<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بیلسٹک_میزائل &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%db%8c%d9%84%d8%b3%d9%b9%da%a9_%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d9%84/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:06 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بیلسٹک_میزائل &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سعودی عرب: حوثی ملیشیا کے مکہ اور مدینہ پر بیلسٹک میزائل حملے ناکام</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2238/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2238/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 00:37:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بیلسٹک_میزائل]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جدہ]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_ملیشیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_سول_ڈیفنس]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c-%d9%85%d9%84%db%8c%d8%b4%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d9%85%da%a9%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[سعودی سول ڈیفنس نے حوثی ملیشیا کی جانب سے مقدس شہروں کی سمت داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے سول ڈیفنس حکام نے حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کارروائی سعودی فضائی دفاعی نظام کی مستعدی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے دونوں بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جس سے کسی بھی قسم کے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ میزائلوں کو تباہ کرنے کے بعد ان کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا۔ حکام کے مطابق، تباہ شدہ میزائلوں کے کچھ حصے مکہ مکرمہ کی وادی المغمس میں گرے، جبکہ جدہ گورنریٹ کے محلہ النزہہ میں بھی ملبہ پایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی سول ڈیفنس کے مطابق، طائف گورنریٹ کی وادی جلیل اور رابغ گورنریٹ کے مرکز مستورہ میں بھی میزائلوں کو روکنے کے نتیجے میں ملبے کے ٹکڑے گرے۔ متعلقہ حکام نے ان علاقوں میں فوری طور پر حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے منظور شدہ طریقہ کار پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے حوثی ملیشیا کے ان حملوں کی شدید مذمت کی جاتی رہی ہے۔ مملکت کے دفاعی نظام نے ماضی میں بھی اس طرح کی جارحیت کو ناکام بنایا ہے تاکہ مقدس مقامات اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی سول ڈیفنس نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی مشکوک ملبے یا شے کو ہاتھ نہ لگائیں۔ متعلقہ ٹیمیں ان علاقوں میں صفائی اور تحقیقاتی عمل میں مصروف ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو دور کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ سعودی عرب نے بارہا عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ علاقوں میں معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ متحرک ہے۔ سعودی سول ڈیفنس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثی ملیشیا کی جانب سے اس طرح کے میزائل حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے منافی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ ادارے اس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر ہی اعتماد کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2238/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن تنازعہ، سعودی عرب اور حوثیوں کے زیرِ استعمال عسکری ہتھیاروں کا جائزہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1112/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1112/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 15:17:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلحہ]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بیلسٹک_میزائل]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_تریۢ]]></category>
		<category><![CDATA[جنگی_طیارے]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%db%81-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[میدہ خَبروں کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین جاری کشیدگی میں بیلسٹک میزائل، ڈرونز اور جدید لڑاکا طیاروں کا استعمال جاری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمن میں حوثی تحریک انصار اللہ اور سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مختلف اقسام کے عسکری ہتھیاروں کا استعمال سامنے آ رہا ہے۔ اس تنازعے میں فریقین کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں، نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز کے ساتھ ساتھ جدید لڑاکا طیاروں کو بھی بروئے کار لایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تنازعات کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کارروائیوں میں ایسے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں جو ہزاروں کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان عسکری سازوسامان میں فضائی دفاعی نظام اور مختلف اقسام کے میزائل بھی شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثیوں کے عسکری اسلحہ خانے میں درمیانی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل نمایاں حیثیت رکھتے ہیں جن کی رفتار اور وزن اٹھانے کی صلاحیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے زیرِ استعمال بعض جدید میزائل اور ڈرون ایرانی ڈیزائن پر مبنی ہیں جنہیں مقامی سطح پر تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلاسل میں حوثیوں کی جانب سے استعمال ہونے والے نمایاں میزائلوں میں ’فلسطین 2‘ بھی شامل ہے جو تقریباً اکیس سو کلومیٹر سے زائد کے فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس میزائل کی رفتار انتہائی زیادہ بتائی جاتی ہے جو مبینہ طور پر آواز کی رفتار سے بھی کئی گناہ تیز سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثیوں کے پاس موجود دیگر میزائلوں میں ’ذوالفقار‘ بھی شامل ہے جسے ’برکان 3‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ بارہ سو کلومیٹر سے زیادہ دور تک مار کر سکتا ہے۔ فوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ میزائل بھی ایک مخصوص ڈیزائن کا تبدیل شدہ ورژن ہو سکتا ہے جو نمایاں تباہ کن صلاحیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، حوثی فورسز کے زیرِ استعمال ڈرونز میں قلیل فاصلے تک پرواز کرنے والا ’رجوم‘ ڈرون بھی شامل ہے جو کئی مارٹر گولے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ نگرانی اور طویل فاصلے کے لیے ’صماد 1‘ ڈرون بھی استعمال کیا جاتا ہے جسے بعد ازاں یک طرفہ حملوں کے قابل بھی بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب یمن کے اندرونی حصوں میں کارروائیوں کے لیے بنیادی طور پر اپنی فضائی قوت اور لڑاکا طیاروں پر انحصار کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی اور یورپی ساختہ جنگی طیاروں کے علاوہ جدید حملہ آور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں جو مختلف میزائلوں اور خودکار توپوں سے لیس ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سلطلنت سعودی عرب کے عسکری بیڑے میں نمایاں مقام رکھنے والا امریکی ساختہ ایف پندرہ لڑاکا طیارہ تین ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طیارے کو مختلف عسکری مشنز اور فضائی کارروائیوں میں بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ سعودی فضائیہ میں یورپ میں تیار کردہ یوروفائٹر ٹائفون لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں جو زمینی اہداف پر حملوں اور دیگر فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ طیارے طویل فاصلہ طے کرنے اور تیز رفتار پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عسکری ذخیرے میں امریکی ساختہ اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جنہیں فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں اور خودکار توپوں سے لیس کیا گیا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر مخصوص آپریشنل حالات میں دشمن کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ برسوں میں یمن میں کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز میں ’سکائی واسپ‘ بھی شامل ہے جسے ایک امریکی اور سعودی کمپنی نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس ڈرون کی پرواز کی طویل حد اور رفتار اسے نگرانی اور حملوں کے لیے مفید بناتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی جریدوں اور تحقیقی اداروں کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب دفاعی نظاموں پر سالانہ اربوں ڈالر کے اخراجات کرتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی بجٹ کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔ ریاض اپنے دفاعی پروگرام کے تحت مختلف ممالک کے جدید ترین دفاعی نظام استعمال کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے دفاعی نظاموں میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹم سب سے زیادہ نمایاں ہیں جو ملکی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے کام کرتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ نظام دشمن کی جانب سے داغے جانے والے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1112/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمنی حوثی چینی پرزوں کی مدد سے جدید بیلسٹک میزائل بنانے میں مصروف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/767/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/767/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 01:17:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[بیلسٹک_میزائل]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_شکن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86%db%8c-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c-%da%86%db%8c%d9%86%db%8c-%d9%be%d8%b1%d8%b2%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af-%d8%b3%db%92-%d8%ac%d8%af%db%8c%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[ایک امریکی رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا چینی ساختہ پرزوں کا استعمال کرتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کر رہی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمنی حوثی گروپ کی جانب سے چین سے درآمد کیے گئے پرزوں کی مدد سے جدید اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ انکشاف ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس میں ہتھیاروں کی سپلائی چین پر کام کرنے والے گروپ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نامی گروپ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے ایک چینی سپلائر سے مخصوص پرزے حاصل کیے ہیں، جن کا مقصد ایران کے طاقتور &#039;خیبر شکن&#039; گائیڈڈ میزائل کا مقامی ورژن تیار کرنا ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حوثی اس میزائل کو تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کی رینج تقریباً 1200 میل تک ہو سکتی ہے۔ اس صلاحیت کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے اہم مقامات اس میزائل کی زد میں آ سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر شکن میزائل کو اپنی نوعیت کا ایک مہلک ہتھیار سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ جدید فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے اور اپنے ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی ٹیکنالوجی حوثیوں کی عسکری طاقت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ رپورٹ گزشتہ سال یمنی حکام کی جانب سے روکی گئی دو شپمنٹس کی جانچ پڑتال پر مبنی ہے۔ ان شپمنٹس میں دیگر سامان کے ساتھ میزائل سازی کے لیے درکار حساس آلات کو خفیہ طور پر چھپایا گیا تھا، جس سے اس نیٹ ورک کا پتہ چلا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ کے سینیئر تجزیہ کار فیبین ہنز کے مطابق جب اس قسم کے پرزے درآمد کیے جاتے ہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ متعلقہ گروپ میزائل سازی کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے جس پر عالمی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیبین ہنز نے مزید کہا کہ حوثیوں کی ہتھیار بنانے والی تنصیبات انتہائی خفیہ مقامات پر قائم ہیں، جس کی وجہ سے یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ میزائل کی پیداوار کس مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔ ان کی خفیہ کارروائیاں سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ ان کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کو ہوا دی ہے اور عالمی سطح پر سیکیورٹی ماہرین نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان حملوں اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر کارروائیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت کے لیے بھی نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں جس پر دنیا بھر کے ممالک متفکر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے حوثیوں کے رویے کو انتہائی برا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کا امن اور تجارتی راستے خطرے میں پڑ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثیوں کی جانب سے میزائل ٹیکنالوجی کا حصول خطے کے طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔ عالمی برادری اب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ان ہتھیاروں کی سپلائی چین کو کیسے روکا جائے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک نے بھی حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے میزائل حملوں کے پیش نظر اپنے دفاعی نظام کو مزید مستحکم کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ سیکیورٹی کی صورتحال پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل قریب میں اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر مزید سفارتی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ ہتھیاروں کی غیر قانونی ترسیل کو روکنا اب خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک اہم ترجیح بن چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/767/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی عرب: ظہران کی جانب داغا گیا حوثی بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/492/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/492/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 23:57:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بیلسٹک_میزائل]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_ملیشیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_دفاع]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%b8%db%81%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%af%d8%a7%d8%ba%d8%a7-%da%af%db%8c%d8%a7-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c-%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[یمن میں برسرِ پیکار عرب اتحاد نے سعودی عرب کے شہر ظہران کو نشانہ بنانے کی حوثی ملیشیا کی کوشش ناکام بنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے شہر ظہران پر حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے کی ایک اور کوشش کو عرب اتحاد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا ہے۔ یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے کام کرنے والے عسکری اتحاد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حوثیوں کی جانب سے داغا گیا بیلسٹک میزائل ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی فضا میں تباہ کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عرب اتحاد کے ترجمان کے مطابق یہ میزائل سعودی عرب کے گنجان آباد اور اہم صنعتی شہر ظہران کو نشانہ بنانے کے لیے فائر کیا گیا تھا۔ تاہم، سعودی فضائی دفاعی نظام نے اس خطرے کو فوری طور پر بھانپ لیا اور میزائل کو راستے میں ہی روک کر فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا، جس سے کسی بھی قسم کے بڑے جانی یا مالی نقصان کا خطرہ ٹل گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی بھی شہری یا املاک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے علاقے کی صورتحال کو مکمل طور پر معمول کے مطابق قرار دیا گیا ہے اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ظہران شہر اپنی تیل کی تنصیبات اور اقتصادی اہمیت کے باعث سعودی عرب کے لیے انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔ یہاں ہونے والی کسی بھی تخریب کاری کی کوشش کو سعودی سیکیورٹی ادارے انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور فوری جوابی کارروائی کے ذریعے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے اس طرح کے حملے دراصل خطے میں کشیدگی برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہیں۔ یمن میں جاری تنازعہ کے حل کے لیے سعودی عرب نے متعدد بار امن تجاویز پیش کی ہیں، جن کا مقصد خطے میں پائیدار امن کا قیام اور انسانی بحران کا خاتمہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عرب اتحاد کے مطابق وہ یمن میں آئینی حکومت کی مدد جاری رکھے گا تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔ سعودی عرب کی جانب سے شہریوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا جاتا رہا ہے، خاص طور پر فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی نے کئی بار بڑے حادثات کو روکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تازہ ترین صورتحال کے بعد سعودی عرب کے متعلقہ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔ حکومتی سطح پر صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے کے دیگر ممالک نے بھی سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری کا احترام ہر صورت لازم ہے اور کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/492/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل &#8216;فتح ٹو (ای آر)&#8217; کا کامیاب تجربہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/471/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/471/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 21:37:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_آس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹریٹجک_صلاحیت]]></category>
		<category><![CDATA[بیلسٹک_میزائل]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کا_دفاع]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_سائنسدان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d8%a7%da%a9-%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%db%81%d8%a7%d8%a6%d9%be%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%86%da%a9-%d8%a8%db%8c%d9%84%d8%b3%d9%b9%da%a9-%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%81%d8%aa%d8%ad/</guid>

					<description><![CDATA[جدید نیویگیشن سسٹم اور ایونکس سے لیس میزائل دشمن کے دفاعی نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی مسلح افواج نے دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملک نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہائپرسونک بیلسٹک میزائل &#039;فتح ٹو&#039; توسیع شدہ رینج (ای آر) کا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ عسکری کامیابی ملک کی دفاعی تیاریوں میں اضافے اور جدید عسکری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی غرض سے حاصل کی گئی ہے۔ میزائل تجربے کے موقع پر متعلقہ حکام اور تکنیکی ماہرین کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے اس کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ میزائل جدید ترین نیویگیشن سسٹم اور ایونکس کی خصوصیات سے آراستہ ہے۔ اس کی ساخت میں ایسے سائنسی اصول شامل کیے گئے ہیں جو پرواز کے دوران اسے راستہ اور سمت تبدیل کرنے کے قابل بناتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید صلاحیت کی بدولت میزائل روایتی اور پیچیدہ فضائی راستوں پر کامیابی سے گامزن رہ سکتا ہے۔ یہ تکنیکی خوبی دشمن کی جانب سے نصب کردہ جدید میزائل دفاعی نظام کو باآسانی ناکام بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میزائل کے ڈیزائن میں انتہائی اعلیٰ درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی خصوصیت رکھی گئی ہے۔ اس کے ذریعے مطلوبہ اور مقررہ اہداف کو انتہائی کم فاصلے کے انحراف کے ساتھ کامیابی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجربے کے دوران اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ میزائل نے اپنی تمام تکنیکی خصوصیات پر پورا اترتے ہوئے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اس تجربے کے بعد ملک کی دفاعی اور اسٹریٹجک صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایس پی آر کے مطابق اس میزائل کی رینج میں اضافے سے پاک فوج کی آپریشنل رسائی کو وسعت ملی ہے۔ اب فوج دور دراز علاقوں میں موجود اہداف کو بھی انتہائی موثر انداز میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم نوعیت کے تجربے کا مشاہدہ کرنے والوں میں کمانڈر آرمی راکٹ فورس کمانڈ شامل تھے۔ اس کے علاوہ پاک فوج کے سینئر افسران، دفاعی سائنسدان اور انجینئرز بھی اس موقع پر موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمانڈر آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے اس کامیابی پر سائنسدانوں اور انجینئرز کی انتھک محنت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی ماہرین کی دن رات کی لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے یہ ہدف حاصل کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی اور عسکری قیادت نے بھی اس شاندار کامیابی پر دفاعی ماہرین اور سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ پاکستان کی تکنیکی خود کفالت اور دفاعی قوت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اپنے پیغامات میں سائنسدانوں اور انجینئرز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اپنے ماہرین کی صلاحیتوں پر مکمل فخر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف آف ڈیفنس فورسز اور سروسز چیفس نے بھی اس کامیاب تجربے کو پاکستان کے دفاع کے لیے ایک اور روشن باب قرار دیا۔ عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/471/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
