<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بین_الاقوامی_قانون &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%db%8c%d9%86_%d8%a7%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c_%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بین_الاقوامی_قانون &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>نووی پلّے کو 2026 کا نوبیل امن انعام دینے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/472/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/472/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 21:37:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدة]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_قانون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_افریقہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%86%d9%88%d9%88%db%8c-%d9%be%d9%84%d9%91%db%92-%da%a9%d9%88-2026-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d9%88%d8%a8%db%8c%d9%84-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[انسانی حقوق کے لیے طویل جدوجہد اور بین الاقوامی قانون کے دفاع پر عالمی اعزاز سے نوازا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیت نووی پلّے کو دو ہزار چھبیس کے نوبیل امن انعام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز ان تمام افراد کے لیے حوصلے کا باعث ہے جو دنیا بھر میں مظلوم طبقات اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوبیل کمیٹی کی جانب سے یہ اعزاز امن کے فروغ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں ان کی غیر معمولی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ نووی پلّے کی پوری زندگی ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد اور حق کی تائید میں گزری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نووی پلّے انیس سو اکتالیس میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے نسلی امتیاز کے پرآشوب دور میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ جنوبی افریقہ میں رنگ برنگی پالیسیوں کے خلاف سرگرم کارکنوں اور نیلسن منڈیلا کے قانونی دفاع سے وابستہ رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انیس سو پچانوے میں وہ جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ کی پہلی سیاہ فام خاتون جج مقرر ہوئیں جس کے بعد انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی عدلیہ اور انسانی حقوق کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں بھی فرائض سرانجام دیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نووی پلّے دو ہزار آٹھ سے دو ہزار چودہ تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے منصب پر فائز رہیں۔ اس دوران انہوں نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کی اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے موثر اقدامات کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے دو ہزار اکیس سے دو ہزار پچیس تک فلسطینی مقبوضہ علاقوں اور اسرائیل کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی بھی کی۔ اس کمیشن نے خطے میں بین الاقوامی قانون کی خلافورزیوں اور انسانی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیل کی جانب سے ان تحقیقاتی رپورٹس اور نتائج کو مسترد کیا گیا ہے تاہم نووی پلّے کی پیشہ ورانہ خدمات اور انسانی حقوق کے لیے ان کی مستقل آواز کو عالمی سطح پر ہمیشہ سراہا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوبیل فاؤنڈیشن کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں خواتین کی نوبیل اعزازات تک رسائی کی تاریخ بھی خاصی طویل جدوجہد پر مبنی ہے۔ انیس سو ایک میں نوبیل انعامات کے آغاز سے لے کر اب تک یہ اعزاز پانے والی خواتین کی مجموعی تعداد محدود رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین میں میری کیوری، مدر ٹریسا، ملالہ یوسفزئی، نرگس محمدی اور نادیہ مراد سمیت دیگر نام شامل ہیں۔ امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد اب اکیس تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی خاتون کو ملنے والا عالمی اعزاز محض انفرادی کامیابی نہیں بلکہ یہ اس طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے جو صدیوں سے مساوات اور انصاف کے لیے جاری ہے۔ اس طرح کے اعزازات سے معاشروں میں مثبت تبدیلی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوبیل امن انعام کسی بھی قانونی تنازعے کا حتمی فیصلہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ عالمی توجہ کا رخ اہم ترین انسانی مسائل کی طرف موڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس سے مظلوموں کے حقوق اور جنگی جرائم کے احتساب کی آوازیں مزید توانا ہوتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی برادری کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور قوانین کا اطلاق تمام خطوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ تبھی اس نوعیت کے عالمی اعزازات اور اداروں کے قیام کے اصل مقاصد پورے ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نووی پلّے کی یہ کامیابی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب بھی کوئی شخصیت اصول پسندی اور سچائی کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اس کی آواز صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ پوری انسانیت کی آواز بن جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/472/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/234/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/234/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 20:57:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آر_فور_گروپ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_قانون]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_ملیشیا]]></category>
		<category><![CDATA[دفتر_خارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%8c-%d9%85%d8%b5%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%8c%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%be%d8%b1-%d8%ad/</guid>

					<description><![CDATA[آر فور گروپ نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان، مصر اور ترکیہ پر مشتمل آر فور گروپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حوثی ملیشیا کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں ان حملوں کو مملکت سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے ایک کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے کی جانے والی یہ خطرناک اشتعال انگیزی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور اسے کسی بھی بہانے سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آر فور گروپ نے ان حملوں کے نتیجے میں شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کو ان کارروائیوں کا مکمل ذمہ دار قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پر ہونے والے یہ حملے نہ صرف ملک کی سلامتی بلکہ وہاں مقیم شہریوں کے تحفظ کے لیے بھی براہ راست خطرہ ہیں، جنہیں فوری اور غیر مشروط طور پر روکا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گروپ نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مملکت کو اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اور جائز اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آر فور گروپ نے سعودی عرب کی جانب سے اپنے دفاع کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں، جس کے تدارک کے لیے عالمی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان، مصر اور ترکیہ نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مملکت کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آر فور گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کو فوری طور پر سعودی عرب پر حملے بند کرنے چاہئیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور پرامن حالات کی بحالی کے لیے راستہ ہموار ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی حکومت نے بھی اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں قرار دیا ہے، جنہیں آر فور گروپ کے رکن ممالک کی مکمل تائید حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مشترکہ اعلامیہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب کی جانب سے اپنے دفاع کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آر فور گروپ کے رکن ممالک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف ہونے والی کسی بھی اشتعال انگیزی کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ متحد ہیں اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/234/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناروے پر تنقید</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/196/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/196/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 16:37:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_ریلی]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_قانون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%86%d9%88%d8%a8%db%8c%d9%84-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d9%86%db%81-%d9%85%d9%84%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%da%88%d9%88%d9%86%d9%84%da%88-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سابق امریکی صدر نے نوبیل کمیٹی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جانبدارانہ قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے شہر سیراکیوز میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نوبیل امن انعام کے حالیہ فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امریکا کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ باوقار انعام ملنا چاہیے تھا، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران ناروے کی نوبیل کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ناروے اور انعام دینے والے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ انعام اب چند ایسے نظریاتی افراد کے ہاتھوں میں ہے جو جمہوریت اور تہذیب کے مخالف ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق صدر نے 2026 کے نوبیل امن انعام یافتہ ناوی پلے کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کیے اور انہیں ایک ایسی شخصیت قرار دیا جنہیں عالمی سطح پر زیادہ نہیں جانا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ناروے کے اس فیصلے کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ ناوی پلے کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے تحفظ اور جنگی جرائم و نسل کشی کے خلاف احتساب کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں 2026 کا نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہ چکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنی تقریر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں متعدد جنگوں کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، ان کے ان دعوؤں اور تنازعات کے حل میں ان کی حکمت عملی پر عالمی سطح پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوبیل کمیٹی کی جانب سے ہر سال امن کے لیے خدمات انجام دینے والی شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے، جس پر اکثر عالمی سطح پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان اسی سلسلے میں ایک تازہ ترین ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ ناوی پلے ماضی میں مختلف بین الاقوامی عدالتوں میں بطور جج بھی اپنے فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔ ان کی خدمات کو عالمی برادری کی جانب سے انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرمپ کی جانب سے ناروے پر تنقید کا یہ معاملہ اب سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سابق امریکی صدر کا یہ بیان ان کے مخصوص سیاسی بیانیے کا حصہ ہے جس میں وہ عالمی اداروں کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیراکیوز میں ہونے والی اس ریلی میں ری پبلکن پارٹی کے دیگر امیدواروں نے بھی شرکت کی۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران خارجہ پالیسی اور عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات کو اپنی تقریروں کا اہم حصہ بنایا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوبیل امن انعام کی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی سیاسی رہنما نے اس کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا ہو۔ ماضی میں بھی کئی شخصیات نے کمیٹی کے فیصلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم ٹرمپ کا انداز اس معاملے میں کافی جارحانہ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادھر عالمی سطح پر ناوی پلے کو ملنے والے اس اعزاز کو سراہا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ایک درست فیصلہ قرار دیا ہے، جو عالمی انصاف کے لیے ان کی جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ناروے کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سفارتی حلقے اس بیان کو امریکا اور ناروے کے درمیان تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں، حالانکہ یہ ایک انفرادی رائے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/196/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
