<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بھارتی_میڈیا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c_%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Thu, 15 Oct 2026 16:17:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بھارتی_میڈیا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بالی ووڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%d8%a7%d8%af%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-28-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%d8%a7%d8%af%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-28-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 16:17:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اگست_کرانتی_میدان]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_شہری]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[او_سی_آئی_کارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[بالی_ووڈ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شوبز_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[عامر_خان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_خان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فلمی_دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[فلمی_ستارے]]></category>
		<category><![CDATA[کیریٹ_سومیا]]></category>
		<category><![CDATA[ممبئی_پولیس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%d8%a7%d8%af%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-28-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی شہری اور بالی ووڈ اداکار عمران خان کو ممبئی میں احتجاج میں شرکت پر ملک چھوڑنے کا نوٹس ملا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بالی ووڈ کے معروف اداکار اور نامور فلمساز عامر خان کے بھانجے عمران خان کو ممبئی پولیس نے بھارت چھوڑنے کا باضابطہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اداکار کو 28 اکتوبر تک ہر صورت ملک چھوڑنے کی سخت ہدایت جاری کی گئی ہے۔ یہ سارا معاملہ ممبئی کے تاریخی اگست کرانتی میدان میں منعقد ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں انہوں نے شرکت کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ممبئی میں ہونے والے اس احتجاج کے دوران شرکاء کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں اداکار عمران خان اپنی گرل فرینڈ لیکھا واشنگٹن اور اپنی فرسٹ کزن زین میری خان کے ساتھ بھرپور طریقے سے شریک ہوئے تھے۔ احتجاج کے دوران پولیس نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر انہیں دیگر افراد کے ہمراہ حراست میں بھی لیا تھا جس کی مختلف ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد سے بھارتی حلقوں میں اداکار کی شہریت اور ان کی قانونی حیثیت کو لے کر ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان پیدائشی طور پر بھارتی شہری نہیں ہیں بلکہ وہ ایک امریکی شہری ہیں جن کی پیدائش ریاست وسکونسن میں ہوئی تھی۔ ان کے پاس امریکی پاسپورٹ موجود ہے جبکہ بھارت کا اوورسیز سٹیزن آف انڈیا کارڈ بھی ان کے پاس ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون کے مطابق بیرون ملک کے شہریوں کو بھارت میں رہائش کے لیے مخصوص دستاویزات فراہم کی جاتی ہیں جن کے تحت وہ یہاں مقیم رہ سکتے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے میں مبینہ طور پر شرکت کرنے پر ان کے خلاف امیگریشن ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ قانون کے ماہرین اس معاملے کا مختلف زاویوں سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس پوری صورتحال کی قانونی حیثیت کو واضح کیا جا سکے اور تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ کیریٹ سومیا نے بھی انتہائی سخت اعتراض اٹھایا تھا۔ انہوں نے مرکزی وزارت داخلہ اور امیگریشن کے اعلیٰ حکام کو ایک باضابطہ خط بھی ارسال کیا تھا جس میں اداکار کے خلاف لک آؤٹ سرکلر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سابق رہنما کا کہنا تھا کہ اس قسم کی سرگرمیوں میں غیر ملکی شہریوں کی شرکت کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق رہنما نے اپنے تحریری خط میں یہ بنیادی سوال اٹھایا تھا کہ ایک امریکی شہری اور او سی آئی کارڈ ہولڈر ہونے کے ناطے وہ بھارت کی داخلی سیاست اور اس نوعیت کے حساس احتجاجی مظاہروں میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے پولیس اور متعلقہ اداروں سے اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے اور قواعد کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لانے کی پرزور درخواست بھی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران خان نے اپنی اداکاری کے کیریئر کا آغاز بالی ووڈ فلم انڈسٹری سے کیا تھا اور انہوں نے کئی نامور فلموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے جانے تو یا جانے نا، آئی ہیٹ لو اسٹوریز اور میرے برادر کی دلہن جیسی مشہور فلموں میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں اور فلمی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ شائقین آج بھی ان کی فلموں اور اداکاری کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں کیونکہ ان کا انداز کافی مقبول رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ممبئی پولیس کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد سے بھارتی میڈیا، سیاسی حلقوں اور فلمی دنیا میں اس معاملے پر بحث اور تبصروں کا سلسلہ انتہائی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ او سی آئی کارڈ ہولڈرز کو حاصل حقوق اور ان پر لاگو ہونے والے ملکی قوانین کے حوالے سے بھی ماہرین کی طرف سے مختلف اور متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم ان تمام ہنگامہ آرائیوں اور خبروں کے باوجود ابھی تک اداکار عمران خان یا ان کے ترجمان کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارتی وزارت داخلہ اور امیگریشن حکام بھی اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور موصولہ شکایات کی روشنی میں قواعد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا اس حوالے سے یہ ماننا ہے کہ او سی آئی کارڈ ہولڈرز کو بھارت میں سیاسی سرگرمیوں یا احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اسی نکتے کی بنیاد پر اداکار کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی قانون شکنی کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران خان کے مداح اس خبر کے سامنے آنے کے بعد کافی تشویش کا شکار ہیں اور سوشل میڈیا پر اس معاملے پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے نظر آ رہی ہیں کیونکہ عمران خان کا تعلق ایک معروف فلمی خاندان سے ہے۔ ان کے ماموں عامر خان بالی ووڈ کے صف اول کے اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اس خاندانی پس منظر نے بھی اس خبر کو میڈیا میں مزید اہمیت دلا دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ممبئی پولیس کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں دی گئی تاریخ یعنی 28 اکتوبر اب قریب آ رہی ہے جس کی وجہ سے یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ مقررہ تاریخ سے پہلے اداکار کی جانب سے کوئی قانونی جواب داخل کیا جاتا ہے یا وہ اس نوٹس کے تناظر میں کوئی اور لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ حکام کا موقف ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس پر عمل درآمد کرانا ان کی اولین ذمے داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی میڈیا میں اس خبر کے نشر ہونے کے بعد سے اس پر بحث میں مزید شدت آ گئی ہے اور مختلف ٹی وی چینلز پر اس کے قانونی پہلوؤں پر طویل مباحثے جاری ہیں۔ عام لوگ بھی اس معاملے پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ سیاسی شخصیات کے بیانات بھی اس خبر کو مزید گرمانے کا سبب بن رہے ہیں۔ آنے والے چند دنوں میں اس معاملے میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے جس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پوری صورتحال نے او سی آئی کارڈ ہولڈرز کے لیے ضابطہ اخلاق کی پابندی کے معاملے کو ایک بار پھر سرِفہرست لا کھڑا کیا ہے۔ غیر ملکی شہریت کے حامل افراد کے لیے بھارتی قوانین کے تحت عائد کردہ حدود و قیود پر اب زیادہ سختی سے عمل درآمد کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی اس کارروائی کو آنے والے دنوں میں اس نوعیت کے دیگر معاملات کے لیے بھی ایک اہم قانونی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%d8%a7%d8%af%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-28-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسٹیج پر نازیبا جملوں کا معاملہ، بھارتی گلوکار ہنی سنگھ کو سائبر سیل کی آخری وارننگ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d8%ac-%d9%be%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7-%d8%ac%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d8%ac-%d9%be%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7-%d8%ac%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 20:17:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_گلوکار]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[دہلی_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سیل]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[شوبز_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[کنسرٹ_تنازع]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل]]></category>
		<category><![CDATA[ہنی_سنگھ]]></category>
		<category><![CDATA[وائرل_ویڈیو]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d8%ac-%d9%be%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7-%d8%ac%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی گلوکار ہنی سنگھ کو تفتیش میں شامل نہ ہونے پر پولیس کی جانب سے سخت قانونی کارروائی کی تنبیہ کر دی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مشہور بھارتی گلوکار ہنی سنگھ ایک بار پھر قانونی مشکلات میں گھر گئے ہیں، جہاں انہیں ایک کنسرٹ کے دوران مبینہ طور پر نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے معاملے پر سائبر سیل کی جانب سے آخری وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تنازع دہلی میں منعقدہ ایک میوزیکل کنسرٹ کے دوران پیش آیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی تھی۔ ویڈیو کلپ میں گلوکار کو غیر اخلاقی جملے ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد ہنی سنگھ کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس کے سائبر سیل نے تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر سیل کے حکام نے گلوکار کو تفتیش میں شامل ہونے کے لیے تین مرتبہ نوٹس جاری کیے، تاہم ہنی سنگھ ہر بار بیرونِ ملک ہونے کا عذر پیش کر کے پیش ہونے سے گریز کرتے رہے، جس پر حکام نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گلوکار کو اب آخری وارننگ دی گئی ہے کہ اگر وہ تفتیش میں تعاون نہیں کرتے تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس کے نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تنازع بڑھنے پر ہنی سنگھ نے اپنے ایک بیان میں معذرت کرتے ہوئے وضاحت پیش کی تھی کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ نوجوان نسل کے اندازِ گفتگو کو بیان کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوکار نے مزید کہا کہ انہیں اب احساس ہوا ہے کہ اسٹیج پر ان کا طریقہ کار مناسب نہیں تھا اور وہ اپنی کہی ہوئی بات پر شرمندہ ہیں۔ تاہم، یہ وضاحت انہیں قانونی شکنجے سے بچانے میں تاحال ناکام رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہنی سنگھ ماضی میں بھی اپنے گانوں کے بول اور مواد کے حوالے سے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ ان کے گانوں پر اکثر فحاشی پھیلانے اور خواتین کی تذلیل کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رواں سال اپریل میں دہلی ہائی کورٹ نے ان کے ایک متنازع گانے کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اسے انتہائی فحش قرار دیا تھا۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ اس گانے کے تمام لنکس انٹرنیٹ سے ہٹائے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ فنکارانہ آزادی کے نام پر فحاشی کو فروغ دینا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس عدالتی حکم کے بعد ہنی سنگھ کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر سیل کی جانب سے تازہ وارننگ نے گلوکار کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر ہنی سنگھ نے تفتیش میں تعاون نہ کیا تو انہیں گرفتاری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس معاملے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں کچھ لوگ گلوکار کے خلاف سخت کارروائی کے حامی ہیں، وہیں کچھ مداح ان کی حمایت میں بھی بیانات دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال ہنی سنگھ کی جانب سے سائبر سیل کی اس آخری وارننگ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ قانون کے مطابق اپنی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d8%ac-%d9%be%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7-%d8%ac%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
