<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تجارتی_سرگرمیاں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c_%d8%b3%d8%b1%da%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%da%ba/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:25 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>تجارتی_سرگرمیاں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کیا جائے گا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2444/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2444/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 09:37:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[جمیل_احمد]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سٹیٹ_بینک_آف_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%b9-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[آئندہ دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا اجلاس گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت منعقد ہو رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں معاشی شعبے کی اہم پیشرفت کے تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا انتہائی اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم اجلاس کی صدارت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد کریں گے۔ اجلاس میں ملک کے اندرونی اور بیرونی معاشی اشاریوں، تجارتی سرگرمیوں اور مالیاتی منڈیوں کی کارکردگی پر غور کیا جائے گا تاکہ آئندہ مدت کے لیے درست فیصلے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کی جانب سے اس بار مانیٹری پالیسی میں مزید سختی لائے جانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیرونی معاشی دباؤ کے منفی اثرات کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اپنے گزشتہ پالیسی اجلاس کے دوران شرح سود کو گیارہ عشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر اس میں تبدیلی متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف مالیاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پالیسی ریٹ میں پچاس بیسز پوائنٹس یعنی صفر عشاریہ پانچ فیصد تک کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے اس مجوزہ اضافے کی باضابطہ منظوری دی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ملک میں مجموعی شرح سود بڑھ کر بارہ فیصد کی سطح تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارہ شماریات پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ یعنی ستمبر میں ملک کے اندر ماہانہ مہنگائی بڑھنے کی شرح دس عشاریہ تین صفر فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معیشت کے دیگر شعبوں کے حوالے سے بھی مرکزی بینک کے پاس تمام تر اعداد و شمار موجود ہیں جن کے تحت ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پینتیس کروڑ ساٹھ لاکھ امریکی ڈالر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی تجارتی اور کاروباری برادری کی نظریں بھی مرکزی بینک کے اس اجلاس پر پوری طرح مرکوز ہیں کیونکہ شرح سود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا براہ راست اثر کاروباری لاگت اور سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرکزی بینک ملک میں معاشی استحکام لانے، قیمتوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے کے لیے آئین اور قواعد کے مطابق طویل المدتی اور قلیل المدتی بنیادوں پر اقدامات کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج کے اس اہم اجلاس کے بعد باضابطہ اعلامیے یا پریس ریلیز کے ذریعے شرح سود سے متعلق حتمی فیصلوں کو عوام اور کاروباری طبقے کے سامنے پیش کیا جائے گا جس سے ملک کی اگلی معاشی سمت کا تعین ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے سے ملک کے مالیاتی منڈیوں، بینکنگ سیکٹر اور عام شہریوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جس پر تمام معاشی حلقے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2444/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز، ہنڈرڈ انڈیکس میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/religion/1827/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/religion/1827/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 09:57:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[اقتصادی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیکس_میں_اضافہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سٹاک_انڈیکس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پی_এস_ایكس]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[حج]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/religion/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%b9%d8%a7%da%a9-%d8%a7%db%8c%da%a9%d8%b3%da%86%db%8c%d9%86%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[کاروباری ہفتے کے چوتھے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز ٹریڈنگ کا آغاز مثبت زون میں ہوا جہاں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے باعث حصص کی قیمتوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروباری سرگرمیوں کے آغاز پر ہی بازارِ حصص میں تیزی کا عنصر نمایاں نظر آیا اور مارکیٹ کے مرکزی انڈیکس میں اضافہ ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز ٹریڈنگ کے ابتدائی لمحات میں ہنڈرڈ انڈیکس دو سو پچاس پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار ایک سو اسی پوائنٹس کی سطح پر جا پہنچا۔ اس مثبت آغاز نے سرمایہ کاروں میں تجارتی اعتماد کو مزید تقویت دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل گزرے ہوئے کاروباری روز کے دوران بھی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رحجان غالب رہا تھا جس کے نتیجے میں بازارِ حصص شاندار اضافے کے ساتھ بند ہوا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ روز کے سیشن کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس میں سات سو انہتر پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور مارکیٹ ایک لاکھ پینسٹھ ہزار نو سو تیس پوائنٹس کی سطح پر بند ہوئی تھی۔ بازارِ حصص میں حالیہ دنوں کے دوران تسلسل کے ساتھ آنے والی تیزی ملکی معیشت کے حوالے سے مثبت اشارے تصور کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باوجود مجموعی طور پر مارکیٹ کا رجحان مثبت سمت میں گامزن ہے جس سے کاروباری حلقوں میں اطمینان پایا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاشی اشاریوں میں بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کی وجہ سے سرمایہ کار حصص بازار میں نئی سرمایہ کاری کے لیے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں جس کے اثرات انڈیکس پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری روز کے دوران شیئرز کی خرید و فروخت کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے اور مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری کا حجم بھی تسلی بخش قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ مالیاتی اداروں کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے اثرات بھی مارکیٹ پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں، جنہیں سرمایہ کار سراہ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی معیشت کے استحکام اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کے تناظر میں سٹاک مارکیٹ کی یہ کارکردگی ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس سے آنے والے کاروباری سیشنز میں بھی بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری ہفتے کے بقیہ ایام میں بھی اسی قسم کے مثبت رجحانات جاری رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے جبکہ سرمایہ کار مارکیٹ کی حرکیات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سٹاک ایکسچینج کے حکام اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر معاشی صورتحال اسی نہج پر گامزن رہی تو مارکیٹ نئے ریکارڈ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ کاروباری و مالیاتی شعبے اس صورتحال کو ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے نہایت سودمند قرار دے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/religion/1827/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: گڈز ٹرانسپورٹرز اور کے پی ٹی کے درمیان اہم معاملات پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1321/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1321/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 17:57:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرانسپورٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کارگو]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%af%da%88%d8%b2-%d9%b9%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d8%b1%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی پورٹ ٹرسٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ رہنماؤں کے درمیان ہفتہ وار تعطیلات پر اضافی چارجز نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹ کے نمائندوں اور کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں کارگو ٹرانسپورٹ کے نرخوں اور آپریشنل امور پر اتفاق رائے پایا گیا ہے۔ اس پیش رفت سے بندرگاہی سرگرمیوں میں بہتری کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ہفتہ اور اتوار کی ہفتہ وار تعطیلات کے دوران کارگو ٹرانسپورٹ پر کسی قسم کے اضافی چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد تجارتی سرگرمیوں کو بلا تعطل جاری رکھنا اور ٹرانسپورٹرز کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گڈز ٹرانسپورٹ کے وفد کی قیادت کرنے والے ملک شہزاد اعوان نے چیئرمین کے پی ٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ٹرانسپورٹرز تعطیلات کے دوران اضافی فیسوں کے مطالبے سے گریز کریں گے، جس سے پورٹ پر سامان کی ترسیل کے عمل میں شفافیت آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد، پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس اور سندھ گڈز ٹرک ٹریلر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے بندرگاہی آپریشنز کو مزید بہتر بنانے اور باہمی رابطہ کاری کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیئرمین کے پی ٹی نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو درپیش چیلنجز پر غور کرنے کے لیے نومبر میں ایک خصوصی سیمینار منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین کو اس سیمینار میں شرکت کی دعوت دی تاکہ طویل مدتی پالیسیاں مرتب کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ملاقات کے نتیجے میں کارگو کی بلاتعطل نقل و حرکت کے لیے ایک نیا لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز کو ریلیف ملے گا بلکہ ملکی برآمدات اور درآمدات کے عمل میں بھی تیزی آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے پی ٹی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے ساتھ قریبی تعاون سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس طرح کے اقدامات سے بندرگاہ پر رش کم کرنے اور مال برداری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرانسپورٹ رہنماؤں نے کے پی ٹی کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے دکھائی گئی دلچسپی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے مذاکرات کے ذریعے باہمی تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں لاجسٹکس اور سپلائی چین کے نظام میں گڈز ٹرانسپورٹ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ کراچی پورٹ سے ملک بھر میں سامان کی ترسیل کے لیے یہ شعبہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جس کی فعالیت معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ ادارے بندرگاہی سہولیات کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس ضمن میں ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو تجارتی سہولت کاری میں معاون ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ دنوں میں اس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک مانیٹرنگ سسٹم بھی فعال کیا جائے گا۔ اس سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ہفتہ وار تعطیلات کے دوران کسی بھی مقام پر اضافی چارجز وصول نہ کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم پیش رفت سے کراچی کے کاروباری حلقوں اور تاجر برادری میں اطمینان پایا جاتا ہے۔ توقع ہے کہ اس فیصلے سے کارگو ٹرانسپورٹ کے نرخوں میں استحکام آئے گا اور تجارتی لاگت میں کمی واقع ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1321/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن کے ممبئی والے بنگلے پر کارروائی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1287/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1287/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 14:37:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اجے_دیوگن]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[بالی_ووڈ]]></category>
		<category><![CDATA[بنگلہ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[جوہو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%d8%a7%d8%af%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%ac%db%92-%d8%af%db%8c%d9%88%da%af%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%85%d8%a8%d8%a6%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ممبئی میونسپل کارپوریشن نے جوہو میں واقع اجے دیوگن کے بنگلے پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ممبئی میونسپل کارپوریشن نے بالی ووڈ کے معروف اداکار اجے دیوگن کے بنگلے میں کی جانے والی مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے کارروائی کی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عالیشان بنگلہ ممبئی کے پوش علاقے جوہو میں واقع ہے جہاں میونسپل حکام نے پہنچ کر کارروائی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ کارروائی ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کی گئی ہے جس میں بنگلے کے اندر ہونے والی بعض غیر مجاز تبدیلیوں اور تعمیراتی حصوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس عمارت میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے تبدیلیاں کی جا رہی تھیں جن کی کوئی باضابطہ اجازت نہیں لی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجے دیوگن کا یہ پرتعیش بنگلہ جوہو کی معروف کپول کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے اندر واقع ہے جو تقریباً سات ہزار آٹھ سو دو مربع فٹ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس پراپرٹی کی اہمیت کے پیش نظر میونسپل محکمے نے قوانین کے مطابق نوٹس جاری کرنے کے بعد یہ انہدامی کارروائی عمل میں لائی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق دیوگن خاندان نے رواں برس اگست کے مہینے میں یہ بنگلہ ایک نجی سیلون کمپنی کو پانچ سال کے لیے طویل مدتی لیز پر دیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت بنگلے کا ماہانہ کرایہ سولہ لاکھ روپے طے پایا تھا جبکہ مجموعی لیز کی مالیت دس کروڑ سے زائد بتائی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاہدے کے بعد اس بنگلے کے اندرونی حصوں میں تجارتی بنیادوں پر سیلون کے قیام کے لیے تبدیلیاں کی جا رہی تھیں جن میں دیواروں اور دیگر ڈھانچے میں ردوبدل شامل تھا۔ ان تمام اندرونی تبدیلیوں کے لیے بلڈنگ پروپوزل ڈپارٹمنٹ سے پیشگی منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میونسپل حکام کے مطابق اس معاملے پر ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کے تحت نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں مالکان کو فوری طور پر تعمیراتی سرگرمیاں روکنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ نوٹس میں واضح کیا گیا تھا کہ تمام متعلقہ دستاویزات اور قانونی اجازت نامے جلد از جلد محکمے کے سامنے پیش کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے باضابطہ نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود عمارت کے اندر تعمیراتی کام کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ احکامات کی مسلسل خلاف ورزی اور نوٹس کو نظر انداز کیے جانے پر متعلقہ محکمے نے یہ سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میونسپل عملے نے موقع پر پہنچ کر بغیر اجازت تعمیر کیے گئے حصوں اور اندرونی ڈھانچے کے بعض حصوں کو منہدم کر دیا تاکہ غیر قانونی تعمیرات کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اس کارروائی کے دوران سکیورٹی اور میونسپل عملے کے دیگر افسران بھی موقع پر موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کارروائی کے بعد تاحال اجے دیوگن یا ان کے خاندانی اراکین کی جانب سے کوئی باضابطہ تردید یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اداکار کے ترجمان یا خاندانی ذرائع کے مؤقف کے بعد ہی اس معاملے کی مزید تفصیلات اور حتمی صورتحال واضح ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بالی ووڈ انڈسٹری میں اس نوعیت کی بلدیاتی کارروائیاں اور قانونی تنازعات اکثر سرخیوں میں رہتے ہیں بالخصوص جب تجارتی مقاصد کے لیے رہائشی عمارتوں کا استعمال کیا جائے۔ ممبئی میں میونسپل قوانین کی سختی کے باعث کئی نامور شخصیات کو اس قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجے دیوگن بالی ووڈ کے ایک انتہائی معروف اور سینئر اداکار ہیں جن کی فلمیں باکس آفس پر ہمیشہ شاندار کاروبار کرتی ہیں اور ان کے مداح دنیا بھر میں موجود ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی جائیدادیں اور کاروباری معاملات بھی اکثر میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اس اقدام کے بعد شہر کے دیگر علاقوں میں بھی غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی سرگرمیوں کے خلاف نگرانی مزید سخت کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بلدیاتی ادارے شہر بھر میں قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے بااثر افراد اور نامور شخصیات کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر میونسپل اداروں کا یہ رویہ قانون کی بالادستی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات سے جائیدادوں کے تجارتی استعمال کے حوالے سے مزید قانونی بحثیں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1287/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بینکوں کے ڈیپازٹس کو ملکی معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے، گوہر اعجاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1080/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1080/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 11:36:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[بینک_ڈیپازٹس]]></category>
		<category><![CDATA[بے_روزگاری_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_قرضے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار_کے_مواقع]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%88%db%8c%d9%be%d8%a7%d8%b2%d9%b9%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d9%85%d9%84%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے مطالبہ کیا ہے کہ کمرشل بینکوں کے ڈیپازٹس کو کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے لگایا جائے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے ملکی معیشت کی بہتری اور صنعتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے حوالے سے ایک اہم تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود رقوم اور ڈیپازٹس میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں یہ ضروری ہو چکا ہے کہ بینکوں میں جمع ہونے والے ان فنڈز کو صرف حکومت کو قرضے فراہم کرنے تک محدود نہ رکھا جائے۔ ان کا موثر استعمال ملکی معیشت کی ترقی اور پیداواری شعبے کی بحالی کے لیے کیا جانا ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کی جانب سے بھی اس نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ سرمائے کی دستیابی سے کاروباری عمل میں تیزی آتی ہے۔ گوہر اعجاز نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی عمل کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران بینکوں کے کل ڈیپازٹس میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں مالیاتی وسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ ان وسائل کی درست سمت میں تقسیم اور استعمال کا معاملہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری ریکارڈ اور مالیاتی رپورٹس کے مطابق ستمبر 2026 کے اختتام تک ملک کے تمام کمرشل بینکوں کے مجموعی ڈیپازٹس کی مالیت چالیس اعشاریہ تراسی ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سرمائے کا حجم ہے جو معیشت کو سہارا دے سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے برعکس اگر چار سال قبل کا جائزہ لیا جائے تو ستمبر 2022 کے دوران کمرشل بینکوں کے کل ڈیپازٹس اکیس ٹریلین روپے کے قریب ریکارڈ کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ محض چار برس کے مختصر عرصے میں یہ حجم دگنا ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق نگران وزیر کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں فنڈز جمع ہونے کے باوجود اگر یہ صنعتی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں میں استعمال نہ ہوں تو معاشی استحکام کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ صنعتوں کو نقد سرمائے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری طبقے کو درپیش مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی وکالت کی کہ تاجروں اور صنعت کاروں کو بینکوں میں پڑے ان ڈیپازٹس تک آسان اور سازگار شرائط پر رسائی دی جائے۔ اس سے نجی شعبہ زیادہ فعال ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جب نجی شعبے کو آسان اقساط یا بہتر شرائط پر قرضے ملیں گے تو ملک میں نئی صنعتیں لگیں گی اور پرانی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس عمل سے مجموعی قومی پیداوار میں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کے اس طرح بڑھنے سے ملک کے اندر روزگار کے نئے اور وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ بے روزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے صنعتی پہیے کا تیز چلنا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے سے ملکی برآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہوتا ہے جو ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ملکی کرنسی کی قدر کو بھی استحکام ملتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوہر اعجاز کے مطابق معیشت کا پہیہ رواں دواں ہونے سے ملکی قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی واقع ہو سکتی ہے۔ جب ملکی آمدنی بڑھے گی تو بیرونی اور اندرونی قرضوں کی ادائیگی میں آسانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ حکومت کو بلند شرح سود پر جو بھاری ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں، ان میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ شرح سود کم ہونے سے ملکی خزانے پر پڑنے والا بوجھ ہلکا ہو گا اور فنڈز ترقیاتی کاموں میں لگیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینکنگ سیکرٹر کو بھی چاہیے کہ وہ نجی شعبے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے قرضوں کے حصول کے عمل کو آسان بنائے۔ اس سے گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ میں مثبت رجحان دیکھنے کو ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بینکوں کے پاس اتنی بڑی مقدار میں لیکویڈیٹی موجود ہے جسے اگر حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان معاشی بحرانوں سے مستقل طور پر نجات حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ اداروں اور پالیسی سازوں کو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور عوام کے لیے خوشحالی کے نئے دروازے کھل سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1080/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کے نرخ برقرار رہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/845/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/845/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 15:19:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[چاندی_کے_نرخ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زر_مبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[سونے_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%b5%d8%b1%d8%a7%d9%81%db%81-%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-2/</guid>

					<description><![CDATA[بین الاقوامی اور ملکی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی صرافہ مارکیٹ میں سونے کے نرخ ایک جیسے رہنے کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی پیلے دھات کی قیمتیں بغیر کسی ردوبدل کے مستحکم ریکارڈ کی گئیں۔ صرافہ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں سونے کی خرید و فروخت پرسکون ماحول میں جاری رہی اور قیمتوں میں کوئی اتار چڑھاؤ سامنے نہیں آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے چار ہزار ایک سو ترپن ڈالر کی سطح پر مستحکم رہی۔ عالمی منجی میں اس استحکام کا اثر براہ راست مقامی مارکیٹوں پر بھی پڑا جہاں صرافہ جیمز اور ڈیلرز نے پرانی قیمتوں پر ہی کاروبار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے چار لاکھ سینتیس ہزار آٹھ سو چھتیس روپے کی سطح پر مستحکم دیکھی گئی۔ خریداروں اور فروخت کنندگان نے مارکیٹ کے اس جمود کو خوش آئند قرار دیا کیونکہ اس سے کاروباری سرگرمیوں میں توازن برقرار رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے تین لاکھ پچھتر ہزار تین سو تہتر روپے کی سطح پر برقرار رہی۔ چھوٹے اور بڑے صرافہ تاجروں کے مطابق مارکیٹ میں سونے کی طلب اور رسد کا تناسب فی الحال متوازن نظر آ رہا ہے جس کی وجہ سے ریٹس میں استحکام ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی تولہ چاندی کی قیمت میں دو سو بارہ روپے کی کمی واقع ہوئی جس کے بعد یہ چھ ہزار ایک سو اڑتالیس روپے کی سطح پر آگئی۔ چاندی کے خریداروں کے لیے قیمت میں یہ کمی قدرے ریلیف کا باعث بنی کیونکہ پچھلے دنوں اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاوہ ازیں فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی ایک سو بیاسی روپے کی کمی کے بعد پانچ ہزار دو سو ستر روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ صرافہ مارکیٹ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ چاندی کی قیمتوں میں یہ معمولی تنزلی بین الاقوامی مارکیٹ کے تحرک کا نتیجہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی معیشت اور صرافہ مارکیٹ سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں یہ استحکام سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔ سرمایہ کار اکثر سونے کی قیمتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں تاکہ وہ محفوظ سرمایہ کاری کے حوالے سے بروقت فیصلے کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے نرخ اور پاکستانی روپے کی قدر کے تناسب سے کیا جاتا ہے۔ جب عالمی سطح پر سونے کے نرخ مستحکم ہوں اور مقامی کرنسی میں بھی استحکام رہے تو صرافہ بازار میں بھی مندی یا تیزی کا رحجان رک جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صرافہ مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں شادی بیاہ کے سیزن یا دیگر تقریبات کی وجہ سے زیورات کی مانگ میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود قیمتوں کا ایک سطح پر برقرار رہنا عام خریداروں کے لیے منڈی کی صورتحال کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سونے اور چاندی میں سرمایہ کاری کرتے وقت مارکیٹ کے رجحانات کا بغور جائزہ لیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی رپورٹس اور ڈالر کے نرخ بھی صرافہ مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر کاروباری ہفتے کے دوران سونے کے نرخوں میں کسی قسم کا بڑا جھٹکا دیکھنے میں نہیں آیا جس سے مارکیٹ میں اطمینان پایا جاتا ہے۔ تاجروں اور خریداروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے کے عالمی معاشی اعداد و شمار پر مرکوز ہیں جو اگلی سمت کا تعین کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صرافہ منڈی میں ہونے والی ان تبدیلیوں کا جائزہ لینے والے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ مقامی سطح پر قیمتی دھاتوں کے کاروبار میں شفافیت کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام ملتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/845/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
