<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تعلیمی_خبریں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c_%d8%ae%d8%a8%d8%b1%db%8c%da%ba/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>تعلیمی_خبریں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>گجرانوالہ بورڈ: بینائی سے محروم طالبہ زینت کی گیارہویں جماعت کے امتحان میں شاندار کامیابی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/2176/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/2176/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 17:37:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[بورڈ_امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خصوصی_بچے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زینت]]></category>
		<category><![CDATA[طالبہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%da%af%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%d8%a8%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%b1%d9%88%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی باہمت طالبہ نے محدود وسائل کے باوجود 600 میں سے 552 نمبر حاصل کر کے اپنی ذہانت کا لوہا منوا لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">تعلیم کے میدان میں عزم و ہمت کی ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے گجرانوالہ بورڈ کے گیارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں بینائی سے محروم طالبہ زینت نے نمایاں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اس ہونہار طالبہ نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر انسان میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو تو جسمانی معذوری کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق زینت نے گیارہویں جماعت کے امتحانات میں 600 میں سے 552 نمبر حاصل کیے۔ زینت کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے اور ان کے والد ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ محدود مالی وسائل کے باوجود زینت نے اپنی محنت اور لگن سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قابل ذکر بات یہ ہے کہ گجرانوالہ میں بینائی سے محروم بچوں کے لیے مڈل تک ہی تعلیمی سہولیات دستیاب ہیں، جبکہ ہائی سکول یا کالج کی سطح پر خصوصی تعلیمی اداروں کا فقدان ہے۔ اس مشکل صورتحال کے باوجود زینت نے ہمت نہیں ہاری اور ایک سرکاری کالج میں عام طالبات کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زینت کی اس کامیابی نے نہ صرف ان کے والدین بلکہ پورے علاقے کے لیے فخر کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ دیگر طالب علموں کے لیے بھی ایک مثال قائم کی ہے۔ زینت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تعلیم کا سفر اسی عزم کے ساتھ جاری رکھیں گی اور اگلے سال بھی بورڈ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنی گفتگو میں زینت نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے کسی اہم سرکاری عہدے پر فائز ہونا چاہتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکتی ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کر سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زینت کی اس کامیابی پر تعلیمی حلقوں میں انہیں سراہا جا رہا ہے اور ان کی ہمت کی داد دی جا رہی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ زینت جیسے باصلاحیت طلبا کو اگر مناسب سہولیات اور حوصلہ افزائی ملے تو وہ ملک کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گجرانوالہ بورڈ کے نتائج میں زینت کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ذہانت کسی کی محتاج نہیں ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں ایسے باہمت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زینت کے والدین نے اپنی بیٹی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی بیٹی پر فخر ہے جس نے تمام تر مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے کہا کہ زینت کی کامیابی ان کی اپنی انتھک محنت اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ زینت جیسے طلبا کے لیے خصوصی تعلیمی اداروں میں مزید سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔ اس طرح کے اقدامات سے معاشرے میں تعلیم کے فروغ میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زینت کا عزم ہے کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں گی اور گولڈ میڈل حاصل کرنے کا ہدف پورا کریں گی۔ ان کی کہانی ان تمام لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے جو زندگی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گجرانوالہ کے شہریوں اور تعلیمی حلقوں نے زینت کی اس شاندار کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ زینت کی یہ کامیابی دیگر طالب علموں کے لیے بھی تحریک کا باعث بنے گی اور وہ بھی تعلیم کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زینت کی کامیابی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر تعلیمی اداروں میں مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تو خصوصی بچوں کی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر حکومتی سطح پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، زینت نے اپنے اساتذہ اور والدین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی ہر قدم پر رہنمائی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی میں ان کے اساتذہ کی محنت کا بھی بڑا حصہ ہے جنہوں نے انہیں بہترین تعلیمی ماحول فراہم کیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/2176/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جامعہ کراچی میں تقریبات کے انعقاد سے قبل وائس چانسلر کی اجازت لازمی قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/2023/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/2023/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 17:17:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایونٹ_پرامشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_یونیورسٹیز]]></category>
		<category><![CDATA[پروفیسر_عمران_احمد_صدیقی]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_کراچی_نوٹیفکیشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رجسٹرار_آفیس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%af-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[جامعہ کراچی میں کسی بھی تقریب یا سیمینار کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دے دی گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی میں تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کا مقصد اداروں کے اندر نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے کے تحت اب کیمپس کی حد تک ہر قسم کی تقریبات کے انعقاد کے لیے ضابطہ کار کو سخت کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی آف کراچی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عمران احمد صدیقی کی جانب سے باضابطہ طور پر ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں تمام متعلقہ شعبہ جات کو نئی پالیسی سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کیمپس میں کسی بھی قسم کے پروگرام یا تقریب کی اجازت کے بغیر منعقد کرنے پر پابندی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جامعہ کراچی کے اندر کسی بھی پروگرام، سیمینار، کانفرنس یا دیگر تقریبات کے انعقاد سے قبل وائس چانسلر سے پیشگی اجازت حاصل کرنا اب لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اجازت باقاعدہ طور پر رجسٹرار آفس کے توسط سے حاصل کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی کے اس نئے حکم نامے کا اطلاق یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات، ڈینز، ڈائریکٹرز، چیئرپرسنز، انچارجز اور تمام سیکشنل ہیڈز پر یکساں طور پر ہوگا اور سب کو ان ہدایات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹیفکیشن میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ تقریب کے انعقاد کے خواہش مند تمام متعلقہ شعبہ جات کو اپنی درخواست تجویز کردہ پروگرام کی تاریخ سے کم از کم پندرہ دن قبل جمع کروانا ہوگی تاکہ تمام امور کا وقت پر جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست کے ساتھ پروگرام کی مکمل تفصیلات، مقررہ پروفارمہ اور اس سے متعلقہ تمام معاون دستاویزات منسلک کرنا لازمی قرار دی گئی ہیں تاکہ مجاز اتھارٹی کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ کسی بھی پیشگی منظوری کے بغیر کسی تقریب کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی سے بذریعہ رجسٹرار پیشگی منظوری حاصل کیے بغیر کیمپس کے اندر کوئی بھی تقریب منعقد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی اور تمام شعبے اس کے پابند ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مہمانِ خصوصی اور معزز شخصیات کی دعوت کے حوالے سے بھی سخت ضابطہ کار طے کر دیا گیا ہے جس کے تحت کسی بھی وزیر، معزز شخصیت یا دیگر اہم مہمان کو براہ راست دعوت نامے نہیں بھیجے جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے کے مطابق تمام مہمانِ خصوصی یا اہم شخصیات کو دعوت نامے صرف جامعہ کراچی کے رجسٹرار آفس کی جانب سے ہی جاری کیے جائیں گے، جو کہ متعلقہ شعبے یا سیکشن کی درخواست پر مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شعبہ جات یا مختلف سیکشنز خود سے کسی بھی مہمان کو براہ راست دعوت نامہ ارسال کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے اور اس حوالے سے تمام تر کارروائی صرف مرکزی دفتر کے ذریعے ہی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ان ہدایات کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لیا جائے گا اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جامعہ کے مروجہ قوانین اور ضوابط کے تحت سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ کے لیے اس قسم کی کوتاہی سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ افراد اور شعبہ جات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان نئی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ جامعہ کا انتظامی امور احسن طریقے سے چلتا رہے اور کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/2023/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایم ڈی کیٹ متنازع نتائج، لاہور ہائیکورٹ کا طلبہ کے حق میں بڑا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1088/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1088/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 12:36:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانی_شفافیت]]></category>
		<category><![CDATA[ایم_ڈی_کیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_احسن_رضا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوالیہ_پیپرز]]></category>
		<category><![CDATA[طلبہ_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%88%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%b9-%d9%85%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9-%d9%86%d8%aa%d8%a7%d8%a6%d8%ac-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[لاہور ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے سوالیہ پیپرز اور کوڈز ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے متنازع نتائج اور امتحانی طریقہ کار کے خلاف دائر کی جانے والی اہم درخواستوں پر ایک فیصلہ صادر کیا ہے۔ عدالت عالیہ کی جانب سے یہ احکامات طلبہ کے حقوق کے تحفظ اور امتحانی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ اس عدالتی فیصلے کو تعلیمی حلقوں اور طلبہ کی طرف سے ایک خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے جس سے تعلیمی میدان میں انصاف کی راہ ہموار ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق عدالت نے متعلقہ تعلیمی حکام کو سخت ہدایت کی ہے کہ امتحان کے سوالیہ پیپرز اور ان کے کوڈز فی الفور سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں۔ یہ اقدامات طلبہ کو اپنے نتائج کا درست جائزہ لینے اور کسی بھی قسم کے ابہام کو فوری طور پر دور کرنے میں بھرپور مدد فراہم کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس احسن رضا نے یہ اہم فیصلہ نوشاب اے خان اور دیگر کی طرف سے دائر کردہ آئینی درخواستوں پر باقاعدہ سماعت کے بعد سنایا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے امتحانی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور شفافیت کی کمی کو بھرپور انداز میں چیلنج کیا گیا تھا جس پر عدالت نے یہ احکامات جاری کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے تفصیلی اور دوٹوک ریمارکس میں اس امر پر زور دیا کہ امتحان کے فوری بعد طلبہ سے سوالیہ پیپرز واپس لے لینا شفافیت کے بنیادی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ اس منفی عمل سے طلبہ کو اپنے حاصل کردہ نمبروں اور سوالات کے درست جوابات پر اپنے اعتراضات دائر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی حکم کے مطابق سوالیہ پیپرز کو داخلہ کا پورا پراسیس مکمل ہونے تک متعلقہ ویب سائٹ پر ہی موجود رہنا چاہیے تاکہ کوئی بھی طالب علم کسی بھی مرحلے پر اسے باآسانی دیکھ سکے۔ اس ہدایت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پورا داخلہ اور جانچ پڑتال کا عمل مکمل طور پر شفاف اور طلبہ کی نظر میں بالکل واضح رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ کے امتحانات میں ماضی میں بھی مختلف قسم کے تنازعات سامنے آتے رہے ہیں جن کی وجہ سے نوجوان طلبہ میں ہمیشہ شدید بے چینی پائی جاتی تھی۔ عدالت کا یہ تازہ فیصلہ اس نوعیت کے تمام دیرینہ خدشات کو ختم کرنے میں انتہائی معاون اور مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طلبہ اور ان کے والدین نے عدالت عالیہ کے اس تاریخی فیصلے پر بھرپور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف کی فراہمی کی طرف ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے میڈیکل کے داخلوں کے منتظر ہزاروں غریب اور ہونہار طلبہ کا حق محفوظ ہو گیا ہے جو اس نظام سے تنگ تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے متعلقہ تعلیمی بورڈ اور متعلقہ حکام کو یہ بھی سخت پابند کیا ہے کہ وہ ان عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ داخلہ کے عمل میں کوئی مزید تاخیر نہ ہو۔ طبی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ امتحان کے پرچے پبلک کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے لیا جانے والا یہ امتحان ہمیشہ سے طلبہ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے جس میں لاکھوں امیدوار حصہ لیتے۔ اس امتحان کے نتائج پر اکثر مختلف قسم کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں جن کے حل کے لیے بالآخر عدالتی دروازے ہی کٹکھٹائے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ اس تناظر میں بھی انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اس سے آنے والے امتحانات میں بھی شفافیت کے نئے اور بہترین معیارات قائم ہوں گے۔ متعلقہ اداروں کو اب اس فیصلے کے بعد امتحانی نظام میں مزید بہتری لانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امتحانی عمل میں اس طرح کی اصلاحات سے نہ صرف طلبہ کا تعلیمی اداروں پر اعتماد بحال ہوگا بلکہ میرٹ کی بالادستی بھی یقینی بن سکے گی۔ عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم کو قانون دانوں نے بھی سراہا ہے اور اسے آئین کے دائرہ کار میں ایک بہترین فیصلہ قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیدواروں اور ان کے ترجمانوں کی طرف سے مسلسل یہ مؤقف اپنایا جاتا رہا ہے کہ اگر سوالیہ پیپرز سامنے نہ ہوں تو وہ اپنی درست پوزیشن واضح نہیں کر سکتے۔ اب عدالتی حکم کے بعد حکام کے پاس اس پر فوری عمل کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار باقی نہیں رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے تعلیمی نظام پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اب تمام تعلیمی بورڈز اور ٹیسٹنگ ایجنسیوں کو زیادہ احتیاط اور شفافیت کے ساتھ اپنے اممتحانی امور چلانا ہوں گے۔ طلبہ اور والدین نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عدالتی احکامات پر من و عن عمل درآمد ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1088/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں جنوری سے ڈی پی ٹی کلاسز کا آغاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/858/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/858/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 16:57:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[ایچ_ای_سی]]></category>
		<category><![CDATA[بینظیر_بھٹو_شہید_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_حسین_مہدی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a8%db%8c%d9%86%d8%b8%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%d9%b9%d9%88-%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی نے نرسنگ پروگرام شروع کرنے اور لاء کالج کے الحاق کے معاملات پر اہم بریفنگ دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں واقع بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی نے اعلان کیا ہے کہ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ آف فزیوتھراپی (ڈی پی ٹی) کے پہلے بیچ کی باقاعدہ کلاسز کا آغاز آئندہ ماہ جنوری سے کر دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک پریس بریفنگ کے دوران وائس چانسلر نے بتایا کہ ڈی پی ٹی پروگرام کے لیے اب تک 30 طلبہ کو داخلے دیے جا چکے ہیں جبکہ مزید داخلوں کا عمل تاحال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر حسین مہدی نے مزید انکشاف کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نرسنگ کا شعبہ شروع کرنے کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے جلد ہی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو این او سی کے حصول کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کرائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس بریفنگ میں یونیورسٹی سے الحاق شدہ ذوالفقار علی بھٹو لاء کالج کی حیثیت پر بھی بات کی گئی۔ وائس چانسلر نے واضح کیا کہ اس کالج کی موجودہ حیثیت کے حوالے سے کچھ قانونی اور انتظامی معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بتایا کہ چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی نے اس بات پر اعتراض اٹھایا ہے کہ لیاری یونیورسٹی کے پاس اپنی لاء فیکلٹی موجود نہیں ہے، جس کے بغیر کسی لاء کالج کو الحاق دینا ضابطوں کے مطابق نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائس چانسلر کے مطابق ماضی میں اس کالج کو یونیورسٹی کا کونسٹیٹیونٹ کالج قرار دیا گیا تھا، تاہم اس کا انتظام یونیورسٹی کے بجائے سندھ حکومت کے پاس رہا۔ بعد ازاں اسے الحاق شدہ کالج کا درجہ دے دیا گیا جو کہ اب متنازعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر حسین مہدی نے کہا کہ یونیورسٹی کو اب چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ اگر کمیٹی نے الحاق جاری رکھنے کی سفارش کی تو یونیورسٹی کو اپنا اسکول آف لاء قائم کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائس چانسلر نے لاء کالج کی انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کالج نے 50 نشستوں کے مقابلے میں 200 داخلے دیے جو کہ سراسر غیر قانونی عمل تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لاء کالج کی جانب سے ایک نجی یونیورسٹی سے نکالے گئے طلبہ کو داخلے دینے اور انہیں ڈگریاں جاری کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ تمام نئے پروگرامز کا آغاز ایچ ای سی کے قواعد و ضوابط کے مطابق کیا جائے گا تاکہ طلبہ کا مستقبل محفوظ رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاری یونیورسٹی کی جانب سے ان اقدامات کا مقصد علاقے کے طلبہ کو جدید طبی اور تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ فزیوتھراپی اور نرسنگ کے شعبوں کا قیام اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں وائس چانسلر نے یقین دلایا کہ یونیورسٹی لیاری کے عوام کے لیے معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں رہے گی اور تمام انتظامی امور کو شفاف بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/858/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جامعہ کراچی میں تعلیمی سال 2027 کے داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد، ہزاروں طلبا کی شرکت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/106/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/106/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:59:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[ایوننگ_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_سال_2027]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/106/</guid>

					<description><![CDATA[جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات میں داخلوں کے لیے 20 امتحانی مراکز قائم کیے گئے جہاں 7 ہزار سے زائد امیدواروں نے حصہ لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی میں تعلیمی سال 2027 کے مارننگ پروگرام کے لیے داخلہ ٹیسٹ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس عمل کے دوران یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں داخلے کے خواہشمند امیدواروں کی بڑی تعداد نے امتحانی مراکز کا رخ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد بی ایس، بی ایڈ آنرز، بی ای، ڈی پی ٹی اور فارمیسی کے مارننگ اور ایوننگ پروگرامز کے لیے کیا گیا ہے۔ ان پروگرامز میں داخلہ لینے کے لیے طلبہ و طالبات کی جانب سے گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، داخلہ ٹیسٹ کے عمل کو منظم بنانے کے لیے جامعہ کے مختلف شعبہ جات میں 20 امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے۔ ان مراکز میں امیدواروں کی بڑی تعداد نے پرسکون ماحول میں اپنے پرچے حل کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر اس داخلہ ٹیسٹ میں 7 ہزار سے زائد امیدواروں نے شرکت کی۔ یونیورسٹی حکام نے اس موقع پر امیدواروں کی سہولت کے لیے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی تھی تاکہ کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طلبہ اور ان کے والدین کی سہولت کے پیش نظر جامعہ کے تمام داخلی دروازوں پر پوائنٹس بسوں کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا تھا۔ یہ بسیں طلبہ کو امتحانی مراکز تک پہنچانے اور امتحان کے بعد واپس گیٹس تک لے جانے کی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی پاکستان کے سب سے بڑے تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہر سال ہزاروں طلبہ اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لیے داخلہ لیتے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے میرٹ پر مبنی داخلوں کے عمل کو شفاف رکھنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی سال 2027 کے لیے ہونے والے ان داخلہ ٹیسٹوں کے نتائج کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، جس کے بعد کامیاب امیدواروں کو یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں داخلے کی پیشکش کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی انتظامیہ نے اس موقع پر طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ داخلہ عمل سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ اور نوٹس بورڈز سے رابطے میں رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امتحانی مراکز میں سیکیورٹی اور نظم و ضبط کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ داخلہ ٹیسٹ کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ جاری ہے تاکہ میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی کے شعبہ داخلہ جات کے مطابق، داخلہ ٹیسٹ میں حصہ لینے والے امیدواروں کو اپنے ساتھ ضروری دستاویزات اور رول نمبر سلپ لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ٹیسٹ کے دوران کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو مراکز میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ کراچی کے اس تعلیمی سال کے داخلہ ٹیسٹ میں شرکت کرنے والے امیدواروں کا کہنا تھا کہ امتحانی مراکز میں انتظامات تسلی بخش تھے اور انہیں کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/106/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
