہیں۔ اس تصویر کو طاقتور روشنی اور خاص عدسوں کے ذریعے بڑی اسکرین پر دکھایا جاتا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کا ایک بہترین شاہکار تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر آئی میکس ٹیکنالوجی نے فلم دیکھنے کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ چاہے وہ روایتی سیلولائڈ ہو یا جدید ڈیجیٹل سسٹم، دونوں کا مقصد ناظرین کو ایک ایسا تجربہ فراہم کرنا ہے جو عام اسکرین پر ممکن نہیں ہوتا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/1309/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جدہ میں علمی و سماجی مجلس کا انعقاد، سوشل میڈیا کے مثبت استعمال پر زور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1207/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1207/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 05:56:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی_تعلیمات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_کمیونٹی]]></category>
		<category><![CDATA[جدہ]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[جمعیت_اہل_حدیث]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت_سینٹر]]></category>
		<category><![CDATA[دینی_تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%af%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d9%84%d9%85%db%8c-%d9%88-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[دعوت سینٹر جدہ میں منعقدہ تقریب میں علمائے کرام اور سماجی شخصیات نے دین کی ترویج اور جدید ذرائع ابلاغ کے درست استعمال پر گفتگو کی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے شہر جدہ میں واقع دعوت سینٹر میں ایک پروقار علمی و سماجی مجلس کا انعقاد کیا گیا، جس میں اردو کمیونٹی کے ممتاز افراد اور جمعیت اہل حدیث جدہ کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا مقصد دینی تعلیمات کی اشاعت اور سماجی بیداری کو فروغ دینا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مجلس کی صدارت مرزا احمد بیگ نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا عبدالقیوم سلفی نے انجام دیے۔ تقریب میں شریک مہمانوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ دور میں دینی اور سماجی اقدار کو اجاگر کرنے کے لیے ایسے اجتماعات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشد بشیر مدنی نے سوشل میڈیا کے مثبت استعمال اور اس کے ذریعے علم کی ترویج پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو ایک مفید ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں موبائل فون اور واٹس ایپ کا درست استعمال علم پھیلانے کا بہترین راستہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر ارشد بشیر مدنی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ، &quot;آپ کے ہاتھ میں موجود یہ موبائل اور واٹس ایپ دراصل ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی ہیں، آپ جہاں چاہیں اور جیسے چاہیں، اس کے ذریعے خیر اور علم کو دنیا بھر میں عام کر سکتے ہیں۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجلس سے فضیلۃ الشیخ مفتی عبدالرحمٰن شاہین نے بھی خطاب کیا اور دعوتِ دین کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کا پیغام دوسروں تک پہنچائے، جس طرح ہمارے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے اس عظیم مقصد کے لیے قربانیاں دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مفتی عبدالرحمٰن شاہین نے اس بات پر زور دیا کہ دعوتِ دین کا کام ایک مسلسل عمل ہے اور ہمیں اسے اپنی زندگی کا اہم حصہ بنانا چاہیے۔ انہوں نے شرکاء کو یاد دلایا کہ اسلام کی روشنی کو عام کرنا ہر دور میں ایک بڑی نیکی رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے صدر مرزا احمد بیگ نے اپنے صدارتی خطبے میں حاضرین پر زور دیا کہ وہ آج کی مجلس میں کیے گئے علمی مذاکرے کے نکات کو عملی زندگی میں اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تعلیمات کو نئی نسل تک پہنچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرزا احمد بیگ نے مزید کہا کہ ہم دین کی ترقی اور ترویج کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور ایسی علمی مجالس کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے تقریب کے کامیاب انعقاد پر منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جدہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے اس تقریب کو سراہتے ہوئے اسے ایک بہترین اقدام قرار دیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسے پروگراموں سے نہ صرف علمی پیاس بجھتی ہے بلکہ کمیونٹی کے افراد میں باہمی اتحاد اور ہم آہنگی کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب میں موجود دیگر معززین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دینی اور عصری علوم کے درمیان توازن قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے دعوت سینٹر کی کاوشوں کو سراہا اور مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کی خواہش ظاہر کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مجلس اس لحاظ سے بھی منفرد رہی کہ اس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہیں سوشل میڈیا کے درست استعمال کے بارے میں رہنمائی فراہم کی گئی۔ مقررین نے نوجوانوں کو ترغیب دی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت مقاصد کے لیے وقف کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں ملک و قوم کی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ تقریب کے شرکاء نے اس عزم کے ساتھ رخصت لی کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر معاشرے کی بہتری اور دین کی سربلندی کے لیے کوشاں رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1207/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چین کا فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی نظام سالانہ ایک کروڑ ہنرمند افراد فراہم کر رہا ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/1135/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/1135/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 18:17:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیشہ_ورانہ_تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[تیانجن]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%da%86%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%86%db%8c-%d9%88-%d9%be%db%8c%d8%b4%db%81-%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[چین میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے عالمی معیارات کا فریم ورک جاری، 45 ممالک کی شرکت۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">چین کا فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی نظام حالیہ برسوں کے دوران ملکی صنعتوں کو سالانہ اوسطاً ایک کروڑ کے قریب ہنرمند افراد فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار شمالی شہر تیانجن میں منعقدہ عالمی کانفرنس برائے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و ترقی کے موقع پر جاری کردہ حقائق نامے میں سامنے آئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تین روزہ جاری رہنے والی اس کانفرنس میں چین کے تعلیمی نظام کی وسعت اور اس کی افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ رپورٹ کے مطابق چین میں نئے شامل ہونے والے ہنرمند افراد کی اوسط تعلیمی مدت 14.35 سال تک پہنچ چکی ہے جو کہ ایک نمایاں پیش رفت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سال 2025 کے تعلیمی اعداد و شمار کے مطابق، چین کے اعلیٰ فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں سے 58 لاکھ 20 ہزار طلبہ نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اسی عرصے کے دوران ثانوی فنی و پیشہ ورانہ سکولوں سے بھی 52 لاکھ 20 ہزار طلبہ فارغ التحصیل ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چین کو دنیا کا سب سے بڑا فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی نظام رکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ملک بھر میں 9 ہزار 151 ثانوی فنی و پیشہ ورانہ سکول، ایک ہزار 554 اعلیٰ فنی و پیشہ ورانہ کالج اور 124 ایسے ادارے موجود ہیں جو انڈر گریجویٹ پروگرام پیش کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں نصف سے زائد تعداد فنی و پیشہ ورانہ اداروں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 52 عام اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی فنی و پیشہ ورانہ بیچلر ڈگری پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں کو مہارتیں فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سال 2025 کے اختتام تک چین میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے مضامین کی فہرست انتہائی وسیع ہو چکی ہے۔ اس میں 19 بڑے شعبے، 97 ذیلی شعبے اور ایک ہزار 491 مضامین شامل ہیں جو قومی معیشت کی 41 بڑی اقسام کا احاطہ کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تیانجن کانفرنس کی اختتامی تقریب میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے عالمی معیارات کا ایک نیا فریم ورک مشترکہ طور پر جاری کیا گیا۔ اس اہم دستاویز کی تیاری میں چین نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور اسے 45 ممالک نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فریم ورک کا بنیادی مقصد فنی و پیشہ ورانہ سکولوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس میں تمام افراد کے لیے تاحیات تعلیم و تربیت کا نظام قائم کرنے پر خصوصی زور دیا گیا ہے تاکہ افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعت اور تعلیم کے درمیان گہرے اشتراک کو بھی اس فریم ورک کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت تدریسی مواد کی تیاری میں صنعتی ماہرین کی مشاورت کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ تعلیمی ادارے مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ رہ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی اداروں اور کاروباری اداروں کے مابین شراکت داری کے ذریعے تدریسی ٹیموں کی تشکیل پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے عملی تربیت کے معیار میں بہتری آئے گی اور طلبہ کو اپنی تعلیم کے دوران ہی عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے بھی اس فریم ورک میں اہم تجاویز دی گئی ہیں۔ خاص طور پر تعلیم و تدریس کے عمل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اصلاحات کو تیز کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چین کا یہ تعلیمی ماڈل دنیا بھر کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج چین کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر فنی تعلیم کے ان معیارات کا نفاذ نہ صرف چین بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی سودمند ثابت ہوگا۔ اس فریم ورک کے ذریعے عالمی سطح پر ہنر مند افرادی قوت کی نقل و حرکت اور باہمی تعاون کے نئے دروازے کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/1135/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایلون مسک کی ٹیسلا روڈسٹر، ایسی گاڑی جو ہوا میں اڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1042/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1042/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 01:57:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڑنے_والی_گاڑی]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[ایجادات]]></category>
		<category><![CDATA[ایلون_مسک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسلا]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسلا_روڈسٹر]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%84%d9%88%d9%86-%d9%85%d8%b3%da%a9-%da%a9%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%84%d8%a7-%d8%b1%d9%88%da%88%d8%b3%d9%b9%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے ایک جدید اسپورٹس گاڑی متعارف کرائی ہے جو ائیر جیٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے پرواز کرنے کے قابل ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے ایک ایسی اسپورٹس گاڑی متعارف کرائی ہے جو روایتی سڑکوں کے علاوہ فضا میں بھی سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اعلان ٹیکساس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئی روڈسٹر گاڑی کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا اڑنے والا فیچر ہے، جس کے لیے کمپنی نے جدید ائیر جیٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔ ایلون مسک کے مطابق، یہ گاڑی 10 نوزلز اور الٹرا ہائی پریشر ائیر ٹینکس کی مدد سے ہوا میں تیرنے یا رفتار پکڑنے کے قابل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران اس گاڑی کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں اسے بغیر کسی ڈرائیور کے چلتے ہوئے دکھایا گیا۔ ایلون مسک نے وضاحت کی کہ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر ابتدائی آزمائشوں میں ڈرائیور کو شامل نہیں کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گاڑی کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ اسپورٹس گاڑی ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار پکڑ سکتی ہے۔ اس کی ساخت کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ انتہائی ڈھلوان راستوں پر بھی باآسانی حرکت کر سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظاہرے کے دوران ایک مرحلے پر روڈسٹر کو ائیر جیٹ کی مدد سے ٹیسلا کی دیگر گاڑیوں کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔ یہ ٹیکنالوجی ٹیسلا کی گاڑیوں کی تیاری اور اسپیس ایکس کی راکٹ ٹیکنالوجی کا ایک مشترکہ امتزاج قرار دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایلون مسک نے اس موقع پر محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ کامیابی کی کوئی حتمی ضمانت نہیں دی جا سکتی، تاہم کمپنی اس منصوبے پر مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزمائشوں کے دوران ٹیم نے ہمیشہ محفوظ فاصلہ برقرار رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گاڑی کی پروڈکشن کے حوالے سے کمپنی نے باضابطہ طور پر 2028 کا سال مقرر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی متاثر کن ہے، لیکن حقیقی زندگی میں اس کے استعمال اور طویل پرواز کے نتائج ابھی دیکھنا باقی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس گاڑی میں دو نشستیں موجود ہیں جو اسے ایک اسپورٹس کار کے زمرے میں لاتی ہیں۔ ایلون مسک کا دعویٰ ہے کہ یہ گاڑی مستقبل کی نقل و حمل میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہوگی، جس سے سڑکوں پر ٹریفک کے مسائل میں کمی آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسلا کی جانب سے اس جدید گاڑی کے اعلان کے بعد آٹوموبائل انڈسٹری میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ناقدین اور شائقین دونوں ہی اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا یہ گاڑی عام صارفین کے لیے کب اور کس حد تک قابلِ استعمال ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ ٹیسلا اس سے قبل بھی برقی گاڑیوں کی تیاری میں دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان بنا چکی ہے۔ اب اڑنے والی گاڑی کے تصور نے کمپنی کی ساکھ کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے، جس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران ایلون مسک نے گاڑی کے ڈیزائن اور اس کے تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس گاڑی کو تیار کرنے کے لیے انجینئرز کی ایک بڑی ٹیم نے برسوں تک تحقیق اور تجربات کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آزمائش کے دوران گاڑی کی لینڈنگ کا عمل بھی کافی دلچسپ رہا، جس میں اسے الٹا لٹک کر ائیر جیٹ کے ذریعے زمین پر اترتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ تکنیک گاڑی کے کنٹرول سسٹم کی پیچیدگی اور مہارت کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل قریب میں اس گاڑی کے مزید ٹیسٹ کیے جائیں گے تاکہ اس کی پائیداری اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایلون مسک کا عزم ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کی حدود کو مزید وسعت دیں گے تاکہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1042/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ میں لائیو اسٹاک کی افزائش کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا پروگرام متعارف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/877/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/877/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 19:18:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایمبریو_ٹرانسفر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_لائیو_اسٹاک]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریڈ_سندھی_نسل]]></category>
		<category><![CDATA[زرعی_ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%88-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%d8%a7%da%a9-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d8%b4-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[صوبائی وزیر محمد علی ملکانی نے کراچی میں ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی پر مبنی بریڈنگ سروسز کا افتتاح کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں لائیو اسٹاک کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور مویشیوں کی نسل کو بہتر بنانے کیلئے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے کورنگی کیٹل فارم میں جدید لائیو اسٹاک بریڈنگ سروسز پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تقریب میں محکمہ لائیو اسٹاک کے اعلیٰ حکام اور ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء میں سیکریٹری لائیو اسٹاک ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی، ڈائریکٹر جنرل سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ ڈاکٹر نذیر حسین کلہوڑو اور ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک حزب اللہ بھٹو سمیت دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروگرام کا بنیادی مقصد ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ریڈ سندھی نسل کے مویشیوں کی افزائش کو فروغ دینا ہے۔ یہ جدید سائنسی طریقہ کار مویشیوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا، جس سے صوبے میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران فون گرو کی جانب سے ایک تفصیلی تکنیکی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔ اس پریزنٹیشن میں ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی کے فوائد اور جدید سائنسی طریقوں کے ذریعے مویشی پالنے کے شعبے میں انقلاب لانے کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی، جس کو شرکاء نے سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ جدید سائنسی طریقوں کے نفاذ سے نہ صرف مویشی پالنے والوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ مجموعی طور پر ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ یہ اقدام سندھ میں لائیو اسٹاک کی صنعت کیلئے ایک نئی راہ ہموار کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب میں میجر جنرل (ر) یوسف خواجہ، میجر جنرل عامر نوید اور بریگیڈیئر ارشد توفیق سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے اس جدید پروگرام کو لائیو اسٹاک کے شعبے میں ایک سنگ میل قرار دیا جو مستقبل میں مزید بہتری لائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ لائیو اسٹاک کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ریڈ سندھی نسل کی افزائش پر خصوصی توجہ دینے سے مقامی نسلوں کے تحفظ اور ان کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ منصوبہ مقامی فارمرز کیلئے ایک بہترین موقع ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے اختتام پر مہمانوں اور شرکاء میں یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر ماہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رکھا جائے گا تاکہ سندھ کو لائیو اسٹاک کے شعبے میں خود کفیل بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت سندھ کی جانب سے اس پروگرام کا آغاز ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں زرعی اور لائیو اسٹاک کی پیداوار بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے دیہی معیشت کو بھی فروغ ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لائیو اسٹاک کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مویشیوں کی بیماریوں کی شرح میں کمی لانے اور ان کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مویشی پالنے کے روایتی طریقوں کو جدید اور منافع بخش بنائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ لائیو اسٹاک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس پروگرام کو مرحلہ وار صوبے کے دیگر حصوں تک بھی پھیلایا جائے گا۔ اس سے چھوٹے اور بڑے فارمرز کو یکساں طور پر جدید بریڈنگ سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے شرکاء نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جدید سائنسی ٹیکنالوجی کے استعمال سے سندھ میں لائیو اسٹاک کا شعبہ ترقی کی نئی منازل طے کرے گا۔ حکومت کی جانب سے اس طرح کے منصوبے عوامی فلاح و بہبود اور معاشی استحکام کیلئے انتہائی اہم ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/877/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کو مزید مستحکم کرے گا، صدر ولادیمیر پوتن</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/745/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/745/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 22:56:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_خودمختاری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_ڈھانچہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روس_کی_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%8c-%da%88%db%8c%d8%ac%db%8c%d9%b9%d9%84-%d8%ae%d9%88%d8%af%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d9%88-%d9%85%d8%b2%db%8c%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[صدر پوتن نے سائبر سکیورٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سائبر سکیورٹی سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ روس اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں کسی بھی ریاست کی پائیدار ترقی کا انحصار ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موثر اور محفوظ استعمال پر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر پوتن کے مطابق روس کو اس وقت مختلف شعبوں میں بیرونی دباؤ کا سامنا ہے، جس میں معیشت، رسد، نقل و حمل اور سماجی خدمات شامل ہیں۔ ان چیلنجز کے پیش نظر ملکی ڈیجیٹل سکیورٹی کے تمام تر نظاموں کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر نے واضح کیا کہ روس غذائی اور توانائی کی سلامتی کی طرح اپنے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو بھی خود مختار بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ غیر ملکی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انحصار کا بغور جائزہ لیں اور سائبر حملوں کے خلاف فوری ردعمل کا نظام وضع کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران صدر پوتن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اور مالیاتی شعبے کے درمیان باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام اداروں کا آپس میں مربوط ہونا سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اپنی معیشت اور سماجی شعبے کے لیے ایک منظم ڈیجیٹل ڈھانچہ تشکیل دے رہا ہے جس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیٹا کو محفوظ بنانے اور اس کی منتقلی کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر پوتن نے کہا کہ سائبر سکیورٹی اب قومی سلامتی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے، لہذا اس شعبے میں کسی بھی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں ہے۔ روس اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کے پیش نظر روس نے اپنی پالیسیوں کو ازسر نو ترتیب دیا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اہم سرکاری اور نجی ڈیٹا کو بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھا جائے تاکہ ملکی نظام بلا تعطل کام کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی قیادت کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل خودمختاری کا مطلب صرف ٹیکنالوجی کا حصول نہیں بلکہ اسے مقامی سطح پر تیار کرنا اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے مقامی آئی ٹی کمپنیوں کو بھی خصوصی مراعات دی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں شریک سکیورٹی ماہرین اور حکام نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ سائبر حملے اب روایتی خطرات کی طرح سنگین ہو چکے ہیں۔ ان سے نمٹنے کے لیے جدید ترین سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کی تیاری پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر پوتن نے مزید کہا کہ روس کسی بھی قسم کے ہائبرڈ دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی ٹیکنالوجی کو مزید جدید بنائے گا۔ انہوں نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تحقیق و ترقی کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی صدر نے زور دیا کہ سائبر سکیورٹی کے شعبے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ملکی مفادات کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ خطرات کا بروقت تجزیہ کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، روسی صدر نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی کے لیے جدید ترین انٹیلی جنس نظاموں کا استعمال یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری ہی روس کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/745/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان اور رومانیہ کے درمیان ڈیری اور زراعت کے شعبے میں تعاون کی نئی راہیں کھل گئیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/236/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/236/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 21:18:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_رومانیہ_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_وفد]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیری_فارمنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[رومانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[زراعت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b1%d9%88%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%da%88%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان رومانیہ بزنس کونسل کے زیر اہتمام پاکستانی تجارتی وفد نے بخارسٹ کے قریب رومانیہ کے سب سے بڑے ڈیری فارم کا دورہ کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور رومانیہ کے مابین تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان ڈیری اور زراعت کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان رومانیہ بزنس کونسل (پی آر بی سی) کے زیر اہتمام ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی تجارتی وفد نے رومانیہ کا دورہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفد کی قیادت سندھ میں رومانیہ کے نامزد اعزازی قونصل عاطف فاروقی نے کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے کاروباری افراد کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینا اور جدید زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہے۔ اس دورے کے دوران وفد نے دارالحکومت بخارسٹ کے قریب واقع رومانیہ کے سب سے بڑے ڈیری فارم کا خصوصی دورہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دورے کے دوران پاکستانی وفد کو فارم کے انتظامی ڈھانچے، جدید زرعی طریقوں اور مویشیوں کی افزائش کے نظام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انتظامیہ نے بتایا کہ یہ فارم تقریباً 7 ہزار ہیکٹر رقبے پر محیط ہے اور یہ ایک خاندانی کاروبار ہے جو کئی نسلوں سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فارم کی نمایاں خصوصیات میں ہولسٹین نسل کی تقریباً 7 ہزار گائیں شامل ہیں، جنہیں دنیا بھر میں دودھ کی سب سے زیادہ پیداوار دینے والی نسلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فارم میں گوشت کی پیداوار کے لیے بھی مویشیوں کی افزائش کی جاتی ہے، جو جدید تقاضوں کے مطابق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فارم کے انتظامی امور کو چلانے کے لیے جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے مویشیوں کی خوراک، صحت کی نگہداشت اور دودھ کی پیداوار کے عمل کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فارم کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے وفد کو آگاہ کیا کہ فارم میں مویشیوں کے لیے درکار اناج اور سائیلج خود کاشت کیا جاتا ہے، جبکہ اضافی زرعی پیداوار کو مقامی منڈیوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اس خود انحصاری کے ماڈل نے فارم کی پیداواری لاگت کو کم رکھنے میں مدد دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فارم سے حاصل ہونے والا خام دودھ روزانہ کی بنیاد پر مخصوص ٹینکرز کے ذریعے براسوو شہر میں قائم ایک بڑی ڈیری فیکٹری کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فارم میں ایک بڑے بائیو گیس پلانٹ کی تنصیب کا منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے، جس سے توانائی کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی وفد کے دورے کا ایک اہم مقصد دونوں ممالک کے درمیان کاروباری شراکت داری کے مواقع تلاش کرنا تھا۔ اس موقع پر رومانیہ کے ڈیری اور زرعی شعبے میں پاکستانی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور وہاں پیشہ ورانہ تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رومانیہ کے زرعی ماہرین اور پاکستانی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور باہمی تعاون سے دونوں ممالک کے زرعی شعبے کو ترقی دی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان رومانیہ بزنس کونسل کے حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دورے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو قریب لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ وفد نے رومانیہ کے زرعی ماڈل کو سراہا اور اسے پاکستان میں ڈیری فارمنگ کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مفید قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور رومانیہ کے درمیان یہ تعاون تجارتی حجم میں اضافے کا باعث بنے گا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی و معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/236/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
