<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بسنت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:09 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بسنت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پنجاب کابینہ نے بسنت کی تاریخیں تبدیل کرنے کی سمری کی منظوری دے دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1570/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1570/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 10:17:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت_2027]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_کابینہ]]></category>
		<category><![CDATA[تہوار]]></category>
		<category><![CDATA[جشن_بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81-%d9%86%db%92-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[لاہور میں جشنِ بسنت اب جنوری کے بجائے مارچ دو ہزار ستائیس میں تین روز کے لیے منایا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کابینہ نے صوبے میں بسنت کے تہوار کی تاریخوں میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اس حوالے سے پیش کی جانے والی نئی سمری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب تاریخی روایتی تہوار جشنِ بسنت کے انعقاد کا شیڈول تبدیل ہو چکا ہے اور انتظامی امور نئے سرے سے طے کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر ہونے والے اس فیصلے کا مقصد تہوار کو بہتر اور منظم انداز میں منانا ہے تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اب صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جشنِ بسنت رواں سال جنوری کے بجائے مارچ کے مہینے میں منعقد کیا جائے گا۔ نئی تاریخوں کے تعین کے بعد اب تمام متعلقہ محکمے اور ادارے اپنی تیاریاں اسی حساب سے حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں تاکہ ایونٹ کو شاندار بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معتبر ذرائع کا بتانا ہے کہ صوبائی کابینہ کی جانب سے جن نئی تاریخوں کی منظوری دی گئی ہے ان کے مطابق اب یہ ثقافتی تہوار 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کو منایا جائے گا۔ پہلے اس تہوار کے لیے جو طویل شیڈول طے کیا گیا تھا اسے اب مختصر کر کے تین روز تک محدود کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بسنت کی تاریخوں میں اس تبدیلی کے حوالے سے ابتدائی طور پر ڈپٹی کمشنر لاہور کی طرف سے ایک خصوصی سمری تیار کی گئی تھی۔ اس سمری کو باضابطہ کارروائی کے لیے سب سے پہلے محکمہ داخلہ کو ارسال کیا گیا تاکہ اس کے تمام قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ داخلہ نے ڈپٹی کمشنر لاہور کی طرف سے موصول ہونے والی اس سمری کا گہرائی سے جائزہ لیا اور تمام متعلقہ امور پر غور کیا۔ اس کے بعد محکمہ داخلہ نے اس سمری کو حتمی منظوری اور توثیق کے لیے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیش کر دیا جہاں اسے منظور کر لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی کابینہ سے باضابطہ منظوری ملنے کے بعد اب لاہور میں جشنِ بسنت کے انعقاد کے لیے مارچ 2027 کی نئی تاریخوں پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ تیاریاں وقت پر مکمل ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس نئی تبدیلی سے قبل لاہور شہر میں 29 جنوری سے 7 فروری 2027 تک دس روزہ بسنت منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس پرانے شیڈول کے تحت طویل عرصے تک تقریبات جاری رہنے کا پروگرام تھا جسے اب حکومتی سطح پر نظرثانی کے بعد تبدیل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پرانے شیڈول میں بسنت کی تقریبات کا دورانیہ 10 دن رکھا گیا تھا جس پر شہریوں اور مختلف حلقوں کی طرف سے مختلف آراء سامنے آئی تھیں، تاہم اب کابینہ کے تازہ ترین فیصلے کے بعد یہ تہوار صرف تین روز تک محدود ہو گا جو مارچ کے وسط میں منایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بسنت کا یہ تہوار لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں اپنی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کی وجہ سے ہمیشہ سے خاص مقام رکھتا ہے۔ اس موقع پر روایتی کھانوں، پتنگ بازی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں سے جڑے لاکھوں شہری اس رنگا رنگ میلے میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے اس تہوار کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شہریوں کو پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ نئی تاریخوں کے اعلان کے بعد سیکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تاریخیں زیادہ موزوں قرار دی گئی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بسنت کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے فول پروف انتظامات یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی طرف سے بھی بسنت کی نئی تاریخوں کے اعلان پر مختلف قسم کے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور لوگ اس تاریخی تہوار کے انتظار میں ہیں۔ دوسری طرف انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے طے کردہ ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی کرائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کابینہ کی منظوری کے بعد اب لاہور میں جشنِ بسنت کے حوالے سے تمام ابہام ختم ہو چکے ہیں اور نیا شیڈول سرکاری طور پر نافذ ہو چکا ہے۔ تمام متعلقہ ادارے اب مارچ کے مہینے میں اس بڑے تہوار کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1570/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں بسنت کے تہوار کی تاریخیں تبدیل، نئی تاریخوں کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1568/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1568/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 09:57:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_کابینہ]]></category>
		<category><![CDATA[تہوار]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%aa%db%81%d9%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب کابینہ نے بسنت کی تاریخ میں تبدیلی کی سمری کی منظوری دے دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بسنت کے روایتی تہوار کے انعقاد کے حوالے سے اہم حکومتی فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت اس سالانہ تہوار کی تاریخوں میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کا بنیادی مقصد انتظامات کو بہتر بنانا اور شہریوں کے لیے تفریح کے مواقع کو منظم انداز میں فراہم کرنا ہے۔ پنجاب کابینہ نے اس سلسلے میں موصول ہونے والی سمری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب نئی تاریخوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں اب بسنت کا تہوار بارہ، تیرہ اور چودہ مارچ دو ہزار ستائیس کو منایا جائے گا۔ پہلے سے طے شدہ نظام اور شیڈول میں اس تبدیلی کا مقصد انتظامی امور کو احسن طریقے سے انجام دینا اور سکیورٹی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو تیاری کے لیے مناسب وقت دینا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس تہوار کو روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کابینہ کے اس فیصلے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں نے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں تاکہ مقررہ تاریخوں پر اس بڑے تہوار کو پرامن طریقے سے منعقد کیا جا سکے۔ محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بسنت کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات وضع کریں۔ اس تہوار کے حوالے سے حکومتی سطح پر ایس او پیز بھی تیار کیے جا رہے ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور کی تاریخی ثقافت میں بسنت کو ایک خاص مقام حاصل رہا ہے جس میں شہر کے اندرون علاقوں سمیت مختلف مقامات پر خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ طویل عرصے تک پابندی اور تعطل کے بعد جب حکومت کی طرف سے اس تاریخی تہوار کو بحال کرنے کے اقدامات کیے گئے تو عوام کی جانب سے بھرپور جوش و خروش دیکھا گیا۔ اب تاریخوں میں ردوبدل سے متعلقہ کاروباری طبقے اور بالخصوص پتنگ سازوں کو بھی اپنی سرگرمیوں کے لیے بہتر وقت مل جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے اس امر پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ بسنت کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام اداروں کو ہائی الرٹ رکھا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیموں کو بھی اس حوالے سے پیشگی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ طے شدہ ضابطہ اخلاق پر من و عن عمل کیا جائے تاکہ کسی کی جان و مال کو خطرہ لاحق نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تہوار کے حوالے سے لاہور کے شہریوں میں بھی زبردست جوش پایا جاتا ہے جو اس قدیم تہوار کی واپسی کے منتظر تھے اور اب نئی تاریخوں کے اعلان کے بعد ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تہوار شہر کی رونقوں کو بحال کرنے اور روایتی کھانوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاجر برادری نے بھی اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ بسنت کے دوران تمام ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد ہو۔ پتنگ بازی کے شوقین افراد کے لیے بھی چند اصول و ضوابط بنائے گئے ہیں تاکہ کسی قسم کا حادثہ پیش نہ آئے۔ متعلقہ محکمے ان تمام امور کی کڑی نگرانی کریں گے اور کسی بھی قانون شکنی کی صورت میں فوری کارعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بسنت کے انعقاد کے لیے انتظامیہ نے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ شہر کا امن و امان ہر صورت برقرار رہے۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے اس میگا ایونٹ کے دوران ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ایک جامع پلان تیار کر رہے ہیں۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس تہوار سے لطف اندوز ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بسنت کی تاریخوں میں تبدیلی کا یہ فیصلہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے انتظامی تعطل سے بچا جا سکے۔ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ تمام ادارے بروقت اپنی تیاریاں مکمل کریں تاکہ مارچ دو ہزار ستائیس میں ہونے والے اس تہوار کو شاندار طریقے سے منایا جا سکے۔ ثقافتی حلقوں نے اس حکومتی اقدام کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بسنت کے تہوار کی نئی تاریخوں کے اعلان کے بعد شہر بھر میں ایک بار پھر اس تہوار کی تیاریاں زیر بحث آ گئی ہیں۔ شہری اور تاجر دونوں ہی اس بات کے منتظر ہیں کہ آنے والے مہینوں میں حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مزید کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں انتظامیہ اور عوام کا باہمی تعاون ہی اس تہوار کی کامیابی کی اصل ضمانت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1568/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں بسنت کے انعقاد کے لیے 12 سے 14 مارچ کی تجویز پیش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1089/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1089/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 12:37:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامات]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_فروخت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تین_روزہ_بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-12-%d8%b3%db%92-14/</guid>

					<description><![CDATA[ڈپٹی کمشنر لاہور نے بسنت کے انعقاد اور حفاظتی انتظامات سے متعلق جامع سمری پنجاب حکومت کو ارسال کر دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں موسم بہار کے انتہائی مقبول اور تاریخی روایتی تہوار بسنت کے انعقاد کے حوالے سے ایک انتہائی اہم انتظامی پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں شہر کے اندر اس رنگا رنگ تہوار کو بحال کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے اس روایتی تہوار کے پرامن انعقاد اور اس کے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دینے کی غرض سے اپنی ایک تفصیلی سمری صوبائی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور نے اس ضمن میں تمام ضروری قانونی و انتظامی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے تجاویز تیار کی ہیں جن پر اب حکومتِ پنجاب کی حتمی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ پلان کے تحت لاہور شہر میں بسنت کا تہوار آئندہ برس مارچ کے مہینے میں منعقد کرنے کی تجویز باضابطہ طور پر سامنے رکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بسنت کے لیے رواں برس مارچ کی بارہ سے چودہ تاریخیں تجویز کی گئی ہیں جن پر عمل درآمد کے لیے اب حکومتی سطح پر غور و فکر کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سبز سگنل ملنے کے بعد ہی اس تہوار کے باقاعدہ انعقاد اور حتمی تاریخوں کا حتمی اور باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیش کی گئی اس نئی سمری کے مطابق شہر کے مخصوص ممنوعہ زونز کو چھوڑ کر باقی تمام ضلع لاہور کی حدود میں باقاعدہ اور قانون کے دائرے میں رہ کر پتنگ بازی کی اجازت دینے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔ اس بات کو خصوصی طور پر یقینی بنایا جا رہا ہے کہ تہوار کے دوران شہری کھلے آسمان تلے محفوظ ماحول میں اپنی روایتی تفریح سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کے تحت پتنگ بازی کے لیے صرف قانون کے مطابق قابلِ اجازت اور منظور شدہ میٹریل کے استعمال کی سخت شرط عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا اور ماضی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے انتہائی مؤثر تدابیر اختیار کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجوزہ سخت ضوابط کے تحت پتنگ اور ڈور تیار کرنے والے تمام کاریگروں اور کارخانوں کے لیے اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن کرانا لازمی قرار دیے جانے کی تجویز بھی اس پلان کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔ اس ڈیجیٹل رجسٹریشن کا مقصد پیداواری عمل پر کڑی نظر رکھنا اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو سختی کے ساتھ روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجویز کردہ شیڈول کے مطابق پتنگوں اور ڈور کی تیاری کا عمل پانچ ستمبر سے چودھائی مارچ تک جاری رہنے کی اجازت ہوگی تاکہ وقت پر مارکیٹ کی طلب کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکے۔ اس طویل مدت میں تیارکنندگان کو ضابطے کے اندر رہتے ہوئے اپنی تیاریاں مکمل کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب تیار شدہ سامان کی مارکیٹ میں خریداری، نقل و حمل اور اس کے محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کی اجازت یکم فروری سے دینے کی تجویز بھی زیرِ غور رکھی گئی ہے۔ اس مرحلے پر بھی متعلقہ حکام کی جانب سے نقل و حمل پر پوری نظر رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عام شہریوں کو پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے کا عمل شروع کرنے کے لیے دس فروری کی تاریخ تجویز کی گئی ہے تاکہ تہوار کے آغاز سے قبل مارکیٹ میں ایک بہترین نظم و ضبط قائم رہ سکے۔ اس تاریخ کے مقرر ہونے کے بعد ہی بازاروں میں عام خریداروں کے لیے سامان کی باضابطہ دستیابی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضوابط کے انتہائی سخت نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت صرف اور صرف رجسٹرڈ دکانداروں کے توسط سے کی جائے گی۔ کوئی بھی غیر رجسٹرڈ شخص یا دکاندار یہ حساس اشیاء بیچنے کا کسی بھی صورت میں مجاز نہیں ٹھہرایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بغیر کسی باضابطہ رجسٹریشن کے پتنگ اور ڈور بنانے، خریدنے، اپنے پاس ذخیرہ کرنے یا مارکیٹ میں فروخت کرنے پر مکمل قانونی پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اس طرح کے سخت اقدامات کا مقصد بازار میں صرف معیاری اور قانونی سامان کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام مجوزہ ضوابط، تاریخوں اور ایس او پیز کا حتمی فیصلہ صوبائی حکومت کی باضابطہ منظوری کے ساتھ مشروط ہے اور حکومت ہی تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اس بابت آخری حکم صادر کرے گی۔ شہریوں اور متعلقہ تاجر برادری کی جانب سے بھی اس اہم حکومتی فیصلے کا شدت کے ساتھ انتظار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کے تحفظ کے تقاضوں کو بھی ہر صورت پورا کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1089/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب میں 10 روزہ بسنت منانے کا حکومتی اعلان لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/901/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/901/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 21:57:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سماعت]]></category>
		<category><![CDATA[شہرام_سرور_چوہدری]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_تحفظ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-10-%d8%b1%d9%88%d8%b2%db%81-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[شہری نے بسنت کے انعقاد کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے اس کا دورانیہ کم کرنے کی استدعا کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے میں دس روزہ بسنت منانے کے حالیہ اعلان کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ صوبائی دارالحکومت میں پتنگ بازی کے تہوار کے انعقاد پر عوامی حلقوں اور حکومتی منصوبہ بندی کے درمیان ایک نئی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے شہری شاہد اسلام کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری جمعرات کے روز اس اہم معاملے پر سماعت کریں گے اور فریقین کے دلائل سنیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار نے اپنی پٹیشن میں پنجاب حکومت، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، ڈپٹی کمشنر لاہور، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بسنت کے لیے دس روزہ دورانیے کا اعلان کالعدم قرار دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کا موقف ہے کہ حکومت کی جانب سے 29 جنوری سے 7 فروری 2027 تک بسنت منانے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے، وہ عوامی تحفظ کے پیش نظر مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس تہوار کا دورانیہ کم کر کے صرف ایک دن تک محدود کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست میں گزشتہ برسوں کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پتنگ بازی کے دوران پیش آنے والے حادثات میں متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ دھاتی ڈور کے استعمال سے گلے کٹنے اور بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگنے جیسے واقعات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، درخواست گزار نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دس روزہ طویل دورانیے کے باعث چھتوں سے گرنے کے واقعات اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ یہ سرگرمی شہریوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں اس معاملے پر ہونے والی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کا دفاع ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی لاء افسر کی جانب سے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر قانونی اعتراضات اٹھائے جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت اب یہ جائزہ لے گی کہ آیا بسنت کے انعقاد کے حکومتی فیصلے میں عوامی تحفظ کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے یا نہیں۔ اس کیس کا فیصلہ لاہور میں بسنت کے روایتی تہوار کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ پنجاب میں بسنت کے تہوار پر پابندی اور اس کی بحالی کا معاملہ ماضی میں بھی طویل عرصے تک زیر بحث رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بار تہوار کو منظم انداز میں منانے کے لیے دس دن کا وقت مختص کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس تہوار کی ثقافتی اہمیت کی قائل ہے، تاہم حفاظتی انتظامات اور انسانی جانوں کے تحفظ کو ہمیشہ ہی اولین ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ عدالت کا فیصلہ اس حوالے سے حتمی لائحہ عمل طے کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کو عدالت کس نظر سے دیکھتی ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اس بار سخت نگرانی کے ذریعے حادثات کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ میں دائر اس درخواست نے بسنت کے شوقین افراد اور انتظامیہ دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ اب تمام تر نظریں جسٹس شہرام سرور چوہدری کی عدالت میں ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں اس تنازع کا قانونی حل تلاش کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوامی مفاد اور ثقافتی سرگرمیوں کے درمیان توازن قائم کرنا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ عدالت کا فیصلہ نہ صرف بسنت کے دورانیے کا تعین کرے گا بلکہ مستقبل میں ایسے تہواروں کے انعقاد کے لیے ضابطہ اخلاق بھی طے کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/901/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
