<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>توانائی_بحران &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c_%d8%a8%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 05:26:51 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>توانائی_بحران &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: خلیجی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور آئی ایم ایف کے خدشات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2193/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2193/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 19:17:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[جی_سی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[خلیجی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%d8%ae%d9%84%db%8c%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b4%d8%aa%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[خطے میں جاری تنازعات کے باعث توانائی کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں متاثر، آئی ایم ایف نے خلیجی ممالک کی معاشی نمو میں کمی کا خدشہ ظاہر کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مشرق وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین جاری کشیدگی نے خطے کی معاشی صورتحال کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس تنازع کے نتیجے میں خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ میں سے پانچ ممالک کی معیشتیں سکڑاؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل اور گیس کی برآمدات میں کمی اور بحری نقل و حمل میں حائل رکاوٹیں اس معاشی دباؤ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ سلامتی کے خدشات کے باعث نہ صرف توانائی کا شعبہ بلکہ سیاحت اور فضائی سفر جیسے اہم ذرائع آمدن بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کی معاشی شرح نمو میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ ان ممالک کے برعکس، عمان واحد ملک ہے جس کی معیشت کے مثبت سمت میں رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، کیونکہ اس کی بندرگاہیں آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اپنی وژن 2030 کی پالیسیوں اور متنوع معاشی ڈھانچے کے باعث نسبتاً بہتر پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے۔ ملک کی مشرق-مغرب پائپ لائن اسے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے اس کی برآمدات کے لیے متبادل راستے میسر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب قطر، کویت اور بحرین جیسے ممالک توانائی کی برآمدات اور اشیائے ضروریہ کی درآمد کے لیے آبنائے ہرمز پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس انحصار کے باعث ان ممالک کو موجودہ بحران کے دوران زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں متبادل راستوں کی تلاش میں دشواری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آکسفورڈ اکنامکس کے ماہرین کے مطابق، سعودی عرب کی بڑی مقامی منڈی اور نوجوان آبادی اسے معاشی جھٹکے سہ نے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، ملک کا وسیع جغرافیہ بھی حملوں کے اثرات کو محدود رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، جس سے روزمرہ کی سرگرمیاں جزوی طور پر برقرار رہتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، حوثی گروپ کی جانب سے توانائی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور آرامکو کے انتظامی کمپلیکس پر ہونے والے حملوں نے معاشی اور سلامتی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے شعبے کے علاوہ، ہوا بازی کی صنعت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز کو 2026 میں اربوں ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ پروازوں کے راستے تبدیل کرنے اور مسافروں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسافروں کی تعداد میں نمایاں کمی اس بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ سیاحت اور تفریحی شعبے پر انحصار کرنے والے ممالک کو زیادہ نقصان پہنچا ہے، جبکہ سعودی عرب میں مذہبی سیاحت کے باعث اثرات کسی حد تک محدود رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلیجی سٹاک مارکیٹوں پر بھی جنگ کے اثرات واضح ہیں۔ رئیل اسٹیٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں کے انڈیکسز میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ اگرچہ کچھ مارکیٹوں نے بحالی کی کوشش کی ہے، لیکن سرمایہ کاروں کا اعتماد اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ صورتحال کاروباری لاگت میں اضافے اور مجموعی معاشی نمو میں سست روی کا باعث بن سکتی ہے، جس سے خطے کے تمام ممالک متاثر ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی طور پر خلیجی معیشتوں نے ماضی میں بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی بحرانوں کا سامنا کیا ہے۔ تاہم، موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور جنگی حالات نے ان ممالک کے لیے نئے اور پیچیدہ چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں جن سے نمٹنا ایک بڑی آزمائش ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتیں اب اپنی معاشی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کر رہی ہیں تاکہ ان بحرانوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ توانائی کے متبادل راستوں کی تلاش اور غیر تیل شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا ان ممالک کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے معاشی نقصان سے بچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2193/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حکومت کا عمومی سبسڈی ختم کر کے ہدفی سبسڈی دینے کا فیصلہ: وزیر خزانہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2191/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2191/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 19:16:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ٹی_برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ_ذخائر]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد_اورنگزیب]]></category>
		<category><![CDATA[معاشی_استحکام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b9%d9%85%d9%88%d9%85%db%8c-%d8%b3%d8%a8%d8%b3%da%88%db%8c-%d8%ae%d8%aa%d9%85-%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%92-%db%81%d8%af%d9%81%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معاشی اصلاحات اب عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور ریلیف صرف مستحقین تک پہنچایا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے معاشی استحکام کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں جن میں عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی سبسڈی کا نظام متعارف کروانا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی بنانا اور ریلیف کو براہ راست مستحق افراد تک پہنچانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے بتایا کہ ہدفی سبسڈی کے تحت اب تک موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی سے کم انجن کی حامل گاڑیوں کے مالکان کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ اس پروگرام سے اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ افراد براہ راست فائدہ اٹھا چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر چار سے پانچ کروڑ پاکستانی شہری اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی معاشی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو ایک ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران ان برآمدات کے 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر موجود ہیں، جو تین ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ ماضی میں یہ ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات تک محدود رہ گئے تھے، جس سے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال اپریل سے اب تک پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے لیے حکومت نے پرائیویٹ پلیسمنٹ اور پانڈا بانڈز کے اجرا جیسے اہم اقدامات کیے ہیں جنہیں عالمی سرمایہ کاروں نے سراہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بتایا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں جاری کیے گئے تین ارب یورو کے بانڈز کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والے آرڈرز جاری کردہ حجم سے دو گنا تھے۔ ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں کی پاکستان کے بانڈز میں دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے شعبے کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے باوجود پاکستان نے توانائی کی خریداری اور فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ نومبر تک توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ موسم سرما کے لیے بھی منصوبہ بندی جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ پاکستان میں توانائی کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی اور نہ ہی پیٹرول پمپس پر ایندھن کے حصول کے لیے قطاریں لگیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے بحران کے باعث امن و امان کی صورتحال خراب نہیں ہوئی، جو حکومت کی کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ معاشی اصلاحات اب محض کاغذوں یا منصوبہ بندی کے مرحلے میں نہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے شدہ اہداف پر عمل پیرا ہے اور آئندہ سال اکتوبر تک یہ پروگرام مکمل ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ عالمی سرمایہ کار اب آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کی معاشی صورتحال کو بھی بغور دیکھ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ساختی اصلاحات کا تسلسل ملک کو طویل مدتی معاشی استحکام کی جانب لے جانے کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب درست سمت میں گامزن ہے اور حکومت کی ترجیح عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلے کرنا ضروری تھے تاکہ ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت نے معیشت کی بہتری کے لیے جو روڈ میپ تیار کیا تھا، اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے وقتوں میں پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار میں مزید تیزی آئے گی اور عوام کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے، ضرورت صرف ان وسائل کے درست استعمال اور شفاف نظام کی ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ وہ معاشی اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گی تاکہ ملک کو خود کفیل بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2191/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مہمند ڈیم کی لاگت میں 666 ارب روپے تک اضافہ، منظوری کا عمل شروع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2077/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2077/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 01:56:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پلاننگ_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[تعمیراتی_لاگت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیم_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%db%81%d9%85%d9%86%d8%af-%da%88%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%a7%da%af%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-666-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%d8%aa%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[واپڈا نے منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت کی تجویز پیش کر دی، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور دیگر عوامل کو لاگت بڑھنے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے اہم آبی و توانائی منصوبے مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیراتی لاگت میں گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبے کی کل لاگت اب 666 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جس کے لیے واپڈا نے نظرثانی شدہ تخمینہ منظوری کے لیے حکام کو بھجوا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کی لاگت میں یہ اضافہ ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں 115 فیصد تک بنتا ہے۔ اپریل 2018 میں جب اس منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا تو اس کی تخمینہ لاگت 310 ارب روپے مقرر کی گئی تھی اور اسے ستمبر 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ لاگت میں 356 ارب روپے کے اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں گراوٹ اور شرح تبادلہ میں آنے والی تبدیلیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیزائن میں ردوبدل، 2022 کے سیلاب اور سیکیورٹی چیلنجز نے بھی اخراجات کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کی انتظامیہ کی جانب سے پلاننگ کمیشن کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کل لاگت میں اضافے کا تقریباً 51 فیصد حصہ کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث ہے۔ چونکہ منصوبے میں مقامی اور غیر ملکی کرنسی دونوں کے اخراجات شامل ہیں، اس لیے شرح تبادلہ کے اثرات نمایاں رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پلاننگ کمیشن نے واپڈا سے ڈالر میں طے شدہ معاہدوں کی تفصیلات اور شرح تبادلہ کے اثرات پر مزید وضاحت طلب کر لی ہے۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ صرف موجودہ شرح تبادلہ کے مطابق رقم کو تبدیل کرنا کافی نہیں، بلکہ معاہدوں کی شرائط کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نظرثانی شدہ دستاویزات کے مطابق ڈیم کی تعمیراتی لاگت 267 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو ابتدائی تخمینے سے 134 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح بجلی پیدا کرنے والے حصے کی لاگت میں بھی 105 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ حصہ 399 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے پر اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ تک اس پر مجموعی طور پر 275 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ تعمیراتی کام تقریباً 57 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ یہ منصوبہ چین کی چائنا گیزوبا گروپ اور ڈی سکون انجینئرنگ کا مشترکہ اقدام ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سال 2022 میں دریائے سوات میں آنے والے شدید سیلاب کے باعث منصوبے کو کافی نقصان پہنچا تھا۔ پانی کا رخ موڑنے کے لیے بنائی گئی سرنگیں متاثر ہوئی تھیں، جس کی وجہ سے تعمیراتی کام طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہا اور اس کے اثرات مجموعی لاگت پر مرتب ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پلاننگ کمیشن نے منصوبے میں تاخیر اور اخراجات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مالی اور جسمانی پیش رفت کی تیسرے فریق سے جانچ کرانے کی سفارش کی ہے۔ کمیشن نے واپڈا کو ایک نیا اور جامع مالی منصوبہ مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مہمند ڈیم کا معاملہ رواں ہفتے سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا، تاہم وقت کی کمی کے باعث اس پر حتمی فیصلہ نہ ہو سکا۔ اب یہ معاملہ ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کو بھیجا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ مہمند ڈیم کی تکمیل پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے ملک کی پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت میں 12 لاکھ 90 ہزار ایکڑ فٹ کا اضافہ ہوگا، جو زرعی اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف زرعی زمینوں کو سیراب کرنے میں مدد ملے گی بلکہ سستے پن بجلی کے حصول سے ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومتی سطح پر اس منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2077/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عالمی توانائی بحران: پاکستانی آئل ریفائنریز کے منافع میں غیر معمولی اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1916/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1916/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 03:56:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئل_ریفائنریز]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_مصنوعات]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a8%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a2%d8%a6%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی منڈی میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فرق بڑھنے سے مقامی ریفائنریز اور آئل کمپنیوں کے منافع میں سینکڑوں فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے صارفین کے برعکس، پاکستان کی آئل ریفائنریز اور تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران اپنے منافع میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سٹاک ایکسچینج میں درج کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی رپورٹس کے مطابق، ریفائنریز کے منافع میں گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں ایک ہزار فیصد سے زائد کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو معاشی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق، اٹک ریفائنری کا خالص منافع گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے 1.45 ارب روپے سے بڑھ کر 18.65 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جو کہ تقریباً 1184 فیصد کا اضافہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح نیشنل ریفائنری کا منافع 1.03 ارب روپے سے بڑھ کر 11.57 ارب روپے، جبکہ پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کا منافع 1.02 ارب روپے سے بڑھ کر 13.97 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ یہ دونوں کمپنیاں بالترتیب 1029 اور 1274 فیصد اضافے کے ساتھ نمایاں رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صرف ریفائنریز ہی نہیں بلکہ تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی منافع میں بہتری دکھائی ہے۔ پاکستان آئل فیلڈز کا منافع 51 فیصد اضافے کے ساتھ 8.19 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئل مارکیٹنگ کمپنی، اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے گزشتہ برس کے 3.81 ارب روپے کے مقابلے میں 6.64 ارب روپے کا خالص منافع کمایا ہے، جو کہ 74 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی منافع کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر خام تیل اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات، خاص طور پر ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے، جسے صنعت میں &#039;گراس ریفائنری مارجن&#039; یا &#039;کریک سپریڈ&#039; کہا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے شعبے کے ماہر زاہد میر کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں سپلائی چین کی رکاوٹوں نے عالمی منڈی میں ڈیزل کی قلت پیدا کی، جس سے اس کی قیمت خام تیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق، جنگ سے قبل پیٹرول پر یہ مارجن تقریباً 12 ڈالر فی بیرل تھا جو بڑھ کر 26 سے 27 ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ ڈیزل پر یہ فرق 12 سے 15 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 50 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا، جس کا براہِ راست فائدہ ریفائنریز کو ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو &#039;انوینٹری گین&#039; سے بھی فائدہ پہنچا۔ تجزیہ کار اسد علی کے مطابق، ریگولیٹری تقاضوں کے تحت کمپنیوں کے پاس ایندھن کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے، اور قیمتیں بڑھنے سے ان ذخیرہ شدہ مصنوعات کی قدر میں اضافہ ان کے منافع کا باعث بنا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کار خرم حسین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر ریفائننگ صلاحیت پر دباؤ کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریفائنریز کے مارجن میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ امریکی کمپنی ولیرو انرجی کا منافع بھی اسی عرصے میں 450 فیصد تک بڑھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگرچہ خام تیل کی درآمدی لاگت میں اضافہ ہوا، لیکن پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اس لاگت سے کہیں زیادہ رہا، جس نے ریفائنریز کے مالیاتی نتائج کو انتہائی مضبوط بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں مہنگائی کی شرح میں اتار چڑھاؤ رہا اور صارفین ایندھن کی بلند قیمتوں کے اثرات روزمرہ کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی محسوس کرتے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1916/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کو قطر سے ایل این جی کا دوسرا کارگو موصول، قومی خزانے پر بوجھ میں کمی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1780/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1780/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 02:36:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_شعبہ]]></category>
		<category><![CDATA[درآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قطر]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%b7%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%8c%d9%86-%d8%ac%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی ایل این جی اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں نصف قیمت پر دستیاب ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور درآمدی اخراجات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا دوسرا کارگو کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا ہے۔ وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق یہ کارگو اکتوبر کے مہینے کے دوران موصول ہوا ہے جس سے ملک کے گیس سسٹم کو فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں توانائی کے شعبے سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ مہنگی اسپاٹ مارکیٹ سے گیس کی خریداری سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ اس حکمت عملی کا مقصد قومی خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا اور عوام کو سستی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق قطر کے ساتھ طے پانے والے طویل مدتی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی ایل این جی کی قیمت تقریباً 14 سے 15 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کے درمیان ہے۔ اس کے برعکس عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں گیس کی قیمت 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاہدے کے تحت ملنے والی گیس اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں تقریباً نصف قیمت پر دستیاب ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑی ریلیف ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف درآمدی بلوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ گیس کی سپلائی چین کو بھی مستحکم بنایا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اکتوبر کے دوران اب تک قطر سے ایل این جی کے دو کارگوز پاکستان پہنچ چکے ہیں، جنہیں ملکی نیٹ ورک میں شامل کیا جا چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اس طرح کے اقدامات کو معاشی استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر طویل مدتی معاہدے پاکستان کے لیے ایک محفوظ راستہ فراہم کرتے ہیں۔ ان معاہدوں کی بدولت ملک کو غیر متوقع قیمتوں کے جھٹکوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی جانب سے گیس کی درآمد کے لیے قطر کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو توانائی کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک کلیدی پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان قطر سے گیس کی باقاعدہ سپلائی حاصل کرتا رہا ہے جو ملکی صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لیے اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت توانائی کے حکام کا مزید کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رہے گا تاکہ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے عالمی منڈی کے حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے گیس سسٹم میں ان کارگوز کی شمولیت سے گیس کے پریشر اور فراہمی میں بہتری متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے صارفین کو سہولت پہنچانے کا عمل مسلسل جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور قطر کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے، جو دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس تعاون سے پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں بھی حکومت کی جانب سے توانائی کے متبادل ذرائع اور درآمدی گیس کی بہتر مینجمنٹ پر توجہ مرکوز رہے گی۔ اس سلسلے میں وزارت توانائی تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ توانائی کا شعبہ فعال رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر قطر سے ایل این جی کی یہ تازہ سپلائی ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے درآمدی اخراجات میں نمایاں کمی کے ساتھ ساتھ توانائی کی فراہمی کو بھی مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1780/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں سردیوں کی آمد سے قبل گیس پریشر میں کمی اور بحران کا آغاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/weather/1723/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/weather/1723/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 12:17:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[موسم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بارش]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردی]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[شہر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/weather/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%b1%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d9%85%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%82%d8%a8%d9%84-%da%af%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[سوئی ناردرن کے سسٹم میں گیس کی قلت کے باعث مختلف علاقوں میں پریشر کم ہو گیا ہے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موسم میں تبدیلی کے ساتھ ہی ملک کے بڑے شہروں بالخصوص لاہور میں گیس کا بحران سر اٹھانے لگا ہے جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سردیوں کے موسم کی باقاعدہ آمد سے قبل ہی گیس کی فراہمی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے سسٹم میں گیس کی قلت واضح طور پر محسوس کی جانے لگی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گیس کا پریشر انتہائی نچلی سطح پر آ گیا ہے جس کی وجہ سے چوبیس گھنٹوں کے دوران گیس کی مسلسل فراہمی اب ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں شہریوں کو روزمرہ کے امور بالخصوص کھانا تیار کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے گیس کی فراہمی کے لیے ایک مخصوص شیڈول نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت دن کے مختلف اوقات میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس شیڈول کے مطابق صبح کے ناشتے کے اوقات میں تین گھنٹے جبکہ دوپہر کے وقت دو گھنٹے کے لیے گیس فراہم کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح رات کے اوقات میں بھی گیس کی فراہمی کے لیے تین گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے تاکہ تمام صارفین کو بنیادی ضروریات کے لیے کسی حد تک گیس میسر آ سکے۔ تاہم اس مقررہ شیڈول پر بھی مکمل عملدرآمد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور کئی علاقوں میں مقررہ اوقات میں بھی گیس غائب رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناشتہ اور کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کی عدم فراہمی یا انتہائی کم پریشر کی وجہ سے گھروں میں خواتین کو کھانا بنانے میں سخت پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ گیس پریشر کم ہونے کے باعث چولہے جلانا اور پانی گرم کرنا محال ہو چکا ہے جس سے بالخصوص دفاتر جانے والے افراد اور بچوں کے لیے ناشتے کی تیاری متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس بحران کی اس سنگین صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے حکومتی سطح پر بھی اقدامات زیر غور ہیں اور اس بحران کو ختم کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور قلت پر قابو پانے کے لیے درجنوں ایل این جی کارگو بھی بک کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ درآمدی ایل این جی کے نئے کارگو بروقت پہنچنے سے گیس کے ذخائر میں بہتری آئے گی اور سسٹم کا دباؤ کم ہوگا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران گیس کی طلب میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اس لیے اس سے پہلے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی ناردرن کے حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی مجموعی پیداوار میں کمی اور درآمدی گیس کی دستیابی کے چیلنجز کی وجہ سے یہ عارضی قلت پیدا ہوئی ہے۔ صارفین کی طرف سے مسلسل شکایات موصول ہونے کے بعد فیلڈ ٹیموں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ پریشر کے مسائل کو حتی الامکان حل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کے شیڈول پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور اوقات کار میں بہتری لائی جائے تاکہ سردی کی شدت بڑھنے سے قبل عوام کو اس عذاب سے نجات مل سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ابھی سے یہ حال ہے تو سخت سردیوں کے ایام میں صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ توانائی کے اداروں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ گیس چوری اور ضیاع کے سدباب کے لیے سخت اقدامات کریں تاکہ سسٹم میں موجود گیس کا درست استعمال ہو سکے۔ گیس کے بحران پر قابو پانے کے لیے عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس قیمتی توانائی کا استعمال انتہائی کفایت شعاری کے ساتھ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے ایل این جی کی درآمد کے علاوہ مقامی سطح پر گیس کے نئے ذخائر کی تلاش اور ان کی جلد پیداوار شروع کرنے کے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اقدامات ہی ملک کو اس طرح کے توانائی کے بحرانوں سے مستقل طور پر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں بڑھتی ہوئی اس گیس قلت اور کم پریشر کے باعث عامتہ الناس کو جن مشکلات کا سامنا ہے، اس کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری بنیادوں پر ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کریں تاکہ شہریوں کی شکایات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/weather/1723/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سردیوں میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے ایل این جی کے 18 کارگو خریدنے کا ہدف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1691/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1691/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:37:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_سدرن]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b3%d8%b1%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d9%84%d8%a8-%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب میں موسم سرما کے دوران گیس کی ضرورت ایک ارب مکعب فٹ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آنے والے موسم سرما کے دوران ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب اور رسد کے درمیان فرق کو کم کرنے کے لیے اہم انتظامی فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق اس سال سردیوں کے سیزن میں ایل این جی کے اٹھارہ کارگو خریدنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو مجموعی طور پر ایک ارب چالیس کروڑ مکعب فٹ مقامی گیس دستیاب ہے۔ اس کے مقابلے میں صرف صوبہ پنجاب کی اکیلے گیس کی ضروریات موسم سرما کے دوران ایک ارب مکعب فٹ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے درآمدی حکمت عملی کے تحت قطر سے نسبتاً سستی مائع قدرتی گیس کی درآمد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کی خریداری کے لیے تیس ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کو آخری حد مقرر کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے اس صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے دوران ملک کی مجموعی گیس کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لیے چوبیس کارگو درکار ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے بیشتر حصوں میں موسم سرما کے دوران گھریلو اور صنعتی صارفین کی جانب سے گیس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس موسمی اضافے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے پیشگی تیاریوں اور درآمدی منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقومی گیس کے ذخائر میں بتدریج کمی اور طلب میں اضافے کے باعث حکومت کو درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھانا پڑتا ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ بروقت فیصلے اور درست منصوبہ بندی ہی بحران سے بچنے کا واحد حل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کی وزارت اور متعلقہ حکام ملک بھر کے تمام صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ سردیوں کے ان مہینوں میں بالخصوص گھریلو صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پیٹرولیم ڈویژن کے حکام بین الاقوامی منڈی کے اتار چڑھاؤ پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ درآمدی اخراجات کو قابو میں رکھتے ہوئے توانائی کی ضروریات پوری کرنا موجودہ معاشی چیلنجز میں اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ہی ملک میں گیس کی کھپت کا گراف تیزی سے اوپر کی طرف جانا شروع ہو جاتا ہے۔ سردیوں کے ایام میں ہیٹروں اور گیس گیزرز کے مسلسل استعمال سے گھریلو سیکٹر پر دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکموں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی گیس کے کنوؤں سے پیداوار میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درآمدی ایل این جی پر انحصار ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ طلب اور رسد کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی حلقوں کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں بالخصوص طویل مدتی ایل این جی سپلائی کے معاہدوں کو بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ اس کا مقصد ملکی مبادلہ کے ذخائر کو بچانا اور عوام کو سستی توانائی کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی شعبے کو بھی موسم سرما میں گیس کی مسلسل فراہمی چیلنج بنی رہتی ہے تاکہ برآمدی صنعتیں متاثر نہ ہوں۔ توانائی کی ترسیل کے اس پورے نظام کو چلانے کے لیے تمام متعلقہ کمپنیاں باہم مل کر حکمت عملی طے کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا اور دیگر ریگولیٹری اداروں کے کردار پر بھی مختلف حلقوں کی طرف سے آراء سامنے آتی رہتی ہیں جن کا مقصد شعبے میں بہتری لانا ہے۔ عوام اور تاجر برادری کی جانب سے بھی سردیوں کے سیزن میں گیس کی بلا تعطل دستیابی کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے توانائی کے متبادل ذرائع اور درآمدی راہداریوں پر بھی غور کیا جاتا ہے تاکہ ملکی معیشت کو استحکام مل سکے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1691/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عارف والا میں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1661/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1661/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 04:57:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_این_جی_پی_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردی]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عارف_والا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام_کی_مشکلات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[سردی کی شدت بڑھتے ہی گیس کے کم پریشر اور لوڈشیڈنگ سے گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی عارف والا سمیت مختلف علاقوں میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ سردی کی پہلی لہر کے ساتھ ہی شہریوں کو گیس کی فراہمی میں تعطل کا سامنا ہے جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ صبح سویرے ناشتہ تیار کرنے اور دوپہر کے کھانے کے اوقات میں گیس کا پریشر انتہائی کم ہو جاتا ہے یا گیس مکمل طور پر غائب ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث گھریلو خواتین کو کھانا پکانے اور دیگر امور کی انجام دہی میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی عدم دستیابی کے باعث صارفین کو متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ بہت سے شہری مہنگی ایل پی جی سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ کچھ افراد لکڑیاں جلا کر کھانا پکانے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے ان کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عارف والا کے شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ سردیوں کے موسم میں انہیں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکام کو چاہیے کہ وہ گیس کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنائیں تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق گیس کے ذخائر میں کمی اور بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کے بے جا استعمال کو روکنے کے لیے بھی آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں تاکہ گیس کا پریشر برقرار رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے حکام کو چاہیے کہ وہ عارف والا کے متاثرہ علاقوں میں گیس کی فراہمی کے نظام کا جائزہ لیں اور تکنیکی خرابیوں کو دور کریں۔ بروقت اقدامات سے ہی عوام کی مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس کی طلب میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ انتظامیہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی تاکہ انہیں سرد موسم میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گیس کے بلوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن سہولیات کی فراہمی میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو کم کیا جائے تاکہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عارف والا کے علاوہ بھی ملک کے دیگر شہروں میں گیس کے کم پریشر کی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور گیس کی بہتر مینجمنٹ ہی اس دیرینہ مسئلے کا واحد حل ہے جس پر متعلقہ وزارتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر گیس کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو انہیں شدید سردی میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مقامی نمائندوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو ایوانوں میں اٹھائیں اور عوام کی آواز حکام بالا تک پہنچائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی حتمی لائحہ عمل جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، شہریوں کی جانب سے مسلسل شکایات کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام جلد ہی گیس کے پریشر کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختصر یہ کہ سردیوں کا آغاز ہوتے ہی گیس کا بحران ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فوری اور موثر اقدامات ہی اس مسئلے کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1661/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گیس کے شعبے کے گردشی قرضوں میں ایک سال کے دوران 344 ارب روپے کا اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1480/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1480/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 16:17:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_ان_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[تاخیر_سرچارج]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_کی_پیداوار]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%db%92-%da%a9%db%92-%da%af%d8%b1%d8%af%d8%b4%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%b6%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%d8%a7%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[پیٹرولیم ڈویژن نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ گیس کے شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ بڑھ کر 3631 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے گیس کے شعبے کے مالیاتی مسائل اور گردشی قرضوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں توانائی کے اس اہم شعبے کو شدید مالی چیلنجز کا سامنا ہے اور گزشتہ ایک سال کے عرصے میں اس کے گردشی قرضوں کے حجم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران گیس کے شعبے کے گردشی قرضوں میں 344 ارب روپے کا بڑا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کے بعد 30 جون 2026 تک گیس کے شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ 3631 ارب روپے کی سطح تک جا پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم ڈویژن کی طرف سے ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ اس سے قبل 30 جون 2025 تک گیس کے شعبے کا کل قرضہ 3288 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس ایک سال کے دوران قرضوں کی اس لہر میں تیزی آئی جس نے ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے پر بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیش کردہ رپورٹ کے مطابق گیس کے شعبے کے مجموعی گردشی قرضوں کی اس بڑی رقم میں 1783 ارب روپے کے واجبات تاخیر سے ادائیگی پر لگائے جانے والے سرچارج کی مد میں شامل ہیں۔ یہ سرچارج بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے جمع ہوتے رہے ہیں جو مجموعی قرضے کے حجم کو بڑھانے میں ایک بڑا عنصر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں ملک میں تیل اور گیس کے موجودہ ذخائر اور ان کی پیداوار کے حوالے سے بھی تفصیلی اعداد و شمار فراہم کیے گئے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ملک بھر میں گیس کے کل قابل حصول ذخائر 68 ہزار 803 بی سی ایف ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان دستیاب ذخائر میں سے اس وقت 48 ہزار 140 بی سی ایف گیس کی پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔ یہ ملکی طلب کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے تاہم پیداواری لاگت اور ترسیلی نظام کے مسائل کی وجہ سے شعبہ مالی مشکلات کا شکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب تیل کے شعبے سے متعلق اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں خام تیل کے کل قابل حصول ذخائر 1378 ملین بیرل ہیں۔ ان میں سے 1102 ملین بیرل خام تیل کی پیداوار باقاعدگی سے نکالی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ گیس کے شعبے میں بڑھتے ہوئے یہ گردشی قرضے ملک کی مجموعی معیشت پر دباؤ کا باعث بن رہے ہیں اور گیس کی قیمتوں اور ترسیل کے نظام پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ ادارے ان مالیاتی مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی اسمبلی میں ان حقائق کے سامنے آنے کے بعد اراکین پارلیمنٹ نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان میں توانائی کا شعبہ طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جس سے نمٹنے کے لیے متعدد پالیسیاں زیر غور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم ڈویژن کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سردیوں کے موسم میں گیس کی طلب میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے باوجود عوام کو بلاتعطل توانائی کی فراہمی یقینی بنائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے معاشی حلقوں میں گیس کے شعبے کے اس مالیاتی خسارے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ وزارت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح ان قرضوں کے بڑھنے کی رفتار کو روکا جائے اور گردشی قرضے کے اس گرد اب سے نکلا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے امور کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی پیداوار کو بڑھانے اور تیل و گیس کی تلاش کے نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے سے ہی اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حکومت اس شعبے میں بہتری لانے کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات کرنے کا عزم رکھتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1480/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس پر امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہو گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1389/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1389/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 02:17:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_پابندیاں]]></category>
		<category><![CDATA[برینٹ_خام_تیل]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[خام_تیل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d9%be%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d8%b1%d9%85%db%8c-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر مجوزہ پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز معمولی کمی دیکھی گئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم مصنوعات کے خریداروں کو ریلیف ملا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے روس کے خلاف مجوزہ اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے فیصلے کے فوری بعد تیل کے نرخوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری ہفتے کے پہلے روز ایشیائی منڈیوں میں ٹریڈنگ کے آغاز پر برینٹ خام تیل کے نرخ تقریباً ایک فیصد گر گئے۔ اس تنزلی کے بعد عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت کم ہو کر 108.80 ڈالر کی سطح پر آ گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے قبل جمعے کے روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ جمعے کو کاروباری سیشن کے اختتام پر پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ 19 مئی کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈی میں قیمتوں کے رخ میں تبدیلی کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ اہم فیصلہ ہے جس کے تحت ماسکو پر نافذ کی جانے والی متعدد متوقع معاشی قدغنوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اس اقدام سے بین الاقوامی تاجروں کے خدشات کافی حد تک کم ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ اس صدارتی حکم نامے کے ذریعے روس کے تجارتی شعبے سے متعلق متعدد مجوزہ سخت پابندیاں ختم کر دی گئیں جن کا نفاذ آئندہ چند روز میں متوقع تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منسوخ کیے جانے والے اقدامات میں روسی مصنوعات پر ممکنہ محصولات کا نفاذ شامل تھا۔ اس کے علاوہ روس سے خام تیل اور قدرتی گیس خریدنے والے ممالک پر عائد کی جانے والی سزائیں بھی مجوزہ پیکج کا حصہ تھیں جنہیں اب روک دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روسی برآمدات سے متعلق پابندیوں اور محصولات میں نرمی کا مقصد ماسکو کو روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی توانائی منڈی میں روس کا کردار انتہائی اہم اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ روس دنیا میں خام تیل اور قدرتی گیس برآمد کرنے والے بڑے ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کے خلاف کسی بھی ممکنہ پابندی سے عالمی رسد متاثر ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین اور روس کے مابین تنازع کے آغاز سے ہی بین الاقوامی توانائی کی منڈی شدید غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک اور خریدار ریاستیں کسی بھی بڑی جغرافیائی و سیاسی پیش رفت پر فوری ردعمل ظاہر کرتی ہیں جس کا براہ راست اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی پابندیوں کے خطرے کے باعث متعدد ممالک کو روسی توانائی کے وسائل خریدنے میں قانونی و مالی رکاوٹوں کا خوف لاحق تھا۔ تاہم واشنگٹن کی جانب سے مجوزہ سزائیں ختم کیے جانے کے بعد مارکیٹ میں تیل کی رسد میں تعطل کے خدشات وقتی طور پر دور ہو گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کو تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ترقی پذیر معیشتیں ایندھن کے نرخوں میں اضافے کے باعث افراط زر اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں جہاں عالمی منڈی کے اثرات براہ راست مرتب ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1389/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
