<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.25.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بھارتی_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c_%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بھارتی_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بھارت میں ووٹر لسٹوں سے ناموں کے اخراج پر ہنگامہ، اپوزیشن کا احتجاج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 10:57:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بی_جے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[کانگریس_پارٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%ae%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d9%be/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت میں ووٹر لسٹوں سے لاکھوں شہریوں کے نام خارج ہونے پر اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر نکل آئیں اور شدید احتجاج کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ووٹر لسٹوں میں کی جانے والی متنازع تبدیلیوں کے خلاف شدید احتجاج کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے انتخابی فہرستوں سے بڑے پیمانے پر شہریوں کے نام خارج کیے جانے کے اس معاملے پر ملک بھر میں سیاسی گہما گہمی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی دہلی کی اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر اپوزیشن جماعت کانگریس کے کارکنان اور دیگر سیاسی گروہوں کے ارکان بڑی تعداد میں جمع ہیں اور وہ اس حکومتی اقدام کے خلاف بھرپور مظاہرے کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ووٹر لسٹوں میں کی گئی اس رد و بدل نے کروڑوں افراد کو ان کے بنیادی جمہوری حق یعنی حقِ رائے دہی سے محروم کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ووٹر فہرستوں سے مبینہ طور پر ساڑھے تیرہ کروڑ بھارتی شہریوں کے نام یکلخت خارج کر دیے گئے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس ناگہانی اخراج سے حکمران جماعت کو براہ راست سیاسی فائدہ پہنچا ہے جبکہ مسلم ووٹرز اس عمل سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات کے حوالے سے بھی اپوزیشن حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ووٹروں کے اس اچانک اخراج نے انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ تاہم الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت کا بھرپور دفاع کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت بھر میں اس وقت ووٹر لسٹوں کی خصوصی اور تفصیلی نظر ثانی کا سلسلہ جاری ہے جس کے تحت گھر گھر جا کر فہرستوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ اس مشق کا مقصد مبینہ طور پر دہرے اندراج یا نااہل ووٹرز کے ناموں کو فہرستوں سے ہٹا کر انہیں اپ ڈیٹ کرنا بتایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناقدین اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اس نظر ثانی کے عمل میں استعمال ہونے والے مرکزی سافٹ ویئر پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت مقامی انتخابی عہدیداروں کو انتہائی محدود اختیارات دیے گئے ہیں جو زمینی حقائق کی درست تصدیق نہیں کر سکتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرضی کے مطابق درستگی نہ ہونے کی وجہ سے زمینی سطح پر شدید بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں جن کے باعث لاکھوں بے گناہ اور اہل افراد کے نام فہرستوں سے غائب ہو چکے ہیں۔ متاثرہ شہری اب اپنی اور اپنے آباؤ اجداد کی پرانی تاریخی دستاویزات تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاغذات کی سخت شرائط اور انتہائی مختصر ڈیڈ لائنز جیسے عوامل کی وجہ سے غریب، تارکینِ وطن، بزرگ اور بے گھر افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ فہرستوں سے نام نکلنے والے یہ افراد اب قانونی چارہ جوئی کے لیے متعلقہ دفاتر کے طویل چکر کاٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی کمیشن پر دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے پینل کے اراکین نے رجسٹریشن کے طریقہ کار پر متعدد بار اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان اندرونی اختلافات نے اس پورے انتخابی عمل کی شفافیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اس انتظامی عمل کو برقرار رکھتے ہوئے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے درست فہرستوں کا ہونا بنیادی طور پر لازمی ہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ انتخابی پینل شہریت کے بارے میں کوئی حتمی قانونی فیصلہ صادر کرنے کا مجاز نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپوزیشن جماعتوں نے من مانے اخراج اور اس عمل میں پائی جانے والی دیگر بے ضابطگیوں کی بنیاد پر حالیہ دنوں میں ایک بار پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے متعلقہ حکام کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ خارج ہونے والے ووٹرز کی فوری نشاندہی کر کے ان کا دوبارہ اندراج یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ ملکی حالات میں نریندر مودی کی حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے سخت سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ نوجوانوں کی نمائندہ نئی سیاسی جماعتیں بھی اس تنازع پر کافی متحرک ہو چکی ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق ووٹر لسٹوں کا یہ تنازع آنے والے ایام میں ملکی سیاست پر انتہائی گہرے اور دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنان اور عوام نے مطالبات پیش کیے ہیں کہ انتخابی نظام میں فوری اصلاحات لائی جائیں تاکہ کسی بھی شہری کو حقِ رائے دہی سے محروم نہ کیا جا سکے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے فی الحال اس صورتحال پر اعتدال اور قانون کے دائرے میں رہنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%88%d9%b9%d8%b1-%d9%84%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت: کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دپکے حراست سے رہا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%a7%da%a9%d8%b1%d9%88%da%86-%d8%ac%d9%86%d8%aa%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%d8%a8%d8%b1%d8%a7%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%a7%da%a9%d8%b1%d9%88%da%86-%d8%ac%d9%86%d8%aa%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%d8%a8%d8%b1%d8%a7%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 09:36:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ابھیجیت_دپکے]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بی_جے_پی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/116/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ووٹر فہرستوں کے متنازع عمل کے خلاف احتجاج کرنے والے رہنما کو عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں جاری سیاسی کشیدگی کے دوران ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے سربراہ ابھیجیت دپکے کو ان کے دو ساتھیوں سمیت حراست سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ رہائی ایک مقامی عدالت کے حکم پر عمل میں آئی ہے جس کے بعد تحریک کے کارکنوں میں ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابھیجیت دپکے اور ان کے دیگر سینئر رہنماؤں کو ہفتے کے روز اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ دہلی پہنچے تھے۔ ان کا مقصد وسطی دہلی کے علاقے جنتر منتر پر ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنا تھا جس کے لیے ہزاروں افراد نے تیاری کر رکھی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی حکام نے ہفتے کے روز شہر بھر میں ایک وسیع آپریشن کیا تھا جس کے دوران تین ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظاہرین کا بنیادی مطالبہ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی حالیہ نظر ثانی کا عمل شفاف نہیں ہے اور اس سے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس احتجاجی تحریک نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی غصے کو ایک نئی شکل دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں سے اقتدار میں رہنے والی جماعت انتخابی عمل کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتوار کے روز دہلی کی صورتحال میں بہتری دیکھی گئی اور شہر کے میٹرو اسٹیشنز کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی بحال کر دی گئی ہیں جو کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر معطل کی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق ہفتے کے روز حراست میں لیے گئے مظاہرین کی بڑی تعداد کو رات گئے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور شہر کے اہم مقامات پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھارت میں ہونے والی ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ حکام کو چاہیے کہ وہ پرامن احتجاج کے حق کا احترام کریں اور شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے اور عالمی ادارے کی جانب سے اس قسم کے بیانات کو بلاجواز مداخلت اور منتخب نوعیت کا طرزِ عمل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں ووٹر فہرستوں پر نظر ثانی کا عمل طویل عرصے سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹرز کے اندراج میں جان بوجھ کر تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہلی میں جاری اس احتجاج نے بھارتی سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان جاری اس کشمکش کے اثرات آئندہ انتخابات پر بھی مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس پر سب کی نظریں جمی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%a7%da%a9%d8%b1%d9%88%da%86-%d8%ac%d9%86%d8%aa%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%d8%a8%d8%b1%d8%a7%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نئی دہلی میں احتجاج پر پابندی، راہول گاندھی کی حمایت، سینکڑوں افراد زیر حراست</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac-%d9%be%d8%b1-%d9%be%d8%a7%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%88%d9%84/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac-%d9%be%d8%b1-%d9%be%d8%a7%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%88%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:56:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[دھروو_راٹھی]]></category>
		<category><![CDATA[دہلی_پولیس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/59/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت میں الیکشن کمشنر کے خلاف مظاہرے روکنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات، میٹرو اور ٹرین سروسز معطل کر دی گئیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کر لیے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاج کی کال دی گئی تھی، جسے پولیس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 30 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر کے داخلی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ میٹرو سروس اور کئی ٹرینوں کی آمدورفت بھی معطل رکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس صورتحال کے دوران پولیس نے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں طلبہ رہنما، وکلا اور صحافی بھی شامل ہیں۔ پولیس کا موقف ہے کہ منتظمین نے اجازت کے لیے مقررہ وقت پر درخواست نہیں دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جتنی چاہے طاقت استعمال کر لے، اپوزیشن پیچھے نہیں ہٹے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی مظاہرین کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا تو وہ پرامن احتجاج یا بھوک ہڑتال شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقبول یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی گروگرام سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دھروو راٹھی نے اپنی گرفتاری سے قبل ایک ویڈیو میں دہلی میں کیے گئے لاک ڈاؤن اور میٹرو اسٹیشنز کی بندش پر کڑی تنقید کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی پولیس کی کارروائیوں کو آمرانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی اور پرامن مظاہرین کی گرفتاری بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی پولیس نے حراست میں لیا اور ان کے موبائل فون قبضے میں لے لیے۔ تاہم، کچھ صحافیوں کو بعد ازاں رہا بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نتن نوین نے اس احتجاج کو ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ عناصر ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے بھی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے ذریعے عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہلی کے مختلف علاقوں سے کشیدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم پولیس نے تاحال کسی بڑے تصادم یا تشدد کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ حکام نے عوام سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ یہ احتجاج الیکشن کمشنر کے خلاف کیا جا رہا ہے جس کے لیے منتظمین نے جنتر منتر کا انتخاب کیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور دہلی پولیس کی جانب سے شہر بھر میں گشت بڑھا دی گئی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ان کے ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے اور انہیں پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%ac-%d9%be%d8%b1-%d9%be%d8%a7%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%88%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
