<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بحیرہ_اسود &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%d8%ad%db%8c%d8%b1%db%81_%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%af/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 12:58:40 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بحیرہ_اسود &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4425/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4425/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 12:58:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[اناج_کی_ترسیل]]></category>
		<category><![CDATA[بحیرہ_اسود]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کینیڈا]]></category>
		<category><![CDATA[مارکو_روبیو]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%d8%ad%db%8c%d8%b1%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ad%d8%af%d9%88%d8%af-%d8%ac%d9%86%da%af-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اناج اور توانائی کی بلا تعطل ترسیل کے لیے ترکیہ اور بھارت کی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز اٹلانٹا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ عالمی برادری بحیرہ اسود میں ایک محدود جنگ بندی کے قیام میں گہری دلچسپی لے رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود توانائی اور اناج کی عالمی منڈیوں تک بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ اس وقت ترکیہ اور بھارت کی جانب سے پیش کردہ مختلف تجاویز کا بغور جائزہ لے رہا ہے تاکہ اناج کی ترسیل کے عمل کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز پر غور کا مقصد سپلائی چین میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگرچہ بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت بڑھ رہی ہے، تاہم امریکہ اس طویل تنازعے کے ایک وسیع تر اور جامع مذاکراتی حل کے لیے بھی اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر عالمی قوتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ جنگی حالات کے باوجود انسانی بنیادوں پر اناج کی ترسیل کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کا یہ مطالبہ ہے کہ بحیرہ اسود کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے محفوظ بنایا جائے تاکہ دنیا بھر میں غذائی قلت کے خدشات کو کم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4425/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوبنے سے 11 افراد لاپتا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/514/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/514/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 02:18:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایچ_ایس_ڈگنٹی]]></category>
		<category><![CDATA[بحیرہ_اسود]]></category>
		<category><![CDATA[بلغاریہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرون_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس_یوکرین_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a8%d8%ad%db%8c%d8%b1%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d8%b1%d9%88%d9%86-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81%d8%8c-%d9%85%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%ac%db%81%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[بلغاریہ کے ساحل کے قریب پیش آنے والے واقعے میں 5 افراد کو بچا لیا گیا، لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بحیرہ اسود میں بلغاریہ کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز ڈرون حملے کا شکار ہو کر ڈوب گیا ہے، جس کے نتیجے میں عملے کے 11 ارکان لاپتا ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ ساحل سے تقریباً 15 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گنی بساؤ کے پرچم تلے چلنے والے اس مال بردار جہاز کا نام &#039;ایچ ایس ڈگنٹی&#039; بتایا گیا ہے۔ حادثے کے وقت جہاز پر کل 16 افراد سوار تھے، جن میں سے 5 افراد کو قریبی تجارتی جہازوں کی مدد سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاپتا ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاپتا ہونے والے عملے کے ارکان میں زیادہ تر شامی اور مصری شہری شامل ہیں، جن کے بارے میں تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ یا ملک نے قبول نہیں کی ہے۔ بحیرہ اسود کا خطہ طویل عرصے سے جاری روس اور یوکرین تنازع کے باعث کشیدگی کی زد میں ہے، جہاں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسی علاقے میں ایک اور مال بردار جہاز &#039;چیلسی تھری&#039; کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مالٹا کے پرچم بردار اس جہاز پر تین ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا، تاہم خوش قسمتی سے اس پر سوار تمام افراد محفوظ رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلغاریہ کے حکام نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بلغاریہ کے صدر اور وزیراعظم نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلغاریہ کے وزیراعظم رومین رادیف نے اس معاملے پر روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فریق پر الزام عائد کرنے سے قبل ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے، جس کے لیے تحقیقاتی عمل جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین نے بھی بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سمندری حدود میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیٹو کی جانب سے بھی جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ بحیرہ اسود میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔ اتحاد کا مقصد خطے میں جہاز رانی کی آزادی اور عالمی غذائی رسد کے راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بحیرہ اسود میں جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی تجارت اور خاص طور پر غذائی اجناس کی ترسیل کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں اس صورتحال کے اثرات کے پیش نظر سیکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں، تاہم خراب موسمی حالات اور سمندری لہروں کے باعث آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی لاپتا افراد کے بارے میں کوئی اطلاع مل سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر اس واقعے کے بعد تجارتی جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں نے اپنے روٹس اور سیکیورٹی پروٹوکولز پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔ بحیرہ اسود میں امن و امان کی بحالی کے لیے سفارتی سطح پر بھی کوششیں تیز ہونے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/514/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
