<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تفتیشی_نظام &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d9%81%d8%aa%db%8c%d8%b4%db%8c_%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 16 Oct 2026 10:58:06 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>تفتیشی_نظام &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پولیس کے نظام میں بہتری کیلئے سائنسی بنیادوں پر اصلاحات ناگزیر ہیں، عمران کشور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/963/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/963/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 10:58:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[تفتیشی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[تھانہ_کلچر]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[خود_احتسابی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور کا کہنا ہے کہ تھانہ کلچر کی تبدیلی اور شفاف تفتیش کے بغیر معاشرے سے جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور نے کہا ہے کہ محکمہ پولیس کی کارکردگی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع اور منطقی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ محکمہ پولیس میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دینے والے اس افسر نے ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے محکمہ پولیس میں اے ایس کے طور پر کیریئر کا آغاز کرنے والے عمران کشور آج اس اہم منصب پر فائز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے اس بات پر زور دیا کہ عام آدمی کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے تفتیشی نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقہ کار کے استعمال سے تفتیش کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے جس سے انصاف کی فراہمی یقینی ہوگی۔ انہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں بتایا کہ وہ جہاں بھی تعینات رہے، وہاں چارج سنبھالنے کے بعد ہمیشہ اپنے عملے کو ہدایات دیں کہ دفاتر میں آنے والے عام شہریوں کے لیے تمام ممکنہ آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ معاشرے سے جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہونا ضروری ہے۔ پولیس افسران کو چاہیے کہ وہ دفاتر میں آنے والے شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کریں۔ معاشرے کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ پولیس کے محکمے کو درست کیا جائے لیکن بدقسمتی سے بڑی کوششوں کے باوجود یہ محکمہ سیاسی اثر و رسوخ سے کبھی آزاد نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے ایک ایماندار افسر کیلئے کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی ایڈمن کے مطابق تھانہ کلچر کی بہتری پولیس کی مجموعی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔ ایک اچھا پولیس افسر وہی ہے جو میرٹ پر کام کرے اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کے سیاسی یا ذاتی دباؤ کو آڑے نہ آنے دے۔ سیاستدانوں کی سیاست روایتی طور پر تھانے کے گرد گھومتی ہے اور آج بھی تمام مسائل کی جڑ یہی پرانا تھانہ کلچر ہے۔ چاہے جتنے اچھے آئی جی، آر پی او یا سی پی او لگا دیے جائیں، ایس ایچ او کے سطح پر ہونے والی خرابی کا ازالہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان کی بحالی میں اپنا قومی فریضہ ادا کریں۔ منشیات فروشوں یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کے بارے میں پولیس کو فوری اطلاع دی جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے اور اس اصول پر ہمیشہ سختی سے عمل درآمد بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ پولیس کا سالوں کا تاثر کبھی کبھار تھانے کے سامنے پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی وجہ سے زائل ہو جاتا ہے، اس لیے جب تک تھانے کا ماحول بہتر نہیں ہوتا محکمہ درست نہیں ہو سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے کہا کہ ملک میں سوال اٹھانے کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ جب ہر سطح پر سوال اٹھایا جائے گا تو خود احتسابی کا عمل تیز ہوگا، جس سے تمام شعبہ ہائے زندگی میں بہتری آئے گی اور اداروں کا وقار بلند ہوگا۔ کوئی بھی محکمہ ایڈمنسٹریشن اور ڈسپلن کے بغیر ایک دن بھی نہیں چل سکتا کیونکہ انتظامی امور اور نظم و ضبط کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ محکمہ پولیس میں بھی اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں جن میں کچھ افسران اپنی پوسٹنگ بچانے کے لیے اصولوں کا سودا کر لیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس میں ایسے افسران کی کمی نہیں جو اپنی نوکری کی پرواہ کیے بغیر اصولوں پر کاربند رہتے ہیں۔ ایسے ایماندار اور فرض شناس افسران کو اہم ذمہ داریاں سونپ کر پولیس کے نظام کو مزید مستحکم اور عوام دوست بنایا جا سکتا ہے۔ جو سر پھرے افسران میرٹ پر کام کرتے ہیں اور غلط احکامات کی قیمت پر نوکری قربان کرنے سے نہیں ڈرتے، وہی دراصل اس محکمے کی حقیقی شان ہیں جنہیں اچھی پوسٹس پر تعینات کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے ماتحت عملے کے مسائل بھی سنے اور ان کے فوری حل کے لیے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیس کا ادارہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔ دورانِ ملاقات ملازمین کو اپنے کمرے میں بلا کر ان کے مسائل براہ راست سننا اور موقع پر ہی ان کے حل کے احکامات دینا ان کے انتظامی انداز کا نمایاں حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے اندر نظم و ضبط اور ایڈمنسٹریشن کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی محکمے کی کامیابی کا دارومدار اس کے ڈسپلن پر ہوتا ہے۔ ڈسپلن کے بغیر کوئی بھی ادارہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ اس حوالے سے تمام ماتحت عملے کو بھی سخت ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ وہ اپنے فرائض منصبی انتہائی دیانت داری اور قانون کے دائرے میں رہ کر سر انجام دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور جرائم کے نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس کو جدید تربیت اور آلات سے لیس کرنا ہوگا۔ سیکیورٹی اداروں کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی تاکہ امن برقرار رہے۔ ملک میں امن و امان کے قیام اور جرائم کی بیخ کنی کے لیے جن نئے چیلنجز کا سامنا ہے، سیکیورٹی کے اداروں بالخصوص پولیس کو ان کے مطابق تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارکردگی کا معیار صرف تھانے کی سطح پر نہیں بلکہ مجموعی انتظامی امور میں بھی نظر آنا چاہیے۔ عوام کا پولیس پر اعتماد ہی ایک پرامن معاشرے کی ضمانت ہے، جس کے لیے ہر سطح پر اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے جسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ پولیس کے نظام میں بہتری ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے تمام متعلقہ حکام کو اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے نبھانا ہوگا۔ عوام کا تعاون اور پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت ہی ایک پرامن اور جرائم سے پاک معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوگی۔ معاشرے کے ہر فرد کو امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ پولیس کے اندرونی نظام کو شفاف بنانے کے لیے افسران کی تقرریوں اور تبادلوں میں میرٹ کو ترجیح دینا ہوگی۔ ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ اگر نیت درست ہو تو پولیس کے فرسوده نظام میں بھی مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں، بشرطیکہ تمام متعلقہ ادارے اور افراد قانون کی حکمرانی کو مقدم رکھیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/963/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پولیس میں اصلاحات اور تھانہ کلچر کی بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈی آئی جی عمران کشور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 22:38:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[تفتیشی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[تھانہ_کلچر]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[خود_احتسابی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_جی_ایڈمن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/</guid>

					<description><![CDATA[ڈی آئی جی ایڈمن لاہور عمران کشور نے کہا ہے کہ عوام کو انصاف کی فراہمی اور جرائم کے خاتمے کے لیے تفتیشی نظام کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور نے کہا ہے کہ محکمہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جامع اور منطقی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں امن و امان کے قیام اور جرائم کی بیخ کنی کے لیے سیکیورٹی اداروں کو نئے چیلنجز کے مطابق خود کو تیار کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں سوال اٹھانے کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، جس سے زندگی کے ہر شعبے میں خود احتسابی کا عمل مضبوط ہوگا۔ ان کے مطابق، جب تک تھانے کے ماحول میں بہتری نہیں لائی جاتی، پولیس کے مجموعی تاثر کو بہتر بنانا ایک مشکل ہدف رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی ایڈمن نے کہا کہ عام آدمی کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے تفتیش کے نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس افسران کو دفاتر میں آنے والے شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ پولیس کے محکمے میں نظم و ضبط اور انتظامی امور کی اہمیت مسلمہ ہے، جس کے بغیر کسی بھی ادارے کی فعالیت ممکن نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پولیس کے وقار کو بلند کرنے کے لیے میرٹ پر کام کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان کی بحالی میں اپنا قومی فریضہ ادا کریں اور اپنے اردگرد منشیات فروشوں یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران ڈی آئی جی ایڈمن نے پولیس ملازمین کے مسائل کو براہ راست سنا اور ان کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام عوام کی خدمت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے اندرونی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمے میں ایسے افسران کی کمی نہیں جو اصولوں پر کاربند رہتے ہیں اور میرٹ کو مقدم رکھتے ہیں۔ ایسے افسران محکمہ پولیس کی شان ہیں اور ان کی تعیناتی سے ادارے کا وقار بڑھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ تھانے کا ماحول ہی وہ بنیادی عنصر ہے جو عوام کے ذہنوں میں پولیس کا تاثر قائم کرتا ہے۔ اگر تھانے کی سطح پر بہتری لائی جائے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے اور عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہونا چاہیے تاکہ ایک ایماندار افسر بلا خوف و خطر اپنے فرائض سرانجام دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا اصل ہدف شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی ایڈمن نے کہا کہ دہشت گردی اور دیگر جدید جرائم سے نمٹنے کے لیے پولیس کو اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال تفتیش کے عمل کو شفاف اور تیز تر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کو دفاتر میں آنے والے شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے اور ان کی شکایات کا ازالہ ترجیحی بنیادوں پر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون کے بغیر جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے کہا کہ پولیس کے نظام میں اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ماتحت عملے کو ہمیشہ یہی ہدایت کرتے ہیں کہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس میں بہتری کے لیے وہ پرعزم ہیں اور تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا ہر فرد معاشرے کے امن کے لیے ایک اہم ستون ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
