<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ترسیلات_زر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d8%b1%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%aa_%d8%b2%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 14:30:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ترسیلات_زر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سائبر حملے ٹیکنالوجی کی ناکامی نہیں، ناقص سیکیورٹی وجوہات ہیں: بلال بن ثاقب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/4718/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/4718/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 14:30:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک_آف_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[بلاک_چین]]></category>
		<category><![CDATA[بلال_بن_ثاقب]]></category>
		<category><![CDATA[بینکاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیوارا]]></category>
		<category><![CDATA[ترسیلات_زر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_اثاثے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فن_ٹیک]]></category>
		<category><![CDATA[لمز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d8%a8%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%b9%db%8c%da%a9%d9%86%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر مملکت بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ بینکوں اور ریگولیٹرز کو ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے سائبر سیکیورٹی مزید مضبوط بنانی ہوگی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیر مملکت اور چیئرمین پیوارا بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ سائبر حملے کسی بھی ٹیکنالوجی کی ناکامی کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ یہ سیکیورٹی پروٹوکول میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے یہ بات لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری کے مستقبل کے موضوع پر منعقدہ ایک مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلال بن ثاقب نے کہا کہ ان کمزوریوں کی بروقت نشاندہی کرنے کے بعد انہیں فوری طور پر دور کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر محفوظ، مستحکم اور مستقبل کے تمام تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی منظرنامے میں اپنا نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے مالیاتی جدت اور جدید ترین ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان محض ٹیکنالوجی کا صارف بننے کے بجائے اب عالمی مالیاتی نظام کے نئے قواعد کی تشکیل میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا ماننا تھا کہ ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین ٹیکنالوجی ملکی مالیاتی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی لانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلاک چین ٹیکنالوجی کے امکانات صرف بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ وسیع تر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل اثاثوں کے فروغ سے نہ صرف مالیاتی شمولیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی وسیع ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کو مستقبل کے مالیاتی نظام میں اپنا کردار خود متعین کرنا ہوگا جس کے لیے بینکوں اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے جدت کو فروغ دینے کے لیے ایک سازگار ریگولیٹری ماحول کا ہونا بھی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بتایا کہ ترسیلات زر کی لاگت میں محض دو سے تین فیصد کمی کرکے ملکی معیشت میں ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ اضافی رقم لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی تقریباً اکتالیس ارب ڈالر کی سالانہ ترسیلات زر کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترسیلات زر کی لاگت میں کمی لانے کے لیے پیوارا اور اسٹیٹ بینک اس وقت ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کی سطح پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ خلیجی ممالک سے پاکستان آنے والی ترسیلات زر کے لیے ایک خصوصی پائلٹ منصوبے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینکوں کو مشترکہ مالیاتی انفراسٹرکچر، کسٹڈی سروسز اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیوارا، اسٹیٹ بینک اور سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان مالیاتی جدت کے فروغ کے لیے باہمی اشتراکِ عمل سے کام کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرون ملک مقیم پاکستانی فن ٹیک ماہرین کی پیشہ ورانہ مہارتوں سے استفادہ کرنا ملک کے حق میں بہترین ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کا بینکاری شعبہ پاکستان کو مالیاتی جدت کا ایک بڑا علاقائی مرکز بنانے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/4718/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنے میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/4624/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/4624/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 02:57:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افرادی_قوت]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ترسیلات_زر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریکروٹمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_کمپنیاں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[لیبر_مارکیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ورکرز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سعودی کمپنیوں کو پاکستانی ورکرز کو ملازمتیں دینے کی ترغیب دی جا رہی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان لیبر مارکیٹ کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی ورکرز کی خدمات حاصل کرنے کے عمل کو مزید تیز کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سعودی کمپنیوں کو خصوصی طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پاکستانی افرادی قوت کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کرنے کے عمل کو یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی اوورسیز ریکروٹمنٹ فرم کے چیئرمین نے اس اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سعودی مارکیٹ میں پاکستانی ورکرز کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اقدام دونوں برادر ممالک کے درمیان لیبر مارکیٹ کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریکروٹمنٹ فرم کے حکام کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد مختلف شعبہ جات میں ہنر مند اور غیر ہنر مند پاکستانی ورکرز کی شمولیت کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنانا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی افرادی قوت کی خدمات کو ماضی میں بھی ہمیشہ سراہا جاتا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پیش رفت سے پاکستان میں بے روزگاری کی شرح میں کمی لانے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی قوی توقع کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اس فیصلے کو پاکستان کے لیے ایک نہایت مثبت معاشی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ دنوں میں مزید سعودی کمپنیاں پاکستانی ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر بھرتیوں کا باقاعدہ عمل شروع کریں گی۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات اور بھرتی کے طریقہ کار کا اعلان متعلقہ حکام کی جانب سے جلد متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے پیش نظر وہاں غیر ملکی افرادی قوت کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان لیبر کے شعبے میں تعاون کی ایک طویل تاریخ موجود ہے جو دونوں ممالک کے معاشی مفادات کے لیے اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریکروٹمنٹ فرم کے چیئرمین کے مطابق پاکستانی ورکرز اپنی محنت اور دیانتداری کی وجہ سے سعودی مارکیٹ میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی کمپنیاں اب پاکستانی ورکرز کی خدمات حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اقدام سے پاکستان سے بیرون ملک جانے والے ورکرز کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے جس سے ترسیلاتِ زر میں بھی بہتری آئے گی۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پہلو ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی جانب سے اس پالیسی کا اطلاق مختلف صنعتی اور تعمیراتی شعبوں میں کیا جائے گا۔ ان شعبوں میں ہنر مند افراد کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے پاکستانی افرادی قوت کو ترجیح دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور متعلقہ وزارتیں اس عمل کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی سعودی عرب کے ساتھ لیبر مارکیٹ کے حوالے سے رابطے جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے وقت میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی ورکرز کے لیے مزید مراعات اور سہولیات کا اعلان بھی متوقع ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور افرادی قوت کے تبادلے کے تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/4624/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عالمی تنازعات سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے: وزیر خزانہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2104/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2104/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 09:16:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ترسیلات_زر]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کی_ضروریات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c%db%81-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی بہتری کا سفر جاری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی اور ملک میں جاری ترقیاتی عمل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ موجودہ عالمی معیشت شدید قسم کی بے یقینی کی لپیٹ میں ہے اور اس کے مختلف اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جاری مختلف تنازعات کے براہ راست یا بالواسطہ اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت ملک کے اندر معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لا رہی ہے اور تمام چیلنجز کے باوجود معاشی بہتری کا سفر لگاتار جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاروں کو ہر قسم کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے نجی شعبے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ وزیر خزانہ کے مطابق عالمی سطح پر سرمایہ کار پاکستان کی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ دیگر منڈیوں پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جو کہ ایک فطری عمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ بانڈز میں یورپی ممالک اور امریکا کے سرمایہ کاروں کی طرف سے بھی کافی دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ٹیکس کے نظام میں بہتری لانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اصلاحات کا عمل جاری ہے اور ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے یہ کوشش کی کہ پاکستان کے عوام کو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پیٹرول کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے اور ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔ حکام کی جانب سے عوام کو ہدف پر مبنی سبسڈی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا کیونکہ بڑی گاڑیاں رکھنے والے افراد کو اس سبسڈی کی ہرگز ضرورت نہیں تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسم سرما کے دوران ملک کی توانائی کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لیے ابھی سے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔ حکومت کو گیس اور مائع قدرتی یعنی ایل این جی کی تمام تر ضروریات کو وقت پر پورا کرنا ہوگا تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو پریشانی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں توانائی کی کسی بھی قسم کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی اور خام تیل سمیت توانائی کے دیگر تمام ذرائع کی فراہمی کی موجودہ صورتحال انتہائی تسلی بخش ہے۔ ماضی میں درآمدات پر زیادہ انحصار کرنے کی وجہ سے ملک کو شدید ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلسل چار سے پانچ سال کی طویل محنت اور کوششوں کے بعد ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کو دوبارہ بہتر بنا کر بی کی سطح پر لایا گیا ہے جو ایک اہم معاشی کامیابی ہے۔ وزیر خزانہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ رواں مالی سال کے دوران ملک کی کل ترسیلات زر کی مالیت بیالیس سے چوالیس ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جنگی صورتحال کی وجہ سے ترسیلات زر میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن اس کے برعکس ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی استحکام کی بحالی کے لیے مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح پالیسی کو ایک مناسب سطح پر برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے حالیہ انٹرویو کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے تمام ضروری اصلاحات پر سختی سے عمل پیرا رہے گی۔ ملک کے تجارتی اور مالیاتی اشاریے بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں اور تاجر برادری کو بھی حکومتی پالیسیوں سے کافی حد تک اطمینان حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کا اعتماد بھی اب پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر بحال ہو رہا ہے جس سے آنے والے دنوں میں مزید مثبت معاشی نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔ وزارت خزانہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر دن رات کام کر رہی ہے تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے برآمدات میں اضافے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید استحکام آ سکے۔ وزیر خزانہ نے یقین دلایا کہ ملکی معیشت کو درست سمت میں لے جانے کے لیے اصلاحاتی عمل بلا تعطل جاری رہے گا اور عوامی فلاح و بہبود کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2104/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ کا اجرا، فیسیں مقرر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2076/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2076/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 01:38:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ای_پاسپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[پاسپورٹ_فیس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_تارکین_وطن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_سفارت_خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[ترسیلات_زر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%af%db%81-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی اب ای پاسپورٹ کی سہولت سے استفادہ کر سکیں گے، جس کیلئے فیسوں کا تعین کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارت خانے اور قونصل خانے کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم اعلان کے مطابق، وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے ای پاسپورٹ کے اجرا کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی مشنز کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے موجودہ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ (ایم آر پی) کو اس وقت تک استعمال کر سکتے ہیں جب تک ان کی میعاد ختم نہیں ہو جاتی۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پاسپورٹ کی تجدید کے لیے تبھی درخواست دیں جب ان کے موجودہ پاسپورٹ کی میعاد ختم ہونے میں چھ ماہ سے کم وقت باقی رہ جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ای پاسپورٹ کے حصول کے لیے درخواست گزاروں کو ایک اہم شرط پوری کرنی ہوگی، جس کے تحت پاسپورٹ پر درخواست گزار کا پہلا اور آخری نام درج ہونا لازمی ہے۔ جن شہریوں کے موجودہ پاسپورٹ پر صرف ایک نام درج ہے، انہیں نئی درخواست جمع کرواتے وقت اس شرط کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے نام کے اندراج کو یقینی بنانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیسوں کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، پانچ سالہ مدت اور 36 صفحات پر مشتمل ای پاسپورٹ کی فیس 145 درہم مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح دس سالہ مدت اور 36 صفحات والے پاسپورٹ کے لیے درخواست گزار کو 215 درہم ادا کرنے ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بڑی تعداد میں صفحات کے خواہشمند افراد کے لیے بھی فیسیں طے کر دی گئی ہیں۔ 72 صفحات پر مشتمل پانچ سالہ ای پاسپورٹ کی فیس 260 درہم ہے، جبکہ 72 صفحات والے دس سالہ پاسپورٹ کے لیے فیس 390 درہم مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شہری فوری اجرا کی سہولت حاصل کرنا چاہے تو اس صورت میں فیس معمول سے زیادہ ہوگی۔ اس کے علاوہ، گمشدہ پاسپورٹ کی دوبارہ اجرائی کے عمل پر بھی اضافی چارجز لاگو ہوں گے، جن کی ادائیگی درخواست گزار کے لیے لازمی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متحدہ عرب امارات میں اس وقت 20 لاکھ سے زائد پاکستانی شہری مقیم ہیں، جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ پاکستانی تارکینِ وطن ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں ایک کلیدی اور اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ای پاسپورٹ کا اجرا پاکستانی شہریوں کے لیے سفری دستاویزات کے حصول کے عمل کو مزید شفاف اور تیز تر بنائے گا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ ای پاسپورٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو درپیش سفری مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ حکام نے درخواست گزاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاسپورٹ کے حصول کے لیے تمام ضروری دستاویزات مکمل رکھیں تاکہ درخواست کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ درست معلومات کی فراہمی سے پاسپورٹ کے اجرا کا عمل بروقت مکمل کیا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ای پاسپورٹ کے متعارف ہونے سے پاکستانی شہریوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سفری دستاویزات میسر ہوں گی، جو کہ سیکیورٹی کے اعتبار سے بھی زیادہ محفوظ ہیں۔ یہ اقدام بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے جس سے انہیں سہولت ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی مشنز کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات تمام شہریوں کے لیے ہیں جو متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں اور اپنے پاسپورٹ کی تجدید یا نئے پاسپورٹ کے حصول کے خواہشمند ہیں۔ ان ہدایات پر عمل پیرا ہو کر شہری اپنے کام کو آسان بنا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ای پاسپورٹ کے اس نئے نظام سے نہ صرف شہریوں کا وقت بچے گا بلکہ پاسپورٹ کے حصول کا عمل بھی زیادہ منظم اور شفاف ہو جائے گا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اس سہولت کا دائرہ کار بتدریج دیگر ممالک تک بھی بڑھایا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2076/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف کی رپورٹ جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1922/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1922/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 04:18:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ترسیلات_زر]]></category>
		<category><![CDATA[جی_ڈی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[درآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%be%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b4%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ درآمدات میں اضافے اور ترسیلاتِ زر میں کمی کے باعث ملکی معیشت کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے متعلق اپنی تازہ ترین علاقائی رپورٹ میں پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کے حوالے سے اہم خدشات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درآمدات میں متوقع اضافے اور ترسیلاتِ زر کی رفتار میں سستی کے باعث ملکی معیشت کو بیرونی محاذ پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جو تقریباً 4.5 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ یہ تخمینہ حکومت کے 2.5 ارب ڈالر کے سرکاری اندازے سے کافی زیادہ ہے، جس سے معاشی اہداف کے حصول میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات جی ڈی پی کے 22 سے 25 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جو دیگر ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہ صورتحال ملک کے لیے مختلف مالیاتی خطرات کا باعث بن سکتی ہے جن سے نمٹنے کے لیے محتاط حکمت عملی درکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت اور تجارتی بینکوں کے درمیان گہرے مالیاتی تعلق پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بینکوں کے مجموعی اثاثوں میں سرکاری قرضوں کا تناسب 63 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کی عمومی سطح سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ حکومتی قرضوں میں اضافے سے متعلق خدشات کے نتیجے میں قرض لینے کی لاگت بنیادی تخمینوں سے بڑھ سکتی ہے۔ اس سے مالیاتی استحکام کے مسائل مزید سنگین ہونے کا اندیشہ ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں مجموعی مالیاتی ضروریات پہلے ہی بلند سطح پر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے آئی ایم ایف نے مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن ممالک میں مہنگائی ہدف سے زیادہ ہے، وہاں مرکزی بینک کو شرحِ سود کے حوالے سے مزید اقدامات کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے تاکہ معاشی توازن برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں مرکزی بینک کی پالیسی شرحِ سود غیر جانبدار سطح سے کم دکھائی دیتی ہے۔ اس صورتحال میں معاشی استحکام کے لیے مزید سخت مالیاتی فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ شرح حکومت کے مقرر کردہ چار فیصد کے ہدف سے کم ہے، جبکہ عالمی بینک کے تخمینے کے بھی قریب ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی بحالی کی رفتار توقعات سے سست رہ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے روپے کی قدر میں لچک برقرار رکھنے کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ شرحِ مبادلہ میں اچانک بڑی تبدیلی سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ برآمدات میں فوری اور نمایاں اضافے کے امکانات بھی غیر یقینی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ خطے کی متعدد معیشتوں میں 2026 کے دوران مالیاتی پالیسی نسبتاً نرم رہے گی۔ تاہم 2027 سے مالیاتی استحکام اور اخراجات میں ضبط و تحمل کی پالیسی دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے تاکہ طویل مدتی معاشی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد لچکدار شرحِ مبادلہ رکھنے والے ممالک میں پاکستان واحد ملک تھا جس نے شرحِ سود میں اضافہ کیا۔ یہ اقدام ملکی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے اور افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ان معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف اصلاحات پر کام جاری ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے پاکستان اپنی بیرونی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم بنا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1922/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی او ایم کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/868/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/868/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 17:37:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_او_ایم]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[بنکاک]]></category>
		<category><![CDATA[ترسیلات_زر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد_اورنگزیب]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%ae%d8%b2%d8%a7%d9%86%db%81-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%86%da%af%d8%b2%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[ملاقات میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نقل مکانی، ہنرمندی کے فروغ اور محفوظ ہجرت کے مواقع بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بنکاک میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سنگ آہ لی سے اہم ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر منعقد ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہونے والی نقل مکانی، ہنرمندی کے فروغ اور معاشی ترقی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مزید مستحکم بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے ابتدائی انتباہی نظام اور آبادی کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار کے درست استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے اور بروقت منصوبہ بندی کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں ہنرمندی کی تربیت کو عالمی منڈی میں افرادی قوت کی طلب کے مطابق ہم آہنگ کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستانی افرادی قوت کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر محمد اورنگزیب نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی قومی معیشت میں خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر ملک کی معاشی استحکام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے ترسیلات زر کو باضابطہ ذرائع سے بھیجنے کی اہمیت پر زور دیا اور ان رقوم کو پیداواری سرمایہ کاری میں استعمال کرنے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ اس سے ملکی معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں محفوظ اور باقاعدہ ہجرت کے مواقع بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہجرت کے عمل کو قانونی اور شفاف بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسمیاتی مالی معاونت کے جدید طریقوں اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کا خواہاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرمایہ کاری اور مالی معاونت کے حصول کے لیے موزوں منصوبے تیار کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے آئی او ایم کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراک عمل سے پاکستان اپنی معاشی اور سماجی ترقی کے اہداف کو بہتر طریقے سے حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا تاکہ ہجرت اور ترقی کے عمل کو پائیدار بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ملاقات پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر اپنی معاشی پالیسیوں کو اجاگر کرنے اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت پاکستان معیشت کی بحالی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/868/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں 14 فیصد اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/740/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/740/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 22:17:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ترسیلات_زر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%82%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 10.88 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر کا حجم 10.88 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 9.54 ارب ڈالر وطن بھیجے تھے۔ اس طرح گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر میں تقریباً 14 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اور معاشی چیلنجز موجود ہیں۔ اس کے باوجود بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے اپنے خاندانوں کی کفالت اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ رقوم نہ صرف ان خاندانوں کے لیے ریلیف کا باعث بنتی ہیں جو اپنے پیاروں کو روزگار کے لیے بیرونِ ملک بھیجتے ہیں، بلکہ یہ ملکی معیشت میں بھی براہِ راست حصہ ڈالتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں ایک بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ، امریکہ اور یورپ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین بھی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترسیلاتِ زر کے ان اعداد و شمار کے پیچھے لاکھوں پردیسیوں کی محنت اور قربانیاں پوشیدہ ہیں۔ بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش اور اپنے والدین کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے دیارِ غیر کا رخ کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے گھر والوں کی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے مقامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملازمتیں حاصل کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں ہنر مند افراد بیرونِ ملک ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اپنے خاندانوں کو ایک بہتر معیارِ زندگی فراہم کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین کے لیے اپنے بچوں کو دور بھیجنا ایک جذباتی فیصلہ ہوتا ہے، لیکن گھر کے بڑھتے ہوئے اخراجات، بجلی کے بلوں کی ادائیگی اور بہنوں کی شادیوں جیسے معاملات کے لیے یہ ترسیلاتِ زر ایک اہم ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ یہ رقوم ان خاندانوں کے لیے معاشی تحفظ کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ ہر مشکل حالات میں اپنے ملک کی معاشی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پاکستان بھی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات کو سراہتی ہے اور انہیں ترسیلاتِ زر کے لیے قانونی اور بینکنگ ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ قانونی ذرائع سے رقوم کی منتقلی نہ صرف محفوظ ہے بلکہ یہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ٹی کے شعبے میں کام کرنے والے پاکستانی نوجوانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو دنیا بھر میں اپنی خدمات فراہم کر کے قیمتی زرمبادلہ پاکستان بھیج رہے ہیں۔ یہ شعبہ مستقبل میں ترسیلاتِ زر کو مزید بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ اگر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں تو ترسیلاتِ زر کے حجم میں مزید اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ رقوم پاکستان کے لیے غیر ملکی کرنسی کا ایک بڑا اور مستحکم ذریعہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، یہ ترسیلاتِ زر صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی محنت کا ثمر ہیں جو اپنے وطن سے دور رہ کر بھی پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان کی یہ کاوشیں ملکی معیشت کو درپیش مشکلات سے نکالنے میں اہم ثابت ہو رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/740/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
