<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تعلیم_پاکستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85_%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 11:26:30 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>تعلیم_پاکستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ظالم کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچے گا: مریم نواز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b8%d8%a7%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%aa%d9%86%d8%a7-%db%81%db%8c-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%81-%db%81%d9%88-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b8%d8%a7%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%aa%d9%86%d8%a7-%db%81%db%8c-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%81-%db%81%d9%88-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 10:56:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_کام]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[لیپ_ٹاپ_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[مریم_نواز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b8%d8%a7%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%aa%d9%86%d8%a7-%db%81%db%8c-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%81-%db%81%d9%88-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کرنے والوں کو اب معاف نہیں کیا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">منڈی بہاء الدین کی یونیورسٹی آف رسول میں ہونہار سکالر شپ کے چیکس اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کوئی بھی اثر و رسوخ والا شخص قانون کی گرفت سے باہر نہیں رہ سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھی طاقتور شخص عام شہریوں پر ہاتھ اٹھائے گا تو قانون سخت کارروائی کرے گا اور جرم کرنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کو تکلیف اور اذیت پہنچانے والے عناصر جرم کی دنیا کو فوری طور پر خیرباد کہہ دیں بصورت دیگر انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتوں سے ملنے والی ضمانتوں پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجرم عدالت سے فوری ضمانت لے کر باہر آ جاتے ہیں جس پر وہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے ملاقات کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مجرموں کو کم از کم اتنی سزا ملنی چاہیے کہ وہ باہر نکلیں تو معاشرے میں شرمندگی محسوس کریں اور قانون کا خوف برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پٹرول پمپ پر پیش آنے والے تشدد کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مریم نواز نے بتایا کہ اس واقعے کے ملزم کو اگلے ہی روز عدالت سے ضمانت مل گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سکالر شپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل میں شفافیت کو مکمل طور پر یقینی بنایا گیا ہے اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ لیپ ٹاپ یا سکالر شپ کی تقسیم میں میرٹ کی خلاف ورزی کی گئی ہو کیونکہ صوبے کا نظام سو فیصد میرٹ پر چل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی مجرم ان کی اپنی سیاسی جماعت سے بھی تعلق رکھتا ہو تب بھی اسے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب صوبے کا نظام مظلوم کی پشت پر کھڑا ہوتا ہے جس سے معاشرے میں انصاف کی امید جاگ اٹھی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امن و امان کی بہتر ہوتی ہوئی صورتحال کے باعث خواتین اور بچیوں کے اندر تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے اور ان کا حوصلہ بھی بلند ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان میں یتیم بچے کو کار سے روندنے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ المناک منظر اب تک ان کی آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹ سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بائیک سوار خاتون پر تشدد کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے متاثرہ بچی کو کہا تھا کہ جتنا تشدد اس پر کیا گیا ہے وہ بدلہ لے سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طلبہ و طالبات کے لیے فلاحی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، کروم بکس، الیکٹرک بسیں اور تعلیمی وظائف فراہم کرتی رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے طلبا سے مخاطب ہو کر کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ بچوں کو چاند اور ستارے لا کر دیں لیکن اس کے بدلے انہیں صرف پاکستان سے وفادار رہنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منڈی بہاء الدین پہنچنے پر مقامی شہریوں اور طلبا کی جانب سے وزیراعلیٰ کا پرجوش استقبال کیا گیا اور ان کے قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران یونیورسٹی آف رسول کے طلبا و طالبات میں ہونہار سکالر شپ کے چیکس اور لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے جس پر نوجوانوں میں شدید خوشی کی لہر دوڑ گئی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b8%d8%a7%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%aa%d9%86%d8%a7-%db%81%db%8c-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%81-%db%81%d9%88-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایف پی ایس سی کے ملتوی ٹیسٹوں کی نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d9%88%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d9%88%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 14:57:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحان_کی_تاریخیں]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[ایڈمیشن_سرٹیفکیট]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_پی_ಎಸ್_سی_ٹیسট]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_اپڈیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d9%88%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ملتوی ہونے والے ٹیسٹ سات سے گیارہ نومبر تک ہوں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل پبلک سروس کمیشن یعنی ایف پی ایس سی کی جانب سے ملک کے اہم شہروں میں پہلے سے طے شدہ اور بعد میں ملتوی کیے جانے والے امتحانات کے حوالے سے نیا اور حتمی شیڈول جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت اب یہ تمام تحریری امتحانات آئندہ ماہ نومبر کے پہلے ہفتے میں منعقد کیے جائیں گے۔ کمیشن کے متعلقہ شعبے کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق یہ اقدامات امیدواروں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں تاکہ انہیں امتحانات کی تیاری اور شرکت کے لیے مناسب وقت اور بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ امتحانات اصل شیڈول کے مطابق رواں ماہ اکتوبر کے وسط میں منعقد ہونا تھے تاہم ملک کے بعض علاقوں میں بالخصوص پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کی نازک صورتحال کے باعث ادارے نے ناگزیر وجوهات کی بنا پر انہیں عارضی طور پر ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت کے حالات کا تقاضا یہی تھا کہ امیدواروں اور عملے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے لہٰذا فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے فوری طور پر امتحانات کی معطلی کا اعلان کرتے ہوئے نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کرنے کا عندیہ دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب نئے شیڈول کے مطابق جنرل ریکروٹمنٹ ٹیسٹ فیز تھری دو ہزار چھبیس کا انعقاد سات نومبر سے شروع ہو گا اور یہ سلسلہ گیارہ نومبر تک جاری رہے گا جس میں بڑی تعداد میں امیدوار شرکت کریں گے۔ پبلک سروس کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ امتحانات کے لیے تمام انتظامی امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ مقررہ تاریخوں پر امتحانی عمل بغیر کسی رکاوٹ اور احسن طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیدواروں کی سہولت کے لیے کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان امتحانات کے لیے نئے ایڈمیشن سرٹیفکیٹس اور تفصیلی ٹائم ٹیبل اسی ماہ کی تیس تاریخ کو باضابطہ طور پر ادارہ جاتی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیے جائیں گے۔ تمام متعلقہ افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹ کا وزٹ کریں تاکہ وہ اپنے داخلہ سرٹیفکیٹ باآسانی ڈاؤن لوڈ کر سکیں اور امتحانی مراکز سے متعلق معلومات بروقت حاصل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر بھی قابل غور ہے کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن وفاقی سطح پر سرکاری ملازمتوں کے لیے انتہائی شفاف اور میرٹ پر مبنی امتحانات کا انعقاد کرتا ہے جس میں ملک بھر سے لاکھوں امیدوار حصہ لیتے ہیں۔ اس لیے امتحانات کے التوا اور پھر نئے سرے سے تاریخوں کے اعلان کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ امیدوار اب پوری یکسوئی کے ساتھ اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دیں گے اور مقررہ تاریخوں پر امتحانی مراکز کا رخ کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مراکز کے لیے جاری ہونے والے اس تازہ ترین پبلک نوٹس میں تمام امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تیاری جاری رکھیں اور کسی بھی قسم کی افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ کمیشن کی ویب سائٹ پر تمام معلومات بروقت فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ طلباء کو امتحان کے حوالے سے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ مقررہ وقت پر اپنے مراکز پر پہنچ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امتحانات کے التوا کا بنیادی سبب امن و امان کی وہ مخصوص صورتحال تھی جس نے خیبر پختونخوا کے ان دو بڑے شہروں میں معمولات زندگی کو وقتی طور پر متاثر کیا تھا اور اسی تناظر میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا۔ اب جب کہ صورتحال بہت بہتری کی طرف گامزن ہے تو کمیشن نے امتحانات کے انعقاد کے لیے سات سے گیارہ نومبر کی نئی تاریخوں کا حتمی اعلان کر دیا ہے جو خوش آئند ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنرل ریکروٹمنٹ ٹیسٹ فیز تھری کے تحت ہونے والے ان امتحانات میں شرکت کرنے والے تمام امیدواروں کو یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ وہ تیس اکتوبر کو لازمی طور پر اپنی رول نمبر سلپس یا ایڈمیشن سرٹیفکیٹس آن لائن حاصل کر لیں۔ ان دستاویزات کے بغیر کسی بھی امیدوار کو امتحانی ہال میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس لیے اس امر کو یقینی بنانا ہر امیدوار کی اپنی انفرادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا یہ ذمے دارانہ رویہ اس بات کا غماز ہے کہ ادارہ امتحان دینے والے ہر امیدوار کی سلامتی اور سہولت کو سب سے زیادہ ترجیح دیتا ہے اور حالات جیسے بھی ہوں، میرٹ اور شفافیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم رہتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے متعدد مواقع آئے ہیں جب ناگزیر حالات کے پیش نظر امتحانات کی تاریخوں میں ردوبدل کیا گیا اور بعد میں بہتر انتظامات کے ساتھ ٹیسٹ کامیابی سے منعقد کیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیدواروں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کمیشن کی ویب سائٹ کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں تاکہ اگر اس دوران کوئی مزید ہدایات جاری ہوں تو ان سے بروقت آگاہی حاصل کی جا سکے۔ ترجمان کے مطابق کسی بھی قسم کی تکنیکی معاونت کے لیے بھی کمیشن کے امدادی دفاتر کام کر رہے ہیں جو امیدواروں کی رہنمائی کے لیے ہم وقت تیار رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے تمام تعلیمی حلقوں اور امیدواروں نے اس نئے شیڈول کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ اکتوبر کے وسط میں امتحانات ملتوی ہونے کے بعد سے امیدوار بے یقینی کا شکار تھے اور نئی تاریخوں کے منتظر تھے۔ اب جب کہ سات سے گیارہ نومبر کی تاریخیں سامنے آ چکی ہیں تو امیدواروں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور اپنی ادھوری تیاری کو مکمل کرنے کے لیے بھرپور محنت شروع کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ شیڈول اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ رواں برس کا ریکروٹمنٹ کا پورا عمل اپنے طے شدہ اہداف کے قریب تر رہے گا اور تاخیر کے باوجود اس سیزن کے تمام مراحل خوش اسلوبی سے طے پا جائیں گے۔ وفاقی سطح پر نوکریوں کے حصول کے لیے یہ امتحانات بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جہاں کامیابی کے بعد امیدوار اگلے مراحل کے لیے کوالیفائی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں تمام متعلقہ امیدواروں کو ایک بار پھر یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ تیس اکتوبر کو ویب سائٹ سے اپنے ایڈمیشن سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد ان پر درج تمام ہدایات کو غور سے پڑھ لیں تاکہ امتحانی دن کسی ناخوشگوار صورتحال یا ابہام کا شکار نہ ہوں اور پرامن ماحول میں اپنا پرچہ حل کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d9%88%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعظم کروم بک اسکیم 2026: طلبا کے لیے اہلیت اور اپلائی کرنے کا طریقہ کار جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-2026-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-2026-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 12:38:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[انٹر_بورڈز_کوارڈینیشن_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-2026-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ملک بھر کے ہونہار طلبا کو ڈیجیٹل وسائل فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم کروم بک اسکیم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ملک بھر کے ذہین اور ہونہار طلبا کے لیے ایک انتہائی اہم تعلیمی اقدام کے طور پر وزیراعظم کروم بک اسکیم 2026 شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس جدید ڈیجیٹل منصوبے کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو جدید تعلیمی وسائل، آن لائن ریسرچ اور ڈیجیٹل دنیا سے ہم آہنگ کرنا ہے تاکہ وہ تعلیمی میدان میں مزید بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس فلاحی اسکیم کے تحت ملک کے مختلف تعلیمی بورڈز کے تعاون سے پانچ لاکھ گوگل کروم بکس تقسیم کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ ڈیوائسز شفاف انداز میں ملک کے طول و عرض میں موجود مستحق اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا میں تقسیم کی جائیں گی تاکہ ان کی تعلیمی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کے لیے مرتب کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق اہلیت کا معیار تمام صوبوں اور علاقوں کے لحاظ سے انتہائی منصفانہ انداز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرکاری اور پبلک اسکولوں کے نویں جماعت کے وہ نمایاں طلبا اس کے اہل ہوں گے جنہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کے لیے اہلیت کا دائرہ کار تھوڑا وسیع رکھا گیا ہے جہاں نویں اور دسویں جماعت دونوں کے ٹاپ پرفارمنگ اور نمایاں پوزیشن ہولڈر طلبا اس اسکیم میں شامل ہونے کے حقدار قرار دیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طلبا کی آسانی کے لیے انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کے تحت ایک مخصوص ڈیجیٹل پورٹل قائم کر دیا گیا ہے جس کا ایڈریس pmychromebooks.ibcc.edu.pk رکھا گیا ہے۔ اس آن لائن پورٹل پر جا کر طلبا اپنا تعلیمی ریکارڈ چیک کرنے کے ساتھ ساتھ درخواست دینے کا عمل بھی مکمل کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آن لائن پورٹل پر اپلائی کرنے کا طریقہ کار انتہائی آسان بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی طالب علم کو زحمت کا سامنا نہ ہو۔ سب سے پہلے سرکاری ویب سائٹ پر جا کر اسٹوڈنٹ ریکارڈ سرچ یا اپلائی کے سیکشن کا انتخاب کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے بعد طالب علم کو اپنے متعلقہ تعلیمی بورڈ کا انتخاب کرنا ہوگا جس کے تحت اس نے اپنا امتحان پاس کیا تھا تاکہ سسٹم اس کا ڈیٹا درست طریقے سے تلاش کر سکے۔ بورڈ کے انتخاب کے بعد طالب علم کو اپنا درست ب فارم یا شناختی کارڈ نمبر درج کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شناختی کارڈ یا ب فارم کے علاوہ رول نمبر یا رجسٹریشن نمبر بھی درج کرنا ضروری ہے تاکہ شناخت کا عمل مکمل ہو سکے۔ اس کے بعد سرکاری تعلیمی دستاویزات اور داخلہ فارم کے مطابق اپنی درست تاریخ پیدائش درج کرنا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام مطلوبہ معلومات درج کرنے کے بعد فائنڈ مائی ریکارڈ کے بٹن پر کلک کرنا ہوگا جس سے طالب علم کو اپنا نام، اسکول کا نام اور دیگر کوائف اسکرین پر نظر آئیں گے۔ ان تمام معلومات کی تصدیق کرنے کے بعد طالب علم اگلی منزل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہی نہیں بلکہ حکام کی جانب سے یہ نکتہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پورٹل پر محض ریکارڈ مل جانا یا نام ظاہر ہو جانا کروم بک کی حتمی فراہمی کی کوئی ضمانت نہیں ہے بلکہ اس کے لیے حتمی جانچ پڑتال کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے طلبا کو چند ضروری دستاویزات بھی ڈیجیٹل فارمیٹ میں اپ لوڈ کرنا ہوں گی جن کے بغیر عمل ادھورا تصور ہوگا۔ ان تمام دستاویزات کی فائل کا سائز تین سو کلو بائٹس سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے تاکہ پورٹل پر بوجھ نہ پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپ لوڈ کی جانے والی دستاویزات میں طالب علم کی تازہ ترین پاسپورٹ سائز رنگین تصویر شامل ہے جو جے پی جی یا پی این جی فارمیٹ میں ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ میٹرک کی مارک شیٹ بھی لازمی جزو قرار دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طالب علم کے ب فارم یا شناختی کارڈ کی مصدقہ کاپی بھی اس ڈیجیٹل درخواست کا حصہ ہوگی۔ اس کے علاوہ والد یا قانونی سرپرست کے قومی شناختی کارڈ کی مصدقہ کاپی بھی جمع کروانا لازمی قرار دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ تعلیمی اداروں کا یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ اور غریب و ہونہار طلبا کی حوصلہ افزائی کی جانب ایک تاریخی قدم ثابت ہوگا، جس سے طلبا کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-2026-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بچے پر تشدد کرنے والے ٹیچر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d8%a8%da%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d9%b9%db%8c%da%86%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b3%d8%ae%d8%aa/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d8%a8%da%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d9%b9%db%8c%da%86%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b3%d8%ae%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 09:38:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول_ٹیچر]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_پر_تشدد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%da%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d9%b9%db%8c%da%86%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b3%d8%ae%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کمسن طالب علم کو تشدد کا نشانہ بنانے والے استاد کی گرفتاری پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس تناظر میں حالیہ دنوں میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا جس نے والدین اور سول سوسائٹی کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معصوم طالب علم کو اسکول کے اندر بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنانے والے استاد کی گھناؤنی حرکت پر ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس قسم کے واقعات تعلیمی اداروں کے بنیادی مقاصد اور ماحول پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر ابھرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بروقت کارروائی عمل میں لائی اور بچے پر تشدد کرنے والے اسکول ٹیچر کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے تمام ضروری مراحل شروع کر دیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس اندوہناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزم استاد کی گرفتاری کی تصویر اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے پیغام میں بچوں پر تشدد کرنے والے عناصر کے خلاف انتہائی سخت موقف اپناتے ہوئے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی دارالحکومت میں بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں حکومتی سطح پر یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ معصوم بچوں کے خلاف اس قسم کی بربریت کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں سختی سے ہدایت جاری کی کہ اس نوعیت کے مجرموں کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے اپنے جاری کردہ پیغام میں اسکول ٹیچر کی اس سفاکانہ حرکت پر کڑے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ بچے پر تشدد کرنے والے ایسے افراد عبرت کا نشان بننے چاہیے۔ انہوں نے یہاں تک ہدایت دی کہ اس کے چہرے پر جوتے مارے جائیں تاکہ اس پر واضح نشان پڑ جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین تعلیم اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو خوف اور تشدد سے پاک کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اساتذہ کا کام بچوں کی تربیت کرنا اور انہیں زیور علم سے آراستہ کرنا ہے نہ کہ انہیں جسمانی یا ذہنی اذیت دینا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین نے بھی حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے درندہ صفت اساتذہ کو ملازمت سے ہمیشہ کے لیے فارغ کیا جائے تاکہ وہ کسی اور معصوم کی زندگی تباہ نہ کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے عناصر کی موجودگی معاشرے کے لیے ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ تعلیم پنجاب کو بھی اس واقعے کے بعد مزید فعال کر دیا گیا ہے تاکہ وہ تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں اساتذہ کے رویوں کی کڑی مانیٹرنگ کریں۔ اس حوالے سے ایک نیا لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت اسکولوں میں جسمانی سزا پر مکمل پابندی کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم استاد کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور عدالت میں مضبوط چالان پیش کیا جائے گا۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ کیس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے تاکہ ملزم کو اس کے مکروہ فعل کی کڑی سزا مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر بھی عوام کی بڑی تعداد نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس سخت بیان اور فوری کارروائی کی بھرپور تائید کی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بچوں پر تشدد کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی عبرت ناک سلوک ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میں قانون کا خوف پیدا ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ریاست ان کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔ امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایسے فیصلے معاشرے میں ایک مثبت پیغام دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d8%a8%da%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d9%b9%db%8c%da%86%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b3%d8%ae%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ پبلک سروس کمیشن میں اصلاحات، عمر کی حد اور مواقع بڑھا دیے گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d9%be%d8%a8%d9%84%da%a9-%d8%b3%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d9%85%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d9%be%d8%a8%d9%84%da%a9-%d8%b3%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d9%85%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 12:17:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات_میں_تبدیلی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار_کے_مواقع]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_نوکریاں]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_پبلک_سروس_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d9%be%d8%a8%d9%84%da%a9-%d8%b3%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d9%85%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[سندھ کابینہ نے کمیشن کے تحت امتحان کی عمر کی حد 33 سال اور مواقع 5 کرنے کی منظوری دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ حکومت نے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مزید مواقع فراہم کرنے اور پبلک سروس کمیشن کے نظام کو مزید شفاف اور بہتر بنانے کے لیے اہم نوعیت کے اصلاحاتی فیصلوں کی منظوری دی ہے جس سے امیدواروں کو بڑی سہولت ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے انتظامی اور تعلیمی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران صوبائی کابینہ نے سندھ پبلک سروس کمیشن میں جامع اصلاحات کی منظوری دی جن کا مقصد نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانا اور امتحانی عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ مسابقتی امتحان یعنی سی سی ای کے لیے عمر کی بالائی حد کو تیس سال سے بڑھا کر تینتیس سال کر دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمر کی حد میں اس اضافے سے ان تمام امیدواروں کو امتحان میں شرکت کا موقع مل سکے گا جو مقررہ عمر کی وجہ سے پہلے اس عمل سے باہر ہو جاتے تھے اور اس فیصلے کو طلبہ کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمر کی حد کے علاوہ صوبائی کابینہ نے سی سی ای امتحان میں شرکت کے مواقع کی تعداد کو بھی تین سے بڑھا کر پانچ کرنے کی منظوری دی ہے جس سے امیدواروں کو تیاری اور کامیابی کے لیے مزید مواقع میسر آئیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امتحان میں شرکت کے مواقع بڑھنے سے نوجوانوں میں مقابلے کا رجحان مزید بہتر ہوگا اور وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں گے جبکہ انہیں ناکامی کی صورت میں دوبارہ کوشش کرنے کا موقع بھی ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں امتحان کے معیار اور پاسنگ مارکس کے حوالے سے بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ امیدوار کامیاب ہو کر سرکاری خدمات کا حصہ بن سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے بتایا کہ کابینہ نے مشترکہ مسابقتی امتحان دو ہزار چھبیس کے لیے کامیابی کا کم از کم معیار چالیس فیصد سے کم کر کے تینتیس فیصد کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کا بنیادی مقصد صوبے کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بھی سول سروس میں آ کر اپنی خدمات انجام دے سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معیار میں اس نرمی سے میرٹ اور مسابقت کا عمل متاثر کیے بغیر امیدواروں کے لیے کامیابی کے امکانات میں اضافہ ہوگا اور سرکاری محکموں میں خالی اسامیاں بروقت پر کی جا سکیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ کابینہ نے امتحان کے طریقہ کار کو جدید بنانے کے لیے بھی ایک اہم قدم اٹھایا ہے جس کے تحت اب ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے کے مطابق ایک پرچے پر مشتمل امتحانات کے لیے کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹنگ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے امتحانی نتائج میں شفافیت اور تیزی آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپیوٹرائزڈ نظام کے نفاذ سے کاپی کلچر اور انسانی مداخلت کا عنصر کم ہوگا اور قابلیت کی بنیاد پر شفاف انداز میں امیدواروں کا انتخاب ممکن ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت سندھ کا یہ اقدام صوبے میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولنے اور سرکاری محکموں میں میرٹ کی بالادستی قائم کرنے کی سمت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید کی جا رہی ہے کہ ان اصلاحات کے نفاذ سے سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والے امتحانات کا معیار مزید بلند ہوگا اور صوبے کو بہترین افسران مل سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d9%be%d8%a8%d9%84%da%a9-%d8%b3%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d9%85%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 09:37:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_مواقع]]></category>
		<category><![CDATA[دانش_اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[دانش_اسکول_سسٹم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم نے کہا ہے کہ ذہانت کسی خاص طبقے کی میراث نہیں، مستحق طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دانش اسکول کا نظام معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنے کی ایک سنجیدہ اور عملی کوشش ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ دانش اسکول کی ایک پروقار افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اس موقع پر تقریب میں موجود تمام طلبہ، ان کے والدین اور ان کے اساتذہ کی انتھک خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران بڑی اسکرین پر دکھائی جانے والی دستاویزی فلموں اور بچوں کی کامیابی کی دردناک مگر پرامید کہانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ مناظر دل کو چھونے کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام بھی ہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک ہونہار طالبہ کا خصوصی طور پر ذکر کیا جس نے کم عمری میں ہی اپنے والد کا سایہ کھو دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ والد کی وفات کے بعد اس بچی کے تعلیمی خواب ادھورے رہ جانے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا تھا کیونکہ خاندان کے پاس کسی بھی قسم کے مالی وسائل کی شدید کمی تھی۔ اس کے باوجود اس باحوصلہ بچی نے نامساعد حالات میں ہمت نہ ہاری اور مسلسل محنت سے اپنی منزل حاصل کی تاکہ بڑی ہو کر انسانیت کی خدمت کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی تمام کامیابیاں اس اٹل حقیقت کو واضح انداز میں اجاگر کرتی ہیں کہ ذہانت اور قابلیت کبھی بھی کسی مخصوص طبقے کی جاگیر نہیں ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست کی جانب سے ملک کے ہر بچے کو آگے بڑھنے کے یکساں اور منصفانہ مواقع میسر کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہباز شریف کا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ بچے کا تعلق ملک کے کسی امیر ترین گھرانے سے ہے یا پھر ایسے پس ماندہ خاندان سے جس نے زندگی کی کٹھن راہوں میں اپنے والدین کو کھو دیا تھا۔ پاکستان کے اندر لاکھوں خاندان ایسے آباد ہیں جو کھیتوں میں دن رات محنت کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسانوں اور محنت کشوں کی ماہانہ آمدنی اتنی محدود ہوتی ہے کہ اس سے بم مشکل گھر کے روزمرہ اخراجات پورے ہو پاتے ہیں، اور ایسے کٹھن پس منظر میں بچوں کی اعلیٰ تعلیم کا حصول ایک بہت بڑا اور کٹھن چیلنج بن جاتا ہے۔ اگر غریب گھرانوں کے بچے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جائیں تو یہ بہت بڑی معاشرتی ناانصافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے گہرے دکھ کے ساتھ نشاندہی کی کہ اگر ایک طرف غریب گھرانوں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم رہیں اور دوسری طرف صاحبِ ثروت طبقے کے بچے ملکی اور غیر ملکی بہترین اداروں میں تعلیم حاصل کریں تو یہ معاشرتی عدم مساوات کو جنم دیتا ہے۔ اسی فرق کو ختم کرنے کے لیے دانش اسکولوں کا تصور عمل میں لایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ پنجاب کے صوبے میں دانش اسکولوں کے اس اہم فلاحی منصوبے کا آغاز سال 2010 میں کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد پس ماندہ اور دور دراز علاقوں کے مستحق بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا تھا۔ اس منصوبے کا اصل ہدف یہ تھا کہ غریب بچے بھی اپنی محنت کے بل بوتے پر زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے اپنے خطاب میں قیامِ پاکستان کے سنہری دور اور اس وقت کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 1947 میں ہجرت کر کے آنے والوں نے اپنے تمام گھر بار چھوڑے تھے مگر ان کی امیدیں ایک ایسے خطے سے جڑی تھیں جہاں میرٹ اور انصاف کا بول بالا ہو۔ آج ہمیں بطور قوم خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہمیں سنجیدگی سے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے اکابرین اور بزرگوں کے ان خوابوں کو عملی جامہ پہنانے میں کہاں تک کامیاب ہو پائے ہیں جو انہوں نے اس ملک کے لیے دیکھے تھے۔ پاکستان میں ترقی اور تعلیم کے مواقع کسی بھی بچے کی مالی حیثیت یا خاندانی پس منظر کی بنیاد پر طے نہیں ہونے چاہئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دانش اسکول ملک کے ایسے تمام ہونہار بچوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن کی حیثیت رکھتے ہیں جو مناسب وسائل ملنے پر اپنی ذاتی زندگیاں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بچے نہ صرف اپنے خاندانوں کا معاشی سہارا بنتے ہیں بلکہ ملکی ترقی اور فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افتتاحی تقریب میں طلبہ اور ان کے والدین کے علاوہ اساتذہ، وفاقی وزرا، مختلف برادر ممالک کے سفارت کاروں اور اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے اس تعلیمی اقدام کو سراہا اور اسے غریب طبقے کے لیے امید کا بڑا سہارا قرار دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%b4-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب کے سرکاری اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 14:18:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول_اوقات_کار]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول_ایجوکیشن]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول_ٹائمنگ]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کے لیے 16 اکتوبر سے نافذ العمل ہونے والے نئے اوقات کار کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے جاری ہونے والے اوقات کار کا اطلاق 16 اکتوبر 2026 سے ہو گا جو آئندہ برس 31 مارچ 2027 تک نافذ العمل رہیں گے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کا مقصد تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر بنانا اور موسم کی تبدیلی کے پیش نظر نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر کے سنگل شفٹ اسکول پیر سے لے کر جمعرات تک روزانہ صبح 8 بج کر 45 منٹ سے لے کر دوپہر ایک بج کر 30 منٹ تک کھلیں گے۔ ان سنگل شفٹ اسکولوں میں ہفتے کے روز یعنی جمعہ کے مبارک دن کے اوقات کار مختلف ہوں گے تاکہ تعلیمی عمل اور عبادات کا بہترین امتزاج رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمعہ کے روز سنگل شفٹ اسکولوں میں پڑھائی کا وقت صبح 8 بج کر 45 منٹ سے شروع ہو گا اور دوپہر 12 بج کر 30 منٹ پر چھٹی ہو جائے گی۔ اس دوران طلبا اور اساتذہ کو جمعہ کی نماز اور دیگر ضروری امور کے لیے بروقت فارغ کیا جائے گا تاکہ کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ڈبل شفٹ نظام کے تحت چلنے والے سرکاری اسکولوں کے لیے بھی تفصیلی اوقات کار کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ڈبل شفٹ اسکولوں میں صبح کی شفٹ پیر سے جمعرات تک صبح 8 بج کر 45 منٹ سے دوپہر ایک بج کر 15 منٹ تک جاری رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈبل شفٹ اسکولوں میں جمعہ کے روز صبح کی شفٹ کے اوقات بھی تبدیل کیے گئے ہیں جس کے تحت یہ شفٹ صبح 8 بج کر 45 منٹ سے شروع ہو کر دوپہر 12 بج کر 30 منٹ پر اختتام پذیر ہو گی۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام متعلقہ شفٹوں کے لیے الگ الگ ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ انتظامی امور میں کوئی ابہام نہ رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈبل شفٹ اسکولوں میں دوسری یا دوپہر کی شفٹ کا آغاز پیر سے جمعرات کے دوران دوپہر ڈیڑھ بجے ہو گا جو کہ شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہے گی۔ اس دوپہر کی شفٹ کے ذریعے تعلیمی اداروں میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے جگہ اور وقت کا موثر استعمال یقینی بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمعہ کے روز ڈبل شفٹ اسکولوں کی دوسری شفٹ کے اوقات کار میں بھی ترامیم کی گئی ہیں تاکہ مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے خاطر خواہ وقت مل سکے۔ جمعہ کے روز یہ دوسری شفٹ دوپہر دو بجے سے شروع ہو گی اور شام ساڑھے چار بجے تک اپنے اختتام کو پہنچے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے کے تمام اضلاع کے چیف ایگزیکٹو افسران کو یہ سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ان نئے اوقات کار پر فوری اور مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ سی ای اوز کو اس بات کا بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی غفلت کے بغیر اسکولوں میں ان احکامات پر عمل پیرا ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ نوٹیفکیشن میں ایک اہم انتظامی لچک بھی رکھی گئی ہے جس کے تحت ضلعی حکام کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق تمام سی ای اوز ایجوکیشن کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ طالبات کے اسکولوں کے اوقات میں موجود پندرہ منٹ کے فرق کو مقامی ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ لچک دار پالیسی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بنائی گئی ہے تاکہ گرلز اسکولوں میں طالبات اور ان کے والدین کو آمد و رفت کے دوران کسی بھی قسم کی حفاظتی یا ٹریفک سے متعلق مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور علاقائی حالات کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے جو کہ ایک احسن قدم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی ماہرین اور والدین نے حکومت کی جانب سے اسکولوں کے اوقات کار کے بروقت تعین کو سراہا ہے کیونکہ اس سے موسم سرما کی آمد سے قبل بچوں کے اسکول جانے کے اوقات میں توازن قائم ہو جاتا ہے۔ صبح کے وقت سردی بڑھنے کے پیش نظر یہ اوقات کار بچوں کی صحت کے لیے بھی موزوں قرار دیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب بھر کے تمام اضلاع کے اسکولوں میں اس نوٹیفکیشن کی کاپیاں ارسال کر دی گئی ہیں اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسکول کے سربراہان کو اس سے فوری طور پر آگاہ کریں۔ تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں 16 اکتوبر سے انہی نئے اوقات کے مطابق باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین اور طلبا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے جاری کردہ اسکول اوقات کار کی مکمل پابندی کریں تاکہ تعلیمی اداروں کا نظیم و ضبط بہتر انداز میں چلتا رہے۔ متعلقہ تعلیمی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس فیصلے سے بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں میٹرک سالانہ امتحان II کل معمول کے مطابق ہوگا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%8c%d9%b9%d8%b1%da%a9-%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%a7%d9%86%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%8c%d9%b9%d8%b1%da%a9-%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%a7%d9%86%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 14:17:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/167/</guid>

					<description><![CDATA[تعلیمی بورڈ کمیٹی پشاور کے مطابق بارہ اکتوبر کو میٹرک فزکس کا پرچہ طے شدہ شیڈول کے تحت لیا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے تعلیمی حلقوں میں حالیہ انتظامی تبدیلیوں اور سیاسی صورتحال کے پیش نظر طلبہ اور والدین کے خدشات کو دور کرتے ہوئے اہم اعلان کیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں میٹرک سالانہ امتحان کا دوسرا مرحلہ مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی دارالحکومت سمیت تمام متعلقہ اضلاع میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ طلبہ کا تعلیمی حرج نہ ہو۔ متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ امتحانات کے انعقاد میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیئرمین تعلیمی بورڈ کمیٹی پشاور نے اس حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ کل ہونے والے امتحانی پرچے اپنے وقت پر ہی لیے جائیں گے۔ طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بغیر کسی زحمت یا پریشانی کے اپنے امتحانی مراکز کا رخ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقررہ شیڈول کے مطابق بارہ اکتوبر بروز پیر کو میٹرک کا فزکس کا پرچہ لیا جائے گا۔ تمام تعلیمی بورڈز کے زیر انتظام امتحانی عملے کو اس حوالے سے ضروری احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ امتحانات کے پُرامن اور شفاف انعقاد کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ امتحانی مراکز کے باہر سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب تعلیمی بورڈز کے عہدیداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر صوبے میں مجموعی امن و امان یا حالات کی وجہ سے کوئی تبدیلی ناگزیر ہوئی تو شیڈول میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم فی الحال تمام طے شدہ امتحانات اپنے وقت پر ہی ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین اور طلبہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی افواہ پر دھیان نہ دیں اور صرف سرکاری اور مستند ذرائع سے ملنے والی ہدایات پر عمل کریں۔ تعلیمی بورڈز کی آفیشل ویب سائٹس پر بھی اس حوالے سے معلومات اپ ڈیٹ کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے کے مختلف تعلیمی بورڈز کے سربراہان نے امتحانی مراکز کے دورے کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے تاکہ انتظامات کا خود جائزہ لیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد امتحانات کے دوران کسی بھی قسم کی انتظامی خامی کو بروقت دور کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور تعلیمی اداروں کی یہ کوشش ہے کہ نوجوان نسل کا تعلیمی سال بلا تعطل مکمل ہو۔ تمام متعلقہ محکمے آپس میں قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نپٹا جا سکے جو تعلیمی عمل کو متاثر کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امتحانات میں شرکت کرنے والے طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت سے کچھ دیر قبل اپنے امتحانی مراکز میں پہنچ جائیں۔ رول نمبر سلپس اور دیگر ضروری اشیاء ساتھ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امتحانی عملے کو بھی سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شفافیت کو ہر صورت یقینی بنائیں اور نقل یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو سختی سے روکا جائے۔ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%8c%d9%b9%d8%b1%da%a9-%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%a7%d9%86%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
