<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جاسوسی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ac%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%b3%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>جاسوسی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اسرائیلی کمپنیوں کا صحافیوں کی جاسوسی کا نیا اسکینڈل سامنے آ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1177/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1177/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 22:37:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسپائی_ویئر]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الجزیرہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایڈ_فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاسوسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%da%a9%d9%85%d9%be%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[اسرائیلی ایڈورٹائزنگ فرم نے اشتہارات کے ذریعے الجزیرہ کے صحافیوں سمیت اہم عالمی اداروں کو نشانہ بنایا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر صحافت اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں اسرائیلی کمپنیوں کی جانب سے صحافیوں کی جاسوسی کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سائبر ریسرچ ادارے &#039;سٹیزن لیب&#039; کی رپورٹ کے مطابق، یہ جاسوسی مہم 2024 اور 2025 کے دوران چلائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اسکینڈل میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ادارہ الجزیرہ ہے، جس کے کم از کم 45 صحافیوں اور اسٹاف ممبران کے کمپیوٹرز اور موبائل فونز کو ہیک کیا گیا۔ الجزیرہ کی ٹیکنیکل ٹیم نے اپنے سسٹمز میں غیر معمولی سرگرمی محسوس کرنے کے بعد سٹیزن لیب سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد اس خوفناک نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جاسوسی مہم کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس کے لیے کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ماہرین نے اسے &#039;ایڈ فکشن&#039; کا نام دیا ہے، جس میں عام اشتہارات جیسے کہ موبائل فون یا ایئربڈز کے اشتہار کے ذریعے اسپائی ویئر ڈیوائس میں داخل ہو جاتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق، یہ اشتہارات ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور 75 ہزار موبائل ایپس پر چلائے گئے۔ جیسے ہی کوئی صارف اپنے اسکرین پر اشتہار دیکھتا، اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ مہلک اسپائی ویئر بغیر کسی صارف کی مداخلت کے ڈیوائس میں گھس جاتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہیکرز کو متاثرہ شخص کے کمپیوٹر یا موبائل فون تک مکمل رسائی حاصل ہو جاتی تھی۔ اس میں فائلز، دستاویزات، ای میلز، پاس ورڈز، کی بورڈ پر ٹائپ ہونے والے الفاظ، اسکرین شاٹس، مائیک، کیمرے اور واٹس ایپ پیغامات تک کی نگرانی ممکن بنائی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس جاسوسی نیٹ ورک کا ہدف صرف عرب صحافی نہیں تھے بلکہ اس کے دائرہ کار میں نیٹو، اقوام متحدہ، پینٹاگون، یورپی کمیشن اور عالمی عدالت انصاف جیسے اہم عالمی ادارے بھی شامل تھے۔ فلسطینی علاقوں میں تو تقریباً ہر ویب سائٹ پر یہ جاسوسی اشتہار موجود تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الجزیرہ نے اس واقعے کو پریس کی آزادی پر ایک سنگین حملہ قرار دیا ہے اور اس معاملے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی پرائیویسی کو نشانہ بنانا عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد گوگل نے &#039;ڈسکور ٹیک&#039; نامی کمپنی کو اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ یورپی اشتہاری اداروں نے بھی مذکورہ کمپنی کی سرگرمیوں کو معطل کر دیا ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیلی کمپنیوں پر صحافیوں کی جاسوسی کے الزامات لگے ہوں۔ یاد رہے کہ 2020 میں بھی الجزیرہ کے 36 صحافیوں کے فونز کو اسرائیلی این ایس او گروپ کے &#039;پیگاسس&#039; سافٹ ویئر کے ذریعے ہیک کیا گیا تھا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی عدالت انصاف، جس نے حال ہی میں نیتن یاہو کے وارنٹ جاری کیے تھے، کا بھی اس جاسوسی نیٹ ورک کی زد میں آنا اس معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی اداروں کی ڈیجیٹل سیکیورٹی پر بھی بڑے سوالات اٹھا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو اشتہاری پلیٹ فارمز کو جاسوسی کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ صحافتی تنظیموں نے بھی اپنے ارکان کو محتاط رہنے اور جدید ترین سیکیورٹی سافٹ ویئر استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1177/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسرائیلی فوج میں جاسوسی کرنے والے بدو کو ساڑھے 24 سال قید کی سزا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/744/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/744/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 22:37:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاسوسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزا]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[اسرائیلی عدالت نے مجاہدین بریگیڈز کے لیے معلومات فراہم کرنے اور فوجی سازوسامان چوری کرنے کے جرم میں شہادہ ابو القیعان کو سزا سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسرائیل کی ایک ضلعی عدالت نے غزہ میں سرگرم مسلح تنظیم مجاہدین بریگیڈز کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں ایک بدو شہری شہادہ ابو القیعان کو 24 سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ ملزم پر فوجی راز افشا کرنے اور حساس تنصیبات کی معلومات پہنچانے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی دستاویزات اور استغاثہ کے مطابق ملزم نے 2021 میں آن لائن ذرائع سے مجاہدین بریگیڈز کے ساتھ رابطہ قائم کیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل اپنے علاقے کے قریب اسرائیلی فوجیوں کی نقل و حرکت اور ہیلی کاپٹرز کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کرتا رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم کی جانب سے اسرائیلی فوجی اڈوں، اہم ریلوے اسٹیشنوں، سرکاری کمپنیوں اور مختلف تجارتی مراکز کی تصاویر بھی تنظیم کو بھیجی گئیں۔ ان معلومات کا مقصد مبینہ طور پر تنظیم کو فوجی اہداف کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنی کارروائیاں ترتیب دے سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے 2019 میں اسرائیلی فوج سے ایک خودکار رائفل اور گولیوں کا میگزین چوری کیا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے پانچ دستی بم اور ہزاروں گولیاں بھی تنظیم کو فراہم کرنے کی کوشش کی تھی جو اس کے مجرمانہ عزائم کا حصہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم نے حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ اسرائیلی فوج میں بھرتی ہونے کا منصوبہ بنایا۔ وہ مئی 2022 میں فوج میں شامل ہوا تاکہ اندر سے معلومات حاصل کر سکے، تاہم صرف آٹھ روز بعد ہی اسرائیلی انٹیلیجنس ادارے شن بیت نے اسے گرفتار کر لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتاری کے بعد ملزم نے اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کو معاہدۂ اقرارِ جرم کے تحت تسلیم کر لیا تھا۔ بیرالسبع کی ضلعی عدالت نے اسے دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے، جنگ کے دوران دشمن کی مدد کرنے اور اسلحہ چوری کرنے کے جرائم میں سزا کا حکم سنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">استغاثہ نے عدالتی کارروائی کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ ملزم کی اسرائیلی شہریت منسوخ کی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں ایک باقاعدہ درخواست وزیر داخلہ یاریو لیون کے سامنے بھی پیش کی گئی ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، ملزم کا یہ اقدام سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑی ناکامی سمجھا جا رہا ہے۔ فوج کے اندر سے جاسوسی کرنے کے اس واقعے نے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کی جانچ پڑتال کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم کی گرفتاری کے بعد سے اسرائیلی حکام نے فوجی بھرتی کے عمل میں مزید سختیاں کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کیس نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح اندرونی ذرائع سے حساس معلومات کا حصول سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا یہ فیصلہ اسرائیلی قانون کے تحت ان تمام افراد کے لیے ایک تنبیہ ہے جو ریاستی اداروں کے اندر رہتے ہوئے کسی بھی مسلح تنظیم کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ ملزم کو دی گئی طویل قید کی سزا اس کے سنگین جرائم کے تناسب سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس کے بعد اسرائیلی انٹیلیجنس اور فوجی حکام نے اپنی نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے کسی بھی واقعے کو روکنے کے لیے بھرتی کے عمل کے دوران پس منظر کی جانچ پڑتال کو مزید سخت کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ملزم نے براہ راست حماس کے بجائے مجاہدین بریگیڈز کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی تھی۔ یہ کیس اسرائیلی عدالتی تاریخ میں فوجی تنصیبات کے اندر جاسوسی کے حوالے سے ایک اہم مقدمہ تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/744/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
