<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بیرون_ملک_پاکستانی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86_%d9%85%d9%84%da%a9_%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:07 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بیرون_ملک_پاکستانی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم: 16 ارب روپے کے انعامات جیتنے کا طریقہ کار واضح</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/3177/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/3177/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 13:14:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[انعامی_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بینکنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاسبان_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%b1%db%8c%d9%85%db%8c%d9%b9%d9%86%d8%b3-%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-16-%d8%a7%d8%b1%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[اسٹیٹ بینک کی سرپرستی میں شروع ہونے والی اسکیم کے تحت بیرون ملک سے قانونی ذرائع سے رقم بھجوانے والے پاکستانی انعامات کے حقدار ہوں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے شروع کی گئی &#039;پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم&#039; کے حوالے سے اہم تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کو فروغ دینا ہے، جس کے تحت سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شمولیت کے لیے کسی قسم کی رجسٹریشن، ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے یا فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیرون ملک سے قانونی ذرائع کے ذریعے رقم وصول کرنے والے تمام اہل افراد خود بخود اس قرعہ اندازی کا حصہ بن جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم میں اہلیت برقرار رکھنے کے لیے &#039;تین ماہ کی شرط&#039; کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، ایک ہی اکاؤنٹ میں سہ ماہی کے دوران ہر ماہ کم از کم 100 امریکی ڈالر کے مساوی رقم وصول ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی صارف صرف ایک ماہ رقم وصول کرتا ہے اور باقی دو ماہ ترسیلات نہیں آتی تو وہ قرعہ اندازی کے لیے نااہل تصور ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کا آغاز یکم اکتوبر 2026 سے ہو چکا ہے، جس کی پہلی سہ ماہی 31 دسمبر 2026 کو مکمل ہوگی۔ اس کے بعد پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو منعقد کی جائے گی۔ کامیاب ہونے والے خوش نصیبوں کو انعامی رقم ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انعامات کی تقسیم کے لیے مختلف خطوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک (GCC) کے لیے 50 فیصد، برطانیہ کے لیے 15 فیصد، یورپ کے لیے 15 فیصد، جبکہ شمالی امریکا اور دیگر ممالک کے لیے 10، 10 فیصد کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ تاہم، پہلا انعام تمام خطوں کے لیے یکساں طور پر کھلا رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کے تحت بننے والی انٹریاں خودکار طریقے سے ون لنک کے ذریعے تیار کی جائیں گی۔ ہر 100 ڈالر کی ترسیل پر ایک انٹری شمار ہوگی اور انٹریوں کی تعداد پر کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ تاہم، یہ انٹریاں عارضی ہوں گی اور سہ ماہی ختم ہونے پر اگلی سہ ماہی میں منتقل نہیں ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینکنگ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ انعام کے نام پر کسی بھی قسم کی فیس یا رقم کا مطالبہ کرنے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔ کسی بھی شخص کے ساتھ اپنا او ٹی پی (OTP)، پن (PIN) یا بینک پاس ورڈ ہرگز شیئر نہ کریں اور اپنی بینکنگ معلومات کو اپ ڈیٹ رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کے تمام تر اخراجات شریک بینک اپنے وسائل سے ادا کریں گے، جس کا مطلب ہے کہ قومی خزانے پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔ یہ اقدام پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے عمل میں لایا گیا ہے تاکہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرعہ اندازی کے کامیاب افراد کو انعام والے ماہ کی 21 تاریخ تک رقم ان کے بینک اکاؤنٹ میں پاکستانی روپے میں منتقل کر دی جائے گی۔ اس رقم پر قابلِ اطلاق ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی قانون کے مطابق کی جائے گی، جس سے متعلق صارفین کو آگاہ رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم میں شامل ہونے کے لیے کسی بھی قسم کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر اہل ترسیلِ زر کی ڈالر کے مساوی رقم کو قریب ترین 100 ڈالر تک راؤنڈ کر کے ون لنک کے ذریعے خودکار طور پر انٹریاں تیار کی جاتی ہیں، جو شفافیت کو یقینی بناتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی صارف کو سیکیورٹی یا کسی مشکوک سرگرمی کا سامنا ہو تو اسے فوری طور پر اپنے متعلقہ بینک سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بینکنگ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی فراڈ یا منسوخ شدہ ٹرانزیکشنز کو اس اسکیم میں شامل نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اسکیم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ قانونی ذرائع سے رقم بھجوا کر نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم کریں بلکہ انعامات جیتنے کا موقع بھی حاصل کریں۔ تمام متعلقہ معلومات بینکوں کی ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/3177/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ کا اجرا، فیسیں مقرر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2076/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2076/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 01:38:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ای_پاسپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[پاسپورٹ_فیس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_تارکین_وطن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_سفارت_خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[ترسیلات_زر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%af%db%81-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی اب ای پاسپورٹ کی سہولت سے استفادہ کر سکیں گے، جس کیلئے فیسوں کا تعین کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارت خانے اور قونصل خانے کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم اعلان کے مطابق، وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے ای پاسپورٹ کے اجرا کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی مشنز کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے موجودہ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ (ایم آر پی) کو اس وقت تک استعمال کر سکتے ہیں جب تک ان کی میعاد ختم نہیں ہو جاتی۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پاسپورٹ کی تجدید کے لیے تبھی درخواست دیں جب ان کے موجودہ پاسپورٹ کی میعاد ختم ہونے میں چھ ماہ سے کم وقت باقی رہ جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ای پاسپورٹ کے حصول کے لیے درخواست گزاروں کو ایک اہم شرط پوری کرنی ہوگی، جس کے تحت پاسپورٹ پر درخواست گزار کا پہلا اور آخری نام درج ہونا لازمی ہے۔ جن شہریوں کے موجودہ پاسپورٹ پر صرف ایک نام درج ہے، انہیں نئی درخواست جمع کرواتے وقت اس شرط کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے نام کے اندراج کو یقینی بنانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیسوں کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، پانچ سالہ مدت اور 36 صفحات پر مشتمل ای پاسپورٹ کی فیس 145 درہم مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح دس سالہ مدت اور 36 صفحات والے پاسپورٹ کے لیے درخواست گزار کو 215 درہم ادا کرنے ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بڑی تعداد میں صفحات کے خواہشمند افراد کے لیے بھی فیسیں طے کر دی گئی ہیں۔ 72 صفحات پر مشتمل پانچ سالہ ای پاسپورٹ کی فیس 260 درہم ہے، جبکہ 72 صفحات والے دس سالہ پاسپورٹ کے لیے فیس 390 درہم مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شہری فوری اجرا کی سہولت حاصل کرنا چاہے تو اس صورت میں فیس معمول سے زیادہ ہوگی۔ اس کے علاوہ، گمشدہ پاسپورٹ کی دوبارہ اجرائی کے عمل پر بھی اضافی چارجز لاگو ہوں گے، جن کی ادائیگی درخواست گزار کے لیے لازمی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متحدہ عرب امارات میں اس وقت 20 لاکھ سے زائد پاکستانی شہری مقیم ہیں، جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ پاکستانی تارکینِ وطن ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں ایک کلیدی اور اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ای پاسپورٹ کا اجرا پاکستانی شہریوں کے لیے سفری دستاویزات کے حصول کے عمل کو مزید شفاف اور تیز تر بنائے گا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ ای پاسپورٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو درپیش سفری مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ حکام نے درخواست گزاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاسپورٹ کے حصول کے لیے تمام ضروری دستاویزات مکمل رکھیں تاکہ درخواست کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ درست معلومات کی فراہمی سے پاسپورٹ کے اجرا کا عمل بروقت مکمل کیا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ای پاسپورٹ کے متعارف ہونے سے پاکستانی شہریوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سفری دستاویزات میسر ہوں گی، جو کہ سیکیورٹی کے اعتبار سے بھی زیادہ محفوظ ہیں۔ یہ اقدام بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے جس سے انہیں سہولت ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی مشنز کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات تمام شہریوں کے لیے ہیں جو متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں اور اپنے پاسپورٹ کی تجدید یا نئے پاسپورٹ کے حصول کے خواہشمند ہیں۔ ان ہدایات پر عمل پیرا ہو کر شہری اپنے کام کو آسان بنا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ای پاسپورٹ کے اس نئے نظام سے نہ صرف شہریوں کا وقت بچے گا بلکہ پاسپورٹ کے حصول کا عمل بھی زیادہ منظم اور شفاف ہو جائے گا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اس سہولت کا دائرہ کار بتدریج دیگر ممالک تک بھی بڑھایا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2076/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نادرا کے 100 ملازمین کے خلاف کرمنل پروسیڈنگز کا آغاز کر دیا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1589/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1589/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 12:58:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[پاسپورٹ_فیس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_شناختی_کارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_فیملی_ٹری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ_اجلاس]]></category>
		<category><![CDATA[طلال_چوہدری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%86%d8%a7%d8%af%d8%b1%d8%a7-%da%a9%db%92-100-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%b1%d9%85%d9%86%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[سینیٹ اجلاس میں سینیٹر طلال چوہدری نے انکشاف کیا کہ نادرا نے رشوت کے عوض غیر ملکیوں کو جعلی فیملی ٹری میں شامل کرنے والے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں منعقد ہونے والے سینیٹ کے اجلاس کے دوران ملکی سیاسی و انتظامی امور پر اہم بحث کی گئی جس میں قومی اداروں کی کارکردگی اور عوامی شکایات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اجلاس کے دوران ایوانِ بالا کو بتایا گیا کہ اہم سرکاری اداروں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور قانون شکنی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینیٹر طلال چوہدری نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے حوالے سے ایک بڑا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نادرا کے ایک سو ایسے ملازمین کے خلاف مجرمانہ کارروائی کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر رشوت کی خاطر سنگین نوعیت کی غفلت کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر طلال چوہدری نے وضاحت کی کہ ان ملازمین پر الزام ہے کہ انہوں نے مالی مفاد کی خاطر غیر ملکی شہریوں کو پاکستانی شہریوں کے خاندانی شجرہ میں غیر قانونی طور پر شامل کیا۔ اس قسم کی سنگین بے ضابطگیوں کے باعث قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز پر بھی ایوان کے اندر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بتایا گیا کہ اس معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب سعودی عرب سے پاکستانی شناختی دستاویزات اور نادرا کے ریکارڈ سے متعلق پانچ ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئی تھیں۔ ان شکایات کے موصول ہونے کے بعد متعلقہ حکام نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا آغاز کیا اور الزامات کی تصدیق کے بعد سخت ترین قدم اٹھائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر طلال چوہدری نے بیرون ملک غیر قانونی طور پر سفر کرنے والے افراد اور مختلف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے حوالے سے بھی سخت الفاظ میں گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا مقصد دنیا بھر میں اپنا بہترین ہنر مند طبقہ اور تعلیم یافتہ ٹیلنٹ روانہ کرنا ہے نہ کہ مجرمانہ پس منظر کے حامل افراد۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض اوقات دنیا کے جن ممالک میں سنگین جرائم کے واقعات رونما ہوتے ہیں وہاں بدقسمتی سے پاکستانیوں کے نام بھی سامنے آ جاتے ہیں۔ اس طرح کے چند افراد کی مجرمانہ حرکات کی وجہ سے بیرون ملک محنت مزدوری کرنے والے ایک کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے لیے سفری اور انتظامی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ملنے والے مثبت نتائج کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ملک سے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سخت بارڈر کنٹرول اور انتظامی اصلاحات کی بدولت اس غیر قانونی رجحان میں چونسٹھ فیصد تک کمی آئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاسپورٹ فیسوں میں کیے جانے والے حالیہ اضافے کے حوالے سے بھی سینیٹ کے اجلاس میں تفصیلی وضاحت پیش کی گئی تاکہ اراکینِ پارلیمنٹ اور عوام کو اس فیصلے کے پس منظر سے آگاہ کیا جا سکے۔ سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ کے حصول کی فیسوں میں یہ اضافہ طویل عرصے کے وقفے کے بعد کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ پاسپورٹ فیسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ہی اس پورے ادارے کے مالی امور اور نظام کو چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ فیسوں میں اضافے کے باوجود پاکستان میں پاسپورٹ کے حصول کے اخراجات خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی کافی کم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ قانون شکنی میں ملوث کسی بھی سرکاری اہلکار کو رعایت نہیں دی جائے گی چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہو۔ اس کارروائی کو نادرا کے نظام کو اندرونی طور پر صاف کرنے کی جانب ایک اہم اور فیصلہ کن قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایوان کے اس اہم اجلاس میں شریک دیگر اراکین نے بھی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں اور اس بات پر اتفاق کیا کہ نادرا جیسے حساس ادارے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ پاکستان کا سافٹ امیج دنیا بھر میں اجاگر ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1589/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں 14 فیصد اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/740/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/740/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 22:17:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ترسیلات_زر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%82%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 10.88 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر کا حجم 10.88 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 9.54 ارب ڈالر وطن بھیجے تھے۔ اس طرح گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر میں تقریباً 14 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اور معاشی چیلنجز موجود ہیں۔ اس کے باوجود بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے اپنے خاندانوں کی کفالت اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ رقوم نہ صرف ان خاندانوں کے لیے ریلیف کا باعث بنتی ہیں جو اپنے پیاروں کو روزگار کے لیے بیرونِ ملک بھیجتے ہیں، بلکہ یہ ملکی معیشت میں بھی براہِ راست حصہ ڈالتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں ایک بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ، امریکہ اور یورپ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین بھی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترسیلاتِ زر کے ان اعداد و شمار کے پیچھے لاکھوں پردیسیوں کی محنت اور قربانیاں پوشیدہ ہیں۔ بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش اور اپنے والدین کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے دیارِ غیر کا رخ کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے گھر والوں کی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے مقامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملازمتیں حاصل کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں ہنر مند افراد بیرونِ ملک ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اپنے خاندانوں کو ایک بہتر معیارِ زندگی فراہم کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین کے لیے اپنے بچوں کو دور بھیجنا ایک جذباتی فیصلہ ہوتا ہے، لیکن گھر کے بڑھتے ہوئے اخراجات، بجلی کے بلوں کی ادائیگی اور بہنوں کی شادیوں جیسے معاملات کے لیے یہ ترسیلاتِ زر ایک اہم ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ یہ رقوم ان خاندانوں کے لیے معاشی تحفظ کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ ہر مشکل حالات میں اپنے ملک کی معاشی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پاکستان بھی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات کو سراہتی ہے اور انہیں ترسیلاتِ زر کے لیے قانونی اور بینکنگ ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ قانونی ذرائع سے رقوم کی منتقلی نہ صرف محفوظ ہے بلکہ یہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ٹی کے شعبے میں کام کرنے والے پاکستانی نوجوانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو دنیا بھر میں اپنی خدمات فراہم کر کے قیمتی زرمبادلہ پاکستان بھیج رہے ہیں۔ یہ شعبہ مستقبل میں ترسیلاتِ زر کو مزید بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ اگر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں تو ترسیلاتِ زر کے حجم میں مزید اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ رقوم پاکستان کے لیے غیر ملکی کرنسی کا ایک بڑا اور مستحکم ذریعہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، یہ ترسیلاتِ زر صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی محنت کا ثمر ہیں جو اپنے وطن سے دور رہ کر بھی پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان کی یہ کاوشیں ملکی معیشت کو درپیش مشکلات سے نکالنے میں اہم ثابت ہو رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/740/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
