<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بھارتی_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c_%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 11 Oct 2026 01:18:36 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بھارتی_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بھارت: الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج اور تحفظات میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/63/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/63/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:18:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اپوزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_شفافیت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_تنازع]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[ووٹر_ڈیٹا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/63/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ پر ووٹ ڈیٹا بیس میں متنازع تبدیلیوں اور دیگر ارکان کے تحفظات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں حالیہ دنوں کے دوران الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف احتجاجی لہر میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کی جانب سے کمیشن کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک مقامی جریدے کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کے موجودہ سربراہ نے ووٹ ڈیٹا بیس میں کی جانے والی متنازع تبدیلیوں کے معاملے پر کمیشن کے دیگر اراکین کے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق کمیشن کے اندرونی اراکین نے ڈیٹا بیس میں ہونے والی ان تبدیلیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ان خدشات کو بار بار رد کر دیا گیا جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ یہ تبدیلیاں غیر قانونی ہیں اور اس صورتحال کے پیش نظر اپوزیشن نے کئی ریاستوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ڈیٹا بیس میں کی گئی تبدیلیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی سیاست میں الیکشن کمیشن کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ تنازع نے اس ادارے کی ساکھ کو چیلنج کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف ریاستوں میں اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کے ڈیٹا بیس میں ردوبدل کے الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ بھارتی جمہوریت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ اس معاملے پر عدالتی مداخلت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں انتخابی عمل کی شفافیت پر ماضی میں بھی بحث ہوتی رہی ہے، لیکن موجودہ تنازع اپنی نوعیت کے اعتبار سے کافی سنگین ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے آنے والے انتخابات کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی مہم شروع کر دی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کو ان الزامات کا جواب دینا چاہیے تاکہ عوام کے شکوک و شبہات دور ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے مزید احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔ سیاسی جماعتیں اس معاملے کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اٹھانے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہی ہیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی انتخابی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے گئے ہوں، تاہم ڈیٹا بیس میں تبدیلی کا معاملہ تکنیکی نوعیت کا ہونے کی وجہ سے زیادہ تشویشناک سمجھا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/63/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نئی دہلی میں احتجاج پر پابندی، راہول گاندھی کی حمایت، سینکڑوں افراد زیر حراست</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/59/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/59/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:56:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[دھروو_راٹھی]]></category>
		<category><![CDATA[دہلی_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راہول_گاندھی]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سونم_وانگچک]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کاکروچ_جنتا_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[نئی_دہلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/59/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت میں الیکشن کمشنر کے خلاف مظاہرے روکنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات، میٹرو اور ٹرین سروسز معطل کر دی گئیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کر لیے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاج کی کال دی گئی تھی، جسے پولیس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 30 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر کے داخلی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ میٹرو سروس اور کئی ٹرینوں کی آمدورفت بھی معطل رکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس صورتحال کے دوران پولیس نے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں طلبہ رہنما، وکلا اور صحافی بھی شامل ہیں۔ پولیس کا موقف ہے کہ منتظمین نے اجازت کے لیے مقررہ وقت پر درخواست نہیں دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جتنی چاہے طاقت استعمال کر لے، اپوزیشن پیچھے نہیں ہٹے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی مظاہرین کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا تو وہ پرامن احتجاج یا بھوک ہڑتال شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقبول یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی گروگرام سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دھروو راٹھی نے اپنی گرفتاری سے قبل ایک ویڈیو میں دہلی میں کیے گئے لاک ڈاؤن اور میٹرو اسٹیشنز کی بندش پر کڑی تنقید کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی پولیس کی کارروائیوں کو آمرانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی اور پرامن مظاہرین کی گرفتاری بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی پولیس نے حراست میں لیا اور ان کے موبائل فون قبضے میں لے لیے۔ تاہم، کچھ صحافیوں کو بعد ازاں رہا بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نتن نوین نے اس احتجاج کو ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ عناصر ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے بھی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے ذریعے عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہلی کے مختلف علاقوں سے کشیدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم پولیس نے تاحال کسی بڑے تصادم یا تشدد کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ حکام نے عوام سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ یہ احتجاج الیکشن کمشنر کے خلاف کیا جا رہا ہے جس کے لیے منتظمین نے جنتر منتر کا انتخاب کیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور دہلی پولیس کی جانب سے شہر بھر میں گشت بڑھا دی گئی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ان کے ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے اور انہیں پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/59/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
