<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جبران_ناصر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ac%d8%a8%d8%b1%d8%a7%d9%86_%d9%86%d8%a7%d8%b5%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>جبران_ناصر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>میر رضا کیس: ورثا کا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرِعام پر لانے کا مطالبہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1407/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1407/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:16:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبر]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جبران_ناصر]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[جے_آئی_ٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%88%d8%b1%d8%ab%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[متاثرہ خاندان اور وکیل جبران ناصر نے پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں میر رضا قتل کیس کے حوالے سے متوفی کے اہل خانہ نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ فوری طور پر منظر عام پر لانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو صیغہ راز میں رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی کمیشن نے 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ جمع کروا دی تھی، تاہم اب یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ رپورٹ کو پبلک کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ صوبائی کابینہ کرے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس رپورٹ کو چھپانے کے پیچھے آخر کس کی پشت پناہی کارفرما ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جبران ناصر نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے رپورٹ جاری نہ کی تو وہ عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے نہ لایا گیا تو جوڈیشل کمیشن کی تمام تر کارروائی محض ایک ڈرامہ ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان کے وکیل نے پولیس کی تفتیشی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اس کیس کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میر رضا کے والد میر حسین علی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پولیس کی جانب سے ثبوتوں کو تباہ کیا گیا ہے اور وہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی شفافیت کی توقع نہیں رکھتے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ خاندان کو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ فراہم کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میر حسین علی نے سپریم میڈیکل بورڈ کی تشکیل کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کیس قتل کا ہے تو اسے خودکشی ثابت کرنے کے لیے میڈیکل بورڈ کیوں بنایا جا رہا ہے، یہ اقدام تفتیش کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل جبران ناصر نے کیس سے وابستہ کچھ افراد کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا کے پارٹنرز احمد بھر دے اور علی شاز کا کردار مشکوک ہے، اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں پہلے سے کیسے معلوم تھا کہ میر رضا واپس نہیں آئیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان کا موقف ہے کہ پولیس نے عدالتی کمیشن کے احکامات کے باوجود تفتیش میں تعاون نہیں کیا اور نہ ہی فوکل پرسن مقرر کیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس مسلسل کیس کو خراب کرنے میں مصروف ہے جس سے عام عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جبران ناصر نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو پولیس کی صف میں کھڑا نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے انصاف فراہم نہ کیا تو وہ قانونی راستے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی آواز اٹھاتے رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس میں آئی کلاؤڈ تک رسائی اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان تمام پہلوؤں کی تحقیقات کے بغیر کیس کا منطقی انجام تک پہنچنا ناممکن ہے، اور رپورٹ کو راز میں رکھنے سے گزشتہ دو ماہ کی محنت ضائع ہو جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ میر رضا کیس کراچی میں ایک انتہائی حساس معاملہ بن چکا ہے جس پر سول سوسائٹی اور قانونی حلقے بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عدالت کی جانب سے قائم کردہ کمیشن نے اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا تھا جس کی رپورٹ اب ایک متنازعہ شکل اختیار کر گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کے دباؤ میں آئے بغیر میر رضا کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی ہی واحد راستہ ہے جس سے اصل حقائق سامنے آ سکتے ہیں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی واضح کیا گیا کہ پولیس کی جانب سے تفتیش میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی کمیشن کی سفارشات پر فوری عمل درآمد کیا جائے تاکہ میر رضا کے اہل خانہ کو انصاف مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1407/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: تاجر میر رضا علی کی ہلاکت کا معاملہ، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ حکومتِ سندھ کو ارسال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/989/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/989/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 19:59:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پوسٹ_مارٹم_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ای_سی_ایچ_ایس]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقاتی_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[جبران_ناصر]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سی_سی_ٹی_وی_فوٹیج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%ac%d8%b1-%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%d8%b9%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%db%81%d9%84%d8%a7%da%a9%d8%aa-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی میں تاجر میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقاتی رپورٹ جوڈیشل کمیشن نے حکومتِ سندھ کے حوالے کر دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن نے اپنی تفصیلی رپورٹ حکومتِ سندھ کے حوالے کر دی ہے۔ اس رپورٹ کی حوالگی کے بعد اس ہائی پروفائل کیس میں اہم قانونی اور تفتیشی پہلو سامنے آئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میر رضا علی رواں برس 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں واقع اپنے گھر سے نکلے تھے، جس کے بعد وہ لاپتا ہو گئے۔ اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک ویران علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے فوراً بعد کراچی پولیس کی ابتدائی تفتیش میں تاجر کی موت کو خودکشی قرار دینے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، تاہم متوفی کے اہل خانہ نے اس مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے قتل کی سازش قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اہل خانہ کے شدید تحفظات اور مطالبے پر قبر کشائی کی گئی اور ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔ بعد ازاں سامنے آنے والی طبی رپورٹ نے خودکشی کے امکان کو رد کر کے قتل کے خدشات کو تقویت دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متوفی کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ دستیاب میڈیکل اور فرانزک شواہد کسی صورت خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل قاتلوں کی نشاندہی اور جرم کے محرکات کا تعین کرنا ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میر رضا علی کی بہن علیشباہ نے بھی جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ وہاں خون کے نشانات اور گولی لگنے کے زاویے سے مختلف سوالات جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دیوار پر گولی کا کوئی نشان نہ ہونا خودکشی کے دعوے کی نفی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیشن کی کارروائی کے دوران جائے وقوعہ کے قریب واقع مسجد خضرا کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگز پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ 28 جولائی کی شام پانچ بجے سے رات دس بجے کے درمیان کی پانچ گھنٹے کی فوٹیج غائب پائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے کیمروں کی ریکارڈنگ نہ ہونے کی وجہ علاقے میں بجلی کی بندش بتائی تھی، تاہم کے الیکٹرک کے نمائندوں نے جوڈیشل کمیشن کو بتایا کہ متعلقہ وقت کے دوران اس علاقے میں بجلی کی فراہمی مسلسل جاری تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کا مسئلہ سامنے آنے پر جوڈیشل کمیشن نے ازخود مسجد کا دورہ کیا اور نگرانی کے نظام کا جائزہ لیا۔ مسجد کے کیمروں میں سے دو کیمرے اس مقام کا احاطہ کرتے تھے جہاں سے تاجر کی لاش ملی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی عمل میں ایک سرمئی رنگ کی سوزوکی سوئفٹ گاڑی کی موجودگی بھی اہم نقطہ بنی، جو سی سی ٹی وی فوٹیج میں متوفی کی گاڑی کے پیچھے مختلف مقامات پر دکھائی دی۔ اس گاڑی میں سوار پانچ افراد کی موجودگی کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیس سے منسلک ڈی ایس پی سراج احمد لاشاری نے کمیشن کے سامنے بیان دیا کہ انہوں نے قتل کے زاویے سے تفتیش کی ہے، لیکن تمام شواہد کی جانچ کے باوجود اس مشکوک گاڑی کا کسی مخصوص شخص سے تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول کے موبائل فون کے بارے میں بھی تفتیشی حکام کے بیانات میں واضح تضاد دیکھا گیا۔ پولیس کے اس دعوے پر کہ موبائل ایک مخصوص جگہ پھینکا گیا تھا، اہل خانہ نے جائے وقوعہ کے مختلف ہونے کی نشاندہی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل شواہد کے جائزے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ 31 جولائی کو میر رضا علی کے آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ پر کسی تیسرے فریق کی ڈیوائس سے کامیابی کے ساتھ لاگ ان کیا گیا، جس کی ای میل ایک کاروباری شراکت دار سے منسوب پائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ٹیم نے اس بات پر بھی اعتراض اٹھایا کہ متوفی کی ایپل واچ کو برآمدگی کے فوراً بعد سیل نہیں کیا گیا اور 12 اگست کو فرانزک ایجنسی بھیجنے تک اس کے ڈیٹا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا خدشہ موجود رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جوڈیشل کمیشن نے متوفی کے کرپٹو کرنسی کی تجارت، مالی معاملات اور کاروباری تعلقات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس ہلاکت کے پیچھے معاشی تنازعات کا ہاتھ تو نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/989/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ تیار، کل سندھ حکومت کو پیش ہوگی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/560/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/560/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:56:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انکوائری_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جبران_ناصر]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_ایس_پی_سراج_لاشاری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سی_پی_எல்_سی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%da%a9%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%db%8c-%d8%b1%d9%be/</guid>

					<description><![CDATA[جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کی موت سے متعلق انکوائری رپورٹ حتمی شکل دے دی ہے جو کل صبح سیکریٹری داخلہ کے حوالے کی جائے گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں پیش آنے والے میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے اپنی انکوائری رپورٹ مکمل کر لی ہے اور اسے حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اہم معاملے پر تیار کی گئی انکوائری رپورٹ اب باضابطہ طور پر متعلقہ حکام کو پیش کیے جانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقررہ طریقہ کار اور شیڈول کے مطابق یہ انکوائری رپورٹ کل صبح ٹھیک دس بجے سندھ حکومت کے حوالے کی جائے گی۔ اس ضمن میں جوڈیشل کمیشن کی جانب سے سیکریٹری داخلہ کو خصوصی طور پر طلب کر لیا گیا ہے جو مقررہ وقت پر کمیشن کے دفتر پہنچیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کی باضابطہ حوالگی کی اس کارروائی کے دوران جوڈیشل کمیشن کے رجسٹرار سیکریٹری داخلہ کے سپرد یہ اہم دستاویز کریں گے۔ اس پیشرفت کے بعد صوبائی سطح پر اس ہائی پروفائل کیس کے حوالے سے مزید انتظامی اور قانونی اقدامات متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کی پراسرار موت اور اس سے جڑے تمام ممکنہ پہلوؤں کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی تھی۔ کمیشن نے اپنی کارروائی کے دوران پولیس تفتیش کی خامیوں، مشکوک گاڑیوں، فوٹیجز اور کرپٹو اکاؤنٹس سمیت کئی اہم امور پر سخت سوالات اٹھائے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انکوائری کے طویل عمل کے دوران مختلف اہم شخصیات، سرکاری افسران اور اداروں کے نمائندے بھی مسلسل کمیشن کے سامنے پیش ہوتے رہے ہیں۔ کارروائی کے دوران تمام متعلقہ گواہوں، تفتیشی افسران اور دیگر ذمہ داران کے تفصیلی بیانات قلمبند کیے گئے جنہیں باضابطہ طور پر انکوائری کا حصہ بنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ کارروائیوں اور سماعتوں کے دوران میر حسین علی خان، مریم حسین اور معروف قانون دان جبران ناصر ایڈووکیٹ سمیت دیگر متعلقہ افراد بھی کمیشن میں باقاعدگی سے موجود رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ کارروائی کے دوران ایڈیشنل سیکریٹری جاوید احمد ابڑو، سی پی ایل سی کے اہم گواہ کاشف افتخار، طٰہٰ پراچہ اور تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری نے بھی کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کرائے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیشن کی تحقیقاتی کارروائی کے دوران کے الیکٹرک کی نمائندہ رابعہ بھی پیش ہوئیں، جو کہ کے الیکٹرک کے مینجنگ ڈائریکٹر سید محمد طلحہ کی جانب سے کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں۔ انہوں نے ایک سیل شدہ لفافہ کمیشن کو جمع کرایا جسے کارروائی کے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب جوڈیشل کمیشن نے کارروائی کے اختتامی مراحل کے قریب پہنچنے پر معلومات فراہم کرنے کے لیے ماضی میں دی گئی ایک لاکھ روپے انعام کی پیشکش بھی باضابطہ طور پر واپس لے لی تھی۔ کمیشن نے اپنی مدت کار اور کارروائی کے دوران تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلے کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میر رضا کیس کی یہ تفصیلی انکوائری رپورٹ صوبے کے انتظامی اور عدالتی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے منکشف ہونے اور سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ کمیشن نے اپنی تحقیقات میں پولیس کی کارکردگی اور دیگر شواہد کے بارے میں کیا نتائج اخذ کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ حکومت کو باضابطہ طور پر یہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس پر مزید قانونی، ضابطے کی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عوام اور تمام متعلقہ فریقین کی نگاہیں اب اس رپورٹ کے سرکاری طور پر سامنے آنے اور اس میں موجود سفارشات پر مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس کی تحقیقات نے اپنے آغاز سے لے کر اب تک کراچی کے شہریوں اور میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مقصد اس بات کا تعین کرنا تھا کہ واقعے کے محرکات کیا تھے اور اس میں کون سے قانونی یا انتظامی سقم موجود تھے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/560/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
