<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بی_جے_پی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%db%8c_%d8%ac%db%92_%d9%be%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بی_جے_پی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پاکستان ہر موقع پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے: فاروق عبداللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2237/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2237/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 00:37:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بی_جے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[حق_خود_ارادیت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فاروق_عبداللہ]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%b4%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%82%d9%88%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%81%d8%a7%d8%b8%d8%aa-%da%a9%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر اٹھا کر کشمیریوں کی حفاظت کر رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہر موقع پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بارہ مولہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلسل یہ کہتا آرہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ابھی تک حل طلب ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا عوام کو دہلی حکومت سے انصاف کی کوئی امید ہے؟</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھارت کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں اور وہ جو کہتے ہیں اس کے بالکل برعکس کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل کانفرنس کے سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی وجہ سے کشمیریوں کی حفاظت ہو رہی ہے ورنہ بھارتی حکام کے ارادے درست نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے زور دیا کہ کشمیریوں کو اپنے حقوق کے لیے متحد ہونا پڑے گا اور بھارتی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کرنا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ سچ کا ساتھ دینا آسان نہیں ہوتا لیکن جب تک سچ پر قائم نہیں رہیں گے مستقبل محفوظ نہیں رہ سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب فاروق عبداللہ کے اس بیان پر بھارتی جنتا پارٹی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کے صدر ست شرما نے فاروق عبداللہ کے بیان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بی جے پی رہنما ست شرما کا کہنا ہے کہ فاروق عبداللہ کو بھارتی عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر فاروق عبداللہ کو پاکستان سے اتنی ہی محبت ہے تو وہ پاکستان جا کر آباد ہو جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2237/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت: کولکتہ میں مسلمانوں کی پانی کی فراہمی بند، اقوام متحدہ سے مدد کی اپیل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/762/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/762/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 00:37:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امتیازی_سلوک]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_تعصب]]></category>
		<category><![CDATA[بی_جے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d9%88%d9%84%da%a9%d8%aa%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی ریاست مغربی بنگال کے علاقے جیوتی نگر میں سیاسی انتقام کے تحت مسلم آبادی کو بنیادی سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے جس میں کولکتہ کی جیوتی نگر کالونی میں رہائش پذیر 5,000 مسلمانوں کی پینے کے پانی کی سپلائی منقطع کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سنگین صورتحال کے پیش نظر ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان سمیر الاسلام نے اقوام متحدہ سے باقاعدہ رجوع کیا ہے اور عالمی ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انسانی بحران کے حل کے لیے فوری مداخلت کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رکن پارلیمان کی جانب سے اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پانی کی فراہمی بند کرنے کا اقدام حالیہ انتخابی نتائج کے تناظر میں سیاسی انتقام کا شاخسانہ ہے جس کا نشانہ مسلم آبادی کو بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی سطح پر حکومتی عہدیداروں اور عدالتوں سے شنوائی نہ ہونے کے بعد متاثرہ افراد نے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے تاکہ بنیادی انسانی حق یعنی پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق جیوتی نگر کالونی کے مکین اب ایک کلومیٹر دور سے آلودہ پانی لانے پر مجبور ہیں، جبکہ اسی علاقے کی ملحقہ ہندو بستی کو پانی کی فراہمی بدستور جاری رکھی گئی ہے جو تعصب کا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ میونسپلٹی نے مرمت کے بہانے رات کے وقت پانی کے کنکشن کاٹے، تاہم یہ اقدام صرف مسلم اکثریتی بستی تک محدود رکھا گیا ہے جو انتظامیہ کی جانبداری کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حوالے سے بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی رتیش تیواری کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کو ووٹ نہ دینے والوں کے کام نہیں کیے جائیں گے اور ایسے افراد کے خلاف حساب کتاب کا سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت میں انتخابی کامیابی کے بعد مسلم مخالف سیاست میں شدت آئی ہے اور سرکاری مشینری کو اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کولکتہ کے سینئر صحافی سوبجیت باگجی کے مطابق، انتقامی کارروائیوں کے خوف سے مسلمان اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے گریزاں ہیں، جس سے معاشرتی تقسیم میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہو، اس سے قبل 2022 میں بھی مدھیہ پردیش اور نئی دہلی میں سیاسی کشیدگی کے دوران مسلم بستیوں کی بجلی اور پانی کی سہولیات معطل کی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسانی حقوق کے عالمی منشور کے تحت پینے کا صاف پانی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، تاہم بھارت میں اسے سیاسی اور مذہبی تعصب کی بھینٹ چڑھانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ افراد نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ جیوتی نگر کے مکینوں کو ان کا جائز حق واپس مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ سے کی گئی اپیل نے بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے جہاں اقلیتوں کو محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/762/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت میں ووٹر لسٹوں سے ناموں کے اخراج پر ہنگامہ، اپوزیشن کا احتجاج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/624/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/624/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 10:57:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بی_جے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کانگریس_پارٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%ae%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d9%be/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت میں ووٹر لسٹوں سے لاکھوں شہریوں کے نام خارج ہونے پر اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر نکل آئیں اور شدید احتجاج کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ووٹر لسٹوں میں کی جانے والی متنازع تبدیلیوں کے خلاف شدید احتجاج کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے انتخابی فہرستوں سے بڑے پیمانے پر شہریوں کے نام خارج کیے جانے کے اس معاملے پر ملک بھر میں سیاسی گہما گہمی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی دہلی کی اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر اپوزیشن جماعت کانگریس کے کارکنان اور دیگر سیاسی گروہوں کے ارکان بڑی تعداد میں جمع ہیں اور وہ اس حکومتی اقدام کے خلاف بھرپور مظاہرے کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ووٹر لسٹوں میں کی گئی اس رد و بدل نے کروڑوں افراد کو ان کے بنیادی جمہوری حق یعنی حقِ رائے دہی سے محروم کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ووٹر فہرستوں سے مبینہ طور پر ساڑھے تیرہ کروڑ بھارتی شہریوں کے نام یکلخت خارج کر دیے گئے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس ناگہانی اخراج سے حکمران جماعت کو براہ راست سیاسی فائدہ پہنچا ہے جبکہ مسلم ووٹرز اس عمل سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات کے حوالے سے بھی اپوزیشن حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ووٹروں کے اس اچانک اخراج نے انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ تاہم الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت کا بھرپور دفاع کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت بھر میں اس وقت ووٹر لسٹوں کی خصوصی اور تفصیلی نظر ثانی کا سلسلہ جاری ہے جس کے تحت گھر گھر جا کر فہرستوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ اس مشق کا مقصد مبینہ طور پر دہرے اندراج یا نااہل ووٹرز کے ناموں کو فہرستوں سے ہٹا کر انہیں اپ ڈیٹ کرنا بتایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناقدین اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اس نظر ثانی کے عمل میں استعمال ہونے والے مرکزی سافٹ ویئر پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت مقامی انتخابی عہدیداروں کو انتہائی محدود اختیارات دیے گئے ہیں جو زمینی حقائق کی درست تصدیق نہیں کر سکتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرضی کے مطابق درستگی نہ ہونے کی وجہ سے زمینی سطح پر شدید بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں جن کے باعث لاکھوں بے گناہ اور اہل افراد کے نام فہرستوں سے غائب ہو چکے ہیں۔ متاثرہ شہری اب اپنی اور اپنے آباؤ اجداد کی پرانی تاریخی دستاویزات تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاغذات کی سخت شرائط اور انتہائی مختصر ڈیڈ لائنز جیسے عوامل کی وجہ سے غریب، تارکینِ وطن، بزرگ اور بے گھر افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ فہرستوں سے نام نکلنے والے یہ افراد اب قانونی چارہ جوئی کے لیے متعلقہ دفاتر کے طویل چکر کاٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی کمیشن پر دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے پینل کے اراکین نے رجسٹریشن کے طریقہ کار پر متعدد بار اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان اندرونی اختلافات نے اس پورے انتخابی عمل کی شفافیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اس انتظامی عمل کو برقرار رکھتے ہوئے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے درست فہرستوں کا ہونا بنیادی طور پر لازمی ہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ انتخابی پینل شہریت کے بارے میں کوئی حتمی قانونی فیصلہ صادر کرنے کا مجاز نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپوزیشن جماعتوں نے من مانے اخراج اور اس عمل میں پائی جانے والی دیگر بے ضابطگیوں کی بنیاد پر حالیہ دنوں میں ایک بار پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے متعلقہ حکام کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ خارج ہونے والے ووٹرز کی فوری نشاندہی کر کے ان کا دوبارہ اندراج یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ ملکی حالات میں نریندر مودی کی حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے سخت سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ نوجوانوں کی نمائندہ نئی سیاسی جماعتیں بھی اس تنازع پر کافی متحرک ہو چکی ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق ووٹر لسٹوں کا یہ تنازع آنے والے ایام میں ملکی سیاست پر انتہائی گہرے اور دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنان اور عوام نے مطالبات پیش کیے ہیں کہ انتخابی نظام میں فوری اصلاحات لائی جائیں تاکہ کسی بھی شہری کو حقِ رائے دہی سے محروم نہ کیا جا سکے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے فی الحال اس صورتحال پر اعتدال اور قانون کے دائرے میں رہنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/624/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت: کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دپکے حراست سے رہا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/116/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/116/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 09:36:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابھیجیت_دپکے]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بی_جے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/116/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ووٹر فہرستوں کے متنازع عمل کے خلاف احتجاج کرنے والے رہنما کو عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں جاری سیاسی کشیدگی کے دوران ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے سربراہ ابھیجیت دپکے کو ان کے دو ساتھیوں سمیت حراست سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ رہائی ایک مقامی عدالت کے حکم پر عمل میں آئی ہے جس کے بعد تحریک کے کارکنوں میں ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابھیجیت دپکے اور ان کے دیگر سینئر رہنماؤں کو ہفتے کے روز اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ دہلی پہنچے تھے۔ ان کا مقصد وسطی دہلی کے علاقے جنتر منتر پر ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنا تھا جس کے لیے ہزاروں افراد نے تیاری کر رکھی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی حکام نے ہفتے کے روز شہر بھر میں ایک وسیع آپریشن کیا تھا جس کے دوران تین ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظاہرین کا بنیادی مطالبہ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی حالیہ نظر ثانی کا عمل شفاف نہیں ہے اور اس سے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس احتجاجی تحریک نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی غصے کو ایک نئی شکل دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں سے اقتدار میں رہنے والی جماعت انتخابی عمل کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتوار کے روز دہلی کی صورتحال میں بہتری دیکھی گئی اور شہر کے میٹرو اسٹیشنز کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی بحال کر دی گئی ہیں جو کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر معطل کی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق ہفتے کے روز حراست میں لیے گئے مظاہرین کی بڑی تعداد کو رات گئے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور شہر کے اہم مقامات پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھارت میں ہونے والی ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ حکام کو چاہیے کہ وہ پرامن احتجاج کے حق کا احترام کریں اور شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے اور عالمی ادارے کی جانب سے اس قسم کے بیانات کو بلاجواز مداخلت اور منتخب نوعیت کا طرزِ عمل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں ووٹر فہرستوں پر نظر ثانی کا عمل طویل عرصے سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹرز کے اندراج میں جان بوجھ کر تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہلی میں جاری اس احتجاج نے بھارتی سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان جاری اس کشمکش کے اثرات آئندہ انتخابات پر بھی مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس پر سب کی نظریں جمی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/116/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
