<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بریکنگ_نیوز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%d8%b1%db%8c%da%a9%d9%86%da%af_%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b2/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 23:57:25 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بریکنگ_نیوز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکی کمپنی کا بغیر کھڑکیوں والا جدید طیارہ بنانے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/more-news/54/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/more-news/54/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:57:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایوی_ایشن]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بلینڈڈ_ونگ_باڈی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_طیارہ]]></category>
		<category><![CDATA[جیٹ_زیرو]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[زیڈ_4]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس_اور_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فضائی_سفر]]></category>
		<category><![CDATA[نئی_ایجادات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/more-news/54/</guid>

					<description><![CDATA[جیٹ زیرو نامی اسٹارٹ اپ کمپنی کا تیار کردہ زیڈ 4 طیارہ اپنی منفرد ساخت اور بلینڈڈ ونگ باڈی ڈیزائن کی بدولت فضائی سفر میں انقلاب لائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکا کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی جیٹ زیرو نے ایک انتہائی جدید اور منفرد مسافر طیارے کی تیاری کا اعلان کیا ہے جو اپنی ساخت میں روایتی جہازوں سے بالکل مختلف ہوگا۔ اس طیارے کا ڈیزائن فضائی صنعت میں ایک نئی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیلیفورنیا میں قائم اس کمپنی نے اپنے اس پروجیکٹ کو زیڈ 4 کا نام دیا ہے۔ اس طیارے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ’بلینڈڈ ونگ باڈی‘ ڈیزائن ہے، جس میں طیارے کے مرکزی حصے اور پروں کو ایک ہموار ساخت میں یکجا کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کے مطابق اس طیارے کی ظاہری شکل سمندری مخلوق ’اسٹنگ رے‘ مچھلی سے کافی حد تک مشابہت رکھتی ہے۔ یہ ڈیزائن روایتی طیاروں کے مقابلے میں زیادہ چوڑی اور کم اونچائی والی ساخت فراہم کرتا ہے جو اسے ہوا میں زیادہ مستحکم بناتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید طیارے میں 250 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہوگی۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ طیارہ ایک بار ایندھن بھرنے کے بعد پانچ ہزار میل تک کا طویل فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا، جو اسے بین الاقوامی پروازوں کے لیے موزوں بناتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طیارے کی ایک اور حیرت انگیز خصوصیت اس میں روایتی کھڑکیوں کا نہ ہونا ہے۔ کھڑکیوں کے بغیر یہ ڈیزائن طیارے کے وزن کو کم کرنے اور اس کی ایروڈائنامک کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، جس سے ایندھن کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طیارے کے اندرونی حصے کو انتہائی کشادہ بنایا گیا ہے تاکہ مسافروں کو سفر کے دوران زیادہ آرام دہ تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ نشستوں کی ترتیب اور کیبن کا ڈیزائن مسافروں کو ایک جدید اور پرسکون ماحول فراہم کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیٹ زیرو کا یہ منصوبہ بوئنگ جیسے بڑے طیارہ ساز اداروں کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کمپنی کا مقصد روایتی ڈیزائن سے ہٹ کر ایک ایسا طیارہ متعارف کرانا ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور کارکردگی کا بہترین امتزاج ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی نے اس طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز کے لیے سال 2027 کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس وقت انجینئرز اور ماہرین طیارے کے ڈیزائن اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں تاکہ اسے فضائی سفر کے معیارات کے مطابق بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فضائی صنعت کے ماہرین اس منصوبے کو ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، طیارے کی اصل کارکردگی اور اس کی عملی صلاحیتوں کا حتمی اندازہ آزمائشی مراحل مکمل ہونے اور کامیاب پرواز کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس منصوبے کی کامیابی سے مستقبل میں ہوائی سفر کے انداز میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اگر یہ طیارہ اپنی آزمائشوں میں کامیاب رہتا ہے تو یہ ایوی ایشن کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے جس میں کارکردگی کو اولین ترجیح حاصل ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیٹ زیرو کی جانب سے اس جدید طیارے کی تیاری پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ طیارہ اپنی منفرد ساخت اور خصوصیات کے ساتھ مسافروں کی توقعات پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس طیارے کے ذریعے فضائی سفر کو نہ صرف تیز تر بلکہ زیادہ کفایت شعار بنانا چاہتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے طیارے کی مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات میں بھی کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے برسوں میں اس طیارے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ فی الحال، جیٹ زیرو اپنی تمام تر توجہ 2027 میں ہونے والی پہلی پرواز کی تیاریوں پر مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/more-news/54/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، محسن نقوی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:37:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_وزیر_داخلہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اب ایمرجنسی کے نفاذ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین فیصلے سے گریز کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے یہ گفتگو اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کے گھر آمد کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کی۔ لائبہ اعجاز نے حال ہی میں خودکشی کی تھی جس پر وزیر داخلہ نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحافیوں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سوالات کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایمرجنسی نہ لگانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب اس معاملے کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کے لیے کس حد تک کوششیں کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس معاملے پر صلح کی ہر ممکن کوشش کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مزید کہا کہ انہوں نے اس طرح کے سخت فیصلے سے بچنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاہم اب حالات کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت کے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزراء کا موقف ہے کہ صوبے میں آئینی اور انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں نے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کی ہے اور اسے جمہوری عمل کے منافی قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتوں کے ذریعے معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام اور آئین کی بالادستی ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام تر قانونی اور آئینی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں انتشار کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے اقدامات کا مقصد صرف اور صرف ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں تو حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی پڑتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی بحران کے باعث انتظامی امور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت کا ماننا ہے کہ صوبائی حکومت کی ناکامی کے بعد اب مرکز کو مداخلت کرنی پڑ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ایمرجنسی نافذ کرتی ہے تو اس کے سیاسی اور قانونی اثرات بہت گہرے ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسی بھی صورت میں ملک میں افراتفری کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد: گولڈ میڈلسٹ طالبہ سے فراڈ کرنے والا ملزم گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/37/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/37/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 22:17:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلام آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامک_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فراڈ]]></category>
		<category><![CDATA[کرائم]]></category>
		<category><![CDATA[گولڈ_میڈلسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[لائبہ_اعجاز]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_دارالحکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/37/</guid>

					<description><![CDATA[انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز سے ویزا اور اسکالرشپ کے نام پر 93 لاکھ روپے ہتھیا لیے گئے تھے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم نعمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے اور اس سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اس کیس میں ملزم نعمان کے ساتھ فاطمہ سرور کو بھی نامزد کیا ہے۔ دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں ان پر طالبہ کو امریکا کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دے کر بھاری رقم بٹورنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے جعلی اسکالرشپ اور یونیورسٹی کے داخلے کے فرضی لیٹرز تیار کر کے متاثرہ خاندان کو دھوکا دیا۔ اس فراڈ کے ذریعے طالبہ سے مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے کی خطیر رقم وصول کی گئی، جس میں سے 29 لاکھ روپے بینک کے ذریعے اور باقی رقم نقد لی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ طالبہ کے اہل خانہ نے بتایا کہ لائبہ کے والد اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجنے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے تھے۔ والد نے اپنی بیٹی کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنا پلاٹ تک فروخت کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندان کے مطابق لائبہ کے والد موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ بیٹی کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے انہوں نے نہ صرف پلاٹ بیچا بلکہ والدہ کے زیورات بھی بینک میں گروی رکھوا دیے تھے تاکہ تعلیم کا سفر جاری رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس المناک واقعے سے قبل لائبہ اعجاز نے اپنے والد کے نام ایک آخری پیغام اپنے ماموں کے موبائل فون پر بھیجا تھا۔ اس پیغام میں اس نے درخواست کی تھی کہ اس کے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں والد کو کچھ نہ بتایا جائے کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لائبہ اعجاز انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی ایک ذہین طالبہ تھیں جنہوں نے اپنی تعلیمی کارکردگی کی بدولت گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ بیرون ملک تعلیم کے حصول کی خواہش اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مالی فراڈ نے انہیں شدید ذہنی صدمے میں مبتلا کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں ایک درخت سے لائبہ نامی نوجوان لڑکی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق طالبہ نے مبینہ طور پر ذہنی اذیت اور مالی دھوکا دہی کے باعث خودکشی کی، جس پر علاقے میں غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں نامزد دوسری ملزمہ فاطمہ سرور کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعہ نے بیرون ملک تعلیم کے خواہشمند طلبہ کو نشانہ بنانے والے گروہوں کی سرگرمیوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ایجنٹس سے ہوشیار رہنا ضروری ہے جو اسکالرشپ اور ویزا کے نام پر جعلی دستاویزات کا سہارا لیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت میں اس قسم کے فراڈ کے واقعات کی روک تھام کے لیے انتظامیہ نے بھی سخت اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ ایجنٹ یا ادارے کے ساتھ مالی لین دین سے گریز کریں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لائبہ اعجاز کی وفات پر تعلیمی حلقوں اور سماجی حلقوں میں گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے ساتھیوں اور اساتذہ نے لائبہ کو ایک ہونہار اور باصلاحیت طالبہ قرار دیتے ہوئے ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اور ایف آئی اے کی مشترکہ تحقیقات سے امید کی جا رہی ہے کہ اس کیس میں ملوث تمام کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ متاثرہ خاندان اس وقت شدید صدمے میں ہے اور انصاف کے منتظر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/37/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>معروف ایکشن اسٹار جیکی چن کے انتقال کی افواہیں بے بنیاد قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/34/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/34/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 22:01:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[اداکار]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[افواہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتقال]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جیکی_چن]]></category>
		<category><![CDATA[خبر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[شوبز_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فلم]]></category>
		<category><![CDATA[لالی_ووڈ]]></category>
		<category><![CDATA[مارشل_آرٹس]]></category>
		<category><![CDATA[موسیقی]]></category>
		<category><![CDATA[ورلڈ_نیوز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/34/</guid>

					<description><![CDATA[سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی جیکی چن کی موت کی خبر کو جھوٹا قرار دے دیا گیا، اداکار بالکل خیریت سے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی شہرت یافتہ ایکشن ہیرو اور مارشل آرٹسٹ جیکی چن کے انتقال سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ثابت ہوئیں۔ انٹرنیٹ پر ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر وائرل ہوئی جس میں اداکار کے نام کے ساتھ 1954 سے 2026 تک کے سال درج تھے، جس سے ان کی موت کا غلط تاثر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس وائرل پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ 72 سالہ اداکار اب اس دنیا میں نہیں رہے، جس کے بعد ان کے مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم، حقائق کی جانچ کرنے والے اداروں اور میڈیا رپورٹس نے ان دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ جھوٹی پوسٹ سوشل میڈیا پر اتنی تیزی سے پھیلی کہ صرف پانچ گھنٹوں کے دوران اسے 38 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا۔ یہ واقعہ معروف شخصیات کے بارے میں غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کی ایک افسوسناک مثال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیکی چن کے انتقال کی افواہیں پہلی بار سامنے نہیں آئیں۔ اس سے قبل 2011 میں بھی یہ جھوٹی خبر گردش میں آئی تھی کہ اداکار کو دل کا دورہ پڑا ہے اور ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس وقت بھی ان کی ٹیم نے سوشل میڈیا کے ذریعے وضاحت کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح 2022 میں بھی جیکی چن کی موت سے متعلق افواہیں پھیلائی گئی تھیں، جنہیں بعد ازاں فیکٹ چیک کرنے والے اداروں نے مسترد کر دیا تھا۔ ان تمام مواقع پر اداکار بالکل خیریت سے پائے گئے اور اپنے معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیکی چن کی حالیہ مصروفیات بھی ان کے مکمل طور پر صحت مند ہونے کا ثبوت دیتی ہیں۔ رواں برس وہ کانز فلم فیسٹیول میں بھی شریک ہوئے، جہاں انہوں نے اپنے طویل اور شاندار فلمی کیریئر کے بارے میں حاضرین سے گفتگو بھی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کانز فلم فیسٹیول کے دوران شرکاء نے کھڑے ہو کر جیکی چن کو خراج تحسین پیش کیا اور سنیما کے لیے ان کی چھ دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہا۔ اس موقع پر ان کی توانائی اور جوش و خروش واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیکی چن نے اپنے طویل فلمی سفر کے دوران ایکشن اور مارشل آرٹس کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ ان کی مقبول ترین فلموں میں &#039;رش آور&#039;، &#039;پولیس اسٹوری&#039; اور &#039;ڈرنکن ماسٹر&#039; جیسی شاہکار فلمیں شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداکار کی جانب سے یا ان کے قریبی ذرائع سے ایسی کسی بھی خبر کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایسی خبروں کو بغیر تحقیق کے آگے بڑھانا یا ان پر یقین کرنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر کسی بھی مشہور شخصیت کے بارے میں آنے والی ایسی خبروں کی تصدیق مستند نیوز ذرائع سے کرنی چاہیے۔ سوشل میڈیا پر اکثر کلک بیٹ اور ٹریفک حاصل کرنے کے لیے ایسی جھوٹی کہانیاں بنائی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیکی چن آج بھی فلم انڈسٹری میں فعال ہیں اور اپنے مداحوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کی ٹیم کی جانب سے ماضی میں بھی ایسی افواہوں کی تردید کی جاتی رہی ہے تاکہ شائقین کو درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مداحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جیکی چن کے حوالے سے پھیلائی جانے والی ان افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مصدقہ میڈیا اداروں کی خبروں پر اعتماد کریں۔ اداکار اپنی زندگی کے اگلے پروجیکٹس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں معلومات کی تصدیق کرنا کتنا ضروری ہے۔ کسی بھی شخصیت کی موت جیسی حساس خبر کو بغیر کسی ثبوت کے پھیلانا اخلاقی اور قانونی طور پر بھی درست نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/34/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آئین کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا طریقہ کار: اہم قانونی نکات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹیکل_232]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹیکل_234]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صدر_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/</guid>

					<description><![CDATA[ملک میں ہنگامی صورتحال یا آئینی بحران کے دوران آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وفاقی حکومت کے اختیارات اور پارلیمانی منظوری کا طریقہ کار واضح ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے آئین میں ملک کی سلامتی، داخلی استحکام اور آئینی مشینری کی فعالیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے واضح طریقہ کار موجود ہیں۔ ان میں آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جو وفاقی حکومت کو مخصوص حالات میں خصوصی اختیارات تفویض کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جنگ، بیرونی جارحیت یا کسی صوبے میں قابو سے باہر داخلی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی کا اعلان کر سکیں۔ اگر ایمرجنسی کا نفاذ کسی صوبے میں داخلی انتشار کی بنیاد پر کیا جا رہا ہو، تو اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کا ہونا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمرجنسی کے اعلان کے بعد یہ لازم ہے کہ اسے 10 روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔ اس کے علاوہ، اعلان کے 30 روز کے اندر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا بھی آئینی تقاضا ہے تاکہ اس اقدام کی توثیق کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران وفاقی حکومت کے انتظامی اختیارات میں وسعت آ جاتی ہے۔ وفاق صوبائی حکومت کو انتظامی امور کے حوالے سے ہدایات جاری کر سکتا ہے اور صوبائی حکومت کے بعض یا تمام فرائض اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے یا یہ ذمہ داری گورنر کو تفویض کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دوران پارلیمنٹ کو صوبائی معاملات پر قانون سازی کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی صوبائی قانون وفاقی قانون سے متصادم ہو، تو وفاقی قانون کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم، ایمرجنسی کے دوران بھی وفاقی حکومت ہائی کورٹ کے اختیارات کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر پارلیمنٹ سے ایمرجنسی کی مطلوبہ منظوری نہ مل سکے تو یہ اعلان دو ماہ کے بعد خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران قومی اسمبلی کی مدت میں ایک سال تک کی توسیع کی جا سکتی ہے، لیکن یہ توسیع ایمرجنسی کے خاتمے کے 6 ماہ بعد تک برقرار نہیں رہ سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کا آرٹیکل 233 ایمرجنسی کے دوران بنیادی انسانی حقوق پر اثرات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کے تحت صدر مملکت مخصوص بنیادی حقوق، جیسے نقل و حرکت، پرامن اجتماع، اظہار رائے اور جائیداد کے تحفظ کے حقوق کے نفاذ کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا حق معطل کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق ہے۔ جب کسی صوبے میں آئین کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے، تو گورنر کی رپورٹ پر صدر مملکت صوبے میں خصوصی آئینی اعلان جاری کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر راج کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے الگ الگ قراردادوں کی منظوری لازمی ہے۔ اس عمل کے تحت صدر صوبائی حکومت کے اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو ہدایت کر سکتے ہیں کہ وہ صدر کی جانب سے ان اختیارات کا استعمال کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آرٹیکل 234 کے تحت نافذ کیے گئے گورنر راج کی مدت ہر دو ماہ بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانا ضروری ہے۔ آئینی شقوں کے مطابق، کسی بھی صوبے میں گورنر راج مجموعی طور پر 6 ماہ سے زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر راج کے دوران بھی ہائی کورٹ کے اختیارات کو معطل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی صدر یا گورنر ہائی کورٹ کے کسی اختیار کو اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ یہ آئینی انتظام صوبے میں نظم و نسق کی بحالی تک محدود مدت کے لیے ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر قومی اسمبلی تحلیل ہو تو آرٹیکل 234 کے تحت خصوصی اعلان کے لیے الگ طریقہ کار لاگو ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں سینیٹ کی منظوری کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے تاکہ آئینی عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر، پاکستان کا آئین ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو پارلیمانی نگرانی کے تابع رکھتا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی اقدام کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ کی توثیق اور آئینی حدود و قیود کا پاس رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج: ایمل ولی خان نے حکومتی درخواست مسترد کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[اے_این_پی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اے این پی سربراہ سے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر حمایت مانگی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے اہم رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے ملاقات اور رابطوں کے دوران خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو کا مرکزی نقطہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے اے این پی کی سیاسی حمایت حاصل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سینیٹر ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ایک اہم پیشکش بھی سامنے آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ سیاسی معاملات کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پیشکش کے جواب میں اے این پی کے سربراہ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے جمہوری عمل کے تسلسل پر زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں گزشتہ کچھ روز سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ وفاقی حکومت صوبے کی داخلی صورتحال اور امن و امان کے معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اہم اتحادی جماعتوں کی جانب سے حمایت نہ ملنے کے بعد حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ دنوں میں صوبائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے، تاہم امن و امان کی صورتحال پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بھی وفاقی حکومت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی قدم ہوگا جس کے دور رس سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اے این پی کی جانب سے اس معاملے پر اپنائے گئے دو ٹوک موقف کے بعد اب وفاقی حکومت کی حکمت عملی میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقے اس پیش رفت کو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج کا نفاذ صرف اس صورت میں ممکن ہوتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے یا صوبے میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں وفاقی حکومت کی جانب سے مزید سیاسی مشاورت متوقع ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے یا پھر گورنر راج کے معاملے پر کوئی نیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: ایمل ولی خان نے حمایت سے معذرت کر لی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_نیشنل_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سے رابطہ کر کے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر مشاورت کی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک کے سیاسی منظرنامے میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ قائم کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس رابطے کا مقصد خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے اے این پی کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر یہ مشاورت کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے درخواست کی کہ وہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی تائید کریں۔ تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے اس تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے سامنے اپنا اصولی موقف پیش کرتے ہوئے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات اور رابطے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے اے این پی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی پیشکش بھی کی۔ یہ پیشکش سیاسی جوڑ توڑ کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمل ولی خان نے اس پیشکش کے جواب میں مشورہ دیا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوری عمل کو جاری رہنا چاہیے اور صوبے میں کسی بھی غیر معمولی اقدام سے گریز کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے ان موقف نے وفاقی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سے قبل اپنے حالیہ بیانات میں صوبائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اب ایمرجنسی کے علاوہ کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ صوبے میں انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں کا اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان جاری محاذ آرائی کے باعث صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ عوام کی نظریں اب وفاقی حکومت کے اگلے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے تحت گورنر راج کا نفاذ ایک سنگین قدم ہوتا ہے جس کے لیے صوبائی اسمبلی کی صورتحال اور وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاورت کا عمل جاری رہے گا تاکہ کسی متفقہ نتیجے پر پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر جاری مشاورت ملک میں جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید اہم سیاسی پیش رفت متوقع ہے جس سے صوبے کا مستقبل وابستہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
