<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.8.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جانور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ac%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 14 Oct 2026 03:57:11 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>جانور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آسٹریلیا: چمگادڑوں کے حملوں میں تشویشناک اضافہ، جان لیوا وائرس کا خدشہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d8%a2%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7-%da%86%d9%85%da%af%d8%a7%d8%af%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d8%a2%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7-%da%86%d9%85%da%af%d8%a7%d8%af%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 03:57:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلیا]]></category>
		<category><![CDATA[احتیاطی_تدابیر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جانور]]></category>
		<category><![CDATA[چمگادڑ]]></category>
		<category><![CDATA[خطرناک_وائرس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_امداد]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[نیو_ساؤتھ_ویلیز]]></category>
		<category><![CDATA[وائرس]]></category>
		<category><![CDATA[ویکسینیشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a2%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7-%da%86%d9%85%da%af%d8%a7%d8%af%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[نیو ساؤتھ ویلز میں چمگادڑوں کے کاٹنے کے واقعات میں تیزی، محکمہ صحت نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلیا میں چمگادڑوں کے کاٹنے اور پنجے مارنے کے واقعات میں اچانک اضافے نے حکام کی تشویش بڑھا دی ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز کے محکمہ صحت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان جانوروں کو چھونے یا پکڑنے کی کوشش سے مکمل گریز کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق ریاست کے شمالی علاقوں میں 28 ستمبر سے 10 اکتوبر کے مختصر عرصے کے دوران چمگادڑوں کے حملوں کے 43 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران پیش آنے والے 10 واقعات کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت کے حکام نے نشاندہی کی ہے کہ یہ واقعات خاص طور پر ہنٹر ریجن، مڈ نارتھ کوسٹ، شمالی نیو ساؤتھ ویلز اور سینٹرل کوسٹ کے علاقوں میں پیش آئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چمگادڑوں میں &#039;آسٹریلین بیٹ لِسا وائرس&#039; پایا جاتا ہے جو ریبیز سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہ وائرس انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور ایک بار علامات ظاہر ہونے کے بعد اس کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیو ساؤتھ ویلز کے محکمہ صحت میں ڈائریکٹر ہیلتھ پروٹیکشن کیرا گلاسگو نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو یہ فرض کر لینا چاہیے کہ کوئی بھی چمگادڑ اس مہلک وائرس کی حامل ہو سکتی ہے، لہذا ان سے دوری ہی بہترین بچاؤ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص چمگادڑ کے کاٹنے یا پنجے مارنے سے زخمی ہو جائے تو اسے فوری طور پر متاثرہ جگہ کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے۔ بروقت طبی امداد اور ویکسینیشن ہی اس بیماری سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ چمگادڑوں کو سنبھالنے یا انہیں پکڑنے کی کوشش صرف تربیت یافتہ افراد ہی کر سکتے ہیں۔ عام شہریوں کے لیے ان جانوروں کے قریب جانا ان کی اپنی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے کے بعد بروقت طبی اقدامات بیماری کو جان لیوا بننے سے روک سکتے ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک واقعے کے بعد فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رابطہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ وائرس اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی پیچیدہ ہے اور اس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کی حالت تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔ اسی لیے محکمہ صحت نے عوامی آگاہی مہم کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں کو خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلیا میں جنگلی حیات اور انسانی آبادی کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کے پیش نظر ماہرین نے ماحولیاتی تبدیلیوں اور رہائشی علاقوں میں چمگادڑوں کی نقل و حرکت پر بھی تحقیق شروع کر دی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی علاقے میں چمگادڑوں کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ جائے تو مقامی وائلڈ لائف حکام کو مطلع کیا جائے۔ شہریوں کو خود سے کوئی بھی کارروائی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت عامہ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بروقت ویکسینیشن اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد سے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ عوامی تعاون سے ان واقعات میں کمی لائی جا سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے آسٹریلوی محکمہ صحت مقامی ہسپتالوں میں ویکسین کی فراہمی کو بھی یقینی بنا رہا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غفلت نہ برتیں اور فوری طبی امداد کو ترجیح دیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d8%a2%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7-%da%86%d9%85%da%af%d8%a7%d8%af%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
