<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.7.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تازہ_ترین_خبریں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d8%a7%d8%b2%db%81_%d8%aa%d8%b1%db%8c%d9%86_%d8%ae%d8%a8%d8%b1%db%8c%da%ba/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 12 Oct 2026 11:37:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>تازہ_ترین_خبریں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پی ٹی آئی نے تمام شرائط مان لی تھیں، معاملہ حکومت نے خراب کیا: کامران مرتضیٰ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d8%b7-%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%84%db%8c-%d8%aa%da%be%db%8c%da%ba%d8%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d8%b7-%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%84%db%8c-%d8%aa%da%be%db%8c%da%ba%d8%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 11:37:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انتصا_احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_خان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[کامران_مرتضی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d8%b7-%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%84%db%8c-%d8%aa%da%be%db%8c%da%ba%d8%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان طے پاتے معاملات حکومتی رویے کی وجہ سے ناکام ہوئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان معاملات طے پانے کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے میں مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی مسلسل کوششوں کی بدولت بڑی حد تک کامیابی کے آثار نمایاں ہو رہے تھے اور دونوں فریقین ایک مشترکہ نقطے پر متفق ہونے کے بالکل قریب تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے تفصیل سے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی طرف سے رکھی جانے والی تمام شرائط کو عملاً تسلیم کر لیا تھا اور حکومت کا پیش کردہ فارمولا بھی ان کو قبول تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سیاسی تنازع کے حل کے لیے فریقین کے درمیان مفاہمت کی فضا بن چکی تھی لیکن عین وقت پر حکومتی رویے کی وجہ سے سارا عمل سبوتاژ ہو گیا اور طے شدہ معاملات کو آگے بڑھنے نہیں دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے یو آئی کے رہنما نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران طے پایا تھا کہ پی ٹی آئی اپنا احتجاجی لانگ مارچ فوری طور پر ختم کر دے گی اور اس کے اگلے ہی روز باقاعدہ ملاقات کی اجازت دی جائے گی جس کے اصول پر پی ٹی آئی نے مکمل آمادگی ظاہر کر دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے پیچیدہ سیاسی بحرانوں میں حل تلاش کرنے کے لیے دونوں جانب کے فریقین کو کچھ نہ کچھ لچک دکھانی پڑتی ہے اور اپنے مؤقف سے تھوڑا سا پیچھے ہٹنا پڑتا ہے تاکہ کسی بھی فریق کی عزت نفس کو نقصان نہ پہنچے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کامران مرتضیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کی تمام شرائط کو قبول کیے جانے کے باوجود یہ معاملہ کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ صرف اور صرف حکومتی رویے کی غیر لچکدار پالیسی کی نذر ہوا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاجی کال واپس لینے اور بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کا طے شدہ فارمولا اس لیے ناکام ہوا کیونکہ حکومت کی طرف سے تعاون نہیں کیا گیا اور معاملات کو جان بوجھ کر بگاڑا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے انٹرویو کے دوران جے یو آئی کے سینیٹر نے ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو تحریک انصاف کی جانب سے حکومتی ارکان کے ساتھ ہونے والے رابطوں کے بارے میں مکمل طور پر اعتماد میں نہیں رکھا گیا تھا جو بعد میں سب کے سامنے آ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فریقین کے مابین تمام اہم امور پر باقاعدہ اتفاق رائے ہو چکا تھا تو اس کے بعد اچانک بات چیت کے اس طرح ناکام ہو جانے کا نتیجہ کسی کے بھی فہم سے بالاتر ہے اور یہ سب حیران کن تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیاسی پس منظر میں تفصیلی بات کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے گلہ کیا کہ ایسی مایوس کن صورتحال پیدا ہونے کے بعد اب مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اس تمام عمل پر اپنا شدید احتجاج اور گلہ ریکارڈ کروائیں۔ انہوں نے مزید ذکر کیا کہ اس وقت وفاق اور صوبائی حکومتیں ایک ہی پیج پر ہیں لیکن اس کے باوجود سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جو سنجیدہ کوششیں درکار تھیں وہ نظر نہیں آئیں اور معاملات کو درست سمت میں لے جانے کے بجائے مزید الجھا دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق کامران مرتضیٰ کے یہ بیانات ایسے حساس وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کے سیاسی منظر نامے پر مذاکرات اور کشیدگی کے درمیان ایک پیچیدہ رفاقت جاری ہے اور تمام جماعتیں اپنی اگلی حکمت عملی پر غور کر رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے ماضی میں بھی کئی مرتبہ مختلف سیاسی بحرانوں اور ڈیڈلاک کے دوران ثالث کا کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ان کی سیاسی بصیرت و کوششوں سے متعدد بار بڑے سیاسی بحرانوں کو ٹالنے اور تصادم کی فضا کو ختم کرنے میں خاطر خواہ مدد ملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال سینیٹر کامران مرتضیٰ کے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ یا تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم سیاسی حلقوں اور میڈیا میں اس معاملے پر چہ مگوئیاں اور تبصرے بہت زیادہ تیز ہو چکے ہیں۔ ان بیانات کے بعد سیاسی جماعتوں کے باہمی تعلقات اور مستقبل کی پارلیمانی و احتجاجی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں جاری اس سیاسی رسہ کشی کے دوران عامتہ الناس کی نگاہیں بھی اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سیاسی جماعتیں باہمی بات چیت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیں گی یا پھر مفاہمت کی کوئی نئی راہ نکالی جائے گی۔ جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے سامنے آنے والے اس موقف نے ایک بار پھر پردے کے پیچھے ہونے والی سیاسی جوڑ توڑ اور مذاکراتی عمل کی ناکامی کے محرکات کو بے نقاب کر دیا ہے جس سے پارلیمانی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی موجودہ سیاسی تاریخ میں ثالثی کے کردار کی اہمیت ہمیشہ سے مسلمہ رہی ہے اور فضل الرحمان جیسے تجربہ کار سیاستدانوں کی کوششیں ہمیشہ سے سیاسی بحرانوں کے حل میں معاون سمجھی جاتی رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں، ایسے بیانات سیاسی محاذ آرائی کو کم کرنے کے بجائے فریقین کے درمیان بداعتمادی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں جن کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے بھی احتجاجی تحریک اور مذاکرات کے دوہرے راستے پر عمل درآمد جاری ہے جہاں وہ ایک طرف احتجاجی مظاہروں کی کال دیتی ہے تو دوسری طرف پس پردہ رابطوں کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ کامران مرتضیٰ کے انکشافات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایک موقع پر معاملات طے پانے کے قریب تھے مگر حکومتی ہٹ دھرمی یا رویے کی وجہ سے وہ تاریخی موقع ضائع ہو گیا اور ڈیڈلاک برقرار رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر کامران مرتضیٰ کا یہ بیان اس لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں باقاعدہ ایک ثالث جماعت کے سینیئر رہنما کی طرف سے اندرونی کہانی عوام کے سامنے لائی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے ایک مثبت پیشرفت کو حتمی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی اتحاد کی طرف سے اس بیان پر کیا ردعمل آتا ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی ڈائیلاگ کا یہ سلسلہ دوبارہ بحال ہوتا ہے یا تلخیوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام تر سیاسی گہमागہمی اور بیانات کے اس سلسلے کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان کے سیاسی مسائل کا پائیدار حل صرف اور صرف افہام و تفہیم اور مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے، خواہ اس میں کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ حائل ہوں۔ سیاسی رہنماؤں کو ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ عوام کو اس جاری سیاسی بے یقینی اور اقتصادی دباؤ سے نجات دلائی جا سکے اور نظام کو آئینی راستے پر گامزن رکھا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d8%b7-%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%84%db%8c-%d8%aa%da%be%db%8c%da%ba%d8%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی آئی نے احتجاج سے متعلق من گھڑت ویڈیوز پھیلائیں، عظمیٰ بخاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82-%d9%85%d9%86-%da%af%da%be%da%91%d8%aa-%d9%88%db%8c%da%88/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82-%d9%85%d9%86-%da%af%da%be%da%91%d8%aa-%d9%88%db%8c%da%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:38:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_احتجاب]]></category>
		<category><![CDATA[اشوک_سوان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[جامشورو_بوائلر]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_ویڈیوز]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_پروپیگنڈا]]></category>
		<category><![CDATA[عظمی_بخاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82-%d9%85%d9%86-%da%af%da%be%da%91%d8%aa-%d9%88%db%8c%da%88/</guid>

					<description><![CDATA[صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جعلی اور من گھڑت ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے منفی ہتھکنڈوں کے ذریعے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ان کا جھوٹ اب بے نقاب ہو چکا ہے اور عوام تمام حقائق سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ جامشورو میں پیش آنے والے ایک واقعے کی پرانی ویڈیو کو پشاور کے احتجاج سے منسوب کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عظمیٰ بخاری نے مزید بتایا کہ جامشورو میں بوائلر پھٹنے کی پرانی ویڈیو کو جس طرح پشاور کا احتجاج ظاہر کیا گیا، وہ اس جماعت کی سیاست کا بدترین عکاس ہے جو جھوٹ کی بنیاد پر چل رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی شہری اشوک سوان نے دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے ایک احتجاج کی ویڈیو کو اسلام آباد کے احتجاج کی ویڈیو کے طور پر پیش کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی وزیر نے اس عمل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی سرگرمیوں سے بانی جماعت اور ان کی موجودہ قیادت کا نام نہاد جعلی انقلاب اور جعلی احتجاج پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے طنزیہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس طرح کا سلسلہ جاری رہا اور جھوٹ بولنے کی حد نہ رکھی گئی تو اگلی بار چاند پر بھی جلسہ کروا دیا جائے گا اور اس کے لیے ناسا کی ویڈیو استعمال کر لی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ جس صوبے کے اندر دہشتگرد محفوظ ہوں اور پولیس کو بے بس کر کے عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، وہاں ایسی صورتحال میں ایمرجنسی ہی نافذ ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو وزیراعلیٰ قومی ترانے اور قومی پرچم کے احترام سے عاری ہو، وہ کس طرح عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کر سکتا ہے اور ایسا رویہ رکھنے والے افراد عوام کی نظر میں قابلِ نفرت بن جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں یہ بھی پوچھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ 13 سال کے طویل عرصے کے دوران خیبر پختونخوا کے غیور عوام کو آخر کیا دیا اور صوبے کی ترقی کے لیے کون سے عملی اقدامات کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے باسیوں کے ساتھ پی ٹی آئی حکومت کا رویہ اور ان کی طرزِ حکمرانی روزِ روشن کی طرح بالکل عیاں ہے، اور اب وہاں کے لوگ بھی ان کی حقیقت اچھی طرح جان چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی وزیر نے زور دے کر کہا کہ جھوٹ، فریب اور دھوکے کی سیاست اب ملک میں زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی کیونکہ باشعور عوام اس طرح کے تمام پروپیگنڈے کو بخوبی سمجھ چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے دن رات کام کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اس طرح کی ویڈیوز اور غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان کے آخر میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی کو بھی جھوٹی خبروں، افواہوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے ملک کے امن و امان کی فضا کو خراب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82-%d9%85%d9%86-%da%af%da%be%da%91%d8%aa-%d9%88%db%8c%da%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کے پی میں امن کا قیام اور دہشتگردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے: فیصل کریم کنڈی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%82%db%8c%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%82%db%8c%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 14:58:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایڈوائزری_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیز]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_کام]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا_گورنر]]></category>
		<category><![CDATA[دہشتگردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیصل_کریم_کنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_ایکشن_پلان]]></category>
		<category><![CDATA[کے_پی_پولیس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/177/</guid>

					<description><![CDATA[گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کرپشن پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور صوبے میں امن بحال کریں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کے معاملے پر کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر خیبرپختونخوا کی زیر صدارت قائم کی گئی 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کا پہلا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے موجودہ حالات، ترقیاتی امور اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن عوام اور وفاق نے ہم پر جو اعتماد ظاہر کیا ہے اس پر پورا اترنے کے لیے بھرپور کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محض کمیٹیاں بنا کر معاملات کو فراموش کرنے کا رواج ختم کیا جائے گا بلکہ ہر فیصلے پر عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے کے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر خیبرپختونخوا نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ صوبے میں امن سب سے پہلے ہے اور ترقیاتی کام یا دیگر امور اس کے بعد آتے ہیں، اس لیے تمام تر توجہ ریاست کی رٹ کو مضبوط بنانے پر مرکوز رکھی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے جہاں پانی کی فراوانی کے ساتھ گیس کی پیداوار بھی سب سے زیادہ ہے، اور اگر دوسرے صوبوں میں کوئی اچھے اقدامات کیے جا رہے ہیں تو انہیں یہاں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل کریم کنڈی نے ایڈوائزری کونسل کے اراکین کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت کے لیے دستیاب ہیں اور صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مل کر کام کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ وہ کسی قسم کی سیاسی بحث یا الزام تراشی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کا واحد مقصد خیبرپختونخوا کے عوام کو امن، ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اس طویل اور مشکل جنگ میں کے پی کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ یہاں کے باسیوں کو مکمل امن کا حق دیا جائے اور دہشتگردی کے پورے نیٹ ورک یا اس کے سہولت کاروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں ریاست کی موجودگی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے پولیس فورس کو جدید وسائل فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ہر پولیس اہلکار کے پیچھے ریاست مضبوطی کے ساتھ کھڑی نظر آئے تاکہ وہ خوفگیں ہوئے بغیر فرائض انجام دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے میں انسداد دہشتگردی کے اقدامات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ محکمہ انسداد دہشتگردی یعنی سی ٹی ڈی کو بھی پولیس کے شانہ بشانہ مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا تاکہ تخریب کاروں کا قلع قمع کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی ایکشن پلان اور انسداد دہشتگردی کی قومی پالیسی پر عملدرآمد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشتگردی کے تمام تر ماحولیاتی نظام اور معاونین کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے نوجوان نسل کے مستقبل کے حوالے سے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق کی بجائے قلم، کتاب اور روشن مستقبل کی امید تھمائے تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری بنیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ صوبے میں سیاحت کے شعبے کو وسعت دی جائے گی اور اس کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے تاکہ معیشت کو بھی استحکام مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ امن کے اس سفر میں قانون نافذ کرنے مشستری اداروں کا ساتھ دیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ مشکلات یقیناً بڑی ہیں لیکن عوام کا عزم ان سے بھی زیادہ مضبوط ہے، اور وہ دن دور نہیں جب کے پی کے میں مکمل امن بحال ہوگا اور قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%82%db%8c%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کے پی میں ایمرجنسی کا فیصلہ واپس لیا جائے، بیرسٹر گوہر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3-%d9%84%db%8c%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a6/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3-%d9%84%db%8c%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a6/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 13:18:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی_کے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصافه]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_استحکام]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_خودمختاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/159/</guid>

					<description><![CDATA[چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے سیاسی بصیرت اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے سیاسیحلقوں میں اس وقت وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ کا ماحول پایا جاتا ہے جس کی بڑی وجہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کیے جانے والے بعض اہم اور غیرمعمولی حکومتی فیصلے ہیں۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں ملک بھر کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے تند و تیز بیانات کا سلسلہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ان تمام حالات کے تناظر میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے صوبے میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کو کلی طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھی اس تنازع کو سلجھانے کی گنجائش موجود ہے اور حکومت چاہے تو چند روز کے اندر اپنے اس فیصلے کو واپس لے سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی انا کو پس پشت ڈال دے اور ملک کے اندر موجود زمینی حقائق کا درست ادراک کرے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں اس طرح کے اقدامات اٹھانا ایک غیرضروری اور غیرمناسب عمل ہے جس سے گریز کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ صوبے کے اندر ایمرجنسی کا نفاذ ایک انتہائی تشویشناک امر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی سیاسی غلطی بھی شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام اپنے بنیادی جمہوری حقوق کے خلاف اٹھائے جانے والے ایسے کسی بھی اقدام کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کی بھرپور مخالفت کرتی ہے کیونکہ اس نوعیت کے اقدامات مسائل کا حل پیش کرنے کی بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیانات آنے والے دنوں میں حکومت مخالف تحریک کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر گوہر نے اس نکتہ پر بھی زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا ایک مسلّم آئینی اور قانونی حق ہے جس پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی رائے اور مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے صوبے میں پائیدار امن قائم کرنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی خود مختاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق کی طرف سے اس نوعیت کے فیصلوں سے صوبائی خود مختاری کمزور ہوتی ہے جو کہ ملکی وفاقیت کے لیے بھی نیک شگون نہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ آئینی دائرہ کار میں رہ کر ہی تمام امور کو چلانا ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے مابین جاری کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان محاذ آرائی کی فضا پیدا کرنے سے ملک میں کسی قسم کا سیاسی استحکام نہیں لایا جا سکتا۔ استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریقین باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دشت گردی کے خاتمے کے قومی ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دہشت گردی کا ناسور ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اس کے خاتمے پر پوری قوم میں کوئی اختلاف رائے پایا نہیں جاتا۔ تاہم ان کا موقف تھا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی ایک جماعت یا ادارے کی تنہا حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک مشترکہ اور جامع حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ موثر نہیں ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبوں اور مرکز کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت میں صوبوں کو کمزور کر کے ایک مضبوط اور مستحکم وفاق کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ وفاق کی اصل طاقت اس کے تمام اکائیوں کے باہمی اتحاد اور مضبوط روابط میں ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ بحران کے حل کے لیے انہوں نے ایک بار پھر مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ تمام تر مسائل کا حل کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال یا تصادم میں ہرگز پوشیدہ نہیں ہے۔ حقیقی حل صرف سیاسی بصیرت اور بامعنی مذاکرات سے ہی نکل سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس پورے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے روزمرہ امور کو چلانے کے لیے گورنر کو خصوصی اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%b1%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3-%d9%84%db%8c%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a6/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
