<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بجلی_صارفین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c_%d8%b5%d8%a7%d8%b1%d9%81%db%8c%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 06 Nov 2026 01:26:53 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بجلی_صارفین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بجلی صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/5182/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/5182/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 06 Nov 2026 00:57:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_صارفین]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کے_بل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیرف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہ_ماہی_ایڈجسٹمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کیپیسٹی_چارجز]]></category>
		<category><![CDATA[کے_الیکٹرک]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[نیپرا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/5182/</guid>

					<description><![CDATA[تقسیم کار کمپنیوں نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت نیپرا میں درخواست دائر کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بلوں میں مزید اضافے کا نیا خدشہ سامنے آ گیا ہے جس کے تحت صارفین پر اربوں روپے کا اضافی مالی بوجھ ڈالا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں ملک کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے باضابطہ طور پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے سامنے اپنی درخواست جمع کرا دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ بالا درخواست سال 2026 کی تیسری سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبر تک کے اخراجات کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مجوزہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین سے مجموعی طور پر 23 ارب 33 کروڑ روپے کی اضافی وصولی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بجلی کے فی یونٹ نرخوں میں حتمی طور پر کتنا اضافہ کیا جائے گا، اس کا فیصلہ متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کی طرف سے کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست کے اندر مختلف مدات میں وصولیوں اور کٹوتیوں کی تفصیلی تخمینہ جات پیش کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست کے متن کے مطابق کی پی سٹی چارجز کی مد میں صارفین سے 38 ارب 92 کروڑ روپے وصول کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ آپریشنز اینڈ مینٹیننس یعنی ترسیلی و انتظامی اخراجات کی مد میں 5 ارب 59 کروڑ 70 لاکھ روپے اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب درخواست کے اندر انکریمنٹل پیکیج کے اثرات کے تحت 29 ارب 25 کروڑ روپے کی کمی کا نکتہ بھی شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام اعداد و شمار اور حساب کتاب کو نکالنے کے بعد خالصتاً 23 ارب 33 کروڑ روپے اضافی وصول کرنے کی درخواست بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مجوزہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے اور اس کا اطلاق کراچی سمیت پورے ملک کے بجلی صارفین پر ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کے اثرات سے کراچی کے شہریوں کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کے صارفین بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے اور متاثر ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اس جمع کرائی گئی درخواست پر تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ تاریخ پر غور کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ تفصیلات کے مطابق نیپرا کی جانب سے اس اہم درخواست پر باضابطہ سماعت رواں ماہ کی 17 تاریخ یعنی 17 نومبر کو کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے عمل اور تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ہی بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل یا اضافے کے حوالے سے حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/5182/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فیسکو سرکلز کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے بلوں کی درستگی کی اجازت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/3111/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/3111/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 07:37:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_صارفین]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کے_بل]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سولر_پاور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%81%db%8c%d8%b3%da%a9%d9%88-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d9%84%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d9%86%db%8c%d9%b9-%d9%85%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%86%da%af-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[فیسکو صارفین اپنے اکاؤنٹ نمبر کی مناسبت سے متعلقہ آر او دفاتر سے بلوں کی درستگی کرا سکیں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے دائرہ اختیار میں آنے والے مختلف سرکلز کی جانب سے بجلی کے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے اہم فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت اب بلوں کی درستگی کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس اقدام سے ان تمام صارفین کو ریلیف ملے گا جو اپنے بلوں میں اعداد و شمار یا یونٹس کے حوالے سے درپیش مسائل کا شکار تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان فیسکو حکام کے مطابق یہ اجازت صارفین کے اکاؤنٹ نمبر کی مناسبت سے دی گئی ہے تاکہ ہر صارف کو اس کے درست ریکارڈ کے مطابق بلنگ کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد نیٹ میٹرنگ صارفین کو درپیش مالی اور انتظامی مشکلات میں نمایاں کمی واقع ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ صارفین اب اپنے قریبی متعلقہ ریونیو آفس یعنی آر او دفاتر سے باضابطہ طور پر اپنے بجلی کے بلوں کی درستگی کروا سکیں گے۔ فیسکو انتظامیہ نے اس عمل کو مزید شفاف اور آسان بنانے کے لیے متعلقہ عملے کو ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیسکو حکام کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق اس سہولت کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں متاثرہ صارفین کو بلوں کی درستگی کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔ یہ اقدام ان صارفین کے لیے بالخصوص مفید ثابت ہو رہا ہے جنہوں نے متبادل توانائی کے فروغ کے لیے سولر سسٹمز نصب کر رکھے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے نظام سے وابستہ صارفین کو اکثر بلوں میں یونٹس کی تفسیق اور ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے شکایات رہتی تھیں جن کے ازالے کے لیے اس نوعیت کے اقدامات کی اشد ضرورت تھی۔ فیسکو کے اس طویل المدتی اور خوش آئند فیصلے سے صارفین اور ادارے کے مابین اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ صارفین کے حقوق کا تحفظ اور ان کے مسائل کا بر وقت ازالہ ترجیحی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں بھی اس طرح کے انتظامی فیصلے جاری رکھے جائیں گے تاکہ بجلی صارفین کو بہترین خدمات کی فراہمی یقینی بنای جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر بھر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صارفین نے فیسکو کے اس قدم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ان کے مالیاتی بوجھ میں کمی آئے گی۔ یاد رہے کہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے صارفین نہ صرف اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں بلکہ اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو فروخت بھی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیسکو سرکلز کی جانب سے اس نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد آر او دفاتر میں روزانہ کی بنیاد پر درخواستیں موصول ہو رہی ہیں جن پر عمل درآمد کو تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے تمام متعلقہ عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ آنے والے شہریوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اقدام سے نہ صرف بلوں کی درستگی کا عمل تیز ہوگا بلکہ سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔ فیسکو انتظامیہ نے صارفین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی دشواری کی صورت میں براہ راست متعلقہ دفاتر سے رجوع کریں تاکہ ان کے مسائل کا فوری حل نکالا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے دائرہ کار میں نیٹ میٹرنگ کے صارفین کی تعداد میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ متبادل اور شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر اس طرح کے تکنیکی اور انتظامی امور کو حل کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیسکو کے متعلقہ سرکلز کی طرف سے اس حوالے سے باقاعدہ احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ نچلی سطح پر کسی بھی قسم کی انتظامی تاخیر یا ابہام کا سدباب کیا جا سکے. متاثرہ صارفین ان ہدایات کے بعد بغیر کسی اضافی زحمت کے اپنے مسائل حل کروا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ ادارے کی پوری کوشش ہے کہ صارفین کو درپیش تمام تر بلنگ کے مسائل کا دیرپا حل نکالا جائے۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کسٹمر سروسز کے شعبوں کو بھی مزید فعال بنایا گیا ہے تاکہ شکایات کا ازالہ فوری ممکن ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ توانائی کے ادارے ملک بھر میں متبادل توانائی کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں اور نیٹ میٹرنگ کا نظام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ فیسکو کا حالیہ فیصلہ اسی سمت میں ایک مثبت قدم ہے جس سے اس نظام سے جڑے صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/3111/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بجلی صارفین کیلئے ریلیف، ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کم کر دی گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/846/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/846/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 15:36:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_صارفین]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کے_بل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاور_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_شعبہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%d8%b5%d8%a7%d8%b1%d9%81%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%b1%db%8c%d9%84%db%8c%d9%81-%d8%b3%d8%aa%d9%85%d8%a8%d8%b1-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پاور ڈویژن نے ستمبر کی متوقع فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو نمایاں طور پر کم کر کے صارفین کو ریلیف فراہم کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی کے صارفین کے لیے ایک اہم اور خوش آئند ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت ستمبر کے ماہ کی متوقع فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں خاطر خواہ کمی کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملک بھر کے صارفین کو مالی دباؤ سے بچانا اور انہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں ریلیف فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری اعلامیے کے مطابق ستمبر کے مہینے کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو جو کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق چھ روپے فی یونٹ تک جا سکتی تھی، اب کم کر کے دو روپے چھپن پیسے فی یونٹ تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس بروقت اقدام کے نتیجے میں صارفین کو تین روپے چوالیس پیسے فی یونٹ کے بھاری اضافی بوجھ سے مکمل طور پر بچا لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاور ڈویژن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ صارفین کو اس اضافی مالی بوجھ سے بچانے کی خاطر ستمبر کے دوران محدود پیمانے پر لوڈ مینجمنٹ کے اقدامات کیے گئے تھے تاکہ مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ان ہدفی اقدامات کا بنیادی مقصد بجلی کی پیداوار پر آنے والے اضافی اخراجات کو قابو میں رکھنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق ستمبر کے مہینے میں دو سے اڑھائی گھنٹے تک کی محدود لوڈ مینجمنٹ کی گئی تھی جس کی وجہ سے مہنگے متبادل ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے منفی اثرات کو کامیابی کے ساتھ کم کیا گیا۔ حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس حکمت عملی سے قومی خزانے اور عام صارف دونوں کو طویل المدتی فائدہ پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاور سیکٹر کے اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق درآمدی مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ان کے معاشی اثرات کو محدود رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا، جسے حکومت نے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں کے ذریعے ممکن بنایا ہے۔ حکومت اس بات کی مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ عوام کو کم سے کم مالی مشکلات کا سامنا کرناپڑے اور توانائی کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ مہنگے متبادل ایندھن پر انحصار کم کرنے سے نہ صرف بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی آئی ہے بلکہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر پڑنے والے دباؤ کو بھی کافی حد تک ہلکا کیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ توانائی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے ایسے تمام اقدامات ناگزیر تھے جو طویل عرصے میں معاشی بہتری کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب پاور ڈویژن نے ایک اہم انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ آنے والے سردیوں کے موسم میں گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کی طلب میں روایتی طور پر نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر گیس کی دستیابی مزید محدود ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ پاور سیکٹر کے نظام کا تسلسل اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے آر ایل این جی کی مسلسل فراہمی انتہائی ضروری قرار دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی طلب اور رسد کے اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ ادارے پہلے سے ہی مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ سردیوں کے موسم میں بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سردیوں میں توانائی کی بڑھتی ہوئی کھپت کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو انتہائی مربوط انداز میں کام کرنا ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ وزارتیں توانائی کے شعبے میں ساختاتی اصلاحات لانے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلیے ہر ممکنہ کوشش کر رہی ہیں۔ اس قسم کے متوازن اقدامات سے نہ صرف صارفین کے ماہانہ بلوں میں اعتدال رہتا ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو مستقبل کی طویل المدتی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ مہینوں میں بھی بجلی کی قیمتوں اور ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے مزید اعتدال کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی کو مہنگائی کے اس دور میں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے اور صنعتی شعبے کو بھی فروغ ملے۔ متعلقہ حکام موجودہ ملکی اور عالمی مارکیٹ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بروقت نمٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام صورتحال کے تناظر میں معاشی ماہرین کا یہ تجزیہ سامنے آیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے ان اقدامات سے عوام میں پائے جانے والے مالیاتی خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ پاور ڈویژن کی یہ پالیسی اس بات کی غماز ہے کہ حکومتی ادارے عوام کو ریلیف دینے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے دیگر شعبوں کی طرح توانائی کے شعبے میں بھی شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ بجلی کی ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ حکومت اس عزم پر قائم ہے کہ عوام کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/846/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
