<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بجٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%d8%ac%d9%b9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بجٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ، چار ماہ میں ضروری اشیاء 5.81 فیصد مہنگی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2221/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2221/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 22:37:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ادارہ_شماریات]]></category>
		<category><![CDATA[اشیائے_خوردونوش]]></category>
		<category><![CDATA[بجٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پٹرولیم_مصنوعات]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عام_آدمی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%81-%d8%b9%d8%a7%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں حساس قیمتوں کے اشاریے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، اشیائے خورونوش کی مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث عام آدمی کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نئے مالی سال کے ابتدائی تقریباً چار ماہ کے دوران پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ادارہ شماریات کے ہفتہ وار حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق 2 جولائی سے 22 اکتوبر تک 51 ضروری اشیاء کی مجموعی قیمتوں میں 5.81 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث تنخواہ دار طبقے، دیہاڑی دار مزدوروں، پنشنرز اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق نئے مالی سال کے آغاز میں 2 جولائی کو حساس قیمتوں کا اشاریہ 354.24 پوائنٹس تھا جو 22 اکتوبر کو بڑھ کر 374.84 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اس طرح تقریباً چار ماہ کے دوران ضروری اشیا کے مجموعی اشاریے میں 20.60 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مسافر ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں اور زرعی اجناس کی نقل و حمل کے اخراجات پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئے مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں 26.11 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 26.39 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ ماہ کے ان اعداد و شمار کے علاوہ 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں مزید 0.65 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں مہنگائی 11.85 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زیر جائزہ 51 ضروری اشیا میں سے اس ہفتے کے دوران 19 کی قیمتوں میں اضافہ، 12 میں کمی جبکہ 20 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں یکساں رجحان دیکھنے میں نہیں آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری طرف تمام اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں یکساں اضافہ نہیں ہوا اور بعض سبزیوں، دالوں اور انڈوں کی قیمتوں میں کمی بھی سامنے آئی ہے جو مارکیٹ کے تنوع کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین اور متعلقہ حلقوں کے مطابق مہنگائی کی اس صورتحال نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے روزمرہ کی زندگی گزارنا دشوار بنا دیا ہے، اور حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2221/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فرانسیسی صدر میکرون کے نئے دفاتر کی تیاری کے لیے 23 لاکھ یورو مختص</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1839/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1839/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 11:37:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایلیسی_پیلس]]></category>
		<category><![CDATA[ایمانوئل_میکرون]]></category>
		<category><![CDATA[بجٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیرس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3%db%8c%d8%b3%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%af%d9%81%d8%a7%d8%aa%d8%b1-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[فرانس کے آئندہ برس کے بجٹ مسودے میں صدر ایمانوئل میکرون کی سبکدوشی اور منتقلی کے اخراجات شامل کیے گئے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کی منتقلی اور نئے دفاتر کی تیاری کے لیے مالیاتی وسائل کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فرانسیسی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں بجٹ کے مسودے میں مخصوص رقم رکھی گئی ہے جس سے سابق صدر کے امور کو چلایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی صدر تقریباً سات ماہ کے بعد ایلیسی پیلس کا صدارتی منصب چھوڑنے والے ہیں اور ان کی روانگی کے انتظامات کا سلسلہ باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے تیار کردہ بجٹ دستاویزات میں منتقلی کے جملہ اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو ملکی پارلیمنٹ میں زیر بحث ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس کے سال دو ہزار ستائیس کے بجٹ کے مسودے میں صدر میکرون کو نو تعمیر شدہ اور تزئین و آرائش شدہ دفاتر میں منتقل ہونے میں معاونت فراہم کرنے کی غرض سے تیئیس لاکھ یورو کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ بجٹ اس وقت پارلیمانی اراکین کے زیر غور ہے جہاں اس پر مختلف زاویوں سے بحث جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک پارلیمانی رپورٹ کے مطابق اس مالیاتی پیکیج میں آئندہ چھ برسوں کے دوران عمارت کا کرایہ، مختلف سروس چارجز اور ضروری سیکیورٹی کے تمام تر انتظامات شامل ہیں۔ ان رقوم سے سبکدوش ہونے والے صدر کے لیے ایک مناسب اور محفوظ دفتری ماحول فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی قوانین اور روایات کے تحت سابق صدور کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف مراعات سے نوازا جاتا ہے جن میں پنشن کی ادائیگی، دفتری سہولیات، ایک ذاتی ڈرائیور اور سرکاری پولیس تحفظ نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تمام انتظامات سابقہ سربراہان مملکت کی شان کے مطابق کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختص کی گئی رقم میں انتظامی امور کو چلانے کے علاوہ عملے کی تنخواہوں، سیکیورٹی کے انتظامات، عمارت کی باقاعدہ دیکھ بھال اور متعدد مالیاتی سرمایہ کاری کے اخراجات بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ سابق صدر کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب پیرس میں واقع تاریخی ایلیسی پیلس کے اندر بھی ترقیاتی اور مرمتی کاموں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے جن میں جیو تھرمل نظام کی تنصیب بھی شامل ہے تاکہ عمارت کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایلیسی پیلس کی عمارت کی اندرونی تزئین و مرمت کے علاوہ وہاں موجود بڑے باورچی خانوں کی جدید کاری کے منصوبے بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں تاکہ مستقبل میں آنے والے سربراہان مملکت کے لیے بہتر سہولیات میسر ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دور صدارت کے دوران ملک میں کئی اہم اقتصادی اور سیاسی فیصلے کیے گئے ہیں اور ان کے اقتدار کا یہ آخری مرحلہ ملکی سیاست میں خاص اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتیحکام کا کہنا ہے کہ بجٹ میں رکھی جانے والی یہ رقم شفاف طریقے سے خرچ کی جائے گی اور اس کا مقصد آئینی روایات کے مطابق سابق صدر کے حقوق کا تحفظ کرنا اور انہیں دفاتر کی منتقلی میں آسانی فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمنٹ میں بجٹ کے اس مسودے پر ہونے والی بحث کے دوران اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے تاہم مالیاتی امور کے ماہرین اس منتقلی کو معمول کا انتظامی حصہ قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں صدور کی تبدیلی کا یہ عمل ایک طے شدہ آئینی طریقہ کار کے تحت انجام پاتا ہے جس میں سیکرٹریٹ اور انتظامیہ کے لوگ بھرپور حصہ لیتے ہیں تاکہ منتقلی کا مرحلہ بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی صدر کے دفتر کی طرف سے اس معاملے پر مزید تفصیلات بھی جلد سامنے آنے کا امکان ہے جبکہ ملک کے سیاسی حلقوں میں اس بجٹ کی منظوری کے حوالے سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1839/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی قومی قرض 40.4 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1784/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1784/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 02:57:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[بجٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جی_ڈی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سود]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d9%82%d9%88%d9%85%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%b6-40-4-%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%84%db%8c%d9%86-%da%88%d8%a7%d9%84%d8%b1-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے قرض میں تیزی سے اضافہ، سود کی ادائیگی دفاعی بجٹ سے بھی تجاوز کر گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکا کا مجموعی قومی قرض 40.4 ٹریلین ڈالر کی بلند ترین سطح سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے مختصر عرصے کے دوران اس قرض میں تقریباً 400 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ملکی قرض کا حجم 19 اگست 2026 کو پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر کی نفسیاتی حد کو عبور کر گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک اس میں مزید ایک فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتی اخراجات اور ٹیکسوں کے نظام میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ قرض آئندہ چھ برسوں کے اندر 50 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرض کے بڑھتے ہوئے حجم کے ساتھ ساتھ اس پر ادا کیے جانے والے سود کی شرح بھی حکومتی بجٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا سالانہ تقریباً 970 ارب ڈالر صرف قرض کے سود کی مد میں ادا کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حیران کن بات یہ ہے کہ قرض پر ادا کیا جانے والا یہ سود امریکی دفاعی اخراجات سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ سن 2020 کے بعد سے سود کی ادائیگیوں کے اخراجات میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، جس سے قومی خزانے پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قرض کی یہ رفتار ملکی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ ایک دہائی میں قومی قرض ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 120 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وفاقی حکومت کا کل قرض امریکا میں ایک سال کے دوران پیدا ہونے والی تمام اشیا اور خدمات کی مجموعی مالیت سے بھی بڑھ جائے گا۔ ایسی صورتحال میں حکومتی وسائل انتہائی محدود ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرض پر سود کی مد میں بڑی رقم خرچ ہونے سے صحت، تعلیم، سماجی بہبود اور دیگر اہم عوامی شعبوں کے لیے مالی گنجائش کم ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ بلند شرح سود کے باعث نئے قرضوں کا حصول بھی مزید مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی معیشت کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ قرض کی ریکارڈ سطح کے ساتھ ساتھ اس کے بڑھنے کی رفتار بھی تیز ہے۔ حکومتی سطح پر مالیاتی نظم و ضبط کے فقدان کو اس بحران کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کی نظریں بھی اب امریکی معاشی پالیسیوں پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو امریکی حکومت کو طویل مدتی مالیاتی استحکام برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان بجٹ خسارے اور قرض کی حد کے حوالے سے بحث ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے۔ تاہم موجودہ اعداد و شمار نے اس بحث کو ایک نئی اور زیادہ سنجیدہ جہت فراہم کر دی ہے جس پر فوری توجہ درکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل قریب میں امریکی انتظامیہ کو نہ صرف اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے بلکہ محصولات بڑھانے کے لیے بھی سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ قرض کا یہ بوجھ آنے والی نسلوں کے لیے معاشی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال امریکی حکومت کی جانب سے اس بڑھتے ہوئے قرض کو کم کرنے کے لیے کسی جامع حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ عالمی معاشی مبصرین اس صورتحال کو عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا رسک قرار دے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1784/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں منصفانہ ٹیکس نظام کا قیام ناگزیر ہے، جہاد ازور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1645/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1645/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 03:16:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[بجٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_نیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[جہاد_ازور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%81%d8%a7%d9%86%db%81-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[آئی ایم ایف کے ریجنل ڈائریکٹر نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور معاشی استحکام کو پائیدار نمو میں بدلنے پر زور دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے ریجنل ڈائریکٹر جہاد ازور نے پاکستان کے معاشی استحکام کے سفر کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے مشکل حالات کے باوجود بیرونی مالیاتی تحفظات کو مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جہاد ازور نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے لیے اب اگلا اہم مرحلہ معاشی استحکام کو پائیدار اور طویل مدتی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو مزید بہتر اور شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر نے تجویز دی کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے غیر منصفانہ طریقوں کو ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے ٹیکس مراعات اور غیر ضروری چھوٹ میں کمی لانے پر زور دیا تاکہ محصولات کی وصولی کے نظام کو مزید مستحکم اور غیر جانبدار بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کانفرنس کے دوران اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی ترجیحات میں عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور ترجیحی اخراجات کا تحفظ شامل ہے۔ ایک منصفانہ ٹیکس نظام ہی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس پالیسی کا مقصد صرف مالیاتی اہداف کا حصول نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام کو معاشی سرگرمیوں اور قدر میں اضافے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر خزانہ نے ملکی معیشت کی بہتری کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالیاتی خسارہ گزشتہ 22 برس کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل تین سال تک بنیادی بجٹ سرپلس حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد اورنگزیب کے مطابق، محصولات میں 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت ان اعداد و شمار کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ٹیکس کا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر زیادہ رہا ہے۔ پرچون فروشی، زراعت اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبوں میں ٹیکس کی وصولی کے اہداف تاحال توقعات کے مطابق حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ مالی سال کے دوران زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کے اہداف بھی ہدف سے کم رہے۔ پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے زرعی ٹیکس کی وصولی میں بہتری کی گنجائش موجود ہے تاکہ قومی خزانے کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ٹیکس نظام میں موجود تضادات کو دور کیا جائے۔ رئیل اسٹیٹ اور دیگر بااثر شعبوں سے ٹیکس کی منصفانہ وصولی معاشی اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ٹیکس قوانین میں بہتری لانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد کاروبار کو وسعت دینے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معاشی ٹیم کا ماننا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں وسعت لانے سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ اصلاحات طویل مدتی معاشی خود انحصاری کے لیے ضروری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان نے جس طرح مشکل معاشی حالات کا مقابلہ کیا ہے، اس سے عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1645/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملکی معاشی ترقی کیلئے ترقیاتی اخراجات میں کٹوتیوں کے بجائے اصلاحات ضروری ہیں: احسن اقبال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/76/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/76/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 02:38:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایم_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[احسن_اقبال]]></category>
		<category><![CDATA[بجٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_اخراجات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_ریفارمز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/76/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے معاشی استحکام کیلئے آٹھ نکاتی فریم ورک پیش کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے پر زور دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض ترقیاتی اخراجات میں کٹوتیاں کر کے مالیاتی استحکام حاصل کرنا طویل مدت میں ملکی پیداواری صلاحیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر منصوبہ بندی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک تفصیلی مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے ملکی معاشی پالیسیوں کو مزید موثر بنانے کے لیے آٹھ نکاتی فریم ورک تجویز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو انتخابی مرحلے سے قبل معاشی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احسن اقبال نے نشاندہی کی کہ مالیاتی نظم و ضبط اپنی جگہ اہم ہے تاہم صرف خسارے کے اعداد و شمار کو کم کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحالی کا انحصار محصولات میں اضافے اور برآمدات بڑھانے پر ہونا چاہیے نہ کہ ترقیاتی منصوبوں کی قربانی پر۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مراسلے میں اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سال 2018 میں وفاقی ترقیاتی اخراجات مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد کے برابر تھے، جو اب کم ہو کر صرف 0.8 فیصد کی سطح پر آ چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے کردہ اہداف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسی میں صرف مقداری اہداف کو اہمیت دینا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اہداف کے حصول کا طریقہ کار اور اس کی معاشی افادیت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ عوام 2029 کے انتخابات میں حکومت کی کارکردگی کو محض ماضی کے بحرانوں سے موازنہ کر کے نہیں پرکھیں گے، بلکہ وہ معاشی ترقی، روزگار، آمدنی، سرمایہ کاری، برآمدات، مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور معاشی مواقع کو مدنظر رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احسن اقبال نے تجویز دی کہ وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی کو مل کر سال 2028-29 تک کے لیے ایک قابلِ اعتماد درمیانی مدت کا معاشی منظرنامہ تیار کرنا چاہیے۔ اس سے معیشت کو ایک واضح سمت مل سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر کے مطابق، ترقیاتی اخراجات میں مسلسل کمی سے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، ٹیکنالوجی اور آبی تحفظ جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔ یہ شعبے ملک کی طویل مدتی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے زور دیا کہ مالیاتی استحکام کو صرف کسی مخصوص پروگرام کی تکمیل تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس کے بعد بھی سرمایہ کاری، برآمدات اور محصولات میں اضافے کے لیے ایک جامع اور پائیدار منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احسن اقبال نے کہا کہ ریاست کو اپنے محصولات میں اضافہ کرنے کے لیے ٹیکس نفاذ کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ محصولات کی کمی مالیاتی دباؤ میں اضافے کا باعث بنتی ہے جس کا براہ راست اثر عوامی فلاحی منصوبوں پر پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ترقی سے ہم آہنگ مالیاتی استحکام کا ماڈل اپنانا ہوگا تاکہ معیشت کو قرضوں کے بوجھ سے نکال کر خود انحصاری کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/76/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
