<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جامعہ_کراچی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81_%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>جامعہ_کراچی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>جامعہ کراچی میں تقریبات کے انعقاد سے قبل وائس چانسلر کی اجازت لازمی قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/2023/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/2023/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 17:17:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایونٹ_پرامشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_یونیورسٹیز]]></category>
		<category><![CDATA[پروفیسر_عمران_احمد_صدیقی]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_کراچی_نوٹیفکیشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رجسٹرار_آفیس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%af-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[جامعہ کراچی میں کسی بھی تقریب یا سیمینار کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دے دی گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی میں تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کا مقصد اداروں کے اندر نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے کے تحت اب کیمپس کی حد تک ہر قسم کی تقریبات کے انعقاد کے لیے ضابطہ کار کو سخت کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی آف کراچی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عمران احمد صدیقی کی جانب سے باضابطہ طور پر ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں تمام متعلقہ شعبہ جات کو نئی پالیسی سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کیمپس میں کسی بھی قسم کے پروگرام یا تقریب کی اجازت کے بغیر منعقد کرنے پر پابندی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جامعہ کراچی کے اندر کسی بھی پروگرام، سیمینار، کانفرنس یا دیگر تقریبات کے انعقاد سے قبل وائس چانسلر سے پیشگی اجازت حاصل کرنا اب لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اجازت باقاعدہ طور پر رجسٹرار آفس کے توسط سے حاصل کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی کے اس نئے حکم نامے کا اطلاق یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات، ڈینز، ڈائریکٹرز، چیئرپرسنز، انچارجز اور تمام سیکشنل ہیڈز پر یکساں طور پر ہوگا اور سب کو ان ہدایات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹیفکیشن میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ تقریب کے انعقاد کے خواہش مند تمام متعلقہ شعبہ جات کو اپنی درخواست تجویز کردہ پروگرام کی تاریخ سے کم از کم پندرہ دن قبل جمع کروانا ہوگی تاکہ تمام امور کا وقت پر جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست کے ساتھ پروگرام کی مکمل تفصیلات، مقررہ پروفارمہ اور اس سے متعلقہ تمام معاون دستاویزات منسلک کرنا لازمی قرار دی گئی ہیں تاکہ مجاز اتھارٹی کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ کسی بھی پیشگی منظوری کے بغیر کسی تقریب کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی سے بذریعہ رجسٹرار پیشگی منظوری حاصل کیے بغیر کیمپس کے اندر کوئی بھی تقریب منعقد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی اور تمام شعبے اس کے پابند ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مہمانِ خصوصی اور معزز شخصیات کی دعوت کے حوالے سے بھی سخت ضابطہ کار طے کر دیا گیا ہے جس کے تحت کسی بھی وزیر، معزز شخصیت یا دیگر اہم مہمان کو براہ راست دعوت نامے نہیں بھیجے جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے کے مطابق تمام مہمانِ خصوصی یا اہم شخصیات کو دعوت نامے صرف جامعہ کراچی کے رجسٹرار آفس کی جانب سے ہی جاری کیے جائیں گے، جو کہ متعلقہ شعبے یا سیکشن کی درخواست پر مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شعبہ جات یا مختلف سیکشنز خود سے کسی بھی مہمان کو براہ راست دعوت نامہ ارسال کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے اور اس حوالے سے تمام تر کارروائی صرف مرکزی دفتر کے ذریعے ہی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ان ہدایات کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لیا جائے گا اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جامعہ کے مروجہ قوانین اور ضوابط کے تحت سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ کے لیے اس قسم کی کوتاہی سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ افراد اور شعبہ جات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان نئی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ جامعہ کا انتظامی امور احسن طریقے سے چلتا رہے اور کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/2023/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جامعہ کراچی میں طلبہ یونین کے انتخابات نہ کرانے پر رجسٹرار طلب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1966/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1966/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 09:37:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_قانونسندھ_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رجسٹرار_جامعہ_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[طلبہ_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[طلبہ_یونین]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b7%d9%84%d8%a8%db%81-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[سندھ ہائیکورٹ نے 2019 کے قانون پر عمل درآمد نہ کرنے پر جامعہ کراچی کے رجسٹرار کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہائیکورٹ میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے ایک اہم معاملے پر سماعت کی گئی ہے جس میں جامعات کے اندر طلبہ یونینز کے انتخابات کے انعقاد کا معاملہ زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ یہ درخواست جامعہ کراچی میں طلبہ یونین کے انتخابات بروقت نہ کرانے کے خلاف دائر کی گئی تھی جس پر عدالتِ عالیہ نے سخت نوٹس لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس بات پر گہرے رنج و اظہارِ تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دو ہزار انیس میں باقاعدہ قانون سازی کے باوجود تاحال جامعات کی سطح پر طلبہ یونین کے انتخابات کیوں نہیں کروائے جا سکے۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ قانون بن جانے کے بعد اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا متعلقہ انتظامیہ کی اولین ذمے داری ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس علی حیدر نے اس آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے جامعہ کراچی کے رجسٹرار کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ تاریخِ سماعت پر پیش ہو کر قانون پر عمل نہ کرنے کی وجوہات بیان کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے کارروائی کے دوران استفسار کیا کہ جب صوبائی اسمبلی یا متعلقہ اداروں کی طرف سے دو ہزار انیس میں ایکٹ منظور کر لیا گیا تھا تو اس پر اب تک عمل کیوں نہیں ہوا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ قانون سازی کا مقصد عوامی اور ادارہ جاتی سطح پر بہتری لانا ہوتا ہے لہذا اس کی خلاف ورزی قابلِ فہم نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کے روبرو اپنا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار خود بھی قانون کے طالب علم ہیں اور وہ تعلیمی اداروں میں قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کی بحالی کے خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ یہ پلیٹ فارمز نوجوان نسل میں جمہوری روایات کو پروان چڑھانے اور ان کے اندر قائدانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا سب سے موثر ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یونینز کی غیر موجودگی کی وجہ سے طلبہ کی مثبت سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور کیمپس کی سطح پر ایک صحت مند ماحول پروان نہیں چڑھ پاتا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ قانون کے مطابق فوری طور پر انتخابات کے انعقاد کے احکامات صادر کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتِ عالیہ نے فریقین کے دلائل کو تفصیل کے ساتھ سنا اور ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ جامعہ کراچی کے رجسٹرار آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر عدالت کے سامنے پیش ہوں اور وضاحت پیش کریں کہ دو ہزار انیس کے ایکٹ پر عملدرآمد میں کون سی رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس معاملے پر مزید کارروائی آئندہ ماہ نومبر کے دوسرے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ سماعت پر جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی طرف سے اس حوالے سے کوئی حتمی اور قانونی جواب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ ایک طویل عرصے سے کیا جاتا رہا ہے۔ طلبا تنظیمیں اور حقوق کے کارکنان اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ یونینز پر پابندی سے نوجوانوں میں سیاسی اور سماجی شعور بیدار کرنے کا قدرتی عمل شدید متاثر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سن دو ہزار انیس میں سندھ کے اندر قانون سازی کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ جامعات میں پرامن اور جمہوری انداز میں طلبہ کے نمائندے منتخب ہوں گے جو طلبہ کے مسائل کو انتظامیہ کے سامنے مؤثر طریقے سے اٹھا سکیں گے مگر عملی طور پر اس پر پیشرفت سست رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق اس قسم کی عدالتی کارروائیاں اور احکامات تعلیمی اداروں میں انتظامیہ کو قانون کا پابند بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ جب عدالتیں خود ایسے امور پر نوٹس لیتی ہیں تو اس سے نظام میں بہتری کی امید مزید روشن ہو جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی ملک کے بڑے اور مؤقر تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اگر یہاں قانون کے مطابق انتخابات کا عمل شروع ہو جاتا ہے تو یہ پورے صوبے بلکہ ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب تمام نگاہیں آئندہ ماہ نومبر کے دوسرے ہفتے پر مرکوز ہیں جب جامعہ کراچی کے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے اور عدالت کو دو ہزار انیس کے ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات کے بارے میں قانونی وضاحت فراہم کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1966/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جامعہ کراچی میں اسکول آف نرسنگ کے قیام کیلیے بھرپور تعاون کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1842/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1842/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 11:57:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آبادی_کا_مسئلہ]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول_آف_نرسنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_وسیم_قاضی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹائزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_کا_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%a2%d9%81-%d9%86%d8%b1%d8%b3%d9%86%da%af-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے جامعہ کراچی میں اسکول آف نرسنگ کے فوری قیام کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے جامعہ کراچی کے دورے کے دوران یونیورسٹی میں اسکول آف نرسنگ کے فوری قیام کے لیے اپنے بھرپور تعاون کی غیر مشروط پیشکش کردی ہے تاکہ طبی تعلیم کے شعبے کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جیسے ہی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کی جانب سے اس سلسلے میں باقاعدہ خط موصول ہوگا، وہ فوری طور پر نرسنگ کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اس اہم معاملے میں تمام ضروری قانونی اور انتظامی مراحل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ طلبہ اور بالخصوص طالبات کو نرسنگ کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی کے اسکول آف نرسنگ کے قیام کی یہ خواہش یونیورسٹی کے نو تعینات وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کی جانب سے تقریب سے قبل وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں ہونے والی ون ٹو ون ملاقات میں ظاہر کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شعبہ کمپیوٹر سائنس کے زیر اہتمام منعقدہ کیریئر کنیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جامعہ کراچی ان کی مادر علمی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہاں کے طلبہ کو مثبت سمت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے ملک میں انتظامی یونٹس کی تشکیل اور پبلک سروس اداروں بالخصوص جامعات اور اسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے حوالے سے جاری سنجیدہ بحث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نظام میں بہتری ناگزیر ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے شعبہ صحت پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ عالمی سطح پر اور بالخصوص پاکستان میں نرسنگ کے شعبے میں تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی ہے جس کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب وسائل اور آبادی میں توازن برقرار رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ معیاری تعلیم کے فروغ اور طلبہ کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائس چانسلر نے شرکاء کو بتایا کہ جامعہ کا انتظامی نظام تیزی سے پیپر لیس سسٹم کی جانب بڑھ رہا ہے اور آئندہ دو ماہ کے اندر اس شعبے سے متعلق تمام امور کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کر دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ چین کے قونصل جنرل نے پاک چین سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سینٹر فار سائبر سیکیورٹی کے قیام میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے جس سے جامعہ کے تکنیکی معیار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شعبہ کمپیوٹر سائنس کے چیئرمین ڈاکٹر صادق علی خان نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمیا اور انڈسٹری کے درمیان مضبوط رابطہ استوار کرنے کے لیے کیریئر کنیکٹ جیسے پروگراموں کا انعقاد انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ہزاروں طلبہ کمپیوٹر سائنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا سائنس کے پروگرام بھی جلد شروع کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1842/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جامعہ کراچی میں اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات کیلیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1118/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1118/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 15:57:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹوڈنٹ_یونین]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_سیکریٹری_سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_اسٹوڈنٹس_یونین_ایکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[طلبہ_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%88%d9%86%d9%b9-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[جامعہ کراچی کے طلبہ کی جانب سے دائر آئینی درخواست میں اسٹوڈنٹ یونینز کے انتخابات فوری منعقد کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی میں طلبہ یونینز کی بحالی اور انتخابات کے انعقاد کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں پہنچ گیا ہے جہاں اس حوالے سے ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔ عدالت میں دائر کی جانے والی اس درخواست کے ذریعے صوبائی تعلیمی اداروں اور بالخصوص جامعہ کراچی میں طویل عرصے سے معطل طلبہ یونینز کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں صوبائی حکومت اور جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو فریق بنایا گیا ہے تاکہ عدالت کے ذریعے اس اہم تعلیمی و انتظامی معاملے پر احکامات جاری کروائے جا سکیں۔ اس قانونی اقدام سے تعلیمی حلقوں میں طلبہ سیاست اور یونینز کے مستقبل کے حوالے سے ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی کے اسکول آف لاء سے تعلق رکھنے والے دو طلبہ علی شیر اور محمد حارث نے یہ درخواست دائر کی ہے۔ ان طلبہ نے عثمان فاروق ایڈووکیٹ کی وساطت سے سندھ ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے تاکہ جامعات میں طلبہ کے جمہوری حقوق کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست میں جن اہم سرکاری اور انتظامی شخصیات کو فریق نامزد کیا گیا ہے ان میں چیف سیکریٹری سندھ نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ اور سیکریٹری کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قانونی کارروائی میں سیکریٹری قانون و پارلیمانی امور حکومت سندھ کو بھی فریق کی حیثیت دی گئی ہے۔ فریقین کی فہرست میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر اور یونیورسٹی کے رجسٹرار کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ تمام متعلقہ ادارے اس عمل میں جوابدہ ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار طلبہ کے مؤقف کے مطابق صوبائی اسمبلی کی طرف سے سندھ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ 2019 منظور کیا جا چکا ہے۔ اس قانون کی منظوری کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کے جمہوری عمل کو بحال کرنا اور مثبت سیاسی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مؤقف میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ قانون سازی کا یہ عمل مکمل ہونے اور باقاعدہ منظوری کے باوجود تاحال جامعہ کراچی کی سطح پر اسٹوڈنٹ یونینز کے انتخابات کرانے کی غرض سے ضروری ضوابط اور قواعد تشکیل نہیں دیے گئے۔ قواعد کی عدم موجودگی کی وجہ سے طلبہ یونینز کا قیام عمل میں نہیں آ سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست میں عدالت عالیہ سے پرزور استدعا کی گئی ہے کہ وہ حکومت سندھ کو اس امر کا پابند بنائے کہ وہ فوری طور پر متعلقہ قواعد و ضوابط کا جائزہ لے۔ قواعد کی تیاری کے بعد اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت بھی عدالت سے مانگی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں درخواست گزاروں نے عدالت کے روبرو یہ مؤقف بھی رکھا ہے کہ جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو احکامات جاری کیے جائیں کہ وہ جلد از جلد ایک آزاد الیکشن کمیشن قائم کرے۔ الیکشن کمیشن کے قیام کے بعد جامعہ میں طلبہ یونینز کے انتخابات بلا تاخیر منعقد کرائے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ایک طویل عرصے سے طلبہ یونینز پر پابندی عائد چلی آ رہی ہے جس کے باعث جامعات میں تعلیمی و ثقافتی سرگرمیاں اور طلبہ کی قیادت سازی کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ماضی میں طلبہ یونینز کی سرگرمیوں کو ضابطے میں لانے اور کیمپس کی سیاست کو پرامن بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف سطح پر تجاویز اور قانون سازی کی جاتی رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ حکومت کی جانب سے منظور شدہ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ کو اس سلسلے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا تاہم اس پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ طلبہ تنظیمیں اور اسٹوڈنٹس اس قانون کے تحت عملی اقدامات کے منتظر ہیں تاکہ وہ اپنے جائز جمہوری حقوق کے تحت یونین کی سطح پر نمائندگی حاصل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عالیہ میں اس درخواست کی سماعت کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ سندھ ہائیکورٹ اس اہم نوعیت کے مقدمے میں فریقین کو نوٹس جاری کرے گی۔ عدالت کے اس فیصلے سے نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ سندھ بھر کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ یونینز کے مستقبل کے حوالے سے اہم پیشرفت متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1118/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ڈاکٹر وسیم قاضی کو کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کا اضافی چارج سپرد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/257/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/257/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 07:57:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_وسیم_قاضی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_میٹروپولیٹن_یونیورسٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%85-%d9%82%d8%a7%d8%b6%db%8c-%da%a9%d9%88-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d9%b9%d9%86-%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کو کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر کی اضافی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں تعلیمی شعبے کے حوالے سے ایک اہم انتظامی فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت معروف تعلیمی شخصیت اور جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کو ایک اور اہم جامعت کی اضافی ذمہ داریاں تفویض کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت نے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کو کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اضافی چارج سونپنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے جس پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اہم فیصلہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کی منظوری سے عمل میں لایا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد اس اہم تعلیمی ادارے میں انتظامی امور کو بہتر طریقے سے چلانا اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ جامعات و بورڈز حکومت سندھ کی جانب سے اس تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ انتظامات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ادارے میں کسی مستقل وائس چانسلر کی تقرری نہیں ہو جاتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی پہلے ہی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور اب وہ اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے امور بھی چلائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ سرکاری حکمنامے کے اجراء کے بعد پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے فوری طور پر اپنی نئی اضافی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں تاکہ یونیورسٹی کے انتظامی اور تعلیمی معاملات میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے تعلیمی بہتری کے کئی اقدامات کیے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان کے تجربے سے کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کو بھی فائدہ پہنچے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور محکمہ جامعات و بورڈز اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں سربراہان کی تعیناتی اور انتظامی امور شفاف طریقے سے چلائے جائیں تاکہ طلباء کی تعلیم متاثر نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کو سراہا گیا ہے اور توقع ظاہر کی گئی ہے کہ ڈاکٹر وسیم قاضی کی زیر قیادت کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں ترقیاتی کام اور تعلیمی معیار مزید بہتر ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقل وائس چانسلر کی تلاش اور تقرری کا عمل مقررہ طریقہ کار کے مطابق مکمل کیا جائے گا، اور اس دوران تمام تر انتظامی فیصلے قائم مقام سربراہ کی نگرانی میں ہی انجام پائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر قائد کے اس اہم تعلیمی ادارے میں نئے قائم مقام وائس چانسلر کی آمد سے امید کی جا رہی ہے کہ انتظامی امور میں تیزی آئے گی اور اساتذہ اور طلباء کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاسکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اس امر کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کے عہدے پر بھی بیک وقت فائز رہیں گے اور دونوں اداروں کے معاملات کو متوازن طریقے سے دیکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام انتظامی تبدیلی کا مقصد کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے روزمرہ کے امور کو بلاتعطل جاری رکھنا ہے تاکہ طلباء اور تدریسی عملہ کسی بھی قسم کی انتظامی مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/257/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جامعہ کراچی میں تعلیمی سال 2027 کے داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد، ہزاروں طلبا کی شرکت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/106/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/106/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:59:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[ایوننگ_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_سال_2027]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/106/</guid>

					<description><![CDATA[جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات میں داخلوں کے لیے 20 امتحانی مراکز قائم کیے گئے جہاں 7 ہزار سے زائد امیدواروں نے حصہ لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی میں تعلیمی سال 2027 کے مارننگ پروگرام کے لیے داخلہ ٹیسٹ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس عمل کے دوران یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں داخلے کے خواہشمند امیدواروں کی بڑی تعداد نے امتحانی مراکز کا رخ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد بی ایس، بی ایڈ آنرز، بی ای، ڈی پی ٹی اور فارمیسی کے مارننگ اور ایوننگ پروگرامز کے لیے کیا گیا ہے۔ ان پروگرامز میں داخلہ لینے کے لیے طلبہ و طالبات کی جانب سے گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، داخلہ ٹیسٹ کے عمل کو منظم بنانے کے لیے جامعہ کے مختلف شعبہ جات میں 20 امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے۔ ان مراکز میں امیدواروں کی بڑی تعداد نے پرسکون ماحول میں اپنے پرچے حل کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر اس داخلہ ٹیسٹ میں 7 ہزار سے زائد امیدواروں نے شرکت کی۔ یونیورسٹی حکام نے اس موقع پر امیدواروں کی سہولت کے لیے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی تھی تاکہ کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طلبہ اور ان کے والدین کی سہولت کے پیش نظر جامعہ کے تمام داخلی دروازوں پر پوائنٹس بسوں کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا تھا۔ یہ بسیں طلبہ کو امتحانی مراکز تک پہنچانے اور امتحان کے بعد واپس گیٹس تک لے جانے کی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی پاکستان کے سب سے بڑے تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہر سال ہزاروں طلبہ اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لیے داخلہ لیتے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے میرٹ پر مبنی داخلوں کے عمل کو شفاف رکھنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی سال 2027 کے لیے ہونے والے ان داخلہ ٹیسٹوں کے نتائج کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، جس کے بعد کامیاب امیدواروں کو یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں داخلے کی پیشکش کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی انتظامیہ نے اس موقع پر طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ داخلہ عمل سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ اور نوٹس بورڈز سے رابطے میں رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امتحانی مراکز میں سیکیورٹی اور نظم و ضبط کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ داخلہ ٹیسٹ کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ جاری ہے تاکہ میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی کے شعبہ داخلہ جات کے مطابق، داخلہ ٹیسٹ میں حصہ لینے والے امیدواروں کو اپنے ساتھ ضروری دستاویزات اور رول نمبر سلپ لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ٹیسٹ کے دوران کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو مراکز میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی کے اس تعلیمی سال کے داخلہ ٹیسٹ میں شرکت کرنے والے امیدواروں کا کہنا تھا کہ امتحانی مراکز میں انتظامات تسلی بخش تھے اور انہیں کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/106/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
