<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تل_ابیب &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d9%84_%d8%a7%d8%a8%db%8c%d8%a8/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:32 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>تل_ابیب &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اسرائیل: بنیامین نیتن یاہو ساتویں بار وزارتِ عظمیٰ کے لیے انتخابی میدان میں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1910/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1910/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 02:57:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بنیامین_نیتن_یاہو]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمانی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تل_ابیب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%d8%a8%d9%86%db%8c%d8%a7%d9%85%db%8c%d9%86-%d9%86%db%8c%d8%aa%d9%86-%db%8c%d8%a7%db%81%d9%88-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%d9%88%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[اسرائیلی پارلیمانی انتخابات 27 اکتوبر کو ہوں گے، نیتن یاہو کو سکیورٹی ناکامی اور قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والے بنیامین نیتن یاہو ایک بار پھر 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ساتویں بار اقتدار حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ نیتن یاہو، جو خود کو ’مسٹر سکیورٹی‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں، اس بار ایک انتہائی مشکل سیاسی ماحول میں انتخابی میدان میں اُتر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کے مطابق سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے اسرائیلی ووٹرز کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ بہت سے اسرائیلی شہری اس واقعے کو ملک کی تاریخ کی بدترین سکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہیں، جس سے نیتن یاہو کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیتن یاہو نے تسلیم کیا ہے کہ اس سکیورٹی ناکامی کی کچھ ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے، تاہم ان کا موقف ہے کہ اس میں اعلیٰ فوجی اور سکیورٹی حکام بھی برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے سے قبل اہم انتباہات ان تک بروقت نہیں پہنچائے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی میدان میں نیتن یاہو کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گادی آئزنکوٹ جیسی شخصیات نمایاں ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق دائیں بازو کے اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیتن یاہو کو نہ صرف سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے بلکہ وہ بدعنوانی کے الزامات سے متعلق فوجداری مقدمات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ نومبر 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ان کے اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کیے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی جانب سے یہ وارنٹ غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت جاری کیے گئے تھے۔ نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بنیامین نیتن یاہو 1949 میں تل ابیب میں پیدا ہوئے اور ابتدائی زندگی کا کچھ حصہ امریکہ میں گزارا۔ 18 برس کی عمر میں اسرائیل واپسی پر انہوں نے فوج کے خصوصی کمانڈو یونٹ میں خدمات انجام دیں۔ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں بھی انہوں نے حصہ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا سیاسی سفر 1980 کی دہائی میں شروع ہوا جب وہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے مقرر ہوئے۔ 1996 میں وہ پہلی بار اسرائیل کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے، جو اس وقت ان کی کم عمری کے باعث ایک اہم سیاسی پیش رفت سمجھی جاتی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران نیتن یاہو نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ 1999 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بعد کے برسوں میں وہ دوبارہ ملکی سیاست کے مرکزی کردار کے طور پر ابھرے۔ وہ دائیں بازو اور مذہبی ووٹرز میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیتن یاہو کی حکومت نے سخت گیر مذہبی یہودی طلبہ کے لیے فوجی خدمت سے استثنا میں توسیع کی کوشش کی، جو ان کے روایتی حمایتی طبقے کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔ یہ اقدام بھی ان کے سیاسی بیانیے کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں پر نیتن یاہو کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کا اثر ان کے بین الاقوامی تعلقات پر بھی پڑا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابات کے قریب آتے ہی یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا اسرائیلی عوام سات اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی اور موجودہ جنگی پالیسیوں کے باوجود نیتن یاہو پر دوبارہ اعتماد کا اظہار کریں گے یا نہیں۔ یہ انتخابات اسرائیل کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین سیاسی معرکوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیتن یاہو نے ہمیشہ مشکل حالات سے نکلنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے حامیوں کا اب بھی ماننا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے امور پر سب سے موزوں رہنما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 27 اکتوبر کے نتائج ان کے سیاسی مستقبل کا کیا فیصلہ کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1910/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دبئی سے تل ابیب پرواز پر خودکش حملے کا منصوبہ ناکام</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/309/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/309/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 13:18:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اماراتی_اٹارنی_جنرل]]></category>
		<category><![CDATA[ایوی_ائیشن]]></category>
		<category><![CDATA[بن_گوریون_ئیرپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پائلٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تبوک]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[تل_ابیب]]></category>
		<category><![CDATA[خودکش_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%af%d8%a8%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%aa%d9%84-%d8%a7%d8%a8%db%8c%d8%a8-%d9%be%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%be%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%d8%a7-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[عمانی معاون پائلٹ نے تل ابیب ائیرپورٹ پر طیارہ ٹکرانے کی سازش کی جسے عملے نے ناکام بنا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فلائی دبئی کی ایک پرواز کے دوران پیش آنے والے ہولناک واقعے میں معاون پائلٹ کی جانب سے طیارے کو تل ابیب کے بن گوریون ائیرپورٹ کی عمارت سے ٹکرانے کا خطرناک منصوبہ بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔ اماراتی اٹارنی جنرل حمد سیف الشامسی نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ 30 ستمبر 2026 کو پیش آنے والے اس واقعے میں 29 سالہ عمانی معاون پائلٹ نے طیارہ اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم نے پرواز کے دوران کاک پٹ میں موجود کپتان پر ایمرجنسی کلہاڑی سے حملہ کیا تاکہ وہ طیارے کا کنٹرول مکمل طور پر سنبھال سکے۔ حکام کا بتانا ہے کہ ملزم 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے حملوں سے گہرا متاثر تھا اور اسی طرز پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا ارادہ رکھتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کے دوران یہ اہم انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اس ملزم نے تل ابیب کے اپنے دو سابقہ دوروں کے دوران پرواز کے راستوں کا بغور جائزہ لیا تھا اور ائیرپورٹ کے ماحول سے مکمل واقفیت حاصل کی تھی۔ اماراتی حکام کے مطابق بھرتی کے وقت ملزم کی سکیورٹی جانچ پڑتال کی گئی تھی جس میں کسی بھی قسم کا کوئی مشتبہ اشارہ سامنے نہیں آیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ اداروں نے اس واقعے کے بعد ملزم کے ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش اور تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے تاکہ اس سازش کے تمام محرکات کو سامنے لایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سفاکانہ منصوبے کا بنیادی مقصد تل ابیب ائیرپورٹ کی عمارت پر طیارہ مار کر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دبئی سے تل ابیب جانے والی اس مخصوص پرواز میں واپسی کے سفر کی ڈیوٹی کے لیے دو اضافی پائلٹ بھی بحیثیت مسافر سوار تھے جو تل ابیب سے اگلی پرواز لے کر واپس آنے والے تھے۔ حملے کے وقت ان میں سے ایک اضافی پائلٹ کاک پٹ کے اردگرد موجود تھا جس نے حالات کو مشکوک پایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق اس اضافی پائلٹ نے دیکھا کہ کاک پٹ کا دروازہ غیرمعمولی طور پر بار بار کھل اور بند رہا ہے جس پر اسے شدید شبہ ہوا اور اس نے فوری طور پر رسائی کا کوڈ استعمال کیا۔ جب وہ اندر داخل ہوا تو اس نے معاون پائلٹ کو کپتان پر حملہ آور ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاک پٹ کے اندر موجود اضافی پائلٹ نے ایک کیبن کریو کے رکن اور چند بیدار مغز مسافروں کی مدد سے فوری طور پر حملہ آور معاون پائلٹ کو دبوچ لیا اور اسے قابو کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ عملے اور مسافروں کی اس مشترکہ اور بروقت مداخلت کی وجہ سے زخمی کپتان کی جان بھی بچ گئی اور ایک بڑا فضائی سانحہ ٹل گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ہنگامہ خیز صورتحال کے دوران طیارے کو بحفاظت سعودی عرب کے شہر تبوک کے ائیرپورٹ پر اتار لیا گیا جہاں سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر صورتحال کا کنٹرول سنبھال لیا۔ متعلقہ حکام نے اس بہادری کا مظاہرہ کرنے والے عملے اور مسافروں کی بروقت حکمت عملی کو سراہا ہے جن کی وجہ سے سیکڑوں معصوم جانیں بچ گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اماراتی خبر رساں ادارے وام کے مطابق اس پرواز کے دوران پیش آنے والے اس واقعہ نے دنیا بھر میں ایوی ایشن سکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹس اور فضائی عملے کی سخت ترین جانچ پڑتال کے باوجود ایسے واقعات کا رونما ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ تحقیقاتی اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم نے انتہائی مہارت کے ساتھ اپنے ارادوں کو چھپائے رکھا اور ائیرلائن حکام کو کبھی بھی اپنی ذہنی کیفیت یا کسی متشدد نظریے سے آگاہ نہیں کیا۔ ملزم کی جانب سے پرواز کے دوران کاک پٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی یہ کوشش انتہائی منظم معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے شہر تبوک میں اترنے کے بعد مسافروں اور عملے کو فوری طور پر طبی اور نفسیاتی امداد فراہم کی گئی تاکہ اس ہولناک تجربے کے اثرات سے انہیں نکالا جا سکے۔ مقامی سکیورٹی حکام نے واقعے کی جگہ پر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/309/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
