<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بزنس_نیوز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%d8%b2%d9%86%d8%b3_%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b2/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 04:26:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بزنس_نیوز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بنانس کو تاریخ کے سب سے بڑے ہیک کا سامنا، 6.3 ارب ڈالر چوری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/3228/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/3228/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 13:48:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_فراڈ]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[بٹكوائن]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بنانس]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%91%db%92-%db%81%db%8c%da%a9-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%a7%d9%85%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بنانس کو اربوں ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثوں کے حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بنانس کو تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے دوران قریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے چوری کر لیے گئے ہیں۔ ڈیجیٹل کرنسی کی دنیا میں اس بڑے واقعے نے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطلاعات کے مطابق اس ہیک کی مالیت کو تاریخ کا سب سے بڑا ڈیجیٹل سرارقرار دیا جا رہا ہے جس نے ایکسچینج کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کرپٹو کرنسی کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور مبصرین اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بنانس انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ابتدائی بیانات میں تصدیق کی گئی ہے کہ اس بڑے حملے کے نتیجے میں کروڑوں اور اربوں روپے کے اثاثے غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس سنگین واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ چوری شدہ فنڈز میں سے نصف اثاثوں کو فوری کارروائی کرتے ہوئے منجمد کر دیا گیا ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ اس بروقت اقدام سے کافی حد تک صورتحال کو سنبھالنے میں مدد ملی ہے اور مزید رقوم کی منتقلی کو روکا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے باوجود ایک بڑی مقدار میں اثاثے اب بھی مبینہ طور پر ہیکرز کے قبضے میں موجود ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ کرپٹو کرنسی ایکسچینج کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان باقی ماندہ فنڈز کی بازیابی کے لیے بھی باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل سکیورٹی کا تجزیہ کرنے والی دو اہم تجزیاتی فرموں نے اس بڑے سائبر حملے کے پیچھے ایک شمالی کوریا کے ہیکنگ یونٹ کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ ان اداروں کا ماننا ہے کہ اس حملے کے پیچھے کسی منظم اور ریاستی سطح کی معاونت رکھنے والے گروہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم دوسری طرف سے تاحال کسی بھی گروپ یا تنظیم نے اس بڑے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور صورتحال پر اب بھی ابہام کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ بنانس کے ذمہ داران نے شمالی کوریا کے ساتھ اس واقعے کے ممکنہ روابط کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا کوئی براہ راست جواب نہیں دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کے صارفین اپنی رقوم کی حفاظت کے حوالے سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ بہت سے سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ان کے ذاتی اکاؤنٹس اور رقوم محفوظ ہیں یا انہیں بھی کسی قسم کے خطرے کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بنانس نے اپنے صارفین کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے بیشتر اثاثے محفوظ ہیں اور وہ اس سانحے کے اثرات سے نکلنے کے لیے تمام ممکنہ تکنیکی ذرائع بروئے کار لا رہے ہیں۔ ایکسچینج کے مطابق سکیورٹی کے نظام کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سطح پر سائبر سکیورٹی کے ماہرین اس حملے کے طریقہ کار کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ایکسچینج کے اندرونی نظام میں کوئی کمزوری تھی یا حملہ آوروں نے کسی بیرونی راستے سے یہ گھناؤنا جرم کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارہ جاتی سطح پر اس واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جن میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔ حکام اور متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مستقبل میں اس نوعیت کے بڑے سانحات سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام صورتحال کے دوران عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کے ضابطہ کاروں اور ریگولیٹرز کی جانب سے بھی بیانات سامنے آنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے بنانس کو طویل مدتی اور انتہائی سخت سکیورٹی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/3228/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور، مستفید افراد کی تعداد دو کروڑ تک بڑھانے کا امکان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/3221/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/3221/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 13:14:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹوموبائل]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_ریلیف]]></category>
		<category><![CDATA[فیول_ریلیف_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/fuel-relief-scheme-expansion-under-consideration-for-citizens/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی حکومت کی جانب سے فیول ریلیف اسکیم کو وسعت دینے کی تجویز زیر غور ہے جس سے لاکھوں مزید شہریوں کو مالی ریلیف مل سکے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ توسیع کا بنیادی مقصد ملک بھر میں سفری اخراجات کے بوجھ تلے دبے عام شہریوں کی مالی مشکلات کو کم کرنا اور زیادہ سے زیادہ افراد کو اس سہولت کے دائرے میں لانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ حکومتی منصوبے کے تحت فیول ریلیف اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے شہریوں کی تعداد جو فی الحال ایک کروڑ ستائیس لاکھ کے لگ بھگ ہے، اسے بڑھا کر دو کروڑ تک کرنے کی تجاویز پر غور جاری ہے۔ اس ممکنہ اضافے سے لاکھوں ایسے نئے افراد اس ریلیف سے مستفید ہو سکیں گے جو اس وقت مہنگائی کے دور میں سفری لاگت میں اضافے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق پیٹرول ریلیف پروگرام میں وسعت لانے کی تجویز اس وقت حکومتی سطح پر زیر غور ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ اس اہم معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس پر عمل درآمد کی باضابطہ تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ پالیسی اور قواعد کے مطابق اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل چلانے والے افراد، تھری وہیلر یعنی رکشہ اور چنگچی چلانے والے صارفین کے علاوہ آٹھ سو سی سی سے کم انجن کی حامل چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو فی لیٹر ایک سو روپے تک کا پیٹرول ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔ حکومتیحکام ان تمام زمروں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دور میں مہنگائی کی لہر اور ایندھن کی بلند قیمتوں نے نقل و حرکت کے اخراجات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہریوں اور متوسط طبقے کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے۔ حکومت اسی مالی دباؤ کو کم کرنے کی غرض سے اس فلاحی اسکیم کے دائرے کو پھیلانے کے مختلف انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا احاطہ کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر حکومت کی جانب سے مجوزہ توسیع کی منظوری دے دی جاتی ہے تو ملک بھر سے مزید لاکھوں نئے مستحق افراد اس اسکیم کا حصہ بن جائیں گے۔ اس اقدام سے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو اپنے روزمرہ کے سفری اخراجات میں خاطر خواہ کمی دیکھنے کو ملے گی جو کہ عوامی فلاح کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم حکومتی ذرائع اور متعلقہ حلقوں کے مطابق تاحال ریلیف کی رقم میں اضافے، اہلیت کے نئے معیار یا رجسٹریشن کے طریقہ کار میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے متعلق کوئی بھی حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ یہ تمام امور ابھی تجارتی اور انتظامی مشاورت کے مراحل میں ہیں اور حتمی منظوری کے بعد ہی عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جب تک وفاقی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اور حتمی اعلان نہیں کیا جاتا، اس وقت تک فیول ریلیف اسکیم کے تمام پرانے قواعد و ضوابط اور طریقہ کار مکمل طور پر برقرار رہیں گے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف مستند سرکاری اعلانات پر توجہ دیں اور افواہوں سے گریز کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی معاشی ٹیم ملک کے مالیاتی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح بغیر کسی اضافی بوجھ کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ اس قسم کے اقدامات کا بنیادی مقصد معاشی اصلاحات کے دوران نچلے اور متوسط طبقے کے مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ لاگت کے تناظر میں اس اسکیم کی توسیع کو عوامی حلقوں کی طرف سے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عوام کی جانب سے مسلسل یہ مطالبات سامنے آتے رہے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناسب سے ریلیف پیکیج کا دائرہ بھی وسیع کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر دائرہ کار دو کروڑ تک بڑھایا جاتا ہے تو اس کے لیے شفاف ڈیٹا اور موثر تقسیم کے نظام کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ امداد واقعی حق دار افراد تک پہنچ سکے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کے پچھلے مراحل میں بھی نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ڈیٹا کی مدد سے مستحقین کی جانچ پڑتال کی گئی تھی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ صرف حقیقی اور مستحق شہری ہی اس مالی امداد سے فائدہ اٹھا سکیں۔ توسیع کی صورت میں بھی ایسے ہی طریقہ کار کو اپنانے کا امکان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے کا یہ اقدام حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت غریب اور متوسط طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ہدف بند امداد فراہم کی جارہی ہے۔ جیسے ہی حتمی منظوری دی جائے گی، اس کے نفاذ کا لائحہ عمل بھی جاری کر دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/3221/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پانچ روز کی مسلسل کمی کے بعد سونے کی قیمت میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2442/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2442/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 09:18:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[آل_صرافہ_ایسوسی_یشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[چاندی_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[سونے_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d8%b1%d9%88%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%b3%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی منڈی میں فی اونس سونا چودہ ڈالر اضافے کے بعد چار ہزار نو ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں مسلسل پانچ روز تک قیمتوں میں کمی ریکارڈ کیے جانے کے بعد آج سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آل صرافہ ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی سطح پر سونے کے خریداروں کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ قیمتوں میں ایک بار پھر اوپر کی جانب رجحان دیکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری ہفتے کے دوران صرافہ بازار میں چوبیس قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں چودہ سو روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد فی تولہ سونا بڑھ کر چار لاکھ تیئیس ہزار چار سو چھتیس روپے کا ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ دس گرام سونے کے نرخوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جہاں دس گرام سونا بارہ سو ایک روپے مہنگا ہونے کے بعد تین لاکھ تریسٹھ ہزار اٹھائیس روپے کی سطح پر جا پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی مارکیٹ میں سونے کے علاوہ قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور فی تولہ چاندی بیس روپے مہنگی ہو کر پانچ ہزار آٹھ سو اٹھتر روپے کی سطح پر فروخت ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بین الاقوامی گولڈ مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخوں میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں بہتری آئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی مارکیٹ کے حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عالمی صرافہ میں فی اونس سونے کی چار ہزار ڈالر کی نفسیاتی اور اہم ترین حد ایک بار پھر بحال ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ معیشت اور صرافہ مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر مقامی مارکیٹوں پر پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ کئی روز سے مسلسل جاری کمی کے بعد نرخوں کا اس طرح پلٹنا صرافہ مارکیٹ میں ہلچل مچا گیا ہے جبکہ سرمایہ کار اور خریدار صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے شادی بیاہ کے سیزن کے دوران جیولری خریدنے والوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ عام شہری بھی پریشانی کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آل صرافہ ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی عوامل اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ سونے کے کاروبار پر اثر انداز ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر نرخ تبدیل ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2442/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعظم شہباز شریف سے لاہور چیمبر آف کامرس کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2231/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2231/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 23:57:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[صنعت_و_تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%d8%b4%db%81%d8%a8%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%b3%db%92-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%86%db%8c%d9%85%d8%a8%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[ملاقات میں ملکی معاشی صورتحال، صنعت و تجارت کے فروغ اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم محمد شہباز شریف سے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے فاؤنڈرز گروپ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ اس اہم نشست میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور صنعتوں کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ملکی معیشت کی ترقی اور استحکام میں نجی شعبے اور کاروباری برادری کے کلیدی کردار کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت تاجروں کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفد کے اراکین نے وزیراعظم کو کاروباری برادری کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا اور معاشی بہتری کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ وفد نے حکومت کی موجودہ معاشی پالیسیوں اور سرمایہ کار دوست اقدامات کی کھل کر تعریف کی اور انہیں خوش آئند قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گفتگو کے دوران باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا سکے اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جا سکے۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ حکومت صنعتکاروں کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کی ماضی میں لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر کی حیثیت سے انجام دی گئی خدمات کو بھی یاد کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اپنے دورِ صدارت کے دوران چیمبر کے ساتھ وابستہ یادوں کا تذکرہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک بھی موجود تھے۔ حکومتی ٹیم نے تاجروں کے تحفظات کو غور سے سنا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور چیمبر کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد میں میاں مصباح الرحمٰن، فاروق افتخار، شیخ محمد آصف، شہزاد ملک، الماس حیدر، شاہد حسن شیخ، عبدالباسط، میاں طارق مصباح، کاشف انور شیخ اور میاں خالد مصباح شامل تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس طرح کی ملاقاتوں کا مقصد نجی شعبے کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانا ہے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ اور معاشی خود انحصاری کی جانب پیش قدمی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے گا تاکہ تاجر برادری کو درپیش رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی جانب سے ملنے والی یقین دہانیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور ملک کی معاشی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نکالنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت ملکی برآمدات بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2231/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیرونِ ملک سے آنے والے موبائل فونز کا ٹیکس اب اقساط میں ادا ہو سکے گا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2144/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2144/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 13:37:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کسٹمز]]></category>
		<category><![CDATA[تازه_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_آر_بی_ایس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d9%85%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%81%d9%88%d9%86%d8%b2-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے شہریوں کی آسانی کے لیے درآمدی موبائل فونز کی رجسٹریشن کا نیا طریقہ کار نافذ کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بیرونِ ملک سے منگوائے گئے یا لائے جانے والے موبائل فونز کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اہم اور آسان قدم اٹھاتے ہوئے سیلز ٹیکس کی ماہانہ اقساط میں ادائیگی کی سہولت متعارف کرا دی ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور مسافروں کو مالیاتی دباؤ سے بچانا اور انہیں قانون کے مطابق اپنے موبائل فونز کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے بہترین موقع فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے جاری کردہ کسٹمز جنرل آرڈر کے تحت درآمدی موبائل فونز کی ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے نظام کو مزید لچکدار بنایا گیا ہے تاکہ عام شہری اور مسافر یکمشت بھاری ٹیکس ادا کرنے کے بجائے سہولت کے ساتھ اقساط میں ادایگیاں مکمل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے ضابطے کے نفاذ کے بعد اب اہل افراد کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے ذریعے درخواست جمع کرواتے وقت سیلز ٹیکس کی رقم کو ماہانہ اقساط میں تقسیم کرنے کا انتخاب باقاعدہ طور پر کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طریقہ کار کے تحت مجموعی سیلز ٹیکس کو متعلقہ مالی سال کے اختتام تک باقی بچنے والے مہینوں کی تعداد کے حساب سے بالکل برابر ماہانہ اقساط میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ شہری آسانی سے ادائیگی کے عمل کو جاری رکھ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق جس ماہ کے دوران درخواست جمع کرائی جائے گی، اس مہینے کو بھی کل اقساط کی گنتی میں شمار کیا جائے گا، تاہم اس اصول میں ایک خاص استثنا بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ سال کے آخری ماہ سے متعلق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کوئی صارف ماہِ جون کے دوران موبائل فون درآمد کرتا ہے اور اس کی رجسٹریشن کی درخواست دیتا ہے تو اسے اس خاص مہینے کے لیے پورا سیلز ٹیکس اسی مہینے کے اختتام تک لازمی طور پر جمع کرانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکس دہندگان کے لیے پہلی قسط کی ادائیگی کا طریقہ کار بھی واضح کر دیا گیا ہے جس کے تحت پہلی قسط درخواست جمع کراتے وقت حاصل ہونے والی پیمنٹ سلپ آئی ڈی کے ذریعے ادا کرنا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ آنے والی ماہانہ اقساط کے لیے ہر مہینے مقررہ تاریخ پر ایک نئی الگ پی ایس آئی ڈی جاری کی جائے گی جس کے ذریعے شہری اپنی قسط بینک یا آن لائن ذرائع سے جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی مخصوص مہینے میں مقررہ تاریخ کیلنڈر کے لحاظ سے موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں متعلقہ پی ایس آئی ڈی اس مہینے کے بالکل آخری دن باقاعدہ طور پر جاری کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ تمام تر اقساط کی ادایگیوں کا عمل ہر صورت میں تیس جون تک مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی یا تکنیکی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے ساتھ ہی صارفین کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو مقررہ تاریخوں کا انتظار کیے بغیر اپنے بقایا ٹیکس کی کچھ رقم یا پھر تمام واجب الادا رقم وقت سے پہلے بھی یکمشت ادا کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے نے تمام متعلقہ صارفین کو سخت خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسط کی مقررہ تاریخ تک ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ صارف کو باقاعدہ طور پر نادہندہ قرار دے دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قسط بروقت ادا نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف موبائل فون کو غیر رجسٹرڈ قرار دے دیا جائے گا بلکہ اسے ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے ذریعے بلاک بھی کر دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادہندہ قرار پانے والے صارفین کے لیے یہ تنبیہ بھی جاری کی گئی ہے کہ اس کے بعد انہیں باقی ماندہ ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دوبارہ حاصل نہیں رہے گی اور تمام ٹیکس فوری دینا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے حکم نامے کے نفاذ سے بیرونِ ملک سے نئے یا استعمال شدہ موبائل فونز پاکستان لانے والے افراد کو بڑی مالی آسانی ملے گی اور وہ اپنے فونز کو بلاک ہونے سے محفوظ رکھ سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2144/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عالمی تنازعات سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے: وزیر خزانہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2104/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2104/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 09:16:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ترسیلات_زر]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کی_ضروریات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c%db%81-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی بہتری کا سفر جاری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی اور ملک میں جاری ترقیاتی عمل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ موجودہ عالمی معیشت شدید قسم کی بے یقینی کی لپیٹ میں ہے اور اس کے مختلف اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جاری مختلف تنازعات کے براہ راست یا بالواسطہ اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت ملک کے اندر معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لا رہی ہے اور تمام چیلنجز کے باوجود معاشی بہتری کا سفر لگاتار جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاروں کو ہر قسم کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے نجی شعبے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ وزیر خزانہ کے مطابق عالمی سطح پر سرمایہ کار پاکستان کی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ دیگر منڈیوں پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جو کہ ایک فطری عمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ بانڈز میں یورپی ممالک اور امریکا کے سرمایہ کاروں کی طرف سے بھی کافی دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ٹیکس کے نظام میں بہتری لانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اصلاحات کا عمل جاری ہے اور ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے یہ کوشش کی کہ پاکستان کے عوام کو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پیٹرول کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے اور ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔ حکام کی جانب سے عوام کو ہدف پر مبنی سبسڈی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا کیونکہ بڑی گاڑیاں رکھنے والے افراد کو اس سبسڈی کی ہرگز ضرورت نہیں تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسم سرما کے دوران ملک کی توانائی کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لیے ابھی سے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔ حکومت کو گیس اور مائع قدرتی یعنی ایل این جی کی تمام تر ضروریات کو وقت پر پورا کرنا ہوگا تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو پریشانی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں توانائی کی کسی بھی قسم کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی اور خام تیل سمیت توانائی کے دیگر تمام ذرائع کی فراہمی کی موجودہ صورتحال انتہائی تسلی بخش ہے۔ ماضی میں درآمدات پر زیادہ انحصار کرنے کی وجہ سے ملک کو شدید ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلسل چار سے پانچ سال کی طویل محنت اور کوششوں کے بعد ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کو دوبارہ بہتر بنا کر بی کی سطح پر لایا گیا ہے جو ایک اہم معاشی کامیابی ہے۔ وزیر خزانہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ رواں مالی سال کے دوران ملک کی کل ترسیلات زر کی مالیت بیالیس سے چوالیس ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جنگی صورتحال کی وجہ سے ترسیلات زر میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن اس کے برعکس ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی استحکام کی بحالی کے لیے مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح پالیسی کو ایک مناسب سطح پر برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے حالیہ انٹرویو کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے تمام ضروری اصلاحات پر سختی سے عمل پیرا رہے گی۔ ملک کے تجارتی اور مالیاتی اشاریے بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں اور تاجر برادری کو بھی حکومتی پالیسیوں سے کافی حد تک اطمینان حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کا اعتماد بھی اب پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر بحال ہو رہا ہے جس سے آنے والے دنوں میں مزید مثبت معاشی نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔ وزارت خزانہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر دن رات کام کر رہی ہے تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے برآمدات میں اضافے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید استحکام آ سکے۔ وزیر خزانہ نے یقین دلایا کہ ملکی معیشت کو درست سمت میں لے جانے کے لیے اصلاحاتی عمل بلا تعطل جاری رہے گا اور عوامی فلاح و بہبود کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2104/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ٹائروں اور موٹر سائیکل پارٹس کیلئے نئے کسٹمز ٹیرف کوڈز نافذ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2099/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2099/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:37:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امپورٹ_کوڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_ٹی_کوڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تازه_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%db%81%db%8c%d9%88%db%8c-%da%a9%d9%85%d8%b1%d8%b4%d9%84-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%88%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%b9%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[حکومت نے وزارتِ خزانہ کی منظوری کے بعد ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ٹائروں اور موٹر سائیکلوں کے پرزہ جات کیلئے نئی درجہ بندیاں متعارف کرا دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے ملک میں تجارتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے اور درآمدی امور میں شفافیت لانے کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ٹائروں کے لیے کسٹمز ٹیرف میں نئی درجہ بندیاں متعارف کرا دی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکلوں کے مختلف پرزہ جات کے لیے بھی نیا کسٹمز ٹیرف کوڈ نافذ کر دیا گیا ہے جس سے متعلقہ صنعت اور کاروباری طبقے کو بڑی سہولت ملے گی۔ وزارتِ خزانہ و محصولات نے اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے بعد یہ نئے ضوابط فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف رونیو یعنی ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تجارتی اور صنعتی شعبے کی طویل عرصے سے یہ ضرورت تھی کہ درآمدی سامان کے لیے کسٹمز کوڈز کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ریڈیل ٹائروں کے لیے خصوصی طور پر نیا پی سی ٹی کوڈ چالیس گیارہ اعشاریہ بیس اکیانوے متعارف کرا دیا ہے۔ اس نئے کوڈ کے نفاذ سے ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ٹائروں کی درآمد اور ان کی درجہ بندی کا عمل انتہائی منظم ہو جائے گا جس سے کسٹمز کلیئرنس کے دوران تاخیر کا خاتمہ ہوگا۔ اس کے علاوہ موٹر سائیکلوں کے پرزہ جات کے لیے بھی جامع ٹیرف کوڈز تشکیل دیے گئے ہیں جن میں مختلف اہم اشیاء کو شامل کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹ، سائیڈ ریفلیکٹر، سائیڈ پلیٹ اور فٹ پلیٹ سمیت متعدد پرزہ جات کو اب نئی ٹیرف درجہ بندی میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اس نئی درجہ بندی میں موٹر سائیکلوں کے کئی دیگر ضروری اسپیئر پارٹس اور آلات کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ ان میں موٹر سائیکلوں کی ونڈ اسکرین، سیٹ باکس، وہیل اسمبلی، سینٹر کور اور دیگر متعلقہ پرزہ جات شامل ہیں جو اب نئی درجہ بندی کا لازمی حصہ ہوں گے۔ ان تمام پرزہ جات کے لیے الگ سے کسٹمز کوڈز ہونے کی وجہ سے تجارتی درآمدات کی مانیٹرنگ اور ٹیکس وصولی کا نظام مزید بہتر اور شفاف ہو جائے گا۔ متعلقہ صنعت سے وابستہ افراد نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ اس سے پرزہ جات کی درآمدی لاگت اور طریقہ کار واضح ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے کسٹمز ٹیرف سے متعلق سنہ دو ہزار چھ کے اہم نوٹیفکیشن میں باضابطہ ترمیم کر دی ہے۔ اسی ترمیم کے ذریعے ان تمام نئی ٹیرف درجہ بندیوں اور کوڈز کو کسٹمز کے مرکزی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف کاروباری آسانیوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ درآمدی ڈیوٹی کی وصولی کا نظام بھی جدید خطوط پر استوار ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس قسم کے انتظامی فیصلے ملکی معیشت اور صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے مسلسل کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے اٹھائے گئے ان حالیہ اقدامات کا بنیادی مقصد ملک میں درآمدی اور برآمدی امور کو بہتر بنانا ہے۔ کمرشل گاڑیوں کے ٹائروں کی درآمد کے حوالے سے طویل عرصے سے تاجروں کو مختلف نوعیت کے تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان نئے پی سی ٹی کوڈز کے آنے سے تمام تر ابہام کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا ہے اور اب درآمد کنندگان کو کلیئرنس کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موٹر سائیکل ساز اور پرزہ جات بنانے والی صنعت ملکی معیشت میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور اس شعبے کے لیے نئے ٹیرف کوڈز کا نفاذ خوش آئند ہے۔ نمبر پلیٹس اور دیگر حفاظتی آلات کے لیے مخصوص کوڈز ہونے سے مقامی سطح پر اسپیئر پارٹس کی فراہمی کا نظام بھی بہتر ہوگا۔ حکومتی سطح پر اس نوعیت کے اقدامات سے صنعتکاروں کو اپنے کاروباری فیصلے کرنے میں آسانی ہوگی اور وہ بہتر انداز میں اپنے امور چلا سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ کسٹمز کے حکام نے بتایا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کے بعد تمام متعلقہ فیلڈ فارمیشنز کو نئی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ بندرگاہوں اور ڈرائی پورٹس پر تعینات عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ریڈیل ٹائروں اور موٹر سائیکل کے پرزہ جات کی جانچ پڑتال نئے کوڈز کے مطابق کریں۔ اس سے سرکاری واجبات کی وصولی میں بھی شفافیت آئے گی اور کسی بھی قسم کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجارت سے وابستہ کاروباری حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ریگولیٹری فریم ورک میں بہتری آئے گی۔ درآمدی تجارت میں طویل المدتی استحکام کے لیے ایسے اصلاحاتی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں جو زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے نہ صرف کسٹمز کے امور میں تیزی آئے گی بلکہ تجارتی خسارے کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف سیکٹرز میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔ کسٹمز ٹیرف میں کی جانے والی یہ ترامیم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں جن پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ قانون سازی اور ضوابط کی بہتری سے ملک میں براہ راست سرمایہ کاری کے رجحان میں بھی اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے نوٹیفکیشن میں ٹائروں اور اسپیئر پارٹس کی تفصیلی درجہ بندی نے کلیئرنس کے روایتی طریقوں کو جدید بنا دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں آنے والی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیوی کمرشل گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے پارٹس کو الگ الگ کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس تقسیم سے محنت اور وقت دونوں کی بچت ہوگی جو کاروباری برادرم کے لیے انتہائی سودمند ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے واضح کیا ہے کہ معاشی ترقی اور صنعتی سہولت کاری کے لیے اس طرح کی اصلاحات مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔ کاروباری برادری اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پالیسیاں زمینی حقائق کے مطابق ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ محکموں کو اس نوٹیفکیشن کے نفاذ کے بعد اپنی رپورٹس مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے تاکہ اس کے مثبت اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ موٹر سائیکل پارٹس اور ہیوی ٹائروں کے کاروبار سے وابستہ افراد اس فیصلے پر مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2099/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پیٹرول پمپ مالکان کا ڈیلی پرائس میکانزم پر تحفظات کا اظہار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2028/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2028/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 17:58:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئل_کمپنیاں]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پٹرول_پمپ]]></category>
		<category><![CDATA[پٹرولیم_مصنوعات]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84-%d9%be%d9%85%d9%be-%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%da%88%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر پٹرولیم سے ملاقات کے لیے خط لکھ دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی کے نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم سے فوری ملاقات کا وقت مانگ لیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین نعمان علی بٹ کی جانب سے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا گیا ہے جس میں کاروباری مشکلات کا تفصیلی احوال پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اور روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل سے ملک بھر کے پٹرول پمپ مالکان کو شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پمپ مالکان کے مطابق اس طرزِ عمل سے پٹرولیم مصنوعات کے موجودہ سٹاک کی مالیت کے درست تعین میں بھی سخت مشکلات پیش آ رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کی وجہ سے پمپوں کا کیش فلو اور انوینٹری کا نظام شدید متاثر ہو چکا ہے، جس سے مارکیٹ میں کاروباری امور چلانا محال ہو گیا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے پٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت کے پورے عمل کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور روزمرہ کے معاملات تعطل کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خط کے متن کے مطابق اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پمپ مالکان کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کس طرح اپنے کاروبار کو منافع بخش رکھ سکتے ہیں جبکہ قیمتوں کے تعین کا موجودہ طریقہ کار ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ بار بار کی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات نے چھوٹے اور بڑے تمام درجے کے پمپ مالکان کو پریشان کر رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے کوئی ایسا پائیدار، قابل عمل اور شفاف نظام وضع کیا جانا چاہیے جو مارکیٹ کے زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہو۔ اس نظام کی تیاری کے دوران پٹرول پمپ مالکان کو بھی اعتماد میں لیا جانا لازمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکتوب میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس اہم معاملے پر فیصلے کرنے سے قبل پٹرول پمپ مالکان سے لازمی مشاورت کی جائے تاکہ صنعت سے جڑے تمام فریقین کے مفادات کا تحفظ ہو سکے اور ساتھ ہی عوام کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنای جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر سے درخواست کی ہے کہ انہیں جلد از جلد ملاقات کا وقت دیا جائے تاکہ وہ اپنے تمام مسائل براہ راست وزیرِ موصوف کے سامنے رکھ سکیں اور اس بحران کے حل کے لیے اپنی عملی تجاویز بھی پیش کر سکیں۔ پمپ مالکان کا ماننا ہے کہ باہمی مشاورت کے بغیر اس مسئلے کا کوئی حل ممکن نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں پٹرولیم سیکٹر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس شعبے سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے، لہذا اس میں پائی جانے والی بے یقینی کو دور کرنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ پمپ مالکان ماضی میں بھی اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ قیمتوں کا موجودہ طریقہ کار ان کے حق میں بہتر نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزارت پٹرولیم کی جانب سے ت حال اس خط پر کوئی باضابطہ جوابی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ وزارت جلد ہی اس معاملے کا نوٹس لے گی اور ایسوسی ایشن کے وفد کو مذاکرات کے لیے مدعو کرے گی تاکہ کاروباری برادری کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں تیل کی ترسیل اور فروخت کا نظام بلاتعطل جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور پمپ مالکان کے درمیان قریبی رابطہ قائم رہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے اور صارفین کو کسی قسم کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی وزیر پٹرولیم ان کے اس خط کو مثبت انداز میں لیں گے اور پمپ مالکان کو درپیش معاشی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ملاقات کا موقع فراہم کریں گے تاکہ باہمی اتفاق رائے سے معاملات کو آگے بڑھایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر موجودہ طریقہ کار میں بہتری نہ لائی گئی تو پٹرول پمپ مالکان کو اپنے کاروبار جاری رکھنے میں مزید سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم ڈیلرز کے اس دیرینہ مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور ایک ایسا متوازن لائحہ عمل تیار کریں جو نہ صرف پمپ مالکان کے مالی نقصانات کا ازالہ کرے بلکہ صارفین کے لیے بھی آسانی پیدا کرے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2028/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں ایل پی جی سپلائی معطل ہونے کا خدشہ، ڈسٹری بیوٹرز کی ہڑتال کی دھمکی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1702/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1702/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 09:57:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تاجر_احتخاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈسٹری_بیوٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d8%b3%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے انتظامی کارروائیوں کے خلاف حکومت کو ہفتے تک کی مہلت دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے مختلف علاقوں میں گھریلو اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی گیس کی سپلائی کا نظام شدید خطرات کی زد میں آ گیا ہے جہاں ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کے خلاف ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز نے ہڑتال کرنے کی سخت دھمکی دے دی ہے۔ اس حوالے سے شہر کے اہم مقام راوی روڈ پر ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں تاجروں اور دکانداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد حالیہ کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھانا اور آئندہ کے لیے مشترکہ حکمت عملی طے کرنا تھا تاکہ کاروباری طبقے کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کی کارروائی کے دوران ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے تاجر رہنماؤں نے انتظامیہ کے رویے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دکانداروں کا کاروبار کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ اجلاس میں ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں محمد اجمل کے علاوہ دیگر نمایاں رہنماؤں عبداللہ خان، تحصیل خان اور زرداد خان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر حکومتی رویے میں تبدیلی نہ آئی تو کاروبار مزید جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاجر رہنماؤں نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ پیرا فورس، سول ڈیفنس اور بلدیہ کے اہلکار بلاجواز طور پر ایل پی جی کی دکانوں کا رخ کر رہے ہیں اور تاجروں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کے عملے کی جانب سے نہ صرف دکانوں کو بلاجواز سیل کیا جا رہا ہے بلکہ دکانوں میں موجود گیس کے سلنڈرز اور دیگر ضروری سامان بھی زبردستی ضبط کیا جا رہا ہے۔ تاجروں کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ دکانداروں کو بلاوجہ کے قوانین کی آڑ میں ہراساں کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں اپنے کاروبار سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعض سرکاری اہلکار مبینہ طور پر دکانداروں سے رشوت اور بھتہ طلب کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو دکاندار مبینہ طور پر ان کے مطالبات پورے کرنے سے انکار کرتے ہیں یا بھتہ دینے سے گریز کرتے ہیں، انہیں جان بوجھ کر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے غریب اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے دکانداروں کا جینا محال ہو چکا ہے اور وہ ذہنی کوفت کا شکار ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ ڈیلرز اور تاجروں کی جانب سے اجلاس کے دوران ایک بہت بڑا دعویٰ سامنے آیا جس میں بتایا گیا کہ اب تک کی جانے والی مختلف کارروائیوں کے دوران مبینہ طور پر چودہ کروڑ روپے مالیت کا سامان ضائع اور تباہ کیا جا چکا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس بھاری مالی نقصان کی وجہ سے کئی چھوٹے دکاندار مکمل طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں اور ان کے پاس اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے بھی ذرائع باقی نہیں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں روپے کا سامان تباہ کرنے سے ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے اجلاس میں حکومت کو ایک واضح انتباہ جاری کیا گیا اور ہفتے تک کی حتمی ڈیڈ لائن دی گئی۔ اعلامیے کے مطابق تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پیرا فورس، سول ڈیفنس اور بلدیہ کی طرف سے دکانوں کے خلاف کی جانے والی تمام چھاپہ مار کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر دی گئی مدت کے اندر یہ کارروائیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو تاجر برادری اپنے کاروبار کو معطل کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلان کے مطابق ڈیڈ لائن ختم ہونے پر شہر بھر میں ایل پی جی کی دکانیں مکمل طور پر بند کر دی جائیں گی اور اس کے ساتھ ہی سخت احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہڑتال اور کاروبار کی بندش سے پیدا ہونے والی تمام تر صورتحال کی ذمہ داری متعلقہ انتظامی اداروں اور حکومت پر عائد ہوگی کیونکہ وہ تاجروں کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے زبردستی کے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی دائرہ کار کو ضرورت پڑنے پر مزید وسعت بھی دی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے متفقہ طور پر ایک لائحہ عمل تیار کیا جس کے تحت حکومتِ پنجاب سے پُر زور اپیل کی گئی کہ وہ اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لے۔ تاجروں نے بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال میں ذاتی دلچسپی لیں اور ضلعی انتظامیہ کے ان اقدامات کو رکوانے کے لیے احکامات صادر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطے وہ تاجر برادری کے مشکلات کا ازالہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس حوالے سے مثبت اقدامات کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت سے اپنے مطالبات کی وضاحت کرتے ہوئے ایل پی جی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ گیس کے اس کاروبار کو چلانے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ واضح اور قابلِ عمل ایس او پیز یعنی معیاری طریقہ ہائے کار تشکیل دے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس وقت قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی کی وجہ سے انتظامیہ اپنی مرضی تشریح کرتی ہے اور دکانداروں کو بلاوجہ تنگ کرتی ہے۔ تاجروں کا اصرار تھا کہ اگر ایک بار تحریری اور شفاف اصول طے ہو جائیں تو اس طرح کے تنازعات سے ہمیشہ کے لیے نجات مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ مسائل کے مستقل حل کے لیے ایسوسی ایشن نے ایک اور اہم تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ دکانداروں کو حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مناسب تربیت فراہم کرے اور اس کے بعد باضابطہ لائسنس جاری کیے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ وہ غیر قانونی طور پر کام کرنے والے عناصر کا دفاع ہرگز نہیں کرتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر دکاندار قانونی طریقے سے اپنا کاروبار چلائے۔ تربیت اور لائسنس کے اجراء سے نہ صرف حکومت کی رٹ قائم ہوگی بلکہ تاجر بھی سکون کے ساتھ اپنا روزگار کما سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کے ساتھ تعاون کے جذبے کا اعادہ کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ریاست اور اداروں کے ساتھ مکمل طور پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت شہر میں غیر قانونی دکانوں کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے تو تاجر خود انتظامیہ کی رہنمائی کریں گے تاکہ ایسے عناصر کو سامنے لایا جا سکے جو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس پیشکش کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ تاجر برادری قانون کی پاسداری پر یقین رکھتی ہے لیکن وہ بلاجواز ظلم اور انتقامی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حفاظتی اقدامات اور ایس او پیز کے نفاذ کے حوالے سے بھی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنی ذمے داری کا احساس دلایا اور کہا کہ گیس سلنڈرز کی ہینڈلنگ میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دکاندار اپنے کاروبار کے دوران تمام تر حفاظتی اصولوں کو اپنانے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ انہیں حکومتی سطح پر ایک سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ اگر حکومت انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کر دے تو وہ خود بخود ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1702/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1501/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1501/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 19:38:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_مصنوعات]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d9%86%db%92-%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84%db%8c%d9%85-%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[اوگرا نے عالمی مارکیٹ کے رحجانات کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے سلسلے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا نے اس حوالے سے تازہ ترین نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے جس پر فوری طور پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں صارفین کو ایندھن کی خریداری میں کسی حد تک مالی آسانی میسر آئے گی اور مہنگائی کے مارے عوام کے لیے یہ ایک خوش آئند خبر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ تفصیلات کے مطابق پیٹرول کی فی لٹر قیمت میں پانچ روپے سولہ پیسے کی کمی کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں سات روپے انہتر پیسے فی لٹر کمی کی گئی ہے۔ قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے تناظر میں کیا گیا ہے تاکہ مقامی منڈی کو بین الاقوامی سطح سے ہم آہنگ رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی نئی ایکس ڈپو قیمت تین سو اکیاسی روپے چودہ پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول کی قیمت نسبتاً زیادہ تھی جس میں اب یہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور عام صارفین کو اس کا براہ راست فائدہ پہنچے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت کمی کے بعد تین سو ان ان وے روپے ستائیس پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں ہونے والی یہ کمی ٹرانسپورٹ کے شعبے اور زرعی مشینری کے استعمال پر بھی اپنے اثرات مرتب کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق قیمتوں میں یہ ردوبدل حکومتی پیٹرولیم پرائسنگ میکنزم کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ نظام عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی روزمرہ کی قیمتوں، شپنگ کے اخراجات اور دیگر متعلقہ چارجز سے براہ راست منسلک ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پٹرولیم ڈویژن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں، پروڈکٹ ریٹس، پریمیم اور درآمدی اخراجات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔ عالمی مارکیٹ کے اشاریے جب نیچے آتے ہیں تو اس کا اثر ملکی سطح پر بھی صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی قیمتوں کا اطلاق مقررہ وقت کے مطابق رات بارہ بجے کے بعد سے کر دیا گیا ہے جو اگلے چوبیس گھنٹوں اور آئندہ اعلان تک نافذ العمل رہیں گے۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ملک بھر کے تمام پمپوں پر نئی قیمتوں کے مطابق ہی فروخت کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی معیشت کے اس اہم شعبے میں قیمتوں کا تعین ہر مقررہ مدت کے بعد عالمی منڈی کی معیشت اور روپے کی قدر کے تناسب سے کیا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بار کی جانے والی یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عوام مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایندھن کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے جس کا اثر بالواسطہ طور پر دیگر اشیائے ضروریہ کی نقل و حرکت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عام آدمی کے ماہانہ بجٹ پر بوجھ کچھ حد تک کم ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی پمپ مالکان زائد وصولی نہ کر سکے۔ ضلعی انتظامیہ کو بھی اس سلسلے میں ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں قیمتوں کا تسلسل برقرار رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکموں کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹ کے حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں بھی معیشت کے وسیع تر مفاد میں مناسب فیصلے کیے جا سکیں۔ اس نوعیت کے اقدامات سے تجارتی سرگرمیوں کو بھی استحکام ملتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1501/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
