<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جاپان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ac%d8%a7%d9%be%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>جاپان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>جاپان کا امریکا میں سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کیلئے 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1335/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1335/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 18:57:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایپل]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاپان]]></category>
		<category><![CDATA[چپ_سازی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%ac%d8%a7%d9%be%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c%d9%85%db%8c-%da%a9%d9%86%da%88%da%a9%d9%b9%d8%b1-%da%86%d9%be%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی ریاست نیویارک میں دو نئے کارخانے تعمیر کیے جائیں گے جن کا مقصد چپ سازی کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جاپان نے امریکا میں سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کے دو بڑے کارخانے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے 21 ارب ڈالر کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سرمایہ کاری کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر چپس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کارخانوں کی تعمیر امریکی ریاست نیویارک میں کی جائے گی، جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل آلات نصب کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوبل فاؤنڈریز کے مطابق، ان کارخانوں کی مشترکہ ملکیت امریکی حکومت اور جاپانی فریقین کے پاس ہوگی۔ اگرچہ سرمایہ کاری کی تمام تر رقم جاپان فراہم کرے گا، تاہم ان کارخانوں کے آپریشنز اور انتظام کی ذمہ داری گلوبل فاؤنڈریز کے پاس ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اقدام گزشتہ برس طے پانے والے 550 ارب ڈالر کے وسیع تر سرمایہ کاری معاہدے کا حصہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکا نے جاپانی گاڑیوں اور دیگر درآمدی اشیا پر محصولات کی شرح کو 25 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوبل فاؤنڈریز کے چیف ایگزیکٹو ٹم برین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی حکومت اس منصوبے کے تحت کمپنی میں 4 فیصد حصص حاصل کرے گی۔ اس اضافے کے بعد کمپنی میں امریکی حکومت کی مجموعی ملکیت تقریباً 7 فیصد تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کے تحت سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی نقد آمدن کو دونوں ممالک کے درمیان مساوی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے گا۔ ایک مخصوص حد تک منافع کی تقسیم کے بعد، آمدن کا 90 فیصد حصہ امریکی حکومت کے خزانے میں جمع کرایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹم برین نے مزید کہا کہ اس سرمایہ کاری کا کچھ حصہ جاپان کی چپ سازی کے آلات بنانے والی کمپنیوں تک بھی پہنچے گا، جن میں ٹوکیو الیکٹرون جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ تعاون جاپانی صنعتی شعبے کی مہارت کو عالمی سطح پر اجاگر کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کی جانب سے ان کارخانوں کے لیے ٹیکنالوجی کے لائسنس بھی فراہم کیے جائیں گے، جس سے پیداواری عمل میں تیزی آئے گی۔ یہ اقدام نہ صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس منصوبے کے تحت مکمل ہونے والے مختلف مراحل کی نگرانی کرے گی۔ حکومتی سطح پر اس منصوبے کو سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوبل فاؤنڈریز کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں دیگر ممالک کی کمپنیوں کو بھی اپنی خدمات فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم، فی الحال توجہ صرف امریکی اور جاپانی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے پر مرکوز ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کی ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔ جاپانی ٹیکنالوجی اور امریکی انفراسٹرکچر کا ملاپ سیمی کنڈکٹر کی صنعت میں ایک نیا معیار قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1335/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>صدر مملکت نے چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے بیرون ملک دوروں کی منظوری دے دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/359/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/359/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 22:16:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آذربائیجان]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جاپان]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_کوریا]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_دورے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صدر_آصف_علی_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d9%85%d9%85%d9%84%da%a9%d8%aa-%d9%86%db%92-%da%86%db%8c%d9%81-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%86%db%8c%d9%81-%d8%ac%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم کے مشورے پر دونوں اہم شخصیات کے لیے این او سی اور بیرونِ ملک رخصت کی منظوری جاری کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم پاکستان کے مشورے پر چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے بیرونِ ملک دوروں کے لیے باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کے لیے این او سی اور بیرونِ پاکستان رخصت کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت وہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک کا دورہ کریں گے۔ ان دوروں کا مقصد بین الاقوامی سطح پر عدالتی امور اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیڈول کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان 14 اکتوبر سے 21 اکتوبر 2026 تک برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ اس کے بعد وہ اپنے دوسرے مرحلے کے دورے کے لیے 27 اکتوبر سے 4 نومبر 2026 تک دوبارہ بیرونِ ملک قیام کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صدرِ مملکت نے چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے دورہ آذربائیجان کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ دورہ علاقائی عدالتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان 19 اکتوبر سے 22 اکتوبر 2026 تک جمہوریہ آذربائیجان کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں اور آئینی دائرہ اختیار رکھنے والے اداروں کی کانفرنس (TÜRK-AY) میں شرکت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کانفرنس میں شرکت کے ذریعے پاکستان کی عدالتی نمائندگی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔ کانفرنس میں مختلف ممالک کے آئینی ماہرین اور جج صاحبان شرکت کریں گے جو آئینی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان دوروں کی منظوری آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد دی گئی ہے۔ وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے ان دوروں کے لیے ضروری این او سی جاری کرنے کی ہدایات جاری کیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ دورے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان اپنی عدالتی اصلاحات اور بین الاقوامی عدالتی فورمز پر اپنی موجودگی کو فعال رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ بیرونِ ملک دوروں سے عدالتی نظام میں بہتری کے تجربات کے تبادلے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس آف پاکستان کے دوروں کا سلسلہ نومبر کے اوائل تک جاری رہے گا، جس کے بعد وہ اپنی ذمہ داریوں پر واپس آئیں گے۔ اس دوران عدالتی امور کی انجام دہی کے لیے متعلقہ قوانین کے مطابق انتظامات کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آذربائیجان میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے پاکستان اور ترک دنیا کے ممالک کے درمیان عدالتی تعاون کے نئے راستے کھلنے کی توقع ہے۔ یہ کانفرنس آئینی عدالتوں کے کردار کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایوانِ صدر کے اعلامیے میں ان دوروں کے مقاصد کو واضح کیا گیا ہے تاکہ عوامی سطح پر ان کے بارے میں درست معلومات پہنچ سکیں۔ یہ دورے پاکستان کی سفارتی اور عدالتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے عدالتی سربراہان کی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت سے عالمی برادری میں ملک کا وقار بلند ہوتا ہے۔ اس طرح کے دورے قانونی ماہرین کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ حکام کو ان دوروں کے لیے ضروری انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔ توقع ہے کہ یہ دورے پاکستان کے عدالتی نظام کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/359/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
