<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تازہ_ترین_خبریں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%aa%d8%a7%d8%b2%db%81_%d8%aa%d8%b1%db%8c%d9%86_%d8%ae%d8%a8%d8%b1%db%8c%da%ba/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 11:26:30 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>تازہ_ترین_خبریں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>روس کے سمارا ریجن کی آئل ریفائنری پر یوکرین کا ڈرون حملہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/3227/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/3227/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 13:47:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئل_ریفائنری]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بنیادی_ڈھانچہ]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%b1%db%8c%d8%ac%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%d9%84-%d8%b1%db%8c%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1-%db%8c%d9%88%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[روس کے سمارا ریجن میں واقع آئل ریفائنری پر یوکرین کی جانب سے نئے ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روس کے سمارا ریجن میں واقع ایک اہم آئل ریفائنری پر یوکرین کی جانب سے ڈرون حملہ کیا گیا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق یہ کارروائی یوکرین کی طرف سے رات بھر کیے جانے والے تازہ ڈرون حملوں کا حصہ تھی جن کا ہدف مختلف روسی علاقے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف ریجنز میں رات کے وقت ایک ہزار سے زائد یوکرین کے ڈرون ناکام بنائے گئے یا فضا میں ہی تباہ کیے گئے۔ روس کے دفاعی نظام نے بڑی تعداد میں ان ہوائی اڈوں اور ڈرونز کو روکنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود سمارا ریجن کی آئل ریفائنری پر حملہ ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی جانب سے روس کے اندرونی حصوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے بالخصوص آئل ریفائنریز کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ ان حملوں کا مقصد روسی معیشت اور ایندھن کی رسد کے نظام کو نقصان پہنچانا ہے تاکہ جنگی کوششوں کو متاثر کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس نے ان حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں شہری آبادی اور اہم تنصیبات کے لیے خطرہ ہیں۔ روسی سکیورٹی ادارے ملک بھر میں فضائی دفاعی نظام کو مزید مستحکم کرنے اور حفاظتی اقدامات سخت کرنے پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی مبصرین کے مطابق فریقین کے درمیان ڈرون حملوں کی اس نئی لہر سے خطے میں امن کی بحالی کے امکانات مزید معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان عسکری محاذ آرائی میں شدت آنے کے بعد توانائی کے ذخائر اور تنصیبات براہ راست زد میں آ چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حملے کے بعد متاثرہ ریجن میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے نقصان کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہیں۔ حکام کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس طویل تنازع میں حالیہ مہینوں کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی وسیع پیمانے پر بڑھ گیا ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے اہم شہروں اور عسکری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے جدید ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سمارا ریجن روس کا ایک اہم صنعتی اور اقتصادی مرکز مانا جاتا ہے جہاں تیل کی پیداوار اور ریفائننگ کے کارخانے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں ہونے والے اس حملے کو روسی توانائی کے شعبے کے خلاف ایک اہم کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارت دفاع اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں بتایا گیا ہے کہ فضائی دفاعی دستوں نے ملک کی فضائی حدود کا دفاع کرتے ہوئے دشمن کے بیشتر ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا۔ اس کے باوجود کچھ مقامات پر ملبہ گرنے یا ابتدائی دھماکوں کے اثرات سامنے آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب یوکرین کی عسکری قیادت کا موقف ہے کہ ایسے حملے جارح ملک کو اس کے اقدامات کا جواب دینے اور اس کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ یوکرین طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کو اپنی حکمت عملی کا ایک لازمی حصہ قرار دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے مختلف علاقوں میں رات بھر سائرن بجتے رہے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ سکیورٹی فورسز نے تمام اہم تنصیبات کے گرد حفاظتی حصار مزید مضبوط کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حملے کے تناظر میں سمارا ریجن میں ایمرجنسی کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے امدادی ٹیمیں اور فائر فائٹنگ یونٹس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے اور نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/3227/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی میں موسم بدستور گرم و خشک، درجہ حرارت اٹھتیس ڈگری تک جانے کا امکان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/weather/3113/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/weather/3113/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 07:56:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[موسم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ارلی_وارننگ_سینٹر]]></category>
		<category><![CDATA[بارش]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_موسم]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خشک_موسم]]></category>
		<category><![CDATA[درجہ_حرارت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردی]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/weather/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%a8%d8%af%d8%b3%d8%aa%d9%88%d8%b1-%da%af%d8%b1%d9%85-%d9%88-%d8%ae%d8%b4%da%a9-%d8%af%d8%b1%d8%ac%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر نے پیشگوئی کی ہے کہ شہر قائد میں نومبر کے پہلے ہفتے تک موسم گرم رہے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں موسم کی صورتحال کے حوالے سے محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر نے ایک نئی پیشگوئی جاری کی ہے جس کے مطابق شہر قائد کا موسم اگلے چند روز کے دوران بدستور گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج اور آنے والے دنوں میں شہر کا پارہ اٹھتیس ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر قائد کے باسیوں کو آنے والے دنوں میں بھی گرمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ فضا میں نمی کا تناسب اور بارش کا کوئی امکان فی الحال ظاہر نہیں کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ کراچی کے طول و عرض میں موسم کی یہ کیفیت مزید کچھ روز تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسمیاتی تجزیہ کاروں اور محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر کے مطابق شہر میں صبح سے دوپہر کے وقت کے دوران شمالی اور شمال مشرقی سمت کی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ یہ ہوائیں خشک ہو سکتی ہیں جن کی وجہ سے دن کے اوقات میں دھوپ کی تیزی محسوس کی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب دن ڈھلنے کے ساتھ ہی موسمی حالات میں تبدیلی آنے کی توقع ہے جس سے شہریوں کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔ محکمہ موسمیات کا بتانا ہے کہ شام کے اوقات میں سمندر کی جنوب مغربی اور مغربی سمت کی ہوائیں چلنے کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سمندر کی ان خنک ہواؤں کے چلنے سے شام کے وقت درجہ حرارت میں کمی واقع ہوگی اور ماحول خوشگوار ہو جائے گا۔ ساحلی پٹی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ان ہواؤں کے اثرات زیادہ نمایاں ہوں گے جہاں شام کے بعد گرمی کا زور ٹوٹ جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب پندرہ سے تیس فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ نمی کا یہ تناسب اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ فضا میں زیادہ حبس نہیں ہوگا اور غیرمعمولی گرمی یا شدید گھٹن کی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر قائد میں موسم کی یہ مجموعی کیفیت نومبر کے پہلے ہفتے تک برقرار رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر کا کہنا ہے کہ کراچی میں نومبر کے آغاز تک موسم عام طور پر معمول سے کچھ زیادہ گرم ہی ریکارڈ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود شہریوں کے لیے ایک مثبت بات یہ بھی ہے کہ دن کی گرمی کے برعکس رات کے اوقات میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ شام اور رات کے وقت چلنے والی ہواؤں کی وجہ سے ہلکی خنکی محسوس کی جا سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسم کی اس تبدیلی اور اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں بالخصوص بچوں اور بزرگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ دن کے وقت غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنا ہی بہتر رویہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا رہے گا جس سے دن کے اوقات میں گرمی کی شدت برقرار رہے گی۔ مطلع عام طور پر صاف رہنے کی توقع ہے جس کی وجہ سے دھوپ براہ راست زمین پر اثرانداز ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے کاروباری مراکز اور سڑکوں پر روزمرہ کے امور انجام دینے والے افراد کو بھی دن کے اوقات میں گرمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ متعلقہ محکموں نے شہریوں کو دن کے وقت زیادہ پانی پینے اور دھوپ سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسم کی اس تازہ ترین صورتحال پر محکمہ موسمیات کی ٹیمیں مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی نئی موسمی تبدیلی کی صورت میں شہریوں کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔ ارلی وارننگ سینٹر روزانہ کی بنیاد پر شہر کے درجہ حرارت اور ہوا کے رخ کا جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر کراچی کا موجودہ موسم منتقلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں سردیوں کی آمد سے قبل کا گرم اور خشک دورانیہ جاری ہے۔ نومبر کے پہلے ہفتے کے بعد موسم میں مزید بہتری اور باقاعدہ خنکی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/weather/3113/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل، گرفتار افسران معطل اور نیا تقرر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2557/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2557/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 13:17:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انفلوئنزا_ویکسین]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[بارڈر_ہیلتھ_سروسز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_عابد_حسین_شاہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_مرتضی_جعفری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%86%da%88%d9%84-%da%af%d8%b1%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزارتِ صحت نے عمرہ زائرین کے لیے مہنگے داموں ویکسین خریداری اسکینڈل میں ملوث گرفتار افسران کو معطل کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں وفاقی وزارتِ صحت نے عمرہ زائرین کے لیے منجائٹس اور انفلوئنزا کی ویکسین مہنگے داموں خریدنے کے اسکینڈل میں ایک بڑی پیشرفت کے تحت اہم انتظامی فیصلے کیے ہیں اور اس بدعنوانی میں ملوث گرفتار افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں بارڈر ہیلتھ سروسز کے ان تمام افسران کو ہٹا دیا گیا ہے جو اس وقت تحقیقاتی اداروں کی تحویل میں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد وزارتِ صحت کے حلقوں میں ہلچل مچ گئی تھی اور حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ضابطے کی کارروائی کا آغاز کیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور اس طرح کے معاملات کی روک تھام کی جا سکے۔ محکمہ جاتی سطح پر کی جانے والی ان کارروائیوں کا مقصد سرکاری محکموں میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانیوں کے خلاف سخت پیغام دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق وفاقی وزارتِ صحت نے جن افسران کو معطل کیا ہے ان میں ڈائریکٹر بارڈر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر عابد حسین شاہ، بارڈر ہیلتھ سروسز کے سابق سربراہ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ شاہ اور بارڈر ہیلتھ سروسز کی پروکیورمنٹ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر پر دیپ کمار شامل ہیں۔ یہ تمام نامزد افسران اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے یعنی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کی تحویل میں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ان افسران سے بارڈر ہیلتھ سروسز کے لیے ویکسین کی خریداری کے پورے عمل کے دوران ہونے والی مبینہ مالی خرد برد اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے گہرائی سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ خریداری کے عمل میں کس مرحلے پر ضابطے کی خلاف ورزیاں کی گئیں اور اس اسکینڈل کے پیچھے کون کون سے عناصر کارفرما تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزمان پر یہ سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرتے ہوئے اور سرکاری قواعد و ضوابط کو پسِ پشت ڈال کر عمرہ زائرین کے لیے منجائٹس یعنی گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا کی ویکسین انتہائی مہنگے داموں خریدی۔ اس مہنگے داموں خریداری کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ زائرین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی اور انتظامی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ صحت عامہ جیسے حساس شعبے میں اس قسم کی غفلت یا مالی بے ضابطگی کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی بھی متوقع ہے تاکہ اس نوعیت کے اسکینڈلز کا سدباب کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب وفاقی وزارتِ صحت نے اس اہم ادارے میں انتظامی امور کو چلانے کے لیے فوری طور پر خالی ہونے والے عہدے پر نئے تقرر کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں گریڈ انیس کے افسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری کو نیا ڈائریکٹر بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان مقرر کر دیا گیا ہے تاکہ دفتری امور بلا تعطل جاری رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے تعینات ہونے والے ڈائریکٹر بارڈر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری اس تقرری سے قبل قومی ادارہ بحالی معذوراں کے سربراہ کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے تھے اور انتظامی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی تقرری کے بعد وزارتِ صحت نے انتظامی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے فوری نوعیت کے دیگر احکامات بھی جاری کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری کی جانب سے بارڈر ہیلتھ سروسز کا چارج سنبھالنے کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ادارے کے امور کو بہتر بنایا جائے گا اور زائرین کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات بالخصوص ویکسینیشن کے عمل میں مزید شفافیت لائی جائے گی۔ وزارتِ صحت اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادھر قومی ادارہ بحالی معذوراں میں ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری کی جگہ خالی ہونے پر وزارتِ صحت نے وہاں بھی فوری انتظام کرتے ہوئے اضافی چارج سونپ دیا ہے۔ قومی ادارہ بحالی معذوراں کا اضافی چارج اب ڈاکٹر شبانہ سلیم کو تفویض کیا گیا ہے تاکہ اس ادارے کے روزمرہ کے امور بھی متاثر نہ ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے زائرین کی سہولت کے لیے حج اور عمرہ کے موقع پر طبی انتظامات کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے اور اس مقصد کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں ویکسین کی خریداری میں بے ضابطگیوں کی خبروں نے عوامی حلقوں میں بھی شدید تشویش کی لہر دوڑا دی تھی جس پر فوری ایکشن لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی اور سماجی حلقوں نے وزارتِ صحت کی جانب سے فوری معطلی کے احکامات اور شفاف تحقیقات کے عمل کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس قسم کے اسکینڈلز میں ملوث افراد کوفرصتِ قانون کے مطابق عبرت ناک سزا دی جائے گی۔ محکمہ صحت کے اندر اصلاحات کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی اداروں کی جانب سے اس کیس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خریداری کے اس پورے عمل میں کون سے نجی ادارے یا افراد بھی اس گٹھ جوڑ کا حصہ تھے۔ ایجنسی کے حکام اس بات کا بھی عزم ظاہر کر چکے ہیں کہ اس اسکینڈل کی تہہ تک پہنچ کر تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق محکمے کے اندر احتساب کا عمل بلا امتیاز جاری رہے گا اور کسی بھی سرکاری اہلکار کو اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی سطح پر یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ آئندہ اس قسم کے معاملات کی روک تھام کے لیے پروکیورمنٹ کے نظام کو مزید شفاف اور سخت بنایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2557/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ: پی ٹی آئی میں سیاسی سرگرمیاں تیز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/2525/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/2525/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:56:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی_گروپ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آي_کے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_ইনصاف]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے تحریک انصاف کے اندر سیاسی جوڑ توڑ اور مشاورت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں اور لابنگ کا عمل کافی تیز ہو چکا ہے، جہاں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی ذرائع کے مطابق صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے پارٹی کے اراکینِ اسمبلی اور مرکزی رہنماؤں کے درمیان آراء میں کچھ اختلاف پایا جا رہا ہے اور مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر ایک با اثر گروپ نے علی امین گنڈاپور کو ایک بار پھر صوبے کا چیف ایگزیکٹو بنانے کے لیے بھرپور لابنگ کا آغاز کر رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بتایا گیا ہے کہ تیس سے زائد اراکینِ اسمبلی علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزارتِ اعلیٰ کی مسند پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں اور اس مقصد کے لیے ان کی سرگرمیاں جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب پارٹی کے کچھ اہم مرکزی رہنماؤں کی یہ خواہش بھی سامنے آئی ہے کہ آئندہ وزیراعلیٰ کا تعلق ہزارہ یا بونیر کے علاقے سے ہونا چاہیے تاکہ توازن برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے حتمی مشاورت نہ ہونے کی صورت میں جو بھی نیا وزیراعلیٰ منتخب کیا جائے گا، اسے ایک عارضی انتظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور حتمی رہنمائی حاصل نہیں ہوتی، پارلیمانی پارٹی کا منتخب کردہ شخص ہی اس ذمہ داری کو سنبھالے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی ارکان کے مابین رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے ایک الگ واٹس ایپ گروپ بھی بنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جس کے ذریعے آراء کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان پی ٹی آئی خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تاحال نئے وزیراعلیٰ کے تقرر سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ اگر سہیل آفریدی نااہل قرار پاتے ہیں تو ایسی صورت میں پارٹی قیادت باقاعدہ مشاورت کے بعد ہی کسی نئے نام کا حتمی فیصلہ کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ اس سے قبل صوبے کی بہترین نمائندگی کے لیے علی امین گنڈاپور کا نام پارلیمانی پارٹی کی طرف سے باضابطہ طور پر پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کی دھڑے بندی یا اندرونی گروہ بندی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ گروپ صرف آپسی رابطے بحال رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی سطح پر سیاسی امور کے حوالے سے یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب پارٹی کے اندر مختلف آراء اور تجاویز پر غور و خوض کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں اس معاملے پر مزید اہم سیاسی ملاقاتیں اور فیصلے متوقع ہیں جن سے صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/2525/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مشرقِ وسطیٰ کا کوئی ملک دوسرے کی قیمت پر سلامتی حاصل نہیں کر سکتا: انتونیو گوتیرس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2517/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2517/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:17:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ_سیکرٹری_جنرل]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ_اور_دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[انتونیو_گوتیرس]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خطے_کی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سلامتی_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سیکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل پر زور دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">نیویارک سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اپنے ایک بیان میں اس اہم حقیقت پر زور دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا کوئی بھی ملک کسی دوسرے ریاست کی قیمت پر دیرپا سلامتی حاصل نہیں کر سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے واضح کیا کہ خطے میں موجودہ سیکیورٹی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنا ہوگا اور اس کے لیے ایک نئے اور جامع سیکیورٹی ڈھانچے کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتونیو گوتیرس کا یہ مؤقف عالمی سطح پر خطے میں جاری کشیدگی اور تنازعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں طویل عرصے سے امن و امان کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر مختلف کوششیں کی جا رہی ہیں مگر خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی ادارے کے سربراہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسے نئے نظامِ سلامتی کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے جس کے تحت خطے کے تمام ممالک اور وہاں کے باسی اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے مکمل مجاز ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے معاملات میں بیرونی مداخلت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور تمام فیصلوں کی باگ ڈور مقامی سطح پر عوام اور ممالک کے ہاتھوں میں ہونی چاہیے تاکہ دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکے اور تنازعات کا مستقل خاتمہ ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتونیو گوتیرس نے اس بات کو سختی سے مسترد کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا فیصلہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے مسلط کردہ جنگوں کے لامتناہی سلسلے کے ذریعے کیا جائے، کیونکہ اس طریقہ کار نے خطے کے عوام کو صرف مشکلات اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جنگوں اور عسکری کارروائیوں کا یہ طویل سلسلہ خطے کے ممالک کے لیے کسی بھی طرح سودمند ثابت نہیں ہوا، بلکہ اس کی وجہ سے امن کی تمام امیدیں دم توڑتی رہی ہیں اور معاشی و سماجی ترقی کے راستے مسدود ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی موجودہ پیچیدہ صورتحال پر ہمیشہ سے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کی خصوصی توجہ مرکوز رہی ہے، اور اقوامِ متحدہ اس حوالے سے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا یہ تازہ ترین بیان دراصل خطے کے حوالے سے عالمی ادارے کے اس دیرینہ مؤقف کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ہمیشہ سے بات چیت، باہمی احترام اور خودمختاری کے اصولوں کو مقدم رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی اور سفارتی مبصرین کے مطابق انتونیو گوتیرس کا یہ اہم پیغام خطے میں طاقت کے توازن، باهمی تعاون اور خودمختاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو کہ کسی بھی پائیدار امن معاہدے کے لیے بنیادی شرط کی حیثیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں بیرونی عناصر کی جانب سے مسلط کردہ پالیسیوں اور مداخلت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے علاقائی خودمختاری اور مقامی قیادت کے فیصلوں پر بھرپور زور دیا گیا ہے، تاکہ خطے کے عوام خود اپنے امن کا تعین کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ عالمی ادارہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کی بحالی، کشیدگی میں کمی اور سفارتی مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار آئندہ بھی بھرپور انداز میں ادا کرتا رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے کے تمام ممالک کے مابین پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو اپنانا اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ناگزیر قرار دیا گیا ہے، بصورت دیگر بحرانوں کا یہ لامتناہی سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2517/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب کے سرکاری سکولوں کا ایس آئی ایس ڈیٹا 24 گھنٹے میں درست کرنے کی ہدایت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2516/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2516/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 07:57:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایجوکیشن_اتھارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_آئی_ایس]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_رکارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیٹا_تصحیح]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ تعلیم نے صوبہ بھر کے سرکاری سکولوں کے طلبہ اور اساتذہ کا ریکارڈ جلد مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب بھر کے تمام سرکاری سکولوں کے سکول انفارمیشن سسٹم یعنی ایس آئی ایس کے ڈیٹا کی تصحیح اور تصدیق کا عمل اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر مکمل کرنے کی سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ صوبائی حکومت کے متعلقہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے تمام ایجوکیشن اتھارٹیز کو فوری نوعیت کے اقدامات اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کا نظام مزید بہتر بنایا جا سکے۔ تمام سرکاری سکولوں کے ڈیٹا کو سو فیصد درست اور مصدقہ بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے جس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہدایت نامے کے مطابق تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کے داخلوں اور ان کے ذاتی کوائف کا مکمل ریکارڈ ترجیحی بنیادوں پر درست کیا جائے گا۔ ایس آئی ایس کے ڈیٹا میں موجود تمام جعلی یا ڈپلیکیٹ طلبہ کے اندراجات کو فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اصل صورتحال سامنے آ سکے۔ اس عمل سے سکولوں میں طلبہ کی اصل تعداد کا تعین کرنے میں مدد ملے گی اور وسائل کی تقسیم بھی بہتر طریقے سے ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طلبا کے علاوہ سکولوں میں تعینات تدریسی اور غیر تدریسی عملے کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر درست کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اساتذہ اور دیگر ملازمین کی حاضری، تعیناتی اور کوائف کو جدید ڈیجیٹل نظام کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ انتظامی امور میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے میں عملے سے متعلقہ نامکمل معلومات کو فوری طور پر درست کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ بھر کے تمام سرکاری سکولوں میں جماعتوں، سیکشنز اور طلبہ کی باقاعدہ تقسیم سے متعلق ڈیٹا کو بھی مکمل کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں پڑھائی کے معیار کو بہتر بنانے اور انتظامی امور کو باقاعدہ بنانے کے لیے اس ڈیٹا کی درستگی کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ ایجوکیشن اتھارٹیز کے سربراہان کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ مقررہ مدت میں اس عمل کو عملی جامہ پہنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام اضلاع کے سی ای اوز ایجوکیشن سمیت ایجوکیشن اتھارٹیز کے دیگر اعلیٰ سربراہان سے کہا گیا ہے کہ وہ دی گئی مدت میں ڈیٹا کی تصحیح اور تصدیق کا عمل مکمل کریں۔ مقررہ وقت کے اختتام پر تمام متعلقہ اداروں سے درست ریکارڈ پر مبنی جامع تصدیقی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد تعلیمی شعبے میں شفافیت لانا اور گورننس کو مزید مؤثر بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور متعلقہ محکمے کی جانب سے جاری کردہ ان تازہ ہدایات کا بنیادی مقصد تعلیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اسکول انفارمیشن سسٹم کے ڈیٹا میں پائی جانے والی تمام خامیوں کو فوری طور پر دور کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی بلکہ وسائل کا درست استعمال بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایجوکیشن اتھارٹیز کے تمام حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام سکولوں کی مانیٹرنگ کریں۔ اس عمل کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کا ماننا ہے کہ بروقت ڈیٹا کی تصحیح سے تعلیمی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی بڑی آسانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طلبہ کے اندراج کے حوالے سے ڈیجیٹل پورٹل پر موجود معلومات کو زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنا اس حکم نامے کا اہم ترین حصہ ہے۔ بعض سکولوں میں طلبہ کی تعداد اور ریکارڈ میں تضاد پایا جاتا تھا جسے اب مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو گا کہ کس سکول میں کتنے بچے باقاعدگی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اساتذہ اور ملازمین کی تفصیلات کی درستگی سے سکولوں میں عملے کی کمی یا زیادتی کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ اداروں میں عملہ ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے جبکہ دیگر میں کمی کا سامنا رہتا ہے۔ ڈیجیٹل سسٹم کی درستگی کے بعد اس توازن کو بحال کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمارتوں کی خستہ حالی یا خطرناک ہونے کے جو معاملات سامنے آتے ہیں، ان کا درست تخمینہ لگانا بھی اس مہم کا حصہ ہے۔ جن عمارتوں کو جزوی یا مکمل خطرہ لاحق ہے ان کی تفصیلات سامنے آنے پر فوری مرمت یا تعمیر نو کے منصوبے بنائے جا سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کلاس رومز اور چار دیواری جیسے بنیادی امور کی رپورٹنگ بھی سکولوں کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے۔ سیکشنز کی درست تقسیم سے طلبہ اور اساتذہ کا تناسب بھی بہتر طریقے سے برقرار رکھا جا سکے گا جو کہ معیاری تعلیم کے لیے نہایت ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام تعلیمی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت یعنی چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اپنی تمام رپورٹس متعلقہ حکام کو ارسال کریں۔ اس سخت ڈیڈ لائن کا مقصد تمام انتظامی امور کو فوری طور پر ایک اصول کے تحت لانا اور تعلیمی نظام کی بہتری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2516/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور ہائی کورٹ: جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں ضمانتیں مسترد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/2514/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/2514/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 07:56:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اینٹی_کرپشن_پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_رجسٹریاں]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_عالیہ_نیلم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_جی_اینٹی_کرپشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رجستری_محرر]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%b1%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس نے جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں ملزمان کی عبوری ضمانتیں مسترد کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائی کورٹ میں جعلی رجسٹریوں کے سنگین مقدمے کی سماعت ہوئی جس دوران عدالت عالیہ نے اہم نوعیت کے فیصلے صادر کیے ہیں۔ اس عدالتی کارروائی کے دوران رجسٹری محرر اور رجسٹرار کی جانب سے دائر کی جانے والی عبوری ضمانتوں کی درخواستوں پر طویل بحث کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معزز چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے اس کیس کی سماعت کی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد تمام متعلقہ قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ عدالت نے کیس کی کارروائی کے دوران سرکاری و نجی نوعیت کے ریکارڈ کا بھی باریک بینی سے مشاہدہ کیا تاکہ اصل حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوران سماعت معزز چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جائیداد کے معاملات میں کی جانے والی جعلسازی بالکل واضح نظر آ رہی ہے اور یہ سب کچھ کسی تنہا شخص کا کام نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس طرح کی تمام گھناؤنی کارروائیاں باہمی ملی بھگت اور گٹ جوڑ کے بغیر انجام دینا ہرگز ممکن نہیں ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عالیہ نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ جعلی رجسٹریوں کے تیار کیے جانے سے جائیداد کی اصل مالیت پر انتہائی منفی اور گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جعلی دستاویزات کی وجہ سے نہ صرف اصل مالکان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ ریاست کے مالیاتی اور انتظامی امور بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید ریمارکس دیے کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دفاتر میں جعلی اور متنازع رجسٹریوں کے انبار لگے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید خواری اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عام لوگ اپنے ہی جائز حقوق کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے سخت احکام کی تعمیل میں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ ذاتی حیثیت میں لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو محکمے کی کارکردگی اور اس مقدمے سے متعلق اب تک کی جانے والی تفتیش کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ اینٹی کرپشن کے نئے مجوزہ قواعد و ضوابط حتمی منظوری کے لیے چیف سیکرٹری کو بھجوائے جا چکے ہیں۔ ان نئے قواعد کے نافذ العمل ہونے سے محکمے کے اندرونی نظام کو شفاف بنانے میں بڑی مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیش کی گئی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ نئے قواعد کی منظوری کے بعد کسی بھی پرانی یا بند کی جانے والی انکوائری کے عمل کو چار ماہ کے اندر دوبارہ کھولنے کی مکمل مجاز اتھارٹی حاصل ہو جائے گی۔ اس اقدام سے ماضی کے کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے میں آسانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت کو ایک اور اہم تجاویز سے بھی آگاہ کیا جس کا مقصد محکمے کے قانونی بازو کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجداری نوعیت کے پیچیدہ مقدمات کی بہتر انداز میں پیروی کرنے کے لیے خصوصی پراسیکیوٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ محکمے میں پراسیکیوشن کے نظام کو مؤثر اور فعال بنانے کے لیے عارضی بنیادوں پر بھرتیاں بھی کی جائیں گی۔ ان خصوصی بھرتیوں سے قانونی چارہ جوئی کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی جی اینٹی کرپشن کی اس بریفنگ پر اپنے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس بات پر زور دیا کہ محکموں سے ڈیپوٹیشن کلچر کا خاتمے کے بغیر اصلاحات ناممکن ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جب تک اداروں سے ڈیپوٹیشن کا یہ کلچر ختم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک اینٹی کرپشن کا پورا نظام بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ان سخت ہدایات کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ زمینوں کے ریکارڈ اور رجسٹری کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس سے نہ صرف جعل سازوں کا راستہ روکا جا سکے گا بلکہ عام شہریوں کے مالی اور جائیداد کے حقوق کا بھی بھرپور تحفظ یقینی بنایا جاسکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عالیہ نے اس کیس میں مزید قانونی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ جعلسازی کے اس مکروہ دھندے میں ملوث تمام چھوٹے بڑے عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین کارروائی عمل میں لائیں تاکہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/2514/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، 16,173 بچوں کے مفت آپریشن مکمل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2454/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2454/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 10:57:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_علاج]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[چلڈرن_ہارٹ_سرجری_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کے_امراض]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_مند_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%86%d9%84%da%88%d8%b1%d9%86-%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d8%b3%d8%b1%d8%ac%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-16/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب حکومت کے اس صحت عامہ کے منصوبے کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا تمام بچوں کی ویٹنگ لسٹ ختم ہو گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی دارالحکومت میں صحت کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت دل کے امراض میں مبتلا بچوں کے علاج کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔ اس فلاحی اقدام کے نتیجے میں اب تک سولہ ہزار سے زائد بچوں کے دل کے پیچیدہ اور مہنگے آپریشن مکمل طور پر مفت کیے جا چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ مالی وسائل نہ رکھنے والے خاندانوں کے جگر کے ٹکڑوں کو نئی زندگی فراہم کی جا سکے اور غریب والدین پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق جب موجودہ حکومت نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت دل کے عارضے میں مبتلا پندرہ ہزار کے قریب معصوم بچے سرجری کے حصول کے لیے ہسپتالوں کی طویل انتظار کی فہرستوں میں شامل تھے۔ ان بچوں کے والدین طویل عرصے سے اپنے لعل کے علاج کی آس لگائے بیٹھے تھے لیکن وسائل کی کمی بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ ان گھمبیر حالات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے خصوصی ہدایات جاری کیں اور چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کو انتہائی فعال بنایا گیا تاکہ ایک ایک بچے کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پروگرام کی بدولت طبی عملے نے دن رات محنت کرکے ان تمام بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جن کے نام طویل ویٹنگ لسٹ کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک کل سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کی جراحی کے عمل کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا چکا ہے۔ ان تمام بچوں کا علاج مکمل طور پر مفت کیا گیا جس میں ہسپتال کے اخراجات سے لے کر ادویات اور آپریشن کے دوران استعمال ہونے والا مہنگا ترین سامان بھی حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیا تاکہ والدین کو کسی بھی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروگرام کی سب سے بڑی اور شاندار پیش رفت یہ ہے کہ اب دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کی سرجری کے لیے کوئی بھی نام انتظار کی فہرست میں باقی نہیں رہا ہے۔ تمام ایسے بچے جو ماضی میں باری آنے کے منتظر تھے، انہیں بروقت طبی امداد اور سرجری کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے جو کہ صوبائی شعبہ صحت کی تاریخ میں ایک منفرد اور تاریخی اعزاز ہے۔ اس سنگ میل کے عبور کرنے سے نہ صرف ہسپتالوں پر دباؤ کم ہوا ہے بلکہ بروقت علاج ملنے سے بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات بھی ٹل گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس شاندار کامیابی پر صوبائی حکومت کے حلقوں اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی اس فلاحی منصوبے کی کامیابی پر اپنے ایک پیغام میں مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس احسن اقدام سے ہزاروں گھروں کے چراغ روشن ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا کہ اس پروگرام کے تحت سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کے مفت اور کامیاب آپریشن ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینئر وزیر نے اپنے پیغام میں یہ بھی واضح کیا کہ اس شاندار عوامی خدمت کے نتیجے میں اب سرجری کے منتظر بچوں کی ویٹنگ لسٹ بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے والدین کی دعاؤں اور بچوں کے چہروں پر لوٹ آنے والی مسکراہٹوں کو اس حکومت کی اصل کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کا یہ سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا اور صحت کے شعبے میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا یہ سلسلہ بدستور آگے بڑھتا رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا عزم ہے کہ صوبے کے ہر شہری کو علاج معالجے کی معیاری اور جدید سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں تاکہ کوئی بھی فرد مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے۔ ماہرینِ صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے دل کی بیماریاں انتہائی پیچیدہ اور مہنگی ہوتی ہیں جن کا علاج عام آدمی کی بساط سے باہر ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومتی سطح پر اس نوعیت کے فلاحی پروگرام کا نفاذ غریب عوام کے لیے ایک مسیحا کا درجہ رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی طرف سے اس پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا تاکہ کسی بھی مرحلے پر ادویات یا سرجیکل آلات کی کمی کا سامنا نہ کرناپڑے۔ عوام بالخصوص جن بچوں کا علاج ہوا ہے ان کے لواحقین کی طرف سے اس فلاحی اقدام کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے اور اسے ایک تاریخی کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقے اس بات پر متفق ہیں کہ اس طرح کے منصوبے پاکستان میں فلاحی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت مستقبل میں بھی اس نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ نئے آنے والے مریضوں کو کسی بھی قسم کے انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ ہسپتالوں میں سرجیکل یونٹس کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ بچوں کے علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ محکمے کی ٹیمیں مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہیں اور علاج کے معیار کو بہترین رکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت انجام پانے والے ان تمام طبی امور کی باقاعدہ نگرانی کی گئی تاکہ ہر مستحق بچے تک اس سہولت کی رسائی کو شفاف بنایا جا سکے۔ فلاحی منصوبوں کی شفافیت کے حوالے سے حکومت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ عطیات یا سرکاری خزانے سے ملنے والے فنڈز کا پائی پائی کا حساب رکھا جائے اور اسے اصل مستحقین تک پہنچایا جائے۔ اسی کڑی کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کے والدین کو ہسپتالوں میں کسی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت کے عالمی معیار کے مطابق بچوں کے امراض قلب کے آپریشنز انتہائی مہارت کے متقاضی ہوتے ہیں، جن کے لیے ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت پنجاب نے اس پروگرام کی کامیابی کے لیے جدید طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا اور ملکی و غیر ملکی ماہرین کی خدمات سے بھی استفادہ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے کامیاب آپریشنز کا ریکارڈ قائم ہوا ہے اور ایک ایک کر کے تمام زیر التواء کیسز کو کامیابی کے ساتھ نپٹا دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پوری پیش رفت پر والدین اور عوامی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے لیے خصوصی طور پر شکریہ کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر شکریہ مریم نواز شریف کے پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں والدین خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے بچے اب صحت مند زندگی کی طرف واپس لوٹ آئے ہیں۔ یہ منصوبہ آنے والے وقتوں میں بھی صحت کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا A.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2454/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2453/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2453/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 10:38:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بلین_مارکیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[چاندی_کے_نرخ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زر_مبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[سونے_کی_فی_تولہ_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[سونے_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%86%d8%a7%d9%86%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سات روز کی مسلسل گراوٹ کے بعد قیمتی دھاتیں مہنگی ہو گئیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں پیر کے روز سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد قیمتی دھاتیں ایک بار پھر اوپر کی جانب گئیں۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے بڑھنے کا اثر براہ راست مقامی مارکیٹوں پر بھی پڑا ہے جہاں خریداروں کو زیادہ نرخوں کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کا تسلسل ٹوٹنے کے بعد اب بلین مارکیٹ میں ایک نیا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ مسلسل سات روز تک جاری رہنے والی کمی کے بعد سونے اور چاندی کے نرخوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے جو معاشی تناظر میں ایک اہم پیشرفت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں چودہ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سونا چار ہزار نو ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی منڈی کے اس اضافے نے پاکستان کی مقامی سطح پر بھی سونے کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈی میں ہونے والے اس اضافے کے اثرات فوری طور پر پاکستانی صرافہ مارکیٹوں پر مرتب ہوئے ہیں۔ پیر کے روز مقامی سطح پر فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک ہزار چار سو روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے نرخ مزید بلند ہو گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی صرافہ مارکیٹوں میں اضافے کے بعد اب فی تولہ سونے کی نئی قیمت چار لاکھ تئیس ہزار چار سو چھتیس روپے ہو گئی ہے۔ اس بلند سطح پر پہنچنے کے بعد صرافہ بازار میں کاروباری سرگرمیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صرف فی تولہ ہی نہیں بلکہ فی دس گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق فی دس گرام سونے کی قیمت میں ایک ہزار دو سو ایک روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ نرخ تین لاکھ تریسٹھ ہزار اٹھائیس روپے ہو گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب چاندی کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں بھی سونے کی طرح تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت میں بیس سینٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد فی اونس چاندی چون ڈالر کی سطح پر آ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈی میں چاندی کی قیمت بڑھنے کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی فی تولہ چاندی کے نرخوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت میں بیس روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ پانچ ہزار آٹھ سو اٹھتر روپے پر فروخت ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم چاندی کے دس گرام نرخوں میں ایک مختلف صورتحال بھی دیکھنے میں آئی ہے جہاں فی دس گرام چاندی کی قیمت میں سترہ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے اور یہ پانچ ہزار انتالیس روپے کی سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ معاشی صورتحال میں قیمتی دھاتوں کے نرخوں میں ہونے والے یہ اتار چڑھاؤ صرافہ مارکیٹ کے تاجروں اور خریداروں دونوں کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں کا یہ نیا تناسب آئندہ دنوں کے کاروباری رحجانات کا تعین کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہونے والی ان تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے صرافہ ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر مقامی خریداروں کی قوت خرید پر پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قیمتی دھاتوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر قیمتوں کے تعین میں خام تیل اور دیگر معاشی اشاریے اہم کردار ادا کرتے ہیں جن میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام اور خریدار حضرات صرافہ مارکیٹ میں سونے اور چاندی کے ان بدلتے ہوئے نرخوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ زیورات یا سرمایہ کاری کے حوالے سے بروقت اور درست فیصلے کیے جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2453/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کیا جائے گا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2444/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2444/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 09:37:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[جمیل_احمد]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سٹیٹ_بینک_آف_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%b9-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[آئندہ دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا اجلاس گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت منعقد ہو رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں معاشی شعبے کی اہم پیشرفت کے تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا انتہائی اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم اجلاس کی صدارت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد کریں گے۔ اجلاس میں ملک کے اندرونی اور بیرونی معاشی اشاریوں، تجارتی سرگرمیوں اور مالیاتی منڈیوں کی کارکردگی پر غور کیا جائے گا تاکہ آئندہ مدت کے لیے درست فیصلے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کی جانب سے اس بار مانیٹری پالیسی میں مزید سختی لائے جانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیرونی معاشی دباؤ کے منفی اثرات کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اپنے گزشتہ پالیسی اجلاس کے دوران شرح سود کو گیارہ عشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر اس میں تبدیلی متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف مالیاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پالیسی ریٹ میں پچاس بیسز پوائنٹس یعنی صفر عشاریہ پانچ فیصد تک کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے اس مجوزہ اضافے کی باضابطہ منظوری دی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ملک میں مجموعی شرح سود بڑھ کر بارہ فیصد کی سطح تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارہ شماریات پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ یعنی ستمبر میں ملک کے اندر ماہانہ مہنگائی بڑھنے کی شرح دس عشاریہ تین صفر فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معیشت کے دیگر شعبوں کے حوالے سے بھی مرکزی بینک کے پاس تمام تر اعداد و شمار موجود ہیں جن کے تحت ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پینتیس کروڑ ساٹھ لاکھ امریکی ڈالر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی تجارتی اور کاروباری برادری کی نظریں بھی مرکزی بینک کے اس اجلاس پر پوری طرح مرکوز ہیں کیونکہ شرح سود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا براہ راست اثر کاروباری لاگت اور سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرکزی بینک ملک میں معاشی استحکام لانے، قیمتوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے کے لیے آئین اور قواعد کے مطابق طویل المدتی اور قلیل المدتی بنیادوں پر اقدامات کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج کے اس اہم اجلاس کے بعد باضابطہ اعلامیے یا پریس ریلیز کے ذریعے شرح سود سے متعلق حتمی فیصلوں کو عوام اور کاروباری طبقے کے سامنے پیش کیا جائے گا جس سے ملک کی اگلی معاشی سمت کا تعین ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے سے ملک کے مالیاتی منڈیوں، بینکنگ سیکٹر اور عام شہریوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جس پر تمام معاشی حلقے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2444/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
