<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بجلی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 03:26:55 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بجلی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>یکم جنوری 2027 سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا امکان، نیپرا میں درخواست جمع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%db%8c%da%a9%d9%85-%d8%ac%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c-2027-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b1%d8%ae%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%db%8c%da%a9%d9%85-%d8%ac%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c-2027-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b1%d8%ae%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 07:57:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کا_ٹیرف]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%db%8c%da%a9%d9%85-%d8%ac%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c-2027-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b1%d8%ae%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے سال 2027 کے لیے بجلی کی خریداری کی لاگت کا تخمینہ نیپرا میں پیش کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک میں بجلی کے صارفین کے لیے آنے والا سال مالی بوجھ کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے سال 2027 کے لیے بجلی کی خریداری کی نئی قیمتوں کا تعین کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کروا دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس درخواست کے مطابق یکم جنوری 2027 سے بجلی کے نئے ٹیرف میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس کے تحت فی یونٹ قیمت 27 روپے 30 پیسے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ریفرنس کاسٹ کے تعین کا حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی پی پی اے کی جانب سے نیپرا کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2027 کے دوران بجلی کی کل خریداری کی لاگت تقریباً 3 ہزار 439 ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو کہ ملکی معاشی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس بھاری لاگت میں کی پس ٹی چارجز کا حصہ نمایاں ہے جو کہ 19 سو 14 ارب روپے سے زائد بنتے ہیں۔ یہ چارجز بجلی کے نظام کو فعال رکھنے اور پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے ادا کیے جاتے ہیں جو صارفین کے بلوں پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، سال 2027 کے لیے بجلی کی فیول کاسٹ کا تخمینہ 12 سو ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آپریشن اور مینٹیننس کی مد میں 70 ارب روپے اور ٹرانسمیشن چارجز کی مد میں 248 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی پی پی اے نے نیپرا اتھارٹی کے پاس چھ مختلف تجاویز جمع کرائی ہیں جن میں سے ایک آئیڈل کیس کے تحت بجلی کی خریداری کی قیمت 25 روپے 88 پیسے فی یونٹ تجویز کی گئی ہے۔ تاہم، حتمی فیصلہ نیپرا اتھارٹی کی جانب سے اوسط قیمت کے تعین کے بعد ہی ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیپرا اس اہم معاملے پر باقاعدہ سماعت کا آغاز 2 نومبر کو کرے گا جس میں تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سماعت کے دوران بجلی کی قیمتوں کے تعین کے لیے بنیادی لاگت اور دیگر تکنیکی امور پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل ایک مستقل عمل ہے جو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور دیگر معاشی اشاریوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی اگست کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخوں میں ایک ماہ کے لیے اضافہ کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی پی پی اے کی جانب سے ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے لیے بھی ایک الگ درخواست نیپرا میں زیر التواء ہے جس پر 29 اکتوبر کو سماعت متوقع ہے۔ اس طرح کے اقدامات کا مقصد بجلی کے شعبے کے مالیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بجلی کے نرخوں میں اضافے کی یہ تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ملک میں توانائی کی طلب اور رسد کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیپرا کی جانب سے حتمی ٹیرف کا اعلان سماعت کے بعد کیا جائے گا جس کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ یکم جنوری 2027 سے صارفین کو کتنی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ تب تک صارفین کی نظریں نیپرا کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں بجلی کا شعبہ اپنی نوعیت کے چیلنجز سے دوچار ہے جن میں گردشی قرضے اور ترسیلی نظام کی بہتری جیسے مسائل شامل ہیں۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی کی قیمتوں کا تعین ایک پیچیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%db%8c%da%a9%d9%85-%d8%ac%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c-2027-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b1%d8%ae%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بجلی کے بلوں میں انکم ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کرنے کا آسان طریقہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%da%a9%d9%85-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%ab%d9%86%db%8c%d9%b0/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%da%a9%d9%85-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%ab%d9%86%db%8c%d9%b0/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 11:37:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_سہولت]]></category>
		<category><![CDATA[انکم_ٹیکس]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کے_بل]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_استثنیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_چھوٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صارفین]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/135/</guid>

					<description><![CDATA[کے الیکٹرک کے صارفین اب اپنی تفصیلات آن لائن اپ ڈیٹ کر کے بجلی کے بل میں عائد ایڈوانس انکم ٹیکس سے چھوٹ حاصل کر سکتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں بجلی کے بلوں میں مختلف اقسام کے ٹیکس شامل ہوتے ہیں جن کی ادائیگی صارفین کے لیے ایک اضافی بوجھ کا باعث بنتی ہے۔ ان ٹیکسوں میں ایڈوانس انکم ٹیکس بھی شامل ہے جو صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے الیکٹرک نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے ایک ایسا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے اہل صارفین بجلی کے بل میں عائد 7.5 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے صارفین کو سب سے پہلے کے الیکٹرک کی سرکاری ویب سائٹ ke.com.pk پر جانا ہوگا۔ ویب سائٹ پر موجود آپشنز میں سے &#039;اپ ڈیٹ کسٹمر ڈیٹیلز&#039; (Update Customer Details) کے بٹن کو منتخب کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس عمل کے اگلے مرحلے میں صارفین کو اپنا درست اکاؤنٹ نمبر اور قومی شناختی کارڈ نمبر درج کرنا ہوگا۔ یہ معلومات فراہم کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ سسٹم صارف کی اہلیت کی تصدیق کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام مطلوبہ معلومات درج کرنے کے بعد &#039;سبمٹ&#039; (Submit) کے بٹن پر کلک کرنا ہوگا۔ اس عمل کے مکمل ہوتے ہی صارف کی تفصیلات اپ ڈیٹ ہو جائیں گی اور وہ ٹیکس چھوٹ کے عمل میں شامل ہو جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اقدام ان صارفین کے لیے انتہائی مفید ہے جو ٹیکس کے دائرہ کار میں نہیں آتے یا جنہیں قانون کے مطابق ایڈوانس انکم ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ اس سے قبل صارفین کو اس حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے الیکٹرک کی جانب سے یہ ڈیجیٹل سہولت صارفین کو دفاتر کے چکر لگانے سے بچاتی ہے اور گھر بیٹھے اپنی معلومات کو درست کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی درست معلومات فراہم کریں تاکہ کسی بھی قسم کی تکنیکی خرابی سے بچا جا سکے۔ غلط معلومات درج کرنے کی صورت میں درخواست مسترد بھی ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے تناظر میں اس طرح کی ٹیکس چھوٹ صارفین کے لیے مالی ریلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے وقتاً فوقتاً ایسے اقدامات کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ یہ سہولت صرف ان صارفین کے لیے ہے جو قانونی طور پر انکم ٹیکس سے استثنیٰ کے اہل ہیں۔ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والے یا ٹیکس دہندگان کے لیے قوانین مختلف ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے الیکٹرک کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات صارفین کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے تاکہ وہ اپنے بلوں میں شفافیت لا سکیں۔ اس عمل کے ذریعے صارفین اپنے مالی معاملات کو بہتر طریقے سے منظم کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسی بھی قسم کی مزید معلومات یا رہنمائی کے لیے صارفین کے الیکٹرک کے ہیلپ لائن مراکز سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔ کمپنی کی ویب سائٹ پر دیگر خدمات بھی آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل دور میں اس طرح کی آن لائن سہولیات کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ انتظامی امور میں بھی بہتری آتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%da%a9%d9%85-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%ab%d9%86%db%8c%d9%b0/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں بارش سے موسم خوشگوار، لیسکو کی بجلی کی طلب میں نمایاں کمی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%b4-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%ae%d9%88%d8%b4%da%af%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%84%db%8c%d8%b3%da%a9%d9%88/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%b4-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%ae%d9%88%d8%b4%da%af%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%84%db%8c%d8%b3%da%a9%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 09:18:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بارش]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کی_طلب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_ویدر]]></category>
		<category><![CDATA[لیسکو]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/115/</guid>

					<description><![CDATA[شہر میں ہونے والی بارش کے بعد بجلی کی کھپت میں کمی سے لیسکو کے سسٹم پر بوجھ کم ہو گیا ہے، تاہم کچھ فیڈرز تاحال متاثر ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور اور اس کے گردونواح میں ہونے والی بارش کے بعد موسم انتہائی خوشگوار ہو گیا ہے، جس کے براہ راست اثرات بجلی کی طلب پر مرتب ہوئے ہیں۔ گرمی کی شدت میں کمی کے باعث شہریوں کی جانب سے بجلی کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسم میں تبدیلی کے ساتھ ہی شہریوں نے پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کا استعمال محدود کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں لیسکو کے سسٹم پر بجلی کا بوجھ کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال بجلی کی ترسیل کے نظام کے لیے بہتری کا باعث بنی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیسکو ذرائع کے مطابق بارش کے بعد بجلی کی مجموعی طلب کم ہو کر 1500 میگاواٹ کی سطح پر آ گئی ہے۔ اس کمی کے بعد لیسکو کے سسٹم پر دباؤ کافی حد تک کم ہو گیا ہے اور کمپنی کو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے سہولت حاصل ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) کی جانب سے لیسکو کو 1600 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ طلب میں کمی کے باعث اب لیسکو کے پاس تقریباً 100 میگاواٹ بجلی سرپلس موجود ہے، جو کہ سسٹم کے استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بارش کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے نظام میں کچھ تکنیکی مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ لیسکو کے 90 سے زائد فیڈرز تاحال متاثر ہیں جن سے منسلک علاقوں میں بجلی کی فراہمی تاحال بحال نہیں ہو سکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیسکو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کے لیے فیلڈ عملہ پوری طرح متحرک ہے۔ تکنیکی ٹیمیں بارش کے بعد پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں تاکہ صارفین کو جلد از جلد بجلی فراہم کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ شہر کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی لایا ہے، جس سے شہریوں نے حبس اور گرمی سے نجات حاصل کی ہے۔ موسم میں تبدیلی کے باعث بجلی کی طلب میں یہ کمی عارضی طور پر برقرار رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بارش کے دوران بجلی کے آلات کے استعمال میں احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں لیسکو کے ہیلپ لائن نمبرز پر رابطہ کریں۔ انتظامیہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیسکو کے ترجمان کے مطابق، بارش کے دوران بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے دور رہنا شہریوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ عملہ متاثرہ فیڈرز کو بحال کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہا ہے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش کی شکایات موصول ہونے کے بعد لیسکو کی ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں۔ بارش کے پانی کے نکاس اور بجلی کے نظام کی بحالی کے لیے متعلقہ محکمے بھی ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ صورتحال کو معمول پر لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق بجلی کی طلب میں یہ کمی ایک معمول کی بات ہے جب موسم اچانک تبدیل ہوتا ہے۔ لیسکو کے پاس موجود سرپلس بجلی اس بات کی علامت ہے کہ سسٹم اب زیادہ بوجھ برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ تکنیکی خرابی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے موسم کے خوشگوار ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ بارش کے بعد شہر کی فضا صاف ہو گئی ہے اور گرمی کا زور ٹوٹنے سے معمولات زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، جبکہ بجلی کی بچت بھی شہریوں کے لیے ایک ریلیف ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیسکو حکام کا مزید کہنا ہے کہ جیسے ہی موسم مکمل طور پر صاف ہوگا، بجلی کی طلب میں دوبارہ اضافہ متوقع ہے۔ تاہم، کمپنی کسی بھی قسم کے لوڈ مینجمنٹ کے لیے تیار ہے تاکہ صارفین کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%b4-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%ae%d9%88%d8%b4%da%af%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%84%db%8c%d8%b3%da%a9%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
