<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تحریک_انصاف &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9_%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 19:26:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>تحریک_انصاف &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پی ٹی آئی کو سیاسی عمل سے باہر نہیں کیا جا سکتا: شوکت یوسف زئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1996/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1996/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 12:57:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دشتگردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%b9%d9%85%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%a7%db%81%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسف زئی نے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو ملکی سیاست سے مائنس کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے وفاقی حکومت کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو سیاسی منظرنامے سے نکالنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ملک کی ایک بڑی اور مقبول سیاسی قوت ہے جسے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور اسے کسی بھی سازش کے ذریعے پسپا نہیں کیا جا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پر جتنے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہے اور حکمرانوں کو الزامات کی سیاست ترک کر کے زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت کو تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کے بارے میں کسی قسم کا بھی شک ہے تو وہ ملک میں فوری طور پر آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد کروا لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی رہنما نے ضلع کرک کے علاقے میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اندمناک واقعے میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت پولیس کے چار بہادر جوانوں کی شہادت پر پورا خیبر پختونخوا سوگوار ہے۔ انہوں نے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے یہ سپاہی ہمارے ہیرو ہیں جن کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جاری قومی جنگ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی عناصرِ بد کے ساتھ جماعت کا کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم اور تمام ادارے ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور پی ٹی آئی نے ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی نے مزید کہا کہ وزیروں اور مشیروں کو بیانات دیتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس وقت ملک اتحاد اور یکجہتی کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے کیونکہ اب عوام کو عملی اقدامات اور کارکردگی کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی ترجمان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کو پشاور میں بیٹھ کر صرف پریس کانفرنسیں کرنے کے بجائے کرک جا کر شہدا کے جنازوں میں شرکت کرنی چاہئے تھی اور غمزدہ لواحقین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ زبانی جمع خرچ سے اب معاملات حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات اور متاثرہ خاندانوں کی دل جوئی وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاق اور صوبے کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو ماضی میں مالی مشکلات اور فنڈز کی عدم دستیابی کا سامنا رہا ہے جبکہ اب وفاقی سطح پر حالات مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس کو کتنے وسائل میسر ہیں اور کون سی حکومت کس طرح عوامی خدمت کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی کے اندرونی امور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی میں کسی بھی قسم کے اختلافات کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا اور انہیں مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی پارٹی کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں اور ان فیصلوں کو غلط رنگ دینے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسف زئی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف چیئرمین بیرسٹر گوہر کی قیادت میں مکمل طور پر متحد ہے اور قومی و صوبائی اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی تنظیم میں کسی قسم کی ردوبدل کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جنید اکبر بدستور صوبائی صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ تحریک انصاف نے ملکی دفاع اور سلامتی پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور جب بھی وطن عزیز کو کسی بیرونی یا اندرونی خطرے کا سامنا ہوا، پارٹی نے ہمیشہ ریاست اور اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ عوامی طاقت سے لیس اس جماعت کو دباؤ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، شوکت یوسف زئی نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کتنا ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے حکمران جماعت الزامات کی سیاست میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی آئین کے دائرے میں رہ کر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے کے عوام نے جن لوگوں پر اعتماد کیا ہے ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور حکومت کو صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر آہنگ اور ہم آہنگی ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، بشرطیکہ سیاسی انتقام کی بجائے عوام کی فلاح کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پی ٹی آئی اپنے مؤقف پر قائم رہے گی اور عوامی حقوق کی جنگ ہر سطح پر لڑی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1996/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>احتجاج کی ناکام حکمت عملی کی پوری پارٹی ذمہ دار ہے، شوکت یوسفزئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1745/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1745/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 16:57:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_حکمت_عملی]]></category>
		<category><![CDATA[شوکت_یوسفزئی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%ad%da%a9%d9%85%d8%aa-%d8%b9%d9%85%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی پلاننگ میں شروع سے کمی محسوس ہو رہی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ احتجاجی تحریک کے حوالے سے بنائی گئی حکمت عملی کی ناکامی کی پوری پارٹی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ پارٹی کو ابتدا ہی سے معلوم تھا کہ لائحہ عمل میں خامیاں موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پہلے ہی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا اور باقاعدہ خط لکھ کر صورتحال سے آگاہ بھی کیا گیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ اجتماعی فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری بھی سب پر ہی عائد ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں پارٹی حکومت کے خاتمے سے نہ صرف جماعت کو بلکہ زمینی سطح پر کارکنوں کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس وقت بھی صوبے میں کارکنوں کی گرفتاریاں اور چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران انہوں نے سلمان اکرم راجہ کے ایک بیان اور اس پر علی امین گنڈاپور کے ردعمل کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنماؤں کے درمیان بعض امور پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیا واٹس ایپ گروپ بنانے کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اراکین کا مؤقف تھا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر لوگوں کو بکھرنے سے بچانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا تھا۔ اس گروپ میں سہیل آفریدی سمیت علی امین گنڈاپور کی کابینہ کے ارکان بھی شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسفزئی نے اس تاثر کو رد کیا کہ اس گروپ کا مقصد وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنا تھا بلکہ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ پارٹی کو بچایا جائے اور ضرورت پڑنے پر قیادت کو مفید تجاویز فراہم کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر معلوم نہیں کن وجوہات کی بنا پر اس حکمت عملی کو موثر انداز میں آگے نہیں بڑھایا جا سکا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پارٹی کس پالیسی یا آپریشن میں رکاوٹ بن رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پولیس کے محکمے کو سب سے زیادہ بجٹ فراہم کیا جا رہا ہے۔ امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دراندازی کو روکنا وزارت داخلہ اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صوبائی حکومت پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کر رہی ہے تاکہ صوبے کے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیاسی چیلنجز کے تناظر میں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پارٹی کو اندرونی انتشار سے نکالنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام رہنماؤں کو ذاتی اختلافات پس پشت ڈال کر تنظیم کی بہتری کے لیے سوچنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کارکنوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ کارکن تحریک کا اصل سرمایہ ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے قیادت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت جانے کے بعد کارکنوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے، ان کا احساس پوری قیادت کو ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تمام رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہوگا تاکہ پارٹی کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ مؤثر طریقے سے کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروگرام کے اختتام پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارٹی قیادت ان تمام امور پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور آئندہ کے لیے بہتر اور متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جائے گا تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1745/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا کے حالات پر ایمرجنسی کا فیصلہ پہلے ہونا چاہیے تھا: نواز شریف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1104/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1104/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 14:16:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[لندن_بیان]]></category>
		<category><![CDATA[مسلم_لیگ_ن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%ad%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حالات قابو سے باہر ہو رہے تھے اور ایمرجنسی پہلے نافذ ہونی چاہیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف نے لندن میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی مجموعی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے اندر امن و امان کے معاملات بگڑتے جا رہے تھے اور انتظامی امور تیزی سے گرفت سے باہر ہو رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نواز شریف کا یہ بھی ماننا تھا کہ صوبائی سطح پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ تاخیر کا شکار ہوا اور یہ قدم بہت پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی دارالحکومت میں صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کے دوران کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلم لیگ ن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ تیرہ برس کے طویل عرصے کے دوران خیبر پختونخوا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کے وسائل کو اس کی ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ دنیا کے کس مہذب ملک میں کوئی صوبائی وزیر اعلیٰ اپنے منصب اور سرکاری وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے وفاقی دارالحکومت پر حملہ آور ہوتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری مشینری کا اسلام آباد اور دیگر صوبوں کے خلاف استعمال کسی بھی آئینی اور جمہوری ضابطے کا حصہ نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ اب خیبر پختونخوا کے غیور عوام تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے اثر و رسوخ اور مبینہ جکڑبندی سے آزاد ہو چکے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوام اب صوبے میں حقیقی ترقی اور بہتری کے خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کے دوران انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر موجود ذمہ دار حکومتیں عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا بنیادی ہدف عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پائیدار ترقی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وزیر اعظم کے ان خیالات سے ملکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے جہاں مختلف جماعتیں صوبائی امور اور امن و امان کی صورتحال پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں سیاسی قائدین کے بیانات اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا یہ موقف رہا ہے کہ صوبوں میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام بلا کسی خوف و خطر اپنے روزمرہ کے امور انجام دے سکیں۔ پارٹی قیادت کا اصرار ہے کہ قانون شکنی کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور انتظامی فیصلوں کے بعد وفاقی حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ میں بھی تیزی آئی ہے۔ مسلم لیگ ن چاہتی ہے کہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کا فوری حل نکالا جائے اور انتظامی گرفت مضبوط کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لندن میں ہونے والی اس ملاقات میں ملکی سیاسی منظر نامے، معاشی چیلنجز اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتے رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ترجمانوں کا بھی کہنا ہے کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور کسی کو بھی ملکی امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر ہم آہنگی کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے ہمیشہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیح دی ہے اور آئندہ بھی ملک کے ہر کونے میں بلا امتیاز ترقیاتی کام کروائے جائیں گے۔ عوام کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو مزید تیز کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام جمہوری قوتیں مل کر ملک کو موجودہ مشکلات سے باہر نکالیں گی اور آئین و قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے پاکستانی قوم کو صبر اور اتحاد کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی تلقین کی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1104/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1057/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1057/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 09:17:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابوالحسنات_محمد_ذوالقرنین]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[تھانہ_آبپارہ]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_ریمانڈ]]></category>
		<category><![CDATA[خالد_خورشید]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%af%d8%a7%d8%af-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82/</guid>

					<description><![CDATA[اسلام آباد کی اے ٹی سی نے 26 نومبر کے احتجاج کیس میں پولیس کی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما خالد خورشید کو 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے اس اہم مقدمے کی تفصیلی سماعت کی۔ سماعت کی شروعات پر پولیس اور تفتیشی حکام نے سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو سخت سیکیورٹی میں عدالت کے سامنے پیش کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کی شروعات میں سرکاری پراسیکیوٹر اور پولیس کی تفتیشی ٹیم کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ کیس میں مزید تفتیش اور چھان بین کی ضرورت ہے۔ پولیس حکام نے گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی باقاعدہ درخواست پیش کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پولیس کی جانب سے پیش کی جانے والی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کا جائزہ لیا۔ عدالت نے پولیس کی یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما خالد خورشید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کے خلاف 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج کے معاملے پر اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں احتجاج، قانون کی خلاف ورزی اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزامات شامل کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ 26 نومبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ احتجاج کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے جاری کی جانے والی ہدایات اور قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تھی، جس پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں سماعت کے دوران پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ کیس کے مختلف پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے لیے ملزم سے مزید تفتیش کی ضرورت ہے، لہٰذا پولیس کو ان کی جسمانی تحویل دی جائے تاکہ واقعے سے متعلق تمام اہم معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ملزم کے وکلائے صفائی نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پولیس کے پاس مزید جسمانی تحویل کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس کی تفتیش کے لیے ملزم کی مزید جسمانی تحویل ہرگز ضروری نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فریقین یعنی سرکاری پراسیکیوٹر اور وکلا کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے اپنا فیصلہ سنایا۔ فاضل جج نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست کو نا منظور کرتے ہوئے ملزم خالد خورشید کو جوڈیشل ریمانڈ کے تحت جیل بھیجنے کا ہدایت نامہ جاری کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خالد خورشید کا شمار پاکستان تحریک انصاف کی نمایاں سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے اور وہ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں وہ اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج ہونے والے متعدد قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تھانہ آبپارہ میں درج اس مقدمے میں پولیس نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف شخصیات کے خلاف قانونی اقدام اٹھایا ہے۔ پولیس کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش کو پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ قانون کے مطابق تمام تقاضے پورے کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی اور سماعت کی مناسبت سے عدالت کے اطراف میں سیکیورٹی کے خصوصی اور انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے اسلام آباد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسداد دہشت گردی عدالت سے جوڈیشل ریمانڈ کا حکم جاری ہونے کے فوراً بعد پولیس حکام نے قانونی کاغذی کارروائی کا عمل مکمل کرنا شروع کر دیا۔ رسمی کارروائی کے بعد گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد تھانہ آبپارہ میں درج اس کیس کے حوالے سے اب سابق وزیراعلیٰ کو مقررہ عدالتی طریقہ کار کے تحت عدالت کے سامنے دوبارہ پیش کیا جائے گا، جبکہ تفتیشی ٹیم قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھانے کی پابند ہو گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1057/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی آئی مثبت آئینی کردار ادا کرے تو مذاکرات پر غور ہو سکتا ہے، رانا ثناء اللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/953/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/953/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 08:57:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_وامان]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثناء_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_امور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%ab%d8%a8%d8%aa-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%da%a9%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%b1%db%92-%d8%aa%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعت کے رویے سے اسے خود نقصان پہنچ رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹیلی ویژن کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اگر آئینی اور قانونی دائرے کے اندر رہ کر اپنا مثبت کردار ادا کرے تو اس کے ساتھ مذاکرات کے آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعت کا موجودہ رویہ اور جارحانہ انداز خود اس کی اپنی سیاسی بقا اور جماعت کے مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ یا مکالمہ نہیں رکھا گیا تھا، جبکہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف پارلیمنٹ کے ایوان میں آمد کے موقع پر خود چل کر اپوزیشن رہنماؤں سے مصافحہ اور بات چیت کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثناء اللہ نے تحریک انصاف کے بانی کی بہنوں کی حالیہ نظربندی کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو اس طرح کی انتظامی کارروائیوں پر کوئی خوشی نہیں بلکہ دکھ ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کے پیچھے سنگین نوعیت کے سکیورٹی خدکات اور بیانات شامل تھے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ لانگ مارچ اور عوامی اجتماعات کے حوالے سے ان کی جانب سے کس قسم کی گفتگو کی جاتی رہی تھی۔ مشیر سیاسی امور نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر ہاؤسز پر دھاوا بولنے اور چڑھائی کرنے جیسے بیانات دیے جانے کے بعد امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے انتظامیہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی مشیر نے جماعت کے ڈیجیٹل ونگ اور سوشل میڈیا کے کردار پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم سے جو کچھ پھیلایا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن جماعت شروع سے ہی آئینی طریقہ کار کے مطابق چلنے پر رضامند ہو جاتی تو ملک میں کسی بھی قسم کے عبوری یا کشیدہ نظام کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، لیکن اب بھی حالات کی بہتری کے لیے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز قانون کے دائرے میں رہیں اور پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر معاملات کو سلجھانے کی کوشش کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہشت گردی کے ناسور پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے خبردار کیا کہ اگر اس چیلنج سے فوری طور پر آہنی ہاتھوں سے نہ نمٹا گیا اور پوری قوم اس پر یکسو ہو کر متحد نہ ہوئی تو ریاست کے وجود کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی اکائیوں کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ، مربوط اور یکساں پالیسی کا ہونا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے مکمل قلع قمع کے بغیر ترقی اور خوشحالی کے اہداف کا حصول ممکن نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی عزائم اور خطے کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اب روایتی جنگ لڑنے کی صلاحیت یا پوزیشن میں نہیں رہا اور اس نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہمسایہ ملک افغانستان میں اپنے خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت مالی وسائل فراہم کر کے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کی سرپرستی کر رہا ہے، اس کے باوجود پورا خطہ پاکستان کے سکیورٹی اور دفاعی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی سکیورٹی ادارے ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی منظرنامے پر مزید بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جمہوریت میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کیے جاتے بشرطیکہ فریقِ مقابل سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کا حسن ہی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ تمام سیاسی قوتیں قواعد و ضوابط کے اندر رہتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کریں اور پارلیمانی فورمز کا بھرپور استعمال کریں۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی ڈیڈلاک کو ختم کرنے کی کنٹرولنگ چابی تحریک انصاف کے پاس ہے اگر وہ انتہا پسندانہ رویے کو ترک کر کے تعمیری سیاست کی طرف واپس آ جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنے انٹرویو میں اس امر پر بھی زور دیا کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کسی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ریاست اور جمہوریت کے مفاد میں اٹھایا جانے والا ایک ذمہ دارانہ قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت متعدد داخلی اور خارجی چیلنجز سے نبردآزما ہے اور ایسے نازک موڑ پر سیاسی محاذ آرائی جاری رکھنا کسی بھی طرح ملکی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تحریک انصاف کی قیادت ہوش کے ناخن لے گی اور ملک کو مزید انحطاط سے بچانے کے لیے مثبت اور اعتدال پسند رویہ اپنائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران خان کے دور حکومت کے دوران سیاسی ماحول کے تلخ تجربات کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کے لیے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے لیکن آج کی سیاسی قیادت نے اس تلخی کو بھلا کر پارلیمنٹ میں مفاہمانہ فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے طرزِ عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں تاکہ ملک کو معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکالا جا سکے، اور اس کے لیے اپوزیشن کو بھی ذمہ دارانہ رویہ دکھانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے حوالے سے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو گالی گلوچ، اداروں کے خلاف پراپیگنڈا اور نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے معاشرے میں زہر گھل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے قومی سلامتی اور امن عامہ کو داؤ پر لگا دے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا مکمل حق حاصل ہے تاکہ ریاست کی رِٹ کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر ہاؤسز کے گھیراؤ اور دھرنے کی کالز کے تناظر میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے ریاست کے اندر انارکی پھیلتی ہے جسے کوئی بھی ذمہ دار حکومت برداشت نہیں کر سکتی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں جب بھی اس قسم کے دباؤ کی سیاست کی گئی، اس سے ملک کو معاشی طور پر بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قانون کی بالادستی کو بہ ہر قیمت قائم رکھا جائے گا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی چاہے اس کا تعلق کسی بھی طاقتور سیاسی جماعت سے کیوں نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی معیشت اور سکیورٹی کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں مکمل سیاسی اور سماجی استحکام نہیں آتا، بیرونی سرمایہ کاری کا آنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اس قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایک ہی پیج پر لا کر دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کو منطقی انجام تک پہنچانا موجودہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، جس میں کسی قسم کی سستی یا غفلت ناقابلِ برداشت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت کی طرف سے خطے میں پھیلائی جانے والی دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے عالمی برادری کو بھی متنبہ کیا کہ وہ نئی دہلی کے جارحانہ عزائم کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے شواہد موجود ہیں اور بھارت وہاں پراکسی وار کے ذریعے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہے۔ اس کے باوجود، انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور خفیہ ادارے دشمن کے ہر ناپاک ارادے کو خاک میں ملانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور ملک کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/953/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں کشیدگی، بازار بند اور سیکیورٹی فورسز تعینات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/739/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/739/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 22:17:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_سی]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[باڑہ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b6%d9%84%d8%b9-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%d8%a8%d8%a7%da%91%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات کے بعد باڑہ میں حالات تاحال کشیدہ ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں گزشتہ روز (13 اکتوبر) ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جس کے پیش نظر بدھ کے روز بھی بازار بند رہے اور علاقے میں پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور پولیس کے مطابق گزشتہ روز تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ 62 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے باڑہ بازار کو بند رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جبکہ پشاور سے باڑہ آنے والی سڑک پر واقع ’سیکرٹری پُل‘ پر کنٹینرز لگا کر آمد و رفت محدود کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعات کے دوران نادرا کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور اسے نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے باعث دفتر میں موجود کمپیوٹرز اور بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا اور سروسز غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو 1122 کے انچارج وکیل شاہ نے بتایا کہ مظاہرین نے کمپاؤنڈ کے اُس دروازے کو توڑ کر عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی جو معمول کے مطابق استعمال نہیں ہوتا، اور پتھراؤ کیا جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں، تاہم زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے باڑہ کا دورہ کر کے سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر کسی نے حالات خراب کرنے کی کوشش کی تو ایسے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا احتجاج ہمیشہ پرامن ہوتا ہے اور منگل کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں ’پلانٹڈ‘ لوگ ملوث ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">باڑہ تاجر یونین کے صدر سید ایاز وزیر نے غیر اعلانیہ بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے تاجروں اور مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اشیائے خورونوش کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم آفریدی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سیاسی قیادت کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں تاکہ علاقے میں معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریک انصاف کے مقامی رہنما صہیب اللہ نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے فی الحال احتجاج کو مؤخر کر دیا گیا ہے اور تمام کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے برعکس پولیس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی پولیس اہلکار کو مظاہرین کی جانب سے یرغمال نہیں بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے صوبے کے مختلف علاقوں میں سیاسی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگا، وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں اور دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/739/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد احتجاج کیوں نہیں ہوا؟</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/738/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/738/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 21:57:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-5/</guid>

					<description><![CDATA[صوبے میں سیاسی تبدیلی اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے متوقع احتجاجی لہر کیوں نہ اٹھ سکی، اس حوالے سے مختلف پہلو زیر بحث ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی سیاسی منظر نامے میں ایک نمایاں سکوت دیکھا گیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ صوبے بھر میں شدید عوامی ردعمل سامنے آئے گا، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریک انصاف کے حامی سوشل میڈیا نے لوگوں کو سڑکوں پر لانے اور ان کو احتجاج پر اکسانے کی بہت کوشش کی، لیکن عوامی سطح پر کوئی بڑی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ پشاور سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں معمولات زندگی بدستور جاری رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل لانگ مارچ کے دوران بھی عوامی شرکت کا تناسب توقعات سے کافی کم رہا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ لانگ مارچ میں شریک افراد طویل عرصے سے سڑکوں پر موجود ہونے کے باعث تھکاوٹ کا شکار تھے اور ان میں مزاحمت کی طاقت باقی نہیں رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر راج کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے پشاور پہنچنے کی کال دی گئی تھی، مگر اس کا بھی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا۔ پشاور میں سو لوگ بھی اکٹھے نہ ہو سکے، جس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ تحریک انصاف پشاور میں کوئی بڑا یا چھوٹا احتجاج کرنے میں ناکام رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے کے ضلع باڑہ میں چند سو افراد کا احتجاج دیکھنے میں آیا جہاں پولیس کے ساتھ تصادم بھی ہوا اور سرکاری دفاتر کو آگ لگائی گئی۔ تاہم، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چند گھنٹوں میں ہی صورتحال پر قابو پا لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتار ہونے والے پچاس کے قریب مظاہرین کی جانب سے بعد ازاں جاری کردہ ویڈیوز میں اپنی غلطی کا اعتراف اور معافی مانگنے کا عمل بھی سامنے آیا، جس کے بعد صوبے میں حالات مکمل طور پر پرامن ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر قابل غور ہے کہ تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی نے بھی اپنے حلقوں میں کسی چھوٹے یا بڑے احتجاج کی قیادت نہیں کی۔ صوبے کے بڑے سیاسی ناموں کی جانب سے خاموشی اختیار کیے جانے نے بھی عوامی سطح پر احتجاجی تحریک کو تقویت دینے میں رکاوٹ ڈالی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر احتجاج کے لیے ماحول بنانے کی کوششوں میں بعض جعلی ویڈیوز کا سہارا بھی لیا گیا، جن میں گورنر ہاؤس کے گھیراؤ اور بڑے اجتماعات کے دعوے کیے گئے۔ تاہم، عوام نے ان پروپیگنڈا مہمات سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور سڑکوں پر نکلنے سے گریز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس صورتحال نے سوشل میڈیا کی سیاسی اثر انگیزی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماضی میں سوشل میڈیا کو تحریک انصاف کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا، مگر حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ یہ عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک طویل عرصے سے یہ بحث جاری تھی کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں احتجاج کی صلاحیت مختلف ہے، تاہم حالیہ واقعات نے اس بحث کو بھی ختم کر دیا ہے۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ دونوں صوبوں میں عوامی ردعمل کی نوعیت کافی حد تک یکساں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ عوام شاید تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست سے تنگ آ چکے تھے۔ حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی احتجاجی تحریک کا زور بھی ٹوٹ گیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احتجاج کی پشت پر حکومتی طاقت کا عمل دخل تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے حوالے سے سیاسی ماہرین کسی بڑی احتجاجی تحریک کے چلنے کے امکان کو رد کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں سیاسی استحکام کی جانب پیش رفت اور عوام کی عدم دلچسپی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ صوبے کے لوگ اب پرامن ماحول کے خواہاں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/738/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا میں بے امنی کا پروپیگنڈا، وزارت اطلاعات نے حقائق واضح کر دیے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/341/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/341/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 20:17:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_آرمی]]></category>
		<category><![CDATA[پروپیگنڈا]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سلمان_اکرم_راجہ]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%db%92-%d8%a7%d9%85%d9%86%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%be%d8%b1%d9%88%d9%be%db%8c%da%af%d9%86%da%88%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سوشل میڈیا پر لوڈشیڈنگ اور دیگر ممالک کی ویڈیوز کو خیبرپختونخوا سے منسوب کر کے افراتفری پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزارتِ اطلاعات و نشریات نے خیبرپختونخوا میں مبینہ بے امنی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی گمراہ کن ویڈیوز اور تصاویر کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کر دیے ہیں۔ حکومتی ترجمان کے مطابق یہ مواد حقائق کے منافی اور منظم پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور شام کی پرانی ویڈیوز کو غلط کیپشنز کے ساتھ خیبرپختونخوا کا نام دے کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عوام میں بے چینی پیدا ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ ان گمراہ کن ویڈیوز کے ذریعے صوبے میں افراتفری کا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان سرگرمیوں میں مبینہ طور پر غیر ملکی سرپرستی اور بھارتی و افغان اکاؤنٹس کا کردار بھی نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پروپیگنڈا مہم ایک ایسے وقت میں تیز ہوئی جب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔ وزارت اطلاعات نے ان جھوٹی ویڈیوز کی حقیقت واضح کر کے عوام کو افواہوں سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ وہ آئینی و قانونی طریقے سے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالتوں سے رجوع کرنا ہمارا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں اب تک ان کے سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم ایک دن کے اندر اس معاملے کو عدالت میں لے کر جائے گی۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں آئینی تقاضوں کو پورا کرنا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی کسی بھی غیر مصدقہ ویڈیو یا خبر پر یقین نہ کریں۔ حکومتی سطح پر حقائق کی تصدیق کے لیے سرکاری ذرائع پر انحصار کرنا ہی درست حکمت عملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں وفاقی اور صوبائی سطح پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے بیانیے کو مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ حکومتی ادارے امن و امان برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس طرح کے مواد کی نگرانی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزارت اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ غلط بیانیے کو ہوا دینے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں جاری سیاسی ہلچل کے دوران شہریوں کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ کسی بھی حساس معاملے پر رائے قائم کرنے سے قبل اس کی تصدیق کرنا اور سرکاری وضاحتوں کو مدنظر رکھنا ہر شہری کی قومی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں عدالتوں میں ہونے والی سماعتیں اس سیاسی تنازعہ کا رخ متعین کریں گی۔ تحریک انصاف کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے اعلان کے بعد اب عدالتی فیصلے پر سب کی نظریں مرکوز ہیں کہ اس معاملے کا قانونی حل کیا نکلتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/341/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پارلیمان کو دباؤ سے خاموش نہیں کیا جا سکتا، مینا خان آفریدی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/326/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/326/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 16:58:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اسپیکر_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمانی_خودمختاری]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوری_اقدار]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%af%d8%a8%d8%a7%d8%a4-%d8%b3%db%92-%d8%ae%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b4-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%ac%d8%a7-%d8%b3%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[پی ٹی آئی رہنما نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کی گرفتاری کو پارلیمانی خودمختاری پر حملہ قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مینا خان آفریدی نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے ایک بیان میں مینا خان آفریدی نے سہیل آفریدی کی گرفتاری اور اسپیکر اسمبلی کو حراست میں لیے جانے کے عمل کو آئینی بالادستی پر کھلا وار قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اسمبلی تحلیل نہیں ہوئی تو اسپیکر کو گرفتار کرنے کا کیا جواز ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ کیا اب آئینی عہدوں کا احترام ریاستی طاقت کے سامنے بے معنی ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمان کو کسی بھی قسم کے دباؤ کے ذریعے خاموش نہیں کروایا جا سکتا اور نہ ہی آئین کی بالادستی پر سمجھوتہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مینا خان آفریدی نے مزید کہا کہ منتخب نمائندوں کے خلاف کارروائیاں جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمانی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور آئینی اداروں کو ان کے دائرہ اختیار میں کام کرنے دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر انہوں نے ماضی کے سیاسی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جدوجہد میں استقامت ہی اصل کامیابی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پی ٹی آئی اپنے موقف پر قائم رہے گی اور جمہوری حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھاتی رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ٹی آئی کی جانب سے اس گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ ایسے اقدامات سے ملک میں سیاسی استحکام نہیں آ سکتا اور حکومت کو چاہیے کہ وہ آئینی تقاضوں کو پورا کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ریاستی اداروں کی جانب سے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے حوالے سے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ اسپیکر کا عہدہ ایک آئینی حیثیت رکھتا ہے جس کا تقدس پامال نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مینا خان آفریدی کے بیان کے بعد سیاسی صورتحال میں مزید گرما گرمی پیدا ہو گئی ہے۔ کارکنوں کی جانب سے بھی اس گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ اپنی قیادت کے موقف کو اجاگر کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمانی نظام میں اسپیکر کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ وہ ایوان کی کارروائی کو آئین کے مطابق چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اسپیکر کی گرفتاری سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی ہلچل متوقع ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ گرفتار رہنماؤں کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکے اور آئینی بحران کو ٹالا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے۔ اگر اس معاملے کو جلد حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صوبائی اسمبلی کی کارروائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مینا خان آفریدی نے اپنے پیغام میں کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پارٹی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ آئین اور قانون کی بالادستی ہی ملک کی ترقی کا واحد راستہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/326/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ مسترد، بیرسٹر گوہر اور ناصر عباس کا اظہارِ خیال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/173/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/173/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 14:38:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئین]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/173/</guid>

					<description><![CDATA[اپوزیشن رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شہریوں کو متاثر کرنے والے آپریشنز کی حمایت سے انکار کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی منظر نامے میں حالیہ پیش رفت کے دوران اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالات کے نفاذ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے ان اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے انتظامی فیصلے صوبے کی منتخب حکومت کو کمزور کرنے اور سیاسی انتقام کا تسلسل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کو اس طرح سے ہٹانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی سنگین نوعیت کے معاشی اور سلامتی کے چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں متنازعہ اقدامات سے وفاق کی اکائیوں میں مزید خلیج پیدا ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے صوبے کے کروڑوں نوجوانوں کو کیا تاثر مل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے زور دیا کہ ملک بھر میں قانون کی بالادستی اور آئین کا احترام ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل جبر یا انتظامی تسلط میں نہیں بلکہ باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بتایا کہ ان کے سینکڑوں کارکن پہلے ہی جیلوں میں بند ہیں اور سیاسی جبر کا بازار گرم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عام شہریوں کو کسی بھی قسم کے عسکری آپریشنز یا کارروائیوں میں نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ عام شہریوں کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کی حمایت نہیں کریں گے۔ امن و امان کی بحالی کے لیے قومی عزم اور نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے حکمران اتحاد کو کڑی تنقید کا ہدف بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے انتخابات میں اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کیا تھا لیکن اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ملک کو مزید بحرانوں سے بچانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے سیاسی اور جمہوری ڈھانچے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ موجودہ حالات میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، آئینی حدود کا پاس رکھنا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ غیرمعمولی اقدامات سے ملک میں سیاسی استحکام کی بجائے مزید ابتری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بھی اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی کارکنوں پر درج جھے مقدمات ختم کیے جائیں اور جیلوں میں قید افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کے مطابق پندرہ سو سے زائد کارکنان اس وقت پنجاب کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پچھلے چند روز کے دوران بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے کئی مواقع ضائع کیے گئے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر سنجیدہ نیت کے ساتھ مذاکرات کیے جاتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں اور مکالمہ ہی تمام مسائل کی بنیادی کنجی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امن و امان کے قیام کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس قومی لائحہ عمل کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا تھا کہ مخصوص سیاسی مفادات کے لیے سکیورٹی اداروں کو استعمال کرنے سے ملک کو اندرونی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے جس سے صرف دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور معاشی بدحالی نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے حکومت تمام تر توجہ سیاسی مخالفین کو دبانے پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے جنہیں مسترد کیا وہ آج اقتدار پر قابض ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/173/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
