<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بچوں_کا_استحصال &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba_%da%a9%d8%a7_%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%ad%d8%b5%d8%a7%d9%84/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بچوں_کا_استحصال &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پنجاب میں یتیم بچوں کی کفالت کے اداروں کی نگرانی پر سوالیہ نشان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/1713/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/1713/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 11:16:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_استحصال]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%8c%d8%aa%db%8c%d9%85-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%da%a9%d9%81%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ملتان میں بچے کی ہلاکت کے بعد فلاحی اداروں میں بچوں کی حوالگی اور سکیورٹی کے معاملات کی چھان بین کا مطالبہ سامنے آ گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب بھر میں یتیم، لاوارث اور بے سہارا بچوں کی کفالت کے نام پر قائم اداروں کے نظام اور ان کی نگرانی کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جن معصوم بچوں کو تحفظ، بہتر تعلیم اور روشن مستقبل فراہم کرنا معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے، انہیں مبینہ طور پر ہنر سکھانے اور روزگار کے بہانے نجی افراد کے حوالے کرنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کی المناک ہلاکت کے بعد اس نوعیت کے تمام نجی و سرکاری اداروں کی رجسٹریشن، نگرانی اور بچوں کی حوالگی کے معاملات کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ اس واقعے نے اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ والدین کے سائے سے محروم بچوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ادارے اپنی ذمہ داریاں کتنی دیانت داری سے نبھا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس حساس معاملے پر متعلقہ اداروں سے ریکارڈ طلب کرنے اور تحقیقات کے دائرے کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب، پنجاب چیریٹی کمیشن، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور پولیس کے متعلقہ شعبوں سے اداروں اور ان میں مقیم بچوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے امور زیر غور لائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کا بنیادی نکتہ یہ ہونا چاہیے کہ صوبے میں کتنے سرکاری اور نجی یتیم خانے اور رہائشی مراکز فعال ہیں اور ان میں کتنے بچے مقیم ہیں۔ اس بات کا بھی احاطہ کیا جانا ضروری ہے کہ کتنے ادارے متعلقہ قوانین کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں اور ان کی نگرانی کا اصل ذمہ دار کون سا ادارہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر بچوں کو تعلیم، تربیت یا ہنر سکھانے کے نام پر اداروں کی حدود سے باہر کسی تیسرے فریق کے پاس بھیجا جاتا ہے، تو اس کے لیے قانونی اجازت کون دیتا ہے۔ بچوں کی حفاظت کی مکمل ضمانت کون لیتا ہے اور ان کی روزمرہ سرگرمیوں کی نگرانی کا فریضہ کون انجام دیتا ہے، یہ اہم سوالات طلب کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت اور متعلقہ حکام کے لیے یہ جاننا بھی انتہائی اہم ہے کہ کہیں کم عمر بچوں کو کام سکھانے یا روزگار کے نام پر نجی ورکشاپوں، دکانوں یا دیگر افراد کے سپرد تو نہیں کیا جا رہا۔ اگر ایسا ہو رہا ہے تو اس کی قانونی حیثیت، بچوں کی عمروں، اجازت ناموں اور حفاظتی انتظامات کی چھان بین ناگزیر ہو جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر بھی تشویشناک ہے کہ بچوں سے کام لینے کی صورت میں ان کی اجرت باقاعدگی سے طے کی جاتی ہے یا نہیں اور وہ رقم کس کے حوالے کی جاتی ہے۔ کیا یہ آمدنی بچوں کی خوراک، رہائش، تعلیم اور بہتر مستقبل پر خرچ ہوتی ہے یا پھر اس کا استحصال کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی فلاحی ادارے یا تیسرے فریق کی جانب سے بچوں کی محنت سے ناجائز فائدہ اٹھانے، اجرت روکنے یا جبری مشقت کے شواہد ملتے ہیں تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں ہوگی۔ یہ بچوں کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالی کا معاملہ ہے جس پر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے رہائشی وسیم عباس کی موت نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ یتیم خانوں سے باہر بچوں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ رکھا جانا چاہیے۔ کسی بھی بچے کو کس مقصد اور کس کی اجازت سے باہر بھیجا گیا، اس کا جوابدہ کون ہوگا، اس کا تعین کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ سوشل ویلفیئر پنجاب کی سرکاری معلومات کے مطابق صوبے بھر میں یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے 15 چلڈرن ہومز قائم ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں گہوارہ مراکز بھی کام کر رہے ہیں جو کم سن لاوارث بچوں کو عارضی پناہ فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گمشدہ، اغوا شدہ اور گھریلو تشدد یا جبری مشقت کا شکار بچوں کی بازیابی اور بحالی کے لیے آٹھ نگہبان مراکز بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ تاہم یہ سرکاری مراکز صوبے میں موجود تمام نجی یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی سطح پر دستیاب معلومات سے نجی فلاحی اداروں اور ان میں مقیم بچوں کی درست اور مصدقہ تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے، جس کی وجہ سے ایک واضح معلوماتی خلا موجود ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو مل کر ایک شفاف اور قابلِ تصدیق ڈیٹا بیس تیار کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کے دوران یہ بھی جانچنا لازمی ہے کہ بچوں کی کفالت کا دعویٰ کرنے والی تنظیمیں پنجاب چیریٹی کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے ہاں قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہیں یا نہیں۔ کسی بھی فلاحی ادارے کی رجسٹریشن کو بچوں کی تحویل یا انہیں کسی تیسرے فریق کے حوالے کرنے کی خودکار اجازت ہرگز نہیں سمجھا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ ہر ادارے میں مقیم بچوں کی تعداد، ان کے داخلے اور اخراج کے ریکارڈ اور طبی سہولتوں کی باقاعدگی سے پڑتال کریں۔ بدسلوکی، استحصال یا غیر قانونی سرگرمیوں کی شکایات پر کاغذی کارروائی کے بجائے فوری اور آزادانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں تاکہ ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ صورتحال میں متعلقہ حکام کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ پنجاب بھر کے تمام سرکاری اور نجی فلاحی اداروں کا مستند ریکارڈ سامنے لائیں۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے استحصال کے سدباب کے لیے شفاف تحقیقات اور موثر عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/1713/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پیرس: بچوں کے آن لائن استحصال کے عالمی نیٹ ورک میں ملوث بھارتی شہری کو 20 سال قید</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/56/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/56/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:17:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_استحصال]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_شہری]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیرس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/56/</guid>

					<description><![CDATA[فرانسیسی عدالت نے معصوم بچوں کو بلیک میل کرنے اور پرتشدد مواد پھیلانے میں ملوث بھارتی شہری روہن رانے کو بیس سال قید کی سزا سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فرانس کے دارالحکومت پیرس کی ایک سیشن عدالت نے کم عمر بچوں کے جنسی استحصال اور آن لائن بلیک میلنگ کے عالمی نیٹ ورک میں ملوث انتیس سالہ بھارتی شہری روہن سندیپ رانے کو بیس برس قید کی سخت سزا سنا دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ذرائع کے مطابق مجرم روہن رانے کو فرانسیسی تحقیقاتی اداروں نے سال دو ہزار اکیس میں ایک وسیع پیمانے پر کی جانے والی کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اس کے خلاف طویل قانونی کارروائی جاری رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی شہری پر بچوں کی غیر قانونی تصاویر اور ویڈیوز کی تشہیر، سنگین نوعیت کی بھتہ خوری اور نادان بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات ثابت ہوئے، جس پر عدالت نے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس بین الاقوامی گروہ کے کارندے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور ڈارک ویب کے ذریعے معصوم اور کم عمر بچوں کو اپنا نشانہ بناتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ خطرناک نیٹ ورک بنیادی طور پر امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سمیت متعدد مغربی ممالک کے بچوں کو ہدف بناتا تھا اور انہیں بلیک میل کر کے زبردستی غیر قانونی و پرتشدد مواد بنانے پر مجبور کرتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیٹ ورک میں شامل عناصر معصوم بچوں کی مجبوریوں اور نادانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں خوفزدہ کرتے تھے اور بعد ازاں ان کے ذریعے مواد تیار کر کے پھیلاتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس عالمی گروہ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ تحقیقاتی کارروائی کی تھی، جس کے دوران مختلف ممالک کے سائبر کرائم سیلز نے ڈیٹا کا تبادلہ کر کے گینگ کا سراغ لگایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیرس کی عدالت میں سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے ایسے ناقابل تردید شواہد پیش کیے گئے جن سے ثابت ہوا کہ بھارتی شہری اس نیٹ ورک کے کلیدی کارندوں میں شامل تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی قوانین کے تحت کم عمر بچوں کی حفاظت اور ان کے خلاف ہونے والے آن لائن جرائم کے سدباب کے لیے انتہائی سخت سزائیں مقرر ہیں، اور اس فیصلے کو معصوموں کے تحفظ میں اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر معصوم بچوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے نشانہ بنانے والے انٹرنیشنل گروہوں کی فعال سرگرمیوں پر انسانی حقوق اور بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی عدالت کے اس فیصلے کو آن لائن دنیا میں بچوں کا استحصال کرنے والے عالمی نیٹ ورکس کے لیے ایک اہم تنبیہ قرار دیا جا رہا ہے تاکہ سائبر سپیس کو محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/56/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
