<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>توانائی_کا_شعبہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c_%da%a9%d8%a7_%d8%b4%d8%b9%d8%a8%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:49 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>توانائی_کا_شعبہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بجلی صارفین کیلئے ریلیف، ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کم کر دی گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/846/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/846/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 15:36:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_صارفین]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کے_بل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاور_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_شعبہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%d8%b5%d8%a7%d8%b1%d9%81%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%b1%db%8c%d9%84%db%8c%d9%81-%d8%b3%d8%aa%d9%85%d8%a8%d8%b1-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پاور ڈویژن نے ستمبر کی متوقع فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو نمایاں طور پر کم کر کے صارفین کو ریلیف فراہم کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی کے صارفین کے لیے ایک اہم اور خوش آئند ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت ستمبر کے ماہ کی متوقع فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں خاطر خواہ کمی کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملک بھر کے صارفین کو مالی دباؤ سے بچانا اور انہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں ریلیف فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری اعلامیے کے مطابق ستمبر کے مہینے کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو جو کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق چھ روپے فی یونٹ تک جا سکتی تھی، اب کم کر کے دو روپے چھپن پیسے فی یونٹ تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس بروقت اقدام کے نتیجے میں صارفین کو تین روپے چوالیس پیسے فی یونٹ کے بھاری اضافی بوجھ سے مکمل طور پر بچا لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاور ڈویژن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ صارفین کو اس اضافی مالی بوجھ سے بچانے کی خاطر ستمبر کے دوران محدود پیمانے پر لوڈ مینجمنٹ کے اقدامات کیے گئے تھے تاکہ مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ان ہدفی اقدامات کا بنیادی مقصد بجلی کی پیداوار پر آنے والے اضافی اخراجات کو قابو میں رکھنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق ستمبر کے مہینے میں دو سے اڑھائی گھنٹے تک کی محدود لوڈ مینجمنٹ کی گئی تھی جس کی وجہ سے مہنگے متبادل ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے منفی اثرات کو کامیابی کے ساتھ کم کیا گیا۔ حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس حکمت عملی سے قومی خزانے اور عام صارف دونوں کو طویل المدتی فائدہ پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاور سیکٹر کے اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق درآمدی مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ان کے معاشی اثرات کو محدود رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا، جسے حکومت نے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں کے ذریعے ممکن بنایا ہے۔ حکومت اس بات کی مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ عوام کو کم سے کم مالی مشکلات کا سامنا کرناپڑے اور توانائی کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ مہنگے متبادل ایندھن پر انحصار کم کرنے سے نہ صرف بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی آئی ہے بلکہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر پڑنے والے دباؤ کو بھی کافی حد تک ہلکا کیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ توانائی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے ایسے تمام اقدامات ناگزیر تھے جو طویل عرصے میں معاشی بہتری کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب پاور ڈویژن نے ایک اہم انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ آنے والے سردیوں کے موسم میں گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کی طلب میں روایتی طور پر نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر گیس کی دستیابی مزید محدود ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ پاور سیکٹر کے نظام کا تسلسل اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے آر ایل این جی کی مسلسل فراہمی انتہائی ضروری قرار دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی طلب اور رسد کے اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ ادارے پہلے سے ہی مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ سردیوں کے موسم میں بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سردیوں میں توانائی کی بڑھتی ہوئی کھپت کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو انتہائی مربوط انداز میں کام کرنا ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ وزارتیں توانائی کے شعبے میں ساختاتی اصلاحات لانے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلیے ہر ممکنہ کوشش کر رہی ہیں۔ اس قسم کے متوازن اقدامات سے نہ صرف صارفین کے ماہانہ بلوں میں اعتدال رہتا ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو مستقبل کی طویل المدتی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ مہینوں میں بھی بجلی کی قیمتوں اور ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے مزید اعتدال کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی کو مہنگائی کے اس دور میں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے اور صنعتی شعبے کو بھی فروغ ملے۔ متعلقہ حکام موجودہ ملکی اور عالمی مارکیٹ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بروقت نمٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام صورتحال کے تناظر میں معاشی ماہرین کا یہ تجزیہ سامنے آیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے ان اقدامات سے عوام میں پائے جانے والے مالیاتی خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ پاور ڈویژن کی یہ پالیسی اس بات کی غماز ہے کہ حکومتی ادارے عوام کو ریلیف دینے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے دیگر شعبوں کی طرح توانائی کے شعبے میں بھی شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ بجلی کی ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ حکومت اس عزم پر قائم ہے کہ عوام کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/846/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>منقطع سوئی گیس کنکشنز کی بحالی کیلئے کڑی شرائط عائد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/622/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/622/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 10:37:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی_ٹیرف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_شعبہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ری_کُنکشن_فیس]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d9%86%d9%82%d8%b7%d8%b9-%d8%b3%d9%88%d8%a6%db%8c-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%d9%86%da%a9%d8%b4%d9%86%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%da%a9%da%91/</guid>

					<description><![CDATA[ایک سال سے زائد عرصے تک بند رہنے والے سوئی گیس کنکشنز کو اب نئی شرائط کے ساتھ بحال کیا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سوئی گیس کے صارفین کیلئے ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت طویل عرصے سے منقطع رہنے والے کنکشنز کی بحالی کا عمل اب مزید آسان نہیں رہے گا۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے ایسے گیس کنکشنز کو دوبارہ فعال کرنے کیلئے سخت ضوابط اور کڑی شرائط لاگو کر دی گئی ہیں جن پر عمل کرنا صارفین کیلئے ضروری ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ نئی پالیسی ان تمام گھریلو اور دیگر صارفین پر اثرانداز ہوگی جن کے گیس کنکشنز مختلف وجوہات کی بنا پر طویل عرصے سے بند پڑے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد گیس کے شعبے میں نظم و ضبط کو بہتر بنانا اور وسائل کا درست استعمال یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق جو گیس کنکشنز ایک سال یا اس سے زائد عرصے تک منقطع رہے ہوں گے، ان کی بحالی اب عام طریقہ کار کے تحت ممکن نہیں ہوگی۔ اس مدت سے زیادہ بند رہنے والے کنکشنز کے حامل صارفین کو اب سستی گیس کی سہولت میسر نہیں رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی شرائط کے تحت ایک سال سے زائد عرصے سے منقطع گیس کنکشنز کی بحالی کیلئے ایل این جی ٹیرف کی پالیسی کا اطلاق کیا جائے گا۔ یہ پالیسی صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کے دائرہ کار میں دیگر تمام کیٹیگریز کے صارفین بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طویل عرصے سے بند کنکشنز کو دوبارہ جاری کروانے کے خواہشمند صارفین کو پہلے ری کنکشن فیس ادا کرنا ہوگی۔ فیس کی ادائیگی کے بعد ہی ان کے منقطع گیس کنکشنز کو بحال کیا جائے گا اور اس کے بعد کا سلسلہ آگے بڑھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ری کنکشن فیس کی ادائیگی کے بعد بحال ہونے والے ان کنکشنز پر بلنگ کا نظام تبدیل ہو جائے گا۔ بحالی کے بعد ان تمام صارفین کے گیس کے بل روایتی نرخوں کے بجائے ایل این جی ٹیرف کے مطابق جاری کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ پالیسی ان صارفین کیلئے بنائی گئی ہے جنہوں نے طویل عرصے تک اپنے کنکشنز کو غیر فعال رکھا یا بلوں کی ادائیگی نہیں کی۔ اب اگر وہ دوبارہ اس سہولت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں نئی معاشی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کمپنیوں کی جانب سے اس نئی پالیسی پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ تمام ضوابط کو شفاف طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔ اس عمل سے گیس کے محکمے کو بھی ریونیو کی وصولی میں بہتری کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں اور صارفین کی بڑی تعداد اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں ایل این جی ٹیرف کے تحت بلنگ کا بوجھ اٹھانا ہر خاندان کیلئے آسان نہیں ہوگا۔ تاہم ادارے اپنے طے شدہ اصولوں کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معاشیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے توانائی کے شعبے کے خسارے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے لیکن دوسری طرف عام آدمی کیلئے یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکمے کے حکام کا کہنا ہے کہ صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے کنکشنز سے متعلق امور کو بروقت نمٹائیں تاکہ انہیں مستقبل میں اس قسم کی سخت شرائط اور مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام صورتحال میں گیس کمپنیوں کے دفاتر میں بھی اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے والے شہریوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صارفین جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے مخصوص کنکشن پر کتنی فیس لاگو ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے اور سوئی گیس کے نظام میں بہتری کیلئے وقتاً فوقتاً ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں کا مقصد سسٹم کے اندر موجود خامیوں کو دور کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے اثرات مزید واضح ہوں گے جب زیادہ سے زیادہ صارفین اپنے پرانے کنکشنز کی بحالی کیلئے درخواستیں جمع کروائیں گے۔ محکمہ اس پورے عمل کی کڑی نگرانی کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/622/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
