<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بھارت_نیوز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa_%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b2/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بھارت_نیوز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بھارت: ’لہرا دو ترنگا‘ ریلی سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1010/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1010/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 22:17:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابھیجیت_دیپکے]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[دہلی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%84%db%81%d8%b1%d8%a7-%d8%af%d9%88-%d8%aa%d8%b1%d9%86%da%af%d8%a7-%d8%b1%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%82%d8%a8%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[دہلی پولیس نے عوامی تحفظ اور ٹریفک کے خدشات کے پیش نظر ابھیجیت دیپکے کو حراست میں لے لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ اپنی جماعت کی جانب سے منعقدہ ’لہرا دو ترنگا‘ ریلی میں شرکت کے لیے کناٹ پلیس جا رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق ابھیجیت دیپکے کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ریلی کے مقام کی جانب گامزن تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ تھیں، جس کی وجہ سے کسی بھی قسم کے عوامی اجتماع یا ریلی کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی پی) سچن شرما نے اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس ایکٹ کے تحت باقاعدہ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ پولیس نے انہیں ریلی منسوخ کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ عوامی نظم و نسق برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کی جانب سے ریلی منسوخ کرنے کی اپیل کے پیچھے کئی اہم وجوہات بتائی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ اس ریلی سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ تھا، جبکہ تاجروں اور عام مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی تحفظ کو یقینی بنانا پولیس کی اولین ترجیح تھی، جس کے پیش نظر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ پولیس نے واضح کیا کہ شہر کے اہم کاروباری مراکز میں امن و امان برقرار رکھنا ان کی قانونی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کارروائی کے دوران ابھیجیت دیپکے کے ہمراہ موجود 29 سالہ آئسا لیڈر نہا بورا کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے انہیں جنتر منتر کے قریب سے حراست میں لیا، جہاں وہ ریلی کے سلسلے میں موجود تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کی جانب سے اس ریلی کا مقصد کیا تھا، اس حوالے سے تاحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ تاہم، پولیس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ابھیجیت دیپکے مختلف معاملات پر خبروں میں رہے ہیں۔ ان کی جماعت کی جانب سے وقتاً فوقتاً مختلف سیاسی اور سماجی موضوعات پر آواز اٹھائی جاتی رہی ہے، جس کے باعث وہ اکثر حکام کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہلی پولیس نے اس معاملے پر مزید تفتیش شروع کر دی ہے اور گرفتار افراد کو قانونی ضابطے کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات کو بھی سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ہنگامے کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کناٹ پلیس اور اس کے گردونواح میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابھیجیت دیپکے اور ان کی ساتھی کی گرفتاری کے بعد سے سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ تاہم، پولیس کا موقف ہے کہ یہ اقدام مکمل طور پر قانونی تقاضوں کو پورا کرنے اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس طرح کے عوامی اجتماعات کے حوالے سے پولیس نے سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ کسی بھی ریلی یا مظاہرے کے لیے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ شہر کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد سے دہلی کے حساس علاقوں میں نگرانی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے اور عوامی مقامات پر کسی بھی قسم کی افراتفری پیدا کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1010/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت: کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دپکے حراست سے رہا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/116/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/116/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 09:36:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابھیجیت_دپکے]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بی_جے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/116/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ووٹر فہرستوں کے متنازع عمل کے خلاف احتجاج کرنے والے رہنما کو عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں جاری سیاسی کشیدگی کے دوران ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے سربراہ ابھیجیت دپکے کو ان کے دو ساتھیوں سمیت حراست سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ رہائی ایک مقامی عدالت کے حکم پر عمل میں آئی ہے جس کے بعد تحریک کے کارکنوں میں ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابھیجیت دپکے اور ان کے دیگر سینئر رہنماؤں کو ہفتے کے روز اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ دہلی پہنچے تھے۔ ان کا مقصد وسطی دہلی کے علاقے جنتر منتر پر ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنا تھا جس کے لیے ہزاروں افراد نے تیاری کر رکھی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی حکام نے ہفتے کے روز شہر بھر میں ایک وسیع آپریشن کیا تھا جس کے دوران تین ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظاہرین کا بنیادی مطالبہ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی حالیہ نظر ثانی کا عمل شفاف نہیں ہے اور اس سے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس احتجاجی تحریک نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی غصے کو ایک نئی شکل دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں سے اقتدار میں رہنے والی جماعت انتخابی عمل کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتوار کے روز دہلی کی صورتحال میں بہتری دیکھی گئی اور شہر کے میٹرو اسٹیشنز کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی بحال کر دی گئی ہیں جو کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر معطل کی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق ہفتے کے روز حراست میں لیے گئے مظاہرین کی بڑی تعداد کو رات گئے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور شہر کے اہم مقامات پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھارت میں ہونے والی ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ حکام کو چاہیے کہ وہ پرامن احتجاج کے حق کا احترام کریں اور شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے اور عالمی ادارے کی جانب سے اس قسم کے بیانات کو بلاجواز مداخلت اور منتخب نوعیت کا طرزِ عمل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں ووٹر فہرستوں پر نظر ثانی کا عمل طویل عرصے سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹرز کے اندراج میں جان بوجھ کر تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہلی میں جاری اس احتجاج نے بھارتی سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان جاری اس کشمکش کے اثرات آئندہ انتخابات پر بھی مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس پر سب کی نظریں جمی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/116/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت: الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج اور تحفظات میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/63/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/63/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:18:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اپوزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_شفافیت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/63/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ پر ووٹ ڈیٹا بیس میں متنازع تبدیلیوں اور دیگر ارکان کے تحفظات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں حالیہ دنوں کے دوران الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف احتجاجی لہر میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کی جانب سے کمیشن کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک مقامی جریدے کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کے موجودہ سربراہ نے ووٹ ڈیٹا بیس میں کی جانے والی متنازع تبدیلیوں کے معاملے پر کمیشن کے دیگر اراکین کے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق کمیشن کے اندرونی اراکین نے ڈیٹا بیس میں ہونے والی ان تبدیلیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ان خدشات کو بار بار رد کر دیا گیا جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ یہ تبدیلیاں غیر قانونی ہیں اور اس صورتحال کے پیش نظر اپوزیشن نے کئی ریاستوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ڈیٹا بیس میں کی گئی تبدیلیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف ریاستوں میں اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کے ڈیٹا بیس میں ردوبدل کے الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ بھارتی جمہوریت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ اس معاملے پر عدالتی مداخلت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں انتخابی عمل کی شفافیت پر ماضی میں بھی بحث ہوتی رہی ہے، لیکن موجودہ تنازع اپنی نوعیت کے اعتبار سے کافی سنگین ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے آنے والے انتخابات کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی مہم شروع کر دی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کو ان الزامات کا جواب دینا چاہیے تاکہ عوام کے شکوک و شبہات دور ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی انتخابی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے گئے ہوں، تاہم ڈیٹا بیس میں تبدیلی کا معاملہ تکنیکی نوعیت کا ہونے کی وجہ سے زیادہ تشویشناک سمجھا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/63/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
