<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.16.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تحقیق_و_تفتیش &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82_%d9%88_%d8%aa%d9%81%d8%aa%db%8c%d8%b4/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 17 Oct 2026 13:17:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>تحقیق_و_تفتیش &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مصنوعی ذہانت کے سرچ ٹولز کتنے قابلِ بھروسا ہیں؟ ماہرین کی انتباہی آراء</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%da%86-%d9%b9%d9%88%d9%84%d8%b2-%da%a9%d8%aa%d9%86%db%92-%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%da%86-%d9%b9%d9%88%d9%84%d8%b2-%da%a9%d8%aa%d9%86%db%92-%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 13:17:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_ریسرچ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ_معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[اے_آئی_سرچ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیق_و_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[چیٹ_جی_پی_ٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_رجحانات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس_اور_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیک_نیউজ]]></category>
		<category><![CDATA[لینگویج_ماڈلز]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%da%86-%d9%b9%d9%88%d9%84%d8%b2-%da%a9%d8%aa%d9%86%db%92-%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سرچ ٹولز کے جوابات کو حتمی سمجھنے کے بجائے ان کے اصل ذرائع کی تصدیق ضروری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ ٹولز اور چیٹ بوٹس انٹرنیٹ صارفین میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، جو کسی بھی سوال کا فوری اور مربوط جواب چند سیکنڈ میں فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ روئٹرز انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف جرنلزم کے سنہ 2025 کے ایک سروے کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں بڑی تعداد میں افراد معلومات کی تلاش کے لیے ان جدید ڈیجیٹل آلات کا رخ کر رہے ہیں اور ان پر انحصار بڑھاتے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روایتی سرچ انجن صارفین کے سامنے متعدد ویب سائٹس کے لنکس پیش کرتے ہیں جنہیں خود کھول کر دیکھنا پڑتا ہے، جبکہ اے آئی سسٹمز معلومات کا انتخاب کر کے ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں اور ان کی تشریح بھی کرتے ہیں۔ یہ سہولت اور تیزی لوگوں کو اس بات پر مائل کرتی ہے کہ وہ تلاش کا سارا کام ان ڈیجیٹل بوٹس کے سپرد کر دیں اور خود زیادہ زحمت نہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سہولت بعض اوقات معلومات کی درستگی کو جانچنے کی صلاحیت کو کم کر دیتی ہے، کیونکہ اے آئی کے جوابات انتہائی پُراعتماد اور مستند انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین اکثر فراہم کردہ جوابات کو بغیر کسی تحقیق کے سچ مان لیتے ہیں اور ان میں موجود خامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی آف واشنگٹن میں لسانیات کی پروفیسر ایملی ایم بینڈر کے مطابق اس مسئلے کی جڑ اس بنیادی غلط فہمی میں ہے کہ بڑے لینگویج ماڈلز دراصل کس طرح کام کرتے ہیں۔ یہ نظام اپنے اندر موجود ڈیٹا کے نمونوں کی بنیاد پر محض اگلے الفاظ کا تخمینہ لگاتے ہیں اور روایتی متن تیار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا ہے کہ موبائل فونز کا پریڈکٹو ٹیکسٹ فیچر بھی بنیادی طور پر یہی کام کرتا ہے، اور چیٹ بوٹس کی یہ صلاحیت کہ وہ انسانوں کی طرح رواں گفتگو کریں، اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ دی گئی معلومات کے مفہوم کو بھی سمجھتے ہیں۔ ان سسٹمز کا مقصد درست جواب دینا نہیں بلکہ پُراعتماد اور قائل کرنے والی زبان بنانا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اے آئی ٹولز کی جانب سے فراہم کردہ حوالہ جات یا لنکس اس بات کی ضمانت نہیں ہوتے کہ جواب میں پیش کردہ معلومات اسی ذریعے سے درست طور پر اخذ کی گئی ہیں۔ بعض اوقات لنک کسی معتبر ویب سائٹ کا ہو سکتا ہے، لیکن وہ سائٹ اس مخصوص دعوے کی تائید نہیں کرتی جو چیٹ بوٹ نے پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی آف واشنگٹن ہی سے وابستہ پروفیسر اور انفوسیکنگ لیب کے ڈائریکٹر چراغ شاہ کا کہنا ہے کہ گمراہ کن جوابات میں ہمیشہ کوئی من گھڑت بات شامل نہیں ہوتی، بلکہ اصل مسئلہ وہ معلومات ہوتی ہیں جو یہ نظام بتانے میں ناکام رہتا ہے۔ اے آئی ٹولز یہ نہیں بتاتے کہ کون سا ڈیٹا غائب ہے یا کس معلومات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعض اوقات یہ نظام خالی جگہوں کو ایسی معلومات سے پُر کر دیتے ہیں جو بظاہر قابلِ یقین معلوم ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں نامکمل یا غلط ہوتی ہیں۔ خاص طور پر جب لوگ صحت، قانون، مالیات اور سلامتی جیسے اہم امور پر مشورہ لیتے ہیں تو ایسے نامکمل جوابات کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی میڈیا کی مختلف تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر انٹرنیٹ پر جان بوجھ کر یا غلط طور پر کوئی جھوٹی معلومات پھیلا دی جائیں تو مقبول اے آئی ٹولز بھی انہیں حقیقت کے طور پر دہرانے لگتے ہیں۔ اس طرح آن لائن مواد میں کی جانے والی ہیرا پھیری براہِ راست چیٹ بوٹس کے جوابات کو متاثر کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ سے وابستہ ڈاکٹر ہینگ لی کا کہنا ہے کہ کسی معلومات کا متعلقہ ہونا اور اس کا درست ہونا دو الگ باتیں ہیں، اور لینگویج ماڈلز اکثر متضاد شواہد کو مناسب اہمیت نہیں دیتے۔ وہ اہم حقائق کو نظر انداز کر کے صرف وہی مواد سامنے لاتے ہیں جو ان کے الگورتھم کے مطابق مطابقت رکھتا ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ میں صارفین کے حقوق کے ادارے وش کے مطابق وہاں کے پچاس فیصد سے زائد بالغ افراد آن لائن معلومات کی تلاش کے لیے مصنوعی ذہانت کے ان آلات کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں روایتی سرچ طریقوں کے ساتھ ساتھ اے آئی کا استعمال بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ہرگز یہ کہنا نہیں ہے کہ اے آئی ٹولز کا استعمال ترک کر دیا جائے، بلکہ ان کا مشورہ ہے کہ انہیں حتمی اتھارٹی کے بجائے محض معلومات حاصل کرنے کا نقطۂ آغاز سمجھا جائے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ جواب کے ساتھ دیے گئے حوالہ جات خود کھول کر چیک کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسی بھی اہم فیصلے سے پہلے سرکاری ذرائع سے معلومات کی تصدیق کرنا یا متعلقہ شعبے کے مستند ماہرین سے مشورہ لینا انتہائی ضروری ہے۔ اے آئی کی فراہم کردہ سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنقیدی سوچ کو برقرار رکھنا اور حقائق کی خود پڑتال کرنا ہی درست فیصلوں کی ضمانت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%da%86-%d9%b9%d9%88%d9%84%d8%b2-%da%a9%d8%aa%d9%86%db%92-%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
