<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بچوں_کا_تحفظ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba_%da%a9%d8%a7_%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 13:26:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بچوں_کا_تحفظ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اسلام آباد: اپنے بچوں کی نازیبا ویڈیوز فروخت کرنے والا سفاک باپ گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/2405/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/2405/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 00:57:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[این_سی_سی_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[چائلڈ_پورنو_گرافی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_کرائم]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%8c%d8%a8%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے چائلڈ پور نو گرافی کے بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا، ملزم ٹیلی گرام کے ذریعے ویڈیوز فروخت کرتا تھا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ایک انتہائی شرمناک کارروائی کرتے ہوئے اپنے ہی بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے اور انہیں فروخت کرنے والے ایک سنگدل باپ کو گرفتار کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس گھناؤنے جرم کا انکشاف ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے محمد شعیب خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم پیسے کی ہوس میں اندھا ہو کر باپ اور اولاد کے مقدس رشتے کو داغدار کر چکا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی حکام کے مطابق ملزم اپنے بچوں کی فحش ویڈیوز بنا کر انہیں مختلف عالمی فورمز پر فروخت کرتا تھا۔ ان ویڈیوز کے بدلے میں ملنے والی رقم کرپٹو کرنسی کی صورت میں وصول کی جاتی تھی، جس سے اس نیٹ ورک کا سراغ لگانا ایک چیلنج تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد شعیب خان نے مزید بتایا کہ متاثرہ بچوں کی عمریں 5 سے 6 سال کے درمیان ہیں۔ اس گروہ کا سرغنہ اسکردو سے تعلق رکھتا ہے اور ان کا ہدف 6 سے 7 سال تک کی عمر کے معصوم بچے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کے دوران یہ ہوشربا انکشاف بھی ہوا کہ یہ گروہ نہ صرف بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہے بلکہ جانوروں پر تشدد اور ان کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز بنا کر بھی انہیں آن لائن فروخت کرنے کا مکروہ دھندہ کرتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">این سی سی آئی اے کی ٹیم نے اس نیٹ ورک کو پکڑنے کے لیے ایک ماہ تک مسلسل نگرانی کی۔ بین الاقوامی فورمز کے ساتھ رابطے اور تکنیکی معاونت کے بعد بالآخر اس گروہ کو بے نقاب کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے پھیلاؤ کے پیش نظر ملتان، اسلام آباد اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں تاکہ نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین کو یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کے بچے موبائل فون پر کیا دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداروں کی جانب سے یہ تنبیہ بھی جاری کی گئی ہے کہ جو والدین اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والے ان جرائم سے آگاہ ہونے کے باوجود خاموش رہتے ہیں یا رپورٹ نہیں کرتے، ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔ بچوں کے تحفظ کے لیے آگاہی مہمات کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ معاشرے میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک الارمنگ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتی ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس کیس میں ملوث دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔ تفتیشی ٹیمیں ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کے تمام سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں سائبر قوانین کے تحت بچوں کے خلاف ایسے جرائم پر سخت سزائیں مقرر ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/2405/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور: قربان لائن ریلوے پھاٹک کے قریب کوڑے دان سے نومولود بچی زندہ برآمد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1817/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1817/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 08:57:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریسکیو_1122]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%b1%db%8c%d9%84%d9%88%db%92-%d9%be%da%be%d8%a7%d9%b9%da%a9-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[ریسکیو ٹیم نے بچی کو ابتدائی طبی امداد کے بعد بہتر طبی سہولیات کے لیے سرکاری اسپتال منتقل کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے علاقے میں ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ اس وقت پیش آیا جب نامعلوم افراد نے ایک معصوم نومولود بچی کو کوڑے دان میں پھینک دیا۔ انسانیت کو شرما دینے والے اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی شہریوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی اور فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اس کی اطلاع دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ صوبائی دارالحکومت کے معروف علاقے قربان لائن ریلوے پھاٹک کے قریب پیش آیا جہاں کوڑے کے ڈھیر میں ایک معصوم جان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا تھا۔ شکر ہے کہ وقت پر اس کی موجودگی کا علم ہو گیا جس سے اس کی زندگی بچانے میں مدد ملی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو 1122 کے حکام نے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں اس لاوارث بچی کے کوڑے دان میں موجود ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی سروسز کی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گئیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر انتہائی مہارت اور احتیاط کے ساتھ کوڑے دان کا جائزہ لیا اور نومولود بچی کو بحفاظت باہر نکالا۔ اس نازک موقع پر امدادی ٹیم نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچی کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کا آغاز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو عملے نے موقع پر ہی بچی کا ابتدائی طبی معائنہ کیا اور ضروری طبی امداد فراہم کی تاکہ اس کی بگڑتی ہوئی حالت کو سنبھالا جا سکے۔ خوش قسمتی سے ابتدائی طبی جانچ کے دوران بچی کی حالت خطرے سے باہر اور تسلی بخش پائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان ریسکیو کے مطابق ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد مزید ایڈوانس کیئر اور بہتر طبی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے نومولود بچی کو قریبی سرکاری اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال منتقلی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ بچی کو کسی بھی قسم کی طبی پیچیدگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹرز اور نرسنگ عملے نے فوری طور پر بچی کو اپنی تحویل میں لے لیا اور نوزائیدہ وارڈ کے اندر اس کی دیکھ بھال شروع کر دی گئی۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ بچی کی صحت کی نگرانی کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسپتال انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق بچی کو فی الحال ایڈوانس کیئر یونٹ کے اندر رکھا گیا ہے جہاں اس کی صحت اور زندگی سے متعلق تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ طبی عملہ اس معصوم جان کو ہر ممکنہ طبی ریلیف فراہم کرنے میں مصروف ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشرتی حلقوں اور مقامی شہریوں نے اس لرزہ خیز واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس فعل کو سنگدلانہ قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح معصوم اور بے گناہ بچوں کو سڑکوں اور کوڑے دانوں میں پھینکنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی پولیس نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس قبیح فعل میں ملوث نامعلوم ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور دیگر تکنیکی ذرائع کی مدد سے بھی یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس معصوم بچی کو کوڑے دان میں چھوڑنے والا کون شخص تھا۔ پولیس کا عزم ہے کہ ذمہ داران کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلاحی تنظیموں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ معاشرے میں اس قسم کے رجحانات کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں کی جانی چاہئیں تاکہ لاوارث بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسپتال میں زیر علاج نومولود بچی کی حالت اب بہتر بتائی جاتی ہے جبکہ ڈاکٹروں کی ٹیم اس کی مکمل صحتیابی کے لیے پرامید ہے۔ انتظامیہ اس بات کو بھی یقینی بنا رہی ہے کہ بچی کی قانونی اور فلاحی کفالت کے حوالے سے ضابطے کی تمام کارروائی قانون کے مطابق احسن طریقے سے انجام دی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1817/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وسیم کیس: چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا ملتان میں یتیم خانے کا دورہ، 16 بچے تحویل میں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1742/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1742/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 16:17:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_مقابلہ]]></category>
		<category><![CDATA[چائلڈ_پروٹیکشن_بیورو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سارہ_احمد]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فلاحی_ادارے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c%d8%b3-%da%86%d8%a7%d8%a6%d9%84%da%88-%d9%be%d8%b1%d9%88%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b4%d9%86-%d8%a8%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%88-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[چیئرپرسن سارہ احمد کی ہدایت پر ملتان کے یتیم خانے سے 16 کم عمر بچوں کو حفاظتی تحویل میں لے کر منتقل کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے تناظر میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ یتیم خانے کا ہنگامی دورہ کیا اور وہاں مقیم بچوں کی سلامتی کا جائزہ لیا۔ اس کارروائی کے دوران بیورو کی ٹیم نے یتیم خانے سے 16 کم عمر بچوں کو اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا جنہیں بعد ازاں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے چائلڈ پروٹیکشن سینٹر ملتان منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تمام اقدامات چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اٹھائے گئے جنہوں نے بچوں کے حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کو ہر دور میں اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ بچوں کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ہر بچہ محفوظ ماحول میں پرورش پائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس کارروائی کا پس منظر ملتان کا وہ دلخراش واقعہ ہے جس میں وسیم عباس نامی پندرہ سالہ بچے کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات اور تحقیقات کے مطابق کم عمر وسیم عباس ایک یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا جہاں سے اسے مبینہ طور پر فنی تربیت یا ہنر سکھانے کے بہانے ایک ٹھیکدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ ملزم نے بچے کو چھٹی دینے اور اس کی حفاظت کرنے کے بجائے مبینہ طور پر اپنی گاڑی تلے کچل کر موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔ اس المناک واقعے کے بعد جب حقیقتیں سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ بچے کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ادارے نے کس قدر غفلت کا مظاہرہ کیا تھا اور اسے غیر محفوظ ہاتھوں میں سونپ دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد پولیس کارروائی کے دوران مبینہ طور پر مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے تاہم اس واقعے نے معاشرتی حلقوں اور بالخصوص بچوں کے حقوق کے تحفظ پر کام کرنے والے اداروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس کیس کے وائرل ہونے اور بچوں کے حقوق کی پامالی پر آوازیں اٹھنے کے بعد چئیرپرسن سارہ احمد نے فوری نوٹس لیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیئرپرسن سارہ احمد نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ بچوں کو ہنر سکھانے یا فنی تربیت دلانے کے نام پر غیر مجاز افراد یا نجی اداروں کے حوالے کرنا ان کی جان کو شدید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا تھا کہ بچوں کو صرف اور صرف سرکاری سطح پر مستند اور مجاز اداروں کے سپرد کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیورو کی سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے بچوں کے بنیادی حقوق اور ان کے تحفظ کو عملی طور پر یقینی بنایا جا سکتا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے بہیمانہ واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وسیم عباس کی ہلاکت کے پورے واقعے کی انتہائی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کے دوران اگر کوئی یتیم خانہ یا متعلقہ فلاحی ادارہ بچوں کی سلامتی میں غفلت کا مرتکب پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں بیورو کی جانب سے صوبے بھر کے فلاحی اداروں اور یتیم خانوں کے ریکارڈ اور وہاں مقیم بچوں کی فلاح و بہبود کا جائزہ لینے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چائلڈ پروٹیکشن بیورو ملتان کی جانب سے بچوں کو تحویل میں لینے کا یہ اقدام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ مزید کسی بھی طفلِ معصوم کو غیر محفوظ حالات کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے جو معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ والدین اور سرپرستوں کے ساتھ ساتھ فلاحی تنظیموں کو بھی بچوں کی سلامتی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا بھرپور ادراک کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کی وقتاً فوقتاً جانچ پڑتال کریں تاکہ وہاں مقیم بچوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے وسیم عباس کا یہ کیس معاشرے کے بے حس ضمیر اور نظام کی خامیوں پر ایک گہرا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری حلقوں نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی اس بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ملتان کے اس یتیم خانے سے تحویل میں لیے گئے بچوں کو بہترین نگہداشت اور تعلیم و تربیت فراہم کی جائے گی۔ عوام کا پرزور مطالبہ ہے کہ بچوں کے حقوق کی پامالی کرنے والے عناصر کو کڑی سزا دی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1742/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب میں یتیم بچوں کی کفالت کے اداروں کی نگرانی پر سوالیہ نشان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/1713/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/1713/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 11:16:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_استحصال]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%8c%d8%aa%db%8c%d9%85-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%da%a9%d9%81%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ملتان میں بچے کی ہلاکت کے بعد فلاحی اداروں میں بچوں کی حوالگی اور سکیورٹی کے معاملات کی چھان بین کا مطالبہ سامنے آ گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب بھر میں یتیم، لاوارث اور بے سہارا بچوں کی کفالت کے نام پر قائم اداروں کے نظام اور ان کی نگرانی کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جن معصوم بچوں کو تحفظ، بہتر تعلیم اور روشن مستقبل فراہم کرنا معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے، انہیں مبینہ طور پر ہنر سکھانے اور روزگار کے بہانے نجی افراد کے حوالے کرنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کی المناک ہلاکت کے بعد اس نوعیت کے تمام نجی و سرکاری اداروں کی رجسٹریشن، نگرانی اور بچوں کی حوالگی کے معاملات کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ اس واقعے نے اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ والدین کے سائے سے محروم بچوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ادارے اپنی ذمہ داریاں کتنی دیانت داری سے نبھا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس حساس معاملے پر متعلقہ اداروں سے ریکارڈ طلب کرنے اور تحقیقات کے دائرے کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب، پنجاب چیریٹی کمیشن، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور پولیس کے متعلقہ شعبوں سے اداروں اور ان میں مقیم بچوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے امور زیر غور لائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کا بنیادی نکتہ یہ ہونا چاہیے کہ صوبے میں کتنے سرکاری اور نجی یتیم خانے اور رہائشی مراکز فعال ہیں اور ان میں کتنے بچے مقیم ہیں۔ اس بات کا بھی احاطہ کیا جانا ضروری ہے کہ کتنے ادارے متعلقہ قوانین کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں اور ان کی نگرانی کا اصل ذمہ دار کون سا ادارہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر بچوں کو تعلیم، تربیت یا ہنر سکھانے کے نام پر اداروں کی حدود سے باہر کسی تیسرے فریق کے پاس بھیجا جاتا ہے، تو اس کے لیے قانونی اجازت کون دیتا ہے۔ بچوں کی حفاظت کی مکمل ضمانت کون لیتا ہے اور ان کی روزمرہ سرگرمیوں کی نگرانی کا فریضہ کون انجام دیتا ہے، یہ اہم سوالات طلب کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت اور متعلقہ حکام کے لیے یہ جاننا بھی انتہائی اہم ہے کہ کہیں کم عمر بچوں کو کام سکھانے یا روزگار کے نام پر نجی ورکشاپوں، دکانوں یا دیگر افراد کے سپرد تو نہیں کیا جا رہا۔ اگر ایسا ہو رہا ہے تو اس کی قانونی حیثیت، بچوں کی عمروں، اجازت ناموں اور حفاظتی انتظامات کی چھان بین ناگزیر ہو جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر بھی تشویشناک ہے کہ بچوں سے کام لینے کی صورت میں ان کی اجرت باقاعدگی سے طے کی جاتی ہے یا نہیں اور وہ رقم کس کے حوالے کی جاتی ہے۔ کیا یہ آمدنی بچوں کی خوراک، رہائش، تعلیم اور بہتر مستقبل پر خرچ ہوتی ہے یا پھر اس کا استحصال کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی فلاحی ادارے یا تیسرے فریق کی جانب سے بچوں کی محنت سے ناجائز فائدہ اٹھانے، اجرت روکنے یا جبری مشقت کے شواہد ملتے ہیں تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں ہوگی۔ یہ بچوں کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالی کا معاملہ ہے جس پر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے رہائشی وسیم عباس کی موت نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ یتیم خانوں سے باہر بچوں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ رکھا جانا چاہیے۔ کسی بھی بچے کو کس مقصد اور کس کی اجازت سے باہر بھیجا گیا، اس کا جوابدہ کون ہوگا، اس کا تعین کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ سوشل ویلفیئر پنجاب کی سرکاری معلومات کے مطابق صوبے بھر میں یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے 15 چلڈرن ہومز قائم ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں گہوارہ مراکز بھی کام کر رہے ہیں جو کم سن لاوارث بچوں کو عارضی پناہ فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گمشدہ، اغوا شدہ اور گھریلو تشدد یا جبری مشقت کا شکار بچوں کی بازیابی اور بحالی کے لیے آٹھ نگہبان مراکز بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ تاہم یہ سرکاری مراکز صوبے میں موجود تمام نجی یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی سطح پر دستیاب معلومات سے نجی فلاحی اداروں اور ان میں مقیم بچوں کی درست اور مصدقہ تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے، جس کی وجہ سے ایک واضح معلوماتی خلا موجود ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو مل کر ایک شفاف اور قابلِ تصدیق ڈیٹا بیس تیار کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کے دوران یہ بھی جانچنا لازمی ہے کہ بچوں کی کفالت کا دعویٰ کرنے والی تنظیمیں پنجاب چیریٹی کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے ہاں قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہیں یا نہیں۔ کسی بھی فلاحی ادارے کی رجسٹریشن کو بچوں کی تحویل یا انہیں کسی تیسرے فریق کے حوالے کرنے کی خودکار اجازت ہرگز نہیں سمجھا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ ہر ادارے میں مقیم بچوں کی تعداد، ان کے داخلے اور اخراج کے ریکارڈ اور طبی سہولتوں کی باقاعدگی سے پڑتال کریں۔ بدسلوکی، استحصال یا غیر قانونی سرگرمیوں کی شکایات پر کاغذی کارروائی کے بجائے فوری اور آزادانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں تاکہ ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ صورتحال میں متعلقہ حکام کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ پنجاب بھر کے تمام سرکاری اور نجی فلاحی اداروں کا مستند ریکارڈ سامنے لائیں۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے استحصال کے سدباب کے لیے شفاف تحقیقات اور موثر عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/1713/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملتان: بچے کی ہلاکت پر یتیم خانے کی رجسٹریشن درخواست مسترد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1631/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1631/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 01:37:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[چائلڈ_پروٹیکشن_بیورو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سارہ_احمد]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%db%8c-%db%81%d9%84%d8%a7%da%a9%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%db%8c%d8%aa%db%8c%d9%85-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے غفلت برتنے والے ادارے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان میں ایک یتیم خانے کی جانب سے رجسٹریشن کے لیے جمع کرائی گئی درخواست کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب نے مسترد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک بچے کی افسوسناک ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ ادارے کی غفلت پر عائد کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یتیم خانے کی انتظامیہ بچے کی حفاظت اور نگرانی یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ انہوں نے اس معاملے کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یتیم خانے کی انتظامیہ نے ایک بچے کو کام کے لیے ٹھیکیدار کے حوالے کر دیا تھا۔ اس عمل کے دوران بچے کی حفاظت کے لیے کوئی مناسب اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سارہ احمد نے پنجاب پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ یتیم خانے کے مالک کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچے کی موت کے ذمہ دار تمام افراد کا احتساب کیا جانا ضروری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیئرپرسن نے پنجاب چیریٹیز کمیشن سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ مذکورہ یتیم خانے کے لائسنس اور رجسٹریشن کا فوری طور پر جائزہ لے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اس ادارے کو فوری طور پر بند کیا جائے اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سارہ احمد کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر کے تمام یتیم خانوں کے لیے بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے کم از کم معیارات پہلے ہی وضع کیے جا چکے ہیں۔ کسی بھی ادارے کو ان معیارات سے انحراف کرنے یا بچوں کی حفاظت میں غفلت برتنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ ہر بچے کا حق ہے کہ اسے ایک محفوظ، باعزت اور پرسکون ماحول فراہم کیا جائے۔ یتیم بچوں کو ان افراد کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جنہیں ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی ہو، کیونکہ یہ ایک اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام نجی اور سرکاری اداروں کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کے تحت تمام فلاحی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ رہائش پذیر بچوں کی مکمل حفاظت کو یقینی بنائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزاؤں اور لائسنس کی منسوخی کا قانون موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یتیم خانوں میں مقیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی نگرانی کا نظام مزید بہتر بنایا جائے۔ عوام نے اس اقدام کو بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے یتیم خانے کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے کو بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی ادارے میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی یا غفلت کی اطلاع ملے تو وہ فوری طور پر بیورو کو مطلع کریں۔ بچوں کا تحفظ معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس افسوسناک واقعے نے یتیم خانوں کے انتظامی امور اور نگرانی کے نظام پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ حکومتی کارروائی کے بعد بچوں کے تحفظ کے معیارات پر سختی سے عمل درآمد ممکن ہو سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1631/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں 15 لاکھ بچے ایک سال کے دوران آن لائن جنسی ہراسانی کا شکار: یونیسیف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/1133/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/1133/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 17:57:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_ہراسانی]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_حفاظت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-15-%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%a8%da%86%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[اقوام متحدہ کے ادارے نے والدین کو بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر کڑی نگرانی رکھنے اور آن لائن خطرات سے آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں تقریباً 15 لاکھ بچوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران انٹرنیٹ پر جنسی ہراسانی کا سامنا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر بچوں کو درپیش خطرات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارے نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کو انٹرنیٹ تک بلا روک ٹوک رسائی دینے سے گریز کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق ہراسانی کا شکار ہونے والے بچوں میں سے 57 فیصد نے سماجی دباؤ، بدنامی کے ڈر اور خاندانی ردعمل کے خوف سے اس واقعے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا۔ یہ خاموشی بچوں کو مزید نفسیاتی مسائل میں مبتلا کر سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے غلط استعمال کو ایک نیا اور ابھرتا ہوا سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آن لائن ہراسانی کے کل واقعات میں سے 44 فیصد کا تعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہے۔ یہ اعداد و شمار ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے موجودہ حفاظتی اقدامات پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں ایک اور اہم انکشاف یہ ہوا ہے کہ متاثرہ بچوں کے بیانات کے مطابق 85 فیصد واقعات میں مبینہ ملزم کوئی اجنبی نہیں بلکہ ان کا جاننے والا یا قریبی واقف کار شخص تھا۔ یہ پہلو بچوں کی آن لائن دوستیوں پر نظر رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیسیف نے جنسی ہراسانی کی مختلف صورتوں کی نشاندہی کی ہے جن میں بچوں کو نازیبا پیغامات اور تصاویر بھیجنا، ان سے نجی تصاویر کا مطالبہ کرنا، تصاویر کی غیر قانونی تشہیر اور بلیک میلنگ شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل بچوں کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے نے پاکستان کے قانونی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے پر زور دیا ہے۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانا ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آن لائن جرائم کی تحقیقات کے عمل کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے شکایات درج کروانے کے محفوظ اور آسان ذرائع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیسیف نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے آگاہ کریں۔ بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ اگر وہ کسی ناخوشگوار تجربے سے گزریں تو بلا جھجھک اپنے بڑوں کو بتا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل دور میں بچوں کی حفاظت کے لیے صرف تکنیکی اقدامات کافی نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی ہی انہیں اس طرح کے سنگین خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ سائبر کرائم کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانا اب ایک قومی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیسیف کی یہ رپورٹ پاکستان میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم دستاویز ہے، جس کا مقصد حکومتی اداروں اور والدین کو متوجہ کرنا ہے کہ وہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات سے بچانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/1133/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور پولیس کی کارروائی، خواتین اور بچوں پر تشدد میں ملوث 9 ملزمان گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/1095/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/1095/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 13:16:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرائم]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_پر_تشدد]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[لاہور پولیس نے خواتین اور بچوں کے خلاف درج جرائم کے مقدمات میں فوری کارروائی کرتے ہوئے نو ملزمان کو دبوچ لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور پولیس نے خواتین اور بچوں کے خلاف پیش آنے والے جرائم اور تشدد کے مختلف واقعات میں فوری کارروائی کرتے ہوئے نو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق شہر کے مختلف تھانوں کی حدود میں ہونے والی ان کارروائیوں میں بچوں اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات بالخصوص خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں موصول ہونے والی ہر شکایت پر فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے تاکہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ نیو انار کلی پولیس نے ایک بچے سے بدفعلی کے الزام میں دو ملزمان حسیب اور عمران کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان ملزمان کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس گھنائونے جرم کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ڈیفنس سی پولیس نے ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی کے الزام میں ملوث ملزم زوار حسین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ پولیس کے مطابق نامزد ملزم کو جدید تکنیکی ذرائع اور روایتی طریقوں کی مدد سے ٹریس کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شالیمار پولیس کے علاقے میں گھریلو ناچاقی اور تشدد کے ایک واقعے کے دوران ماں اور بیٹی پر مبینہ تشدد کرنے والے ملزم عامر علی کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت قدم اٹھائے جا رہے ہیں اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرین ٹاؤن کے علاقے میں بھی ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا جہاں ایک شخص نے اپنی ہی والدہ پر مبینہ طور پر تشدد کیا۔ گرین ٹاؤن پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم محمد ندیم کو گرفتار کر لیا اور اسے قانونی چارہ جوئی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بادامی باغ پولیس نے ایک اور کارروائی کے دوران بھابی کو گالم گلوچ کرنے اور ہراساں کرنے کے الزام میں ملزم واحد علی کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گھریلو سطح پر خواتین کی توہین اور بدتمیزی کے واقعات پر بھی قانون پوری سختی سے حرکت میں آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">باٹا پور کے علاقے میں ایک خاتون کے ساتھ بدتمیزی اور اسے زدوکوب کرنے کے الزام میں ملزم بلال کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں بھی فوری رسپانس دیتے ہوئے متاثرہ خاتون کی مدیت میں ملزم کو فوری طور پر دبوچ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح مصری شاہ پولیس نے ایک لڑکی کے ساتھ بدتمیزی، گالم گلوچ اور تشدد کرنے کے الزام میں ملزم زبیر غوری کو گرفتار کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کے ساتھ اس قسم کے ناروا رویے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شاد باغ پولیس کی حدود میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنے اور انہیں سرعام گالیاں دینے کے الزام میں دو ملزمان اظہر اور محمد کاشف کو گرفتار کیا گیا۔ ان دونوں ملزمان کے خلاف بھی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور ان کی تربیت و دیکھ بھال میں بھرپور توجہ دیں۔ والدین کی بروقت توجہ اور آگاہی بچوں کو مختلف جرائم اور استحصال کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گردونواح میں ہونے والے کسی بھی غیر معمولی واقعے یا خواتین و بچوں کے خلاف تشدد کی اطلاع فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن پر دیں۔ شہریوں کے تعاون سے ہی ایک محفوظ اور پرامن معاشرے کا قیام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/1095/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جرمنی میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تجویز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/889/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/889/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 20:37:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسنیپ_چیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انسٹاگرام]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹک_ٹاک]]></category>
		<category><![CDATA[جرمنی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%ac%d8%b1%d9%85%d9%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-13-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%b3%db%92-%da%a9%d9%85-%d8%b9%d9%85%d8%b1-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[جرمن کابینہ نے بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سوشل نیٹ ورکس پر نئی پابندیوں اور پالیسی رہنما خطوط کی منظوری دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یورپ کے اہم ملک جرمنی میں بچوں اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جرمن کابینہ نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے غور شروع کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اقدام کا مقصد یورپی قوانین کے نفاذ تک بچوں کو آن لائن ماحول میں تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ فیصلہ ایک آزاد ماہر کمیشن کی جانب سے پیش کردہ 56 سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل ٹولز کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے مجوزہ قوانین کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کو ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے مقبول سوشل نیٹ ورکس تک رسائی سے روکا جائے گا۔ تاہم، وہ پلیٹ فارمز جو خصوصی طور پر بچوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، ان پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن وزیر تعلیم اور خاندانی امور کیرن پرین نے اس پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تجزیے کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور حکومت عملی اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور کرنا نہیں بلکہ انہیں محفوظ بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ آج کے دور میں نوجوانوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انہیں ڈیجیٹل دنیا میں خود ارادیت کے ساتھ پروان چڑھنے کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ فریم ورک فراہم کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجوزہ پالیسی کے تحت 13 سے 18 سال کے نوعمروں کے لیے بھی عمر کے لحاظ سے الگ حدود مقرر کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بطور ڈیفالٹ نشہ آور یا نقصان دہ مواد کی ترسیل کو بند کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن حکومت 2027 تک یورپی یونین کے ڈیجیٹل آئیڈینٹیٹی والیٹ کے ذریعے عمر کی تصدیق کا ایک قابل اعتماد نظام متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس نظام کو &#039;ڈی-یو&#039; (d-you) کا نام دیا گیا ہے، جس سے آن لائن سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات بچوں کی ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور انہیں آن لائن دنیا میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ جرمنی کی جانب سے یہ اقدام یورپی سطح پر ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے منظور کردہ رہنما خطوط بچوں کے حقوق اور ان کی ڈیجیٹل شرکت کو یقینی بنانے پر مرکوز ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد بچوں کو ایک ایسے ماحول میں لانا ہے جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال محفوظ طریقے سے کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پیش رفت کو جرمنی میں بچوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ ان قوانین کے نفاذ سے والدین کو بھی اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے اطمینان حاصل ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن کابینہ کے اس فیصلے کے بعد اب متعلقہ ادارے ان قوانین کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یورپی قوانین کے نفاذ تک یہ قومی سطح پر نافذ العمل رہیں گے تاکہ بچوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں ڈیجیٹل دنیا کے بدلتے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پالیسیوں میں مزید بہتری لانے کا بھی امکان ہے۔ جرمنی کا یہ اقدام عالمی سطح پر بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے جاری بحث میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/889/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کیلئے نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/333/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/333/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 19:17:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_حفاظت]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[چائلڈ_پروٹیکشن_بیورو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_حفاظت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سارہ_احمد]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%da%88%db%8c%d8%ac%db%8c%d9%b9%d9%84-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%86%db%8c%d8%b4%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[اسلام آباد میں منعقدہ مکالمے میں 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر والدین کی تصدیق لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے &#039;نیشنل پالیسی ڈائیلاگ آن سیف اسکرول&#039; کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کا اہتمام چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب اور وزارتِ انسانی حقوق نے یونیسف پاکستان اور یو این ایف پی اے کے تعاون سے کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مکالمے کا بنیادی مقصد بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات سے محفوظ رکھنا، سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا اور اس حوالے سے مؤثر قانونی و پالیسی اقدامات کے لیے قومی سطح پر مشاورت کو آگے بڑھانا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کی چیئرپرسن سارہ احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے 10 اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل دور میں بچوں کے حقوق، رازداری اور سلامتی کے تحفظ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سارہ احمد کی جانب سے پیش کردہ سفارشات میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے والدین کی تصدیق شدہ رضامندی اور عمر کی تصدیق کا ایک قابلِ اعتماد نظام متعارف کروانے پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے مابین مؤثر رابطہ کاری، آن لائن شکایات پر فوری کارروائی، سائبر بُلنگ، ڈیجیٹل گرومنگ اور آن لائن ہراسانی کی روک تھام کے لیے مربوط اقدامات کو ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ بچوں کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور ادارہ جاتی تعاون کو یقینی بنانے پر زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کو سائبر بُلنگ اور ڈیجیٹل گرومنگ سے بچانے کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے بھی تقریب میں شرکت کی اور بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے اس ضمن میں بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل پالیسی ڈائیلاگ میں آئی ٹی کے ماہرین، قانونی مشیران، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کی ریگولیشن اور ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف سیشنز کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے مواقع سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت، والدین اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ محفوظ اسکرولنگ ہر بچے کا بنیادی حق ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور قانونی حدود کا تعین کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مکالمہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جاری حکومتی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/333/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
