<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>توانائی_کا_بحران &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c_%da%a9%d8%a7_%d8%a8%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 20:58:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>توانائی_کا_بحران &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>یوکرین میں روسی حملوں سے بجلی کا نظام درہم برہم، درجنوں علاقے تاریکی میں ڈوب گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4551/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4551/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 20:58:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اولیشکی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹریاٹ_میزائل]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[خیرسون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرون_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روسی_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[نزنی_نووگوروڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ولادیمیر_زیلنسکی]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[یوکرین کے چار علاقوں میں توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ روس کے علاقے نزنی نووگوروڈ میں ڈرون حملے سے صنعتی تنصیب کو نقصان پہنچا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات روس کی جانب سے کیے گئے شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں ملک کے چار مختلف علاقوں میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے لاکھوں گھروں کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی ریاستی ایمرجنسی سروس کے مطابق، ونیٹسیا کے علاقے میں ہونے والے ایک حملے میں 13 سالہ بچی سمیت دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی تنصیبات پر مسلسل حملوں کے باعث ملک بھر میں ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی کٹوتی کی جا رہی ہے اور دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں میں پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں روس کے علاقے نزنی نووگوروڈ میں ایک صنعتی تنصیب کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ مقامی گورنر گلیب نکیتن نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں کو ایندھن کی خریداری میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ متاثرہ تنصیب تیل یا ایندھن کی سپلائی سے منسلک تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ رات یوکرین کے 235 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ یوکرین کی فضائیہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز سے اب تک روس کے 433 میں سے 371 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کو مار گرایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے صدر نے ٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ روس بیلسٹک میزائلوں کو روکنے والے انٹرسیپٹرز کی کمی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ روسی حملوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دریں اثنا، خیرسون کے علاقے اولیشکی میں جاری مقامی جنگ بندی کا وقت اتوار کی رات ختم ہو رہا ہے۔ یہ عارضی جنگ بندی گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی جس کا مقصد محصور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے انسانی حقوق کے محتسب دمیترو لوبینٹس کے مطابق، اس جنگ بندی کے دوران 94 سالہ بزرگ سے لے کر ایک سال کے بچے تک، سینکڑوں افراد کو اولیشکی سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ یہ شہر فروری 2022 سے روسی قبضے میں ہے اور وہاں خوراک اور بجلی کی شدید قلت پائی جاتی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین نے روس کے روستوو ریجن میں واقع کا مین سکی پلانٹ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جو مبینہ طور پر روسی میزائلوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم ماسکو کی جانب سے اس مخصوص حملے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریز پر حملے عالمی ایندھن کی منڈی میں عدم توازن پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کارروائیوں سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کا مؤقف ہے کہ وہ توانائی کے اہداف پر مکمل جنگ بندی کے حق میں ہے، تاہم ان کا الزام ہے کہ ماسکو اس معاہدے پر آمادہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا تبادلہ جاری ہے جس سے فرنٹ لائن کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4551/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4425/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4425/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 12:58:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[اناج_کی_ترسیل]]></category>
		<category><![CDATA[بحیرہ_اسود]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کینیڈا]]></category>
		<category><![CDATA[مارکو_روبیو]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%d8%ad%db%8c%d8%b1%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ad%d8%af%d9%88%d8%af-%d8%ac%d9%86%da%af-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اناج اور توانائی کی بلا تعطل ترسیل کے لیے ترکیہ اور بھارت کی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز اٹلانٹا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ عالمی برادری بحیرہ اسود میں ایک محدود جنگ بندی کے قیام میں گہری دلچسپی لے رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود توانائی اور اناج کی عالمی منڈیوں تک بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ اس وقت ترکیہ اور بھارت کی جانب سے پیش کردہ مختلف تجاویز کا بغور جائزہ لے رہا ہے تاکہ اناج کی ترسیل کے عمل کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز پر غور کا مقصد سپلائی چین میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگرچہ بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت بڑھ رہی ہے، تاہم امریکہ اس طویل تنازعے کے ایک وسیع تر اور جامع مذاکراتی حل کے لیے بھی اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر عالمی قوتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ جنگی حالات کے باوجود انسانی بنیادوں پر اناج کی ترسیل کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کا یہ مطالبہ ہے کہ بحیرہ اسود کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے محفوظ بنایا جائے تاکہ دنیا بھر میں غذائی قلت کے خدشات کو کم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4425/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پہاڑی علاقوں میں ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو ہو گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1493/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1493/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 18:37:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_بزنس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پہاڑی_علاقے]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%db%81%d8%a7%da%91%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-600/</guid>

					<description><![CDATA[اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں ایل پی جی کی فروخت مہنگی داموں جاری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں سوئی گیس کی عدم دستیابی اور شدید سردی کے پیش نظر لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں یہ اہم ایندھن چھ سو روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سرکاری نرخوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے صارفین سے من مانے دام وصول کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں ایل پی جی کے نرخ پانچ سو روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں جس کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عرفان کھوکھر کا کہنا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا کی جانب سے اکتوبر کے مہینے کے لیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت دو سو اناسی روپے مقرر کی گئی تھی مگر اس پر عمل درآمد کرانے میں ادارہ مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ملک بھر میں جاری اس مبینہ لوٹ مار پر ریگولیٹری اتھارٹی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اس بحران پر قابو پانے کے لیے ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کی خاطر سوئی سدرن گیس کمپنی کے ٹرمینل کو بھرپور طریقے سے استعمال میں لائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ تردید یا وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن صارفین کا کہنا ہے کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی اس کالے بازاری اور مہنگے داموں فروخت کے رجحان میں مزید تیزی آ جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مٹی کے تیل اور لکڑی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد غریب اور متوسط طبقہ مجبوری کے تحت ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہے جو اب ان کی پہنچ سے بھی باہر ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے میں اس قسم کے مسائل کے حل کے لیے طویل المدتی اور پائیدار پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات مناسب نرخوں پر میسر آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں گیس کی قلت اور قیمتوں میں یہ تفاوت کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہر سال سردیوں کے موسم میں بالائی علاقوں کے باسیوں کو اس قسم کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں نے بھی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو اس مہنگائی کے طوفان سے کسی حد تک نجات مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ اداروں کی جانب سے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید اقدامات متوقع ہیں تاکہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1493/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کو اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس کی طلب میں اضافے کا خدشہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/524/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/524/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 04:36:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[اینگرو_ٹرمینل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_سدرن]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صنعت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%8c%d9%86-%d8%ac%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[قطر سے آنے والا گیس بردار جہاز اینگرو ٹرمینل پر لنگر انداز ہو گیا، تاہم موسم سرما میں طلب اور رسد میں فرق برقرار رہنے کا امکان ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کو اکتوبر کے مہینے میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا پہلا کارگو موصول ہو گیا ہے، جس سے ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ یہ کارگو قطر سے لایا گیا ہے جو ملکی توانائی کی ضروریات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس بردار جہاز &#039;العرِیش&#039; منگل کے روز صبح 11 بج کر 5 منٹ پر اینگرو کے ایل این جی ٹرمینل پر پہنچا اور لنگر انداز ہوا۔ جہاز کے پہنچنے کے بعد دوپہر 12 بجے سے گیس کو دوبارہ قدرتی حالت میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگرچہ یہ کارگو موصول ہو چکا ہے، تاہم ماہرین اور متعلقہ حکام کی جانب سے موسم سرما 2026-27 کے دوران گیس کی فراہمی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ملک میں سردیوں کے موسم میں گیس کی طلب میں غیر معمولی اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق، موسم سرما کے دوران ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کے مجموعی طور پر 24 کارگوز کی ضرورت درکار ہوگی۔ گیس کی یہ مقدار صنعتوں اور گھریلو صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کے نیٹ ورک پر گیس کی طلب موجودہ 550 ملین مکعب فٹ یومیہ سے بڑھ کر 1550 ملین مکعب فٹ یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو ایک بڑا فرق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے نظام میں بھی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ کمپنی کی طلب موجودہ 300 ملین مکعب فٹ یومیہ سے بڑھ کر 500 ملین مکعب فٹ یومیہ تک جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس سے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی طلب اور رسد میں اس بڑے فرق کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موسم سرما کے دوران مختلف شعبوں کو گیس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ترجیحات کا تعین کرنا حکام کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خدشات کے مطابق، گیس کی محدود دستیابی کے پیش نظر برآمدی صنعتوں، غیر برآمدی صنعتوں، سی این جی سیکٹر اور سیمنٹ کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ان شعبوں میں گیس کی قلت سے پیداواری عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ماضی میں بھی موسم سرما کے دوران گیس کے شدید بحرانوں کا سامنا کر چکا ہے، جس کے پیش نظر اب حکام زیادہ محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ گیس کی بچت اور متبادل ذرائع کا استعمال بھی اس بحران سے نمٹنے کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی معاشی ترقی کے لیے صنعتوں کو بلا تعطل گیس کی فراہمی ناگزیر ہے، کیونکہ گیس کی قلت سے نہ صرف برآمدات متاثر ہوتی ہیں بلکہ روزگار کے مواقع بھی کم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ حکومت اس صورتحال کو مانیٹر کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر، اکتوبر میں موصول ہونے والا یہ پہلا کارگو ایک مثبت قدم ہے، تاہم آنے والے مہینوں میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا ایک بڑا امتحان ہوگا۔ توانائی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/524/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
