<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ثقافت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 04:26:56 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ثقافت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان کی لاہور آنے کی خواہش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2233/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2233/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 00:17:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[بھگونت_مان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_انڈیا_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d9%86%da%88%db%8c%d9%86-%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d8%a8%da%be%da%af%d9%88%d9%86%d8%aa-%d9%85%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[بھگونت مان نے لاہور میں ہونے والی ورلڈ پنجابی کانفرنس میں شرکت کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا، اسمبلی میں ارکان نے بھی ساتھ چلنے کی فرمائش کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان نے لاہور میں منعقد ہونے والی چوتھی ورلڈ پنجابی کانفرنس میں شرکت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انڈین پنجاب کی اسمبلی میں خطاب کے دوران اس بات کا تذکرہ کیا کہ انہیں لاہور سے کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھگونت مان کا کہنا تھا کہ لاہور ان کے دل کے قریب ہے اور وہ وہاں ضرور جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اگر انہیں پاکستان جانے کی اجازت ملی تو وہ اس دورے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے اس بیان پر ایوان میں موجود دیگر ارکان نے بھی دلچسپی ظاہر کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسمبلی کے اسپیکر کلتار سنگھ سندھواں نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیرِ اعلیٰ کو اجازت مل جائے تو وہ انہیں بھی اپنے ساتھ لاہور لے کر جائیں۔ اس پر ایوان کے دیگر ارکان نے بھی تائید کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جانب کے عوام اور نمائندے ثقافتی میل ملاپ کے خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چوتھی ورلڈ پنجابی کانفرنس 27، 28 اور 29 نومبر کو لاہور میں منعقد کی جا رہی ہے۔ کانفرنس کے چیف آرگنائزر احمد رضا پنجابی کے مطابق انہوں نے بھگونت مان کو ٹیلی فون پر شرکت کی دعوت دی تھی اور اب باضابطہ دعوت نامہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احمد رضا پنجابی نے مزید بتایا کہ اس کانفرنس میں ہر سال دنیا بھر سے پنجابی زبان اور ثقافت سے محبت کرنے والے افراد شرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر پنجاب حکومت کی جانب سے مثبت ردِعمل سامنے آیا تو ویزا کے معاملات بھی طے پا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھگونت مان نے اپنی تقریر کے دوران دونوں خطوں کی مشترکہ ثقافت اور جڑوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے مسائل اور ثقافتی اقدار ایک جیسی ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر کرتار پور راہداری کو مکمل طور پر فعال کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے اور امن و محبت کا پیغام پھیلانے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احمد رضا پنجابی نے وضاحت کی کہ اس بار ویزا پالیسی کی وجہ سے انڈیا سے بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت مشکل ہے، تاہم جو سکھ یاتری پہلے سے ہی یاترا ویزے پر پاکستان میں موجود ہوں گے، وہ اس کانفرنس میں شرکت کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں ہونے والی یہ کانفرنس پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم سمجھی جاتی ہے۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ اگر اعلیٰ سطح پر رابطے بحال ہوں تو ثقافتی تبادلے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور انڈیا کے درمیان عوامی سطح پر رابطے ہمیشہ سے ہی دونوں ممالک کے عوام کے لیے خوشی کا باعث رہے ہیں۔ بھگونت مان کا یہ بیان ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس پر اب حکومتی سطح پر جواب کا انتظار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2233/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ٹھٹھہ کا تاریخی مکلی قبرستان: سندھ کی تہذیب و ثقافت کا عظیم ورثہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2075/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2075/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 01:37:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آثار_قدیمہ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخی_ورثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹھٹھہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%b9%da%be%d9%b9%da%be%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d9%85%da%a9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[دس مربع کلومیٹر پر محیط مکلی کا قبرستان اپنی منفرد سنگ تراشی اور اسلامی فنِ تعمیر کے باعث عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹھہ کے قریب واقع مکلی نیکروپولس دنیا کے سب سے بڑے اور منفرد تاریخی قبرستانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مقام صدیوں پر محیط سندھ کی تہذیب، فنِ تعمیر اور اسلامی ثقافت کے انمول آثار کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریباً دس مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلے اس تاریخی قبرستان میں پانچ لاکھ سے زائد قبریں اور مقبرے موجود ہیں۔ یہاں بادشاہوں، ملک ہوں، حکمرانوں، گورنروں، صوفیا، علما اور دانشوروں کی آخری آرام گاہیں موجود ہیں جو ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکلی کے مقبروں میں جام نظام الدین ثانی اور عیسیٰ خان تر خان کے مقبرے اپنی منفرد تعمیر، دیدہ زیب سنگ تراشی اور کاشی کاری کے باعث خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ فن پارے مقامی، گجراتی، مغلیہ اور فار سی اثرات کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تاریخی مقام کی اہمیت کے پیشِ نظر یونیسکو نے 1981 میں مکلی کے تاریخی آثار کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ یہ قبرستان 14ویں سے 18ویں صدی تک سندھ کی سماجی، سیاسی اور مذہبی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موسمی اثرات، بارشوں، نمی اور نمکیاتی ہواؤں کے باعث اس تاریخی ورثے کو نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی کٹاؤ اور دیگر عوامل نے بھی ان قدیم ڈھانچوں کی خوبصورتی کو متاثر کیا ہے، جس پر ماہرین تحفظِ آثارِ قدیمہ تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سن 2022 کی شدید مون سون بارشوں کے بعد کئی تاریخی مقبروں کو نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ اور یونیسکو نے مشترکہ طور پر بحالی کے اقدامات شروع کیے۔ ان کوششوں کا مقصد اس تاریخی ورثے کو محفوظ بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رواں سال 2026 میں عالمی ورثہ کمیٹی نے مکلی کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات کو سراہا ہے۔ کمیٹی نے شیخ جیئو کے مقبرے اور سمہ دور کے دیگر اہم آثار کی بحالی کے کام کو مزید تیز کرنے اور اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکلی صرف قبروں کا ایک مجموعہ نہیں بلکہ یہ سندھ کی صدیوں پرانی تہذیب اور فنونِ لطیفہ کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس کا تحفظ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے استفادہ کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مکلی کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی سطح پر بھی آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں تاکہ تجاوزات اور دیگر نقصانات سے اس جگہ کو محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحوں اور محققین کی بڑی تعداد ہر سال اس تاریخی مقام کا دورہ کرتی ہے۔ مکلی کا دورہ کرنے والے افراد یہاں کے سکون اور قدیم فنِ تعمیر کی باریکیوں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں جو اسے دنیا بھر میں منفرد بناتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں مکلی کے تحفظ کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے اور بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس تاریخی ورثے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، مکلی نیکروپولس کا تحفظ قومی فخر کا باعث ہے۔ یہ مقام ہماری تاریخ کا وہ روشن باب ہے جسے محفوظ رکھنا ہم سب کا فرض ہے، تاکہ یہ عظیم ورثہ اپنی اصل حالت میں آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2075/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2065/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2065/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 23:57:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[بھگونت_مان]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجابی_کانفرنس]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%d9%88-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[بھگونت سنگھ مان نے تصدیق کی ہے کہ انہیں 27 نومبر کو لاہور میں ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں پاکستان کے شہر لاہور میں منعقد ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ یہ کانفرنس رواں سال 27 نومبر کو لاہور میں منعقد کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ نے بھارتی پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس دعوت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ منتظمین کی جانب سے انہیں نہ صرف شرکت کی دعوت دی گئی ہے بلکہ ان کی میزبانی کرنے کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھگونت مان نے اپنے مخصوص انداز میں اس دعوت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی لاہور جانا چاہتے ہیں کیونکہ دونوں اطراف کا ثقافتی ورثہ ایک جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے شاعر اور دیگر اہم شخصیات لاہور کا سفر کریں گی اور میری بھی خواہش ہے کہ اس کانفرنس کا حصہ بنوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم وزیراعلیٰ نے اس موقع پر طنزیہ انداز میں بھارتی مرکزی حکومت کی جانب سے بیرونِ ملک دوروں پر عائد پابندیوں اور اجازت ناموں کے حصول میں درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت انہیں فرانس اور جاپان جیسے ممالک جانے کی اجازت نہیں دیتی تو پاکستان جانے کی اجازت ملنا ایک بڑا سوال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسمبلی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بھارتی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے بھی اس موضوع پر دلچسپی ظاہر کی اور وزیراعلیٰ سے کہا کہ اگر انہیں دورے کی اجازت مل جائے تو انہیں بھی ساتھ لے کر جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی پنجابی کانفرنس کا انعقاد پنجابی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس طرح کی تقریبات دونوں خطوں کے عوام کے درمیان ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت کو عوامی حلقوں میں مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ پنجابی زبان کے ادیبوں اور دانشوروں کی بڑی تعداد اس کانفرنس میں شرکت کی منتظر ہے تاکہ مشترکہ ثقافتی اقدار کو اجاگر کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھگونت سنگھ مان کے اس بیان کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ بھارتی حکومت اس دعوت کے حوالے سے کیا موقف اختیار کرتی ہے۔ سفارتی اور سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو دونوں جانب کے عوام کے مابین عوامی سطح پر رابطوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور بھارت کے درمیان ثقافتی تبادلے ہمیشہ سے ہی عوامی سطح پر مقبول رہے ہیں۔ لاہور اور امرتسر جیسے شہروں کے درمیان تاریخی اور ثقافتی مماثلتیں دونوں خطوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث بنتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی وفود کے دورے ہوتے رہے ہیں جو امن کی بحالی اور باہمی افہام و تفہیم کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پنجابی زبان کا ادب اور شاعری دونوں اطراف یکساں مقبول ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کانفرنس کے منتظمین کی جانب سے اس دعوت کو ایک خیر سگالی کا پیغام قرار دیا گیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال وزیراعلیٰ کی جانب سے اس دعوت پر حتمی فیصلہ بھارتی حکومت کی اجازت سے مشروط ہے۔ اس معاملے پر مزید پیش رفت کا انحصار سفارتی اجازت ناموں اور حکومتی پالیسیوں پر ہوگا جو آنے والے دنوں میں واضح ہو سکیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2065/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہندو برادری کا نوراتری کا تہوار مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت سے جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/religion/1641/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/religion/1641/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 02:56:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_میں_اقلیتیں]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[حج]]></category>
		<category><![CDATA[ڈانڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رمضان]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سولجر_بازار]]></category>
		<category><![CDATA[شری_پنج_مکھی_مندر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/religion/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88-%d8%a8%d8%b1%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%db%81%d9%88%d8%a7%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی کے شری پنج مکھی مندر میں نوراتری کے موقع پر خصوصی پوجا پاٹ اور روایتی ڈانڈیا رقص کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان بھر میں ہندو برادری اپنے مذہبی تہوار نوراتری کو انتہائی جوش و جذبے، عقیدت اور روایتی انداز میں منا رہی ہے۔ اس تہوار کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں خصوصی عبادات اور ثقافتی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے جس میں ہندو برادری کے افراد بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے سولجر بازار میں واقع تاریخی شری پنج مکھی مندر میں نوراتری کے سلسلے میں خصوصی پوجا پاٹ کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر مندر کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اور عقیدت مندوں نے اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مندر کا رخ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد مندر کے احاطے میں گربہ اور ڈانڈیا رقص کی رنگا رنگ تقریبات منعقد کی گئیں۔ ان تقریبات میں شرکاء نے روایتی ملبوسات پہن کر حصہ لیا اور روایتی رقص کے ذریعے اپنی خوشیوں کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے شرکاء کا کہنا تھا کہ نوراتری کے دوران وہ اپنے گھروں اور مندروں میں خصوصی عبادات کرتے ہیں اور باہمی میل ملاپ کے ذریعے خوشیاں بانٹتے ہیں۔ اس تہوار میں مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی رنگا رن گی کا خوبصورت امتزاج دیکھنے میں آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے شری پنج مکھی مندر میں منعقدہ تقریبات میں مقامی ہندو برادری کے معززین اور نوجوانوں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر امن، خوشحالی اور بھائی چارے کے لیے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوراتری کے تہوار کے دوران روایتی رقص اور موسیقی نے ماحول کو پررونق بنا دیا، جہاں شرکاء نے اپنے روایتی انداز میں ڈانڈیا کھیل کر تہوار کی خوشیوں کو دوبالا کیا۔ یہ تقریبات ہندو برادری کی قدیم ثقافتی اقدار کی عکاس ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں اقلیتوں کو اپنے مذہبی تہوار منانے کی مکمل آزادی حاصل ہے اور حکومت کی جانب سے بھی ان کی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی اور تقریبات کے انعقاد کے لیے سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح کے تہوار معاشرے میں مذہبی رواداری اور باہمی احترام کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔ نوراتری کے موقع پر ہندو برادری کے افراد ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور اپنے گھروں میں خصوصی پکوان بھی تیار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوراتری کا تہوار اپنی مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ سماجی رابطوں کو مضبوط بنانے کا بھی ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس تہوار کو روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مندروں میں آنے والے عقیدت مندوں نے اس موقع پر اپنے عقائد کے مطابق پوجا کی اور مذہبی رسومات کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ مکمل کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوراتری کی تقریبات کا یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہتا ہے جس کے دوران مختلف مذہبی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ یہ تہوار ہندو برادری کے لیے روحانی سکون اور خوشی کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں اپنے مذہبی تہواروں کو آزادی کے ساتھ منانے میں حق بجانب ہیں، جو ملک کی ثقافتی تنوع اور رواداری کی ایک روشن مثال ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/religion/1641/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وادی کیلاش: ثقافتی تنوع اور قدیم روایات کا مسحور کن مرکز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1540/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1540/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 00:57:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کے_شمالی_علاقے]]></category>
		<category><![CDATA[تہوار]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[چترال]]></category>
		<category><![CDATA[چلم_جوشی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%b4-%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d9%86%d9%88%d8%b9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%82%d8%af%db%8c%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[چترال کی وادی کیلاش اپنی منفرد ثقافت، قدیم رسم و رواج اور چلم جوشی جیسے تہواروں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع وادی کیلاش اپنے دامن میں ایسے قدیم رسم و رواج اور ثقافتی ورثے کو سموئے ہوئے ہے جو دنیا کے کسی اور خطے میں دیکھنے کو نہیں ملتے۔ چترال کے پہاڑی سلسلے میں واقع یہ وادی اپنی منفرد شناخت کی بدولت سیاحوں کے لیے ہمیشہ مرکزِ نگاہ رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیلاش کے باسی سال بھر میں چار اہم تہوار مناتے ہیں جن میں چلم جوشی اور چوموس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مئی کے مہینے میں منایا جانے والا چلم جوشی کا تہوار موسمِ بہار کی آمد اور خوشیوں کا پیغام لاتا ہے، جس میں مقامی لوگ روایتی رقص اور موسیقی کے ذریعے اپنی ثقافت کا اظہار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس وادی تک رسائی کے لیے لواری ٹنل ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔ طویل عرصے تک زیرِ تعمیر رہنے والی یہ سرنگ اب چترال اور دیر کے درمیان سفر کو چند گھنٹوں سے کم کر کے منٹوں میں بدل چکی ہے، جس سے سیاحوں اور مقامی آبادی کو بے پناہ سہولت ملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیلاش خواتین کا لباس ان کی پہچان اور ثقافتی وقار کی علامت ہے۔ سیاہ رنگ کے لمبے کرتوں پر ہاتھ سے کی گئی رنگین کڑھائی اور سر پر پہنی جانے والی مخصوص ٹوپیاں، جن پر موتی اور کوڑیاں سجی ہوتی ہیں، ان کی منفرد تہذیبی شناخت کو اجاگر کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی روایات کے مطابق یہ لباس انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے اور اکثر نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ خواتین اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ ان ملبوسات کو فروخت کرنے کے بجائے اپنی تہذیبی امانت کے طور پر محفوظ رکھتی ہیں، جو ان کی روایت پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیلاش میں موت کے تصور کو بھی دیگر معاشروں سے مختلف انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ یہاں کسی کی وفات پر غم منانے کے بجائے اسے زندگی کے ایک نئے مرحلے کے طور پر منایا جاتا ہے، جہاں برادری کے لوگ جمع ہو کر متوفی کی زندگی کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں کیلاش قبائل میں میت کو تابوت میں رکھ کر قبرستان میں چھوڑنے کی روایت تھی، تاہم اب وقت کے ساتھ ساتھ تدفین کا عمل اپنا لیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی مقامی آبادی کے بدلتے ہوئے سماجی شعور اور دیگر برادریوں کے ساتھ ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وادی کے مختلف دیہات جیسے بمبوریت، رمبور اور بریر اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔ بمبوریت کو ان دیہات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے جہاں کیلاش برادری کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور سیاحوں کے لیے قیام و طعام کی سہولیات بھی موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرا کال گاؤں میں واقع قدیم قبرستان اور بشالینی جیسے مقامات کیلاش کی قدیم تاریخ اور ان کے سماجی اصولوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ بشالینی ایک مخصوص مقام ہے جہاں خواتین مخصوص ایام کے دوران قیام کرتی ہیں، جو ان کے عقائد اور روحانی پاکیزگی کے تصور سے جڑا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تہواروں کے دوران کیلاش کے لوگ اپنے روایتی گیتوں اور رقص کے ذریعے فطرت سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان تقریبات میں شرکت کرنا سیاحوں کے لیے ایک یادگار تجربہ ہوتا ہے جو انہیں ایک مختلف اور پرسکون دنیا کی سیر کرواتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیلاش کے لوگ اپنی روایات کو جدید دور کے اثرات کے باوجود زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی مہمان نوازی اور سادہ طرزِ زندگی سیاحوں کو بار بار اس وادی کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہے، جہاں ہر قدم پر ایک نئی ثقافتی کہانی جنم لیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پاکستان اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے سیاحت کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات نے اس وادی کو عالمی سطح پر متعارف کرایا ہے۔ بہتر سڑکوں اور سہولیات کی فراہمی سے اب زیادہ سے زیادہ لوگ اس خطے کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وادی کیلاش کا سفر صرف ایک تفریحی دورہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے ایک قدیم اور منفرد پہلو کو سمجھنے کا موقع ہے۔ یہ وادی پاکستان کے تنوع اور ثقافتی حسن کا ایک ایسا روشن باب ہے جو ہمیشہ محفوظ رہنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1540/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وائرل سرائیکی گیت &#8216;چھلڑے چھلڑے وال&#8217; نے زبان کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1381/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1381/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 00:37:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجابی_زبان]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[چھلڑے_چھلڑے_وال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرائیکی_ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[سرائیکی_زبان]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%84-%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%db%8c-%da%af%db%8c%d8%aa-%da%86%da%be%d9%84%da%91%db%92-%da%86%da%be%d9%84%da%91%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[انسٹاگرام پر مقبول ہونے والے اس لوک گیت نے سرائیکی اور پنجابی زبان کے مابین لسانی اور ثقافتی شناخت کے موضوع کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک لوک گیت &#039;چھلڑے چھلڑے وال&#039; نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ اس گانے کی مقبولیت کے ساتھ ہی انٹرنیٹ صارفین کے درمیان ایک دلچسپ بحث کا آغاز ہو گیا ہے کہ آیا یہ گیت سرائیکی زبان میں ہے یا پنجابی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس گانے کو شانزے سیال اور محسن لشاری کی جانب سے ایک کور ورژن کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جس نے چند ہی دنوں میں کروڑوں ویوز حاصل کیے۔ اس سے قبل بھی پاکستان کے معروف گلوکار شفا اللہ خان روکھڑی سمیت کئی فنکار اسے گا چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرائیکی زبان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس گیت کے الفاظ اور لہجہ واضح طور پر سرائیکی شناخت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ گیت خطے کے قدیم ثقافتی ورثے کا حصہ ہے جسے اب نئی نسل میں بھی پذیرائی مل رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ماہرینِ لسانیات کا ایک گروہ سرائیکی کو پنجابی کی ہی ایک ذیلی بولی قرار دیتا ہے۔ ان کے نزدیک اگر دو بولیوں کے بولنے والے ایک دوسرے کی بات باآسانی سمجھ سکیں تو انہیں ایک ہی زبان کے زمرے میں رکھا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں سرائیکی زبان کی شناخت کا معاملہ محض لسانی نہیں بلکہ اس کے ساتھ سیاسی پہلو بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ماضی میں سرائیکی کو ایک الگ زبان کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے مختلف تحریکیں بھی چلتی رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرائیکی زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والے امیر علی سلمان کے مطابق، خواجہ غلام فرید کا کلام اور دیگر لوک گیت سرائیکی زبان کی پہچان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس گانے میں استعمال ہونے والے الفاظ پنجابی سے کافی مختلف ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد زبانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنا نہیں بلکہ ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ بہت سے فنکار جو سرائیکی میں گاتے ہیں انہیں اکثر پنجابی گلوکار سمجھ لیا جاتا ہے، جس سے شناخت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لسانی ماہر جوگا سنگھ کا کہنا ہے کہ زبان کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات کی جڑیں اکثر غیر مساوی ترقی اور سیاسی عوامل میں پیوست ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق خطے کی ترقی میں فرق بھی لسانی بحثوں کو ہوا دینے کا سبب بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کی ڈاکٹر اسما فیض کے مطابق، سرائیکی شناخت کی تحریک کا آغاز ثقافتی مطالبے کے طور پر ہوا تھا جو بعد میں سیاسی شکل اختیار کر گئی۔ نوجوانوں میں اپنی شناخت کے حوالے سے بڑھتا ہوا شعور اس کا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں تقریباً 2 کروڑ 88 لاکھ افراد نے اپنی مادری زبان سرائیکی درج کروائی۔ یہ تعداد ملک کی کل آبادی کا تقریباً 12 فیصد بنتی ہے، جو اس زبان کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ پنجاب میں اردو کو تعلیمی زبان کے طور پر ترجیح دینے کی وجہ سے مقامی زبانوں کے ادبی ذخیرے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اب مقامی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر اس گانے کے وائرل ہونے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوجوان نسل اپنے لوک ورثے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز مقامی زبانوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، یہ بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں لسانی تنوع ایک بڑی حقیقت ہے۔ زبانیں ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں اور ان کا احترام ہی معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کا بہترین ذریعہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1381/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لندن میں اسلاموفوبیا کے خلاف لبنانی فنکار کا منفرد اقدام، &#8216;کوسمک بریتھ&#8217; پیش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1315/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1315/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 17:17:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اذان]]></category>
		<category><![CDATA[اسلاموفوبیا]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%84%d9%86%d8%af%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%d9%88%d9%81%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d9%84%d8%a8%d9%86%d8%a7%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی نژاد لبنانی آرٹسٹ جونامی نے لندن میں مختلف ممالک کی اذانوں پر مبنی صوتی انسٹالیشن کے ذریعے امن کا پیغام دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانوی دارالحکومت لندن میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور سماجی تعصب کے تناظر میں، امریکی نژاد لبنانی فنکار اور موسیقار جونامی نے ایک منفرد اور پرامن اقدام اٹھایا ہے۔ انہوں نے وسطی لندن میں &#039;کوسمک بریتھ&#039; کے نام سے ایک ملٹی چینل ساؤنڈ انسٹالیشن پیش کی ہے، جو دنیا بھر کی مساجد سے لی گئی اذانوں کی ریکارڈنگز پر مشتمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فن پارہ لندن کی مصروف ترین آکسفورڈ اسٹریٹ کے قریب ایک پرسکون مقام پر نصب کیا گیا ہے، جہاں آنے والے افراد مختلف جغرافیائی خطوں کی تاریخی اور عصری اذانوں کو ایک ساتھ سن سکتے ہیں۔ اس انسٹالیشن کا مقصد آواز کی روحانیت اور اس کے انسانی نفسیات پر اثرات کو اجاگر کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جونامی کے مطابق، یہ پروجیکٹ اس خیال سے متاثر ہے کہ زمین پر ہر لمحہ کہیں نہ کہیں اذان کی آواز گونج رہی ہوتی ہے، جو ایک انتہائی طاقتور اور خوبصورت عمل ہے۔ انہوں نے اس کام کو روحانی سکون کے حصول کے لیے ایک پناہ گاہ قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نمائش میں مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام، یروشلم کی مسجد اقصیٰ، سنگاپور کی سلطان مسجد، سوڈان، فلپائن، جاپان اور جارجیا سمیت دنیا بھر سے جمع کی گئی اذانیں شامل ہیں۔ ان میں 19 ویں صدی کے آخر کی قدیم ترین ریکارڈنگز سے لے کر جدید دور کی آوازیں تک شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پروجیکٹ کا ایک اہم حصہ لندن کے والتھمسٹو میں کووڈ-19 کے دوران ریکارڈ کی گئی اذان بھی ہے، جو برطانیہ میں عوامی سطح پر دی جانے والی پہلی اذانوں میں سے ایک تھی۔ یہ ریکارڈنگ مقامی مسلم کمیونٹی کی تاریخ کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جونامی نے بتایا کہ اس کام کا ابتدائی محرک 2020 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں پیش آنے والا ایک واقعہ تھا۔ اس وقت کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران اذان پر پابندی کے خلاف ایک ہندو شہری نے مسلم کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاروں کے ذریعے اذان نشر کرنے کا اہتمام کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فنکار کا کہنا ہے کہ لندن میں موجودہ سیاسی ماحول اور بڑھتے ہوئے زینوفوبیا کے پیش نظر، یہ صوتی انسٹالیشن نفرت کے خلاف ایک تریاق کا کام کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آواز کی سیاست اور اس سے جڑی روحانیت کو سمجھنے کے لیے کوشاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ انسٹالیشن پہلی بار 2023 میں جدہ میں ہونے والے اسلامی آرٹس بینالے کے لیے تیار کی گئی تھی، جس کی آرٹسٹک ڈائریکٹر سمیہ ویلی تھیں۔ سمیہ ویلی نے اس پروجیکٹ کی مقامی منظر کشی اور ڈیزائن میں جونامی کے ساتھ قریبی تعاون کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جونامی نے اس بات پر زور دیا کہ جدہ اور لندن کے ثقافتی ماحول میں فرق کے باوجود، اذان کی آواز ہر جگہ یکساں روحانی اثر رکھتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ پروجیکٹ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور تعصبات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آرٹسٹ نے مزید کہا کہ ان کا کام کمیونٹی اور روحانیت کے وسیع تر تصورات کی تلاش ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور ایمپلیفیکیشن نے اذان جیسی قدیم روایت کو ایک نئی جہت دی ہے، جسے عوامی سطح پر سمجھنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لندن میں موجود یہ نمائش نہ صرف ایک فن پارہ ہے بلکہ یہ مختلف ثقافتوں اور عقائد کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ یہاں آنے والے شائقین کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خاموشی سے ان آوازوں کو سنیں اور ان کے گہرے مفہوم پر غور کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جونامی کا کہنا ہے کہ آواز کی سیاست اور روحانیت کا امتزاج انہیں ہمیشہ سے متوجہ کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ صوتی تجربات انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1315/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لیاری: ثقافتی ورثہ، سیاسی شعور اور ادبی روایت کا گہوارہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1159/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1159/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 20:37:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹس_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[ادب]]></category>
		<category><![CDATA[استاد_فیض_محمد_بلوچ]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچی_ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_خدمات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_شعور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b1%d8%ab%db%81-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%b4%d8%b9%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی کا قدیم علاقہ لیاری اپنی منفرد بلوچی ثقافت، سیاسی بیداری اور فیض احمد فیض جیسی شخصیات کے ساتھ گہرے علمی و ادبی تعلق کی بدولت ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کا علاقہ لیاری اپنی قدیم تہذیبی جڑوں، محنت کش عوام اور سیاسی و سماجی شعور کی بدولت شہرِ قائد کی ایک منفرد پہچان ہے۔ یہ بستی نہ صرف اپنی روایات کو سینے سے لگائے ہوئے ہے بلکہ یہاں کے مکینوں کی فراخدلی اور روشن خیالی بھی علاقے کی خاصیت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاری کی تاریخ میں سیاسی جدوجہد اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے اٹھنے والی آوازیں نمایاں رہی ہیں۔ یہاں کے رہائشیوں نے ہمیشہ آمریت کے خلاف مزاحمت کی ہے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر دور میں ایک فعال کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کا لیاری سے گہرا تعلق رہا ہے۔ انہوں نے یہاں کے محنت کشوں میں علم و شعور کی شمع روشن کرنے کے لیے عبداللہ کالج کھڈہ لیاری میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور اپنے ترقی پسند ساتھی م، ر، حسان کے ساتھ مل کر کام کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیض احمد فیض نے کراچی آرٹس کونسل کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس کا مقصد فن اور ثقافت کو فروغ دینا تھا۔ اس ادارے کے پہلے تھیٹر گروپ کی تشکیل میں لیاری کے فنکاروں کی معاونت شامل تھی، جو یہاں کے تخلیقی ذوق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسیقی کے میدان میں بھی لیاری کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ استاد فیض محمد بلوچ (فیزوک)، جو ایران کے علاقے سیستان سے ہجرت کر کے یہاں آئے، اپنی بلوچی موسیقی اور بربط و چنگ کی دھنوں سے کراچی کی موسیقی کی دنیا میں ایک الگ مقام رکھتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاری کی ثقافتی پہچان میں ’لڈی‘ اور ’جھومر‘ جیسے روایتی رقص شامل ہیں، جنہیں عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ یہاں کی موسیقی اور فنون لطیفہ نے ہمیشہ معاشرے میں امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام عام کرنے میں مدد دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس علاقے نے تاریخ میں کئی ایسے نام پیدا کیے جنہوں نے ادب، سیاست اور سماجی اصلاحات میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان میں رحیم بخش آزاد، صبا دشتیاری، این ایم دانش اور نور محمد شیخ جیسے بڑے نام شامل ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں سے شعور بیدار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاری کے نوجوانوں نے بھی سیاسی اور سماجی تحریکوں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ طلبہ تنظیموں اور ترقی پسند تحریکوں کے ذریعے یہاں کے نوجوانوں نے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے اور سماجی انصاف کے لیے آواز اٹھانے کا کام کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج بھی لیاری کے کئی سماجی کارکن اور ادیب اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ پروین ناز، زرخان گفتگو اور امجد بلیدی جیسے افراد اپنے اپنے شعبوں میں لیاری کی روشن خیال اقدار کو فروغ دینے اور نئی نسل کی رہنمائی کرنے میں مصروف ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاری کے مکینوں کی ایک بڑی خوبی ان کی مہمان نوازی اور دوسروں کو قبول کرنے کا جذبہ ہے۔ یہ بستی اپنے ہاں آنے والوں کو اپنا لیتی ہے، تاہم یہاں کے لوگ اپنے سماج کے خلاف منفی سوچ رکھنے والوں کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہاں کی تہذیب میں محبت اور انسانیت کا درس نمایاں ہے، جس کی وجہ سے لیاری کے لوگ کدورتوں کو بھلا کر ایک پرامن معاشرے کے قیام پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی فضا میں ہمیشہ ایک خاص قسم کی اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے حوالے سے لیاری کے عوام اپنی تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہاں کے نوجوانوں میں موجود جستجو اور لگن اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ علاقہ آنے والے وقتوں میں بھی اپنی شناخت برقرار رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1159/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور: استاد نصرت فتح علی خان کی فنی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے خصوصی تقریب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1140/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1140/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 18:38:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ادب]]></category>
		<category><![CDATA[ارمان_پروڈکشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[پلاک]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فلم]]></category>
		<category><![CDATA[فن]]></category>
		<category><![CDATA[فنکار]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%af-%d9%86%d8%b5%d8%b1%d8%aa-%d9%81%d8%aa%d8%ad-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%81%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پلاک کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں نامور قوال کی لازوال موسیقی اور فن کو یاد کیا گیا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">شہرِ لاہور میں موسیقی کے لیجنڈ اور عالمی شہرت یافتہ قوال استاد نصرت فتح علی خان کی یاد میں ایک خصوصی شام کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروقار تقریب پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر (پلاک) کے احاطے میں منعقد کی گئی جس کا اہتمام ارمان پروڈکشن کی جانب سے کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تقریب کا بنیادی مقصد استاد نصرت فتح علی خان کی موسیقی کے میدان میں گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ان کی لازوال فنی میراث کو نئی نسل تک پہنچانا تھا۔ تقریب میں شرکت کرنے والے مہمانوں نے استاد کی فنکارانہ صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محفل میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، موسیقی کے شائقین اور معروف شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ نصرت فتح علی خان کی آواز اور ان کا منفرد اندازِ گائیکی آج بھی دنیا بھر میں یکساں مقبول ہے اور ان کا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران مقررین نے استاد نصرت فتح علی خان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور ان کی قوالی کے فن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ استاد نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی موسیقی کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا اور صوفیانہ کلام کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پلاک میں منعقدہ اس خصوصی نشست میں استاد نصرت فتح علی خان کے مشہور کلام اور قوالیوں کا تذکرہ بھی کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کی موسیقی میں جو روحانیت اور کشش ہے، وہ آج بھی سامعین کے دلوں کو سکون پہنچاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ارمان پروڈکشن کی جانب سے کیے گئے اس اہتمام کو حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ ایسے لیجنڈ فنکاروں کو یاد رکھنا اور ان کے کام کو زندہ رکھنا ہماری ثقافتی ذمہ داری ہے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان کے فن سے فیض یاب ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے اختتام پر استاد نصرت فتح علی خان کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور ان کی مغفرت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ اس طرح کی تقریبات کا انعقاد لاہور کی ادبی اور ثقافتی فضا کو مزید پررونق بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">استاد نصرت فتح علی خان کی فنی خدمات کا اعتراف دنیا کے کئی ممالک میں کیا گیا اور انہیں متعدد بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی موسیقی نے سرحدوں کی قید کو توڑ کر دنیا بھر کے لوگوں کو ایک لڑی میں پرونے کا کام کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پلاک کی جانب سے اس تقریب کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے ثقافتی ادارے اپنے عظیم فنکاروں کو فراموش نہیں کرتے۔ مستقبل میں بھی اس طرح کے پروگرامز کے ذریعے موسیقی کے فروغ اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب میں موجود موسیقی کے ماہرین نے استاد نصرت فتح علی خان کی تکنیکی مہارت اور ان کے سروں کی پختگی پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح استاد نے روایتی قوالی کو جدید موسیقی کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اسے ایک نئی جہت عطا کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور، جو کہ فن اور ثقافت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، میں ہونے والی یہ تقریب ایک بار پھر ثابت کر گئی کہ نصرت فتح علی خان کا فن امر ہے۔ ان کی آواز کا جادو آج بھی موسیقی کے دیوانوں کے لیے ایک انمول اثاثہ کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں تمام شرکاء نے ارمان پروڈکشن اور پلاک کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اتنی خوبصورت محفل کا اہتمام کیا۔ اس تقریب نے ایک بار پھر استاد نصرت فتح علی خان کی یادوں کو تازہ کر دیا اور حاضرین کے دلوں میں ان کے لیے احترام کے جذبات کو مزید اجاگر کیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1140/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گلگت بلتستان کی وادی اشکومن: سیاحت اور قدیم روایات کا حسین امتزاج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/932/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/932/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 01:37:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اشکومن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ٹورازم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[پہاڑی_سلسلے]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفر]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحتی_مقامات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d8%b4%da%a9%d9%88%d9%85%d9%86-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%ad%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[شمالی پاکستان کی پرفضا وادی اشکومن اپنی برف پوش چوٹیوں، مقامی مہمان نوازی اور منفرد ثقافتی روایات کے باعث سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام بن چکی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع وادی اشکومن اپنی قدرتی خوبصورتی اور بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ خطہ اپنی قدیم ثقافتی روایات اور پرسکون ماحول کے باعث مہم جو افراد کے لیے ایک مثالی منزل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد سے تقریباً 650 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس وادی تک پہنچنے کے لیے شاہراہ قراقرم کا سفر ایک یادگار تجربہ فراہم کرتا ہے۔ سیاحوں کے لیے گلگت تک ہوائی سفر اور اس کے بعد ٹیکسی کے ذریعے چٹورکھنڈ تک پہنچنا سب سے زیادہ پسندیدہ راستہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وادی اشکومن کی جغرافیائی تنہائی اسے انسانی مداخلت سے محفوظ رکھتی ہے، جس کی وجہ سے یہاں کا قدرتی حسن آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ مقامی آبادی کی مہمان نوازی اور ان کا سادہ طرز زندگی سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس خطے میں سیاحتی سہولیات کے لیے مقامی سطح پر چھوٹے ہاسٹلز اور گیسٹ ہاؤسز قائم کیے گئے ہیں۔ ان مقامات پر لکڑی اور پتھر کے روایتی تعمیراتی انداز کو اپنایا گیا ہے، جو مقامی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں اور سیاحوں کو مقامی رہن سہن سے قریب کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وادی کی ثقافتی زندگی میں موسیقی اور رقص کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ مقامی تقریبات کے دوران رباب اور ڈھول کی تھاپ پر پیش کیے جانے والے روایتی رقص یہاں کے سماجی اور ثقافتی ماحول کا لازمی حصہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہاں کے مقامی باشندے اپنی روایات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ وادی کی لوک داستانوں میں ماورائی مخلوق اور قدیم عقائد کا ذکر بھی ملتا ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ یہ روایات خطے کی تاریخ اور ثقافتی ورثے کا ایک اہم جزو سمجھی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اشکومن میں خواتین کی سماجی اور معاشی شمولیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی سیاحتی مراکز میں خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی معاشی حالت بہتر ہو رہی ہے بلکہ مقامی سیاحت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحوں کے لیے یہاں ٹریکنگ، ٹراؤٹ مچھلی کا شکار اور دیین آبشار جیسے مقامات کی سیر کرنا بہترین سرگرمیاں ہیں۔ پکوڑا پاس کا دشوار گزار راستہ عبور کرنا مہم جو سیاحوں کے لیے ایک چیلنج اور دلچسپ تجربہ ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وادی کا ماحول پرسکون ہے اور یہاں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال محدود ہے، جس سے سیاحوں کو فطرت کے قریب وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ خاموشی اور تنہائی ہی اس وادی کی اصل پہچان اور کشش ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سفر کے دوران اپنی رجسٹریشن کے لیے ضروری دستاویزات اور پاسپورٹ ہمراہ رکھیں۔ سڑک کے کنارے قائم پولیس چوکیوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ تعاون کرنا سیاحوں کی اپنی حفاظت کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپریل سے اکتوبر تک کا وقت وادی اشکومن کی سیر کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران موسم خوشگوار رہتا ہے اور برف پوش چوٹیوں کے دامن میں پھیلے سرسبز میدان سیاحوں کے لیے ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی انتظامیہ اور سیاحتی اداروں کی جانب سے سیاحوں کی سہولت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد مقامی ثقافت کو محفوظ رکھتے ہوئے سیاحت کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینا ہے تاکہ خطے کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر وادی اشکومن پاکستان کے ان پوشیدہ خزانوں میں سے ایک ہے جو اپنی ثقافتی اقدار اور قدرتی حسن کے ساتھ سیاحوں کو خوش آمدید کہتی ہے۔ یہ مقام ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو شہر کے ہنگاموں سے دور سکون کی تلاش میں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/932/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
