<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بین_الاقوامی_تعاون &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%db%8c%d9%86_%d8%a7%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c_%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%88%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:53 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بین_الاقوامی_تعاون &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پاکستان اور کینیڈا کے طبی اداروں کے درمیان تعاون کا معاہدہ طے پا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/1908/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/1908/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 02:56:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[اوٹاوا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈاکٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[پوسٹ_گریجویٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_خالد_مسعود_گوندل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سی_پی_ایس_پی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%86%db%8c%da%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b7%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان اور رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف کینیڈا کے مابین طبی تعلیم اور تربیت کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور کینیڈا کے طبی شعبے کے دو اہم ترین اداروں نے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور مہارتوں کے تبادلے کے لیے باہمی تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان طبی شعبے میں نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوٹاوا میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) اور رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف کینیڈا (RCPSC) کے وفود نے شرکت کی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے طبی ماہرین کے لیے جدید ترین تعلیمی مواقع پیدا کرنا اور ادارہ جاتی استعداد کار کو بڑھانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی وفد کی قیادت سی پی ایس پی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے کی، جبکہ کینیڈین وفد کی سربراہی رائل کالج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر کرسٹوفر واٹلنگ نے کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر طبی تعلیم کے معیار کو عالمی سطح پر لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوٹاوا میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس شراکت داری کے تحت دونوں ادارے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ اس میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کورسز کی بہتری اور جدید طبی طریقہ کار کا تبادلہ شامل ہے تاکہ مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے طبی اداروں کے درمیان ماہرین کا تبادلہ بھی کیا جائے گا تاکہ ڈاکٹروں کی تربیت کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ یہ اقدام پاکستان میں طبی تعلیم کے معیار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ یہ اشتراک عمل پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔ اس سے نہ صرف طبی مہارتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان طبی تحقیق کے شعبے میں بھی نئے راستے کھلیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر کرسٹوفر واٹلنگ نے بھی اس تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف کینیڈا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاہدے کے اہم نکات میں طبی نصاب کی جدید کاری، امتحانی نظام میں بہتری اور ہسپتالوں میں تربیت کے معیار کو عالمی سطح پر لانا شامل ہے۔ دونوں ادارے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں مشترکہ ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد بھی کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور کینیڈا کے درمیان یہ طبی تعاون دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو بھی تقویت دے گا۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بین الاقوامی معاہدے پاکستان کے ہیلتھ کیئر سیکٹر میں جدت لانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی پی ایس پی پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو ہزاروں ڈاکٹروں کو ماہر سرجن اور فزیشن بننے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کینیڈا کے ساتھ اس اشتراک سے پاکستانی ڈاکٹروں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا موقع ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں اداروں کے سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں اس تعاون کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ اس میں آن لائن ٹریننگ سیشنز اور ریسرچ پروجیکٹس کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر اس سے مستفید ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مفاہمتی یادداشت دونوں ممالک کے طبی اداروں کے درمیان طویل مدتی تعلقات کی بنیاد بنے گی۔ اس سے نہ صرف طبی تعلیم کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ دونوں ممالک کے ڈاکٹروں کے درمیان پیشہ ورانہ روابط بھی مضبوط ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/1908/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جاپان کا امریکا میں سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کیلئے 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1335/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1335/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 18:57:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایپل]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاپان]]></category>
		<category><![CDATA[چپ_سازی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%ac%d8%a7%d9%be%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c%d9%85%db%8c-%da%a9%d9%86%da%88%da%a9%d9%b9%d8%b1-%da%86%d9%be%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی ریاست نیویارک میں دو نئے کارخانے تعمیر کیے جائیں گے جن کا مقصد چپ سازی کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جاپان نے امریکا میں سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کے دو بڑے کارخانے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے 21 ارب ڈالر کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سرمایہ کاری کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر چپس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کارخانوں کی تعمیر امریکی ریاست نیویارک میں کی جائے گی، جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل آلات نصب کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوبل فاؤنڈریز کے مطابق، ان کارخانوں کی مشترکہ ملکیت امریکی حکومت اور جاپانی فریقین کے پاس ہوگی۔ اگرچہ سرمایہ کاری کی تمام تر رقم جاپان فراہم کرے گا، تاہم ان کارخانوں کے آپریشنز اور انتظام کی ذمہ داری گلوبل فاؤنڈریز کے پاس ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اقدام گزشتہ برس طے پانے والے 550 ارب ڈالر کے وسیع تر سرمایہ کاری معاہدے کا حصہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکا نے جاپانی گاڑیوں اور دیگر درآمدی اشیا پر محصولات کی شرح کو 25 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوبل فاؤنڈریز کے چیف ایگزیکٹو ٹم برین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی حکومت اس منصوبے کے تحت کمپنی میں 4 فیصد حصص حاصل کرے گی۔ اس اضافے کے بعد کمپنی میں امریکی حکومت کی مجموعی ملکیت تقریباً 7 فیصد تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کے تحت سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی نقد آمدن کو دونوں ممالک کے درمیان مساوی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے گا۔ ایک مخصوص حد تک منافع کی تقسیم کے بعد، آمدن کا 90 فیصد حصہ امریکی حکومت کے خزانے میں جمع کرایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹم برین نے مزید کہا کہ اس سرمایہ کاری کا کچھ حصہ جاپان کی چپ سازی کے آلات بنانے والی کمپنیوں تک بھی پہنچے گا، جن میں ٹوکیو الیکٹرون جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ تعاون جاپانی صنعتی شعبے کی مہارت کو عالمی سطح پر اجاگر کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کی جانب سے ان کارخانوں کے لیے ٹیکنالوجی کے لائسنس بھی فراہم کیے جائیں گے، جس سے پیداواری عمل میں تیزی آئے گی۔ یہ اقدام نہ صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس منصوبے کے تحت مکمل ہونے والے مختلف مراحل کی نگرانی کرے گی۔ حکومتی سطح پر اس منصوبے کو سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوبل فاؤنڈریز کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں دیگر ممالک کی کمپنیوں کو بھی اپنی خدمات فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم، فی الحال توجہ صرف امریکی اور جاپانی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے پر مرکوز ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کی ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔ جاپانی ٹیکنالوجی اور امریکی انفراسٹرکچر کا ملاپ سیمی کنڈکٹر کی صنعت میں ایک نیا معیار قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1335/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یورپی یونین کی جانب سے یوکرین کے لیے 3.2 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/725/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/725/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 20:37:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ارسولا_وان_ڈیر_لیین]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_امداد]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرونز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روسی_یوکرین_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-3-2/</guid>

					<description><![CDATA[یورپی کمیشن نے یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے اور عسکری ضروریات پوری کرنے کے لیے اربوں یورو کے فنڈز فراہم کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یورپی یونین نے یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کے لیے 3.2 ارب ڈالر کی خطیر رقم جاری کر دی ہے۔ یورپی کمیشن کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ اس مالی پیکیج کا مقصد یوکرین کو درپیش ہنگامی عسکری ضروریات کو پورا کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس امدادی رقم کا بڑا حصہ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو جدید بنانے اور اسے مزید فعال کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، جاری کشیدگی کے تناظر میں ڈرونز، میزائلوں اور دیگر دفاعی سازوسامان کی خریداری بھی اس پیکیج کا اہم حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی کمیشن کے مطابق یہ فنڈز 90 ارب یورو کے مجموعی &#039;یوکرین سپورٹ لون&#039; پروگرام کے تحت فراہم کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد یوکرین کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے طویل مدتی مالی اور عسکری معاونت فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ رقم سے جدید ریڈار سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر کے آلات اور گولہ بارود کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یوکرین کی جانب سے اپنی فضائی حدود کے تحفظ اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اس موقع پر کہا کہ روس کی جانب سے فضائی حملوں میں شدت لانے کے بعد یوکرین کو یورپ کی غیر متزلزل حمایت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ سال 2026 سے 2027 کے لیے مختص کردہ 90 ارب یورو کے اس قرض پیکیج میں سے 60 ارب یورو کا حصہ خصوصی طور پر دفاعی مقاصد کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ باقی 30 ارب یورو یوکرین کے بجٹ کی معاونت کے لیے استعمال ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی یونین کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کو مسلسل فضائی حملوں کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ مالی معاونت یوکرین کی دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی یونین کے رکن ممالک یوکرین کی مدد کے لیے مختلف سطحوں پر کوشاں ہیں تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس امدادی پیکیج کی بروقت فراہمی یوکرین کی عسکری تیاریوں میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل بھی یورپی یونین یوکرین کو انسانی اور مالی امداد فراہم کرتی رہی ہے، تاہم یہ حالیہ قسط مکمل طور پر دفاعی ضروریات پر مرکوز ہے۔ اس امداد سے یوکرین اپنے دفاعی نیٹ ورک کو مزید منظم اور جدید بنانے کے قابل ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی حکومت نے یورپی یونین کی جانب سے اس بروقت حمایت کا خیرمقدم کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ وسائل یوکرین کے دفاعی نظام کو مزید مستحکم کرنے اور دشمن کے فضائی حملوں کو ناکام بنانے میں انتہائی معاون ثابت ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ یوکرین کے ساتھ اپنی شراکت داری کو جاری رکھے گا۔ مستقبل میں بھی یوکرین کی تعمیر نو اور دفاعی ضروریات کے لیے یورپی یونین کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس امدادی پیکیج کے بعد اب یوکرین کی دفاعی افواج کو جدید آلات کی فراہمی میں تیزی آئے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام یوکرین کی دفاعی حکمت عملی میں ایک نئی روح پھونکنے کا باعث بنے گا اور اسے درپیش مشکلات کم ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/725/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کیلئے روانہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/29/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/29/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:50:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اقتصادی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/29/</guid>

					<description><![CDATA[دورے کے دوران وزیر خزانہ عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان، سرمایہ کاروں اور مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے 60 سے زائد اہم ملاقاتیں کریں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ اس دورے کا بنیادی مقصد عالمی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے معاشی روابط کو مزید مستحکم بنانا، ملکی معاشی منظرنامے اور ساختی اصلاحات پر پیش رفت سے آگاہ کرنا اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت خزانہ کے مطابق، وزیر خزانہ اپنے دورے کے دوران 60 سے زائد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں، عالمی بینکوں کے نمائندوں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں اور مختلف ممالک کے حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دورے کے دوران محمد اورنگزیب آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی قیادت سے ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی صورتحال، جاری اصلاحاتی اقدامات اور پائیدار اقتصادی ترقی کے امکانات پر گفتگو کریں گے۔ وہ عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان میں سرمایہ کاری، برآمدات کے فروغ اور نجی شعبے کی ترقی کے امکانات بھی اجاگر کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ کی سعودی عرب، چین، ترکیہ، ایران، برطانیہ اور تھائی لینڈ کے ہم منصبوں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد دوطرفہ اقتصادی تعاون بڑھانا، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا اور پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی محکمہ خزانہ کے حکام کے ساتھ بھی ملاقات طے ہے جس میں اقتصادی تعاون اور اصلاحاتی ترجیحات زیر بحث آئیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں فچ ریٹنگز، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل کے نمائندوں سے بھی وزیر خزانہ کی ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ ان اجلاسوں میں پاکستان کی معاشی پیش رفت، اصلاحاتی اقدامات اور مالیاتی استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد اورنگزیب جے پی مورگن، سٹی، ڈوئچے بینک اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ سمیت معروف عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے بھی ملیں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد عالمی سرمایہ منڈیوں تک پاکستان کی رسائی کے امکانات اجاگر کرنا، بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو فروغ دینا اور ملک میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار مواقع کی نشاندہی کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ علی بابا انٹرنیشنل ڈیجیٹل کامرس کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے جس میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس کے فروغ، ڈیجیٹل تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ جی-24 اور وی 20 سمیت اہم عالمی اقتصادی فورمز میں بھی شرکت کریں گے۔ ان فورمز میں وہ موسمیاتی اقدامات، روزگار کے مواقع اور پائیدار ترقی سے متعلق عالمی اجلاسوں میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب ملک کی پیش رفت کو اجاگر کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دورے کے دوران محمد اورنگزیب عالمی میڈیا اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے جن میں رائٹرز، بلومبرگ، نکی ایشیا اور وال سٹریٹ جرنل شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کے معاشی منظرنامے، حکومتی اصلاحاتی ترجیحات اور سرمایہ کاری کے امکانات کے حوالے سے عالمی میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ کا یہ دورہ پاکستان کے عالمی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ دورے کے دوران خصوصی توجہ سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو وسعت دینے پر مرکوز رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/29/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
