<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بارشیں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%b4%db%8c%da%ba/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 20:26:55 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>بارشیں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>برطانیہ میں سمندری طوفان آسٹن کی تباہ کاریوں سے نظام زندگی معطل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1974/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1974/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 10:36:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکاٹ_لینڈ]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بارشیں]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کی_تعطل]]></category>
		<category><![CDATA[برطانوی_محکمہ_موسمیات]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پروازیں_منسوخ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%85%d9%86%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%b7%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%86-%d8%a2%d8%b3%d9%b9%d9%86-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[برطانیہ میں سال کے پہلے بڑے طوفان آسٹن کے باعث شدید بارشوں اور تیز ہواؤں سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ میں سال کے پہلے بڑے سمندری طوفان آسٹن نے ملک کے مختلف علاقوں میں شدید تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ طوفان کے باعث ہونے والی موسلاادھار بارشوں اور انتہائی تیز ہواؤں نے شہریوں کی مشکلات میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا ہے اور ہر طرف صورتحال تشویشناک بنی ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے طول و عرض میں موسمیاتی صورتحال کے پیش نظر متعدد الرٹ اور وارننگز جاری کی گئی ہیں۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے عوام الناس کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طوفان آسٹن کے دوران چلنے والی طوفانی ہواؤں کی رفتار اسی میل فی گھنٹہ کے قریب ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملک کے جنوب مغربی اور ساحلی علاقوں میں سمندر میں بلند لہریں اٹھ رہی ہیں جبکہ تیز ہوائیں اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کارنوال کے علاقے میں طوفانی ہواؤں نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے جہاں متعدد دیوہیکل درخت جڑ سے اکھڑ گئے ہیں۔ درخت گرنے کے واقعات کی وجہ سے کئی سڑکیں بلاک ہو گئی ہیں اور ٹریفک کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تیز ہواؤں کی زد میں آ کر کئی گاڑیاں بھی جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں، جبکہ سڑکیں بند ہونے سے زمینی آمدورفت کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے راستوں کی بحالی کے لیے امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری رکھی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طوفان کے سبب بجلی کا ترسیلی نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے اور کارنوال سمیت مختلف علاقوں میں نو ہزار دو سو اکاون گھر بجلی کی سہولت سے محروم ہو چکے ہیں۔ بجلی فراہم کرنے والے ادارے نظام کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مصروف عمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خراب موسمی حالات اور خطرناک ہواؤں کے باعث ملکی فضائی آپریشن بھی شدید متاثر ہوا ہے اور متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ برطانوی فضائی کمپنی لوگن ایئر نے خراب موسم کے باعث اپنی اٹھارہ پروازیں منسوخ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برسٹل، مانچسٹر، نیو کے اور ایکسیٹر سمیت ملک کے کئی اہم ہوائی اڈوں پر فضائی ٹرافک کا نظام درہم برہم ہوا ہے۔ مسافروں کو پروازوں کی منسوخی اور تاخیر کے بارے میں بروقت آگاہی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ مزید مشکلات سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ طوفان آسٹن کے بعد ایک اور طاقتور طوفان بوویلو بھی برطانیہ کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس نئے طوفان کے سبب اسکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور شمالی انگلینڈ کے متاثر ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطانوی محکمہ موسمیات کی جانب سے اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے علاقوں میں تیز ہواؤں کے حوالے سے زرد وارننگ جاری کی گئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئے طوفان کے دوران بھی ساحلی علاقوں میں ہواؤں کی رفتار اسی میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہفتے کے اختتام پر بھی ملک بھر میں مزید شدید بارشوں اور خراب موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ متعلقہ اداروں نے شہریوں کو الرٹ رہنے اور محکمہ موسمیات کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کی ہے تاکہ جانی نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طوفان آسٹن کے اثرات ملک کے بیشتر حصوں میں شدت کے ساتھ محسوس کیے جا رہے ہیں جہاں مقامی انتظامیہ الرٹ موڈ پر کام کر رہی ہے۔ سڑکوں سے ملبہ ہٹانے اور بند راستوں کو کھولنے کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ معمولات زندگی کو بحال کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1974/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>رواں برس کا مون سون سیزن سات سال میں گرم ترین ریکارڈ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/weather/839/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/weather/839/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 14:38:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[موسم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکردو]]></category>
		<category><![CDATA[بارش]]></category>
		<category><![CDATA[بارشیں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_موسم]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_بارش]]></category>
		<category><![CDATA[تربت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گرمی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/weather/%d8%b1%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%88%d9%86-%d8%b3%d9%88%d9%86-%d8%b3%db%8c%d8%b2%d9%86-%d8%b3%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق رواں برس مون سون کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں بارشوں کی کمی جبکہ درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں رواں برس کا مون سون کا موسم گزشتہ سات سال کے دوران دوسرا گرم ترین سیزن ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بتائے جا رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں اس سیزن کے دوران درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اور بارشوں کے روایتی پیٹرن میں واضح تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق بلوچستان کا شہر تربت اس سیزن کا سب سے گرم مقام رہا جہاں درجہ حرارت اڑتالیس اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ تربت میں ماہ جولائی کے دوران مختلف تاریخوں میں موسم گرما کے شدید ترین دن ریکارڈ کیے گئے جن میں سات، بارہ اور اکتیس جولائی شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے برعکس ملک کے شمالی علاقوں بالخصوص گلگت بلتستان میں موسم کا مختلف روپ دکھائی دیا جہاں مون سون کے اختتام کے قریب سردی کا عنصر بھی محسوس کیا گیا۔ اسکردو میں ستمبر کے آخری ایام میں درجہ حرارت گر کر چھ ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بارشوں کے حوالے سے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں مون سون کی بارشیں معمول سے کم ہوئیں تاہم کچھ مقامات پر بادل کھل کر بھی برسے۔ سندھ کے صوبے میں بارشوں کی کمی سب سے زیادہ نمایاں رہی جہاں مقررہ اوسط سے اکاون فیصد کم بارشیں ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ بلوچستان میں بھی بارشوں کا تناسب معمول سے چونتیس فیصد کم ریکارڈ کیا گیا جس سے خشک سالی کے اثرات میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح آزاد جموں و کشمیر میں اٹھارہ فیصد، خیبرپختونخوا میں سولہ فیصد اور پنجاب کے خطے میں چار فیصد کم بارشیں ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مجموعی کمی کے برعکس گلگت بلتستان میں صورتحال مختلف رہی جہاں مون سون کے دوران بارشیں معمول سے پانچ فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ تغیرات گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے براہ راست اثرات کا نتیجہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ موسمیات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیزن کے دوران بعض مقامات پر انتہائی شدید نوعیت کی بارشیں بھی دیکھنے میں آئیں۔ لاہور کے ائیرپورٹ پر تئیس جولائی کو ایک ہی روز کے اندر دو سو باون ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ہونے والی اس سالانہ مون سون سمری میں ملک بھر کے موسمی اسٹیشنوں سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں کے اس غیر متوازن نظام کی وجہ سے زرعی شعبے اور زیر زمین پانی کی سطح پر بھی اچھے اور برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری طرف بلوچستان کے علاقوں میں بھی بارشوں کا کم ہونا اور درجہ حرارت کا اڑتالیس ڈگری سے تجاوز کرنا خطے میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی سنگین عکاسی کرتا ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے عوام کو شدید گرمی کی لہر اور پانی کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شمالی علاقوں بالخصوص گلگت بلتستان میں بارشوں کا تناسب زیادہ ہونا اور اسکردو جیسے مقامات پر پارہ گرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے مختلف خطوں میں موسمی تغیرات کے اثرات یکساں نہیں ہیں۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین ان تمام موسمیاتی عوامل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ بروقت پیشگوئی کی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/weather/839/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نیپال میں تباہ کن سیلاب، گورکھا ضلع میں پورا بازار بہہ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/274/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/274/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 09:57:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بارشیں]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پہاڑی_تودہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سلیری_بازار]]></category>
		<category><![CDATA[سیلاب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قدرتی_آفات]]></category>
		<category><![CDATA[کھٹمنڈو]]></category>
		<category><![CDATA[گورکھا_ضلع]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%86%db%8c%d9%be%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%a8%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%86-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8%d8%8c-%da%af%d9%88%d8%b1%da%a9%da%be%d8%a7-%d8%b6%d9%84%d8%b9-%d9%85%db%8c-2/</guid>

					<description><![CDATA[نیپال کے گورکھا ضلع میں منہ زور سیلابی ریلے نے سلیری بازار کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">نیپال میں ایک بار پھر منہ زور سیلاب نے شدید تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں گورکھا ضلع کا پورا بازار سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ ہولناک واقعہ 12 اکتوبر 2026 کو پیش آیا جب اچانک آنے والے سیلاب نے ہر چیز کو تہس نہس کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کا یہ خطہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مسلسل قدرتی آفات بالخصوص سیلاب اور زلزلوں کی زد میں رہا ہے۔ تازہ ترین سیلابی ریلے نے متعدد اضلاع میں شدید نقصان پہنچایا ہے اور نظامِ زندگی کو بری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق پہاڑی تودہ گرنے کے باعث دریا کا قدرتی بہاؤ رک گیا تھا جس کے نتیجے میں انتہائی خطرناک سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔ اس اچانک رکاوٹ کے بعد پانی کا دباؤ بڑھا اور ریلے نے نچلے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیلاب کی اس تباہی کے نتیجے میں گورکھا ضلع کا معروف سلیری بازار مکمل طور پر سیلابی ریلے میں بہہ گیا اور نام و نشان مٹ گیا۔ اس کے علاوہ قریبی جگت بازار میں بھی بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیلابی ریلے نے متاثرہ علاقوں میں قائم کاروباری مراکز، دکانوں اور نجی املاک کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے۔ تجارتی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشتعل پانی کے ریلے نے نہ صرف بازار بلکہ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی مکانات زمین بوس ہو گئے۔ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے اپنے سروں کی چھت سے محروم ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تباہ کاریوں کا یہ سلسلہ یہیں نہیں روکا بلکہ سیلابی ریلے نے علاقے میں قائم دو معلق پلوں کو بھی بہا کر لے گیا۔ ان پلوں کے ٹوٹنے سے مختلف دیہات کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ ایک مقامی آبی برقی پراجکٹ کو بھی سیلاب کے پانی کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس پراجکٹ کے متاثر ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے اور اندھیرا چھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ اور ریسکیو ذرائع کے مطابق خوش قسمتی سے تاحال کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جانی نقصان نہ ہونا ایک معجزے سے کم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ علاقوں میں اس وقت نقصانات کا تخمینہ لگانے اور سروے کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی ٹیمیں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تباہ کن سیلاب اس وقت آیا جب علاقے کے اکثر مکین گہری نیند میں سو رہے تھے۔ اگر بروقت احتیاطی تدابیر نہ کی جاتیں تو جانی نقصان کا خطرہ بہت زیادہ ہو سکتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی انتظامیہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکام کو پہلے ہی موسمی حالات کی وجہ سے سیلاب آنے کا خدشہ لاحق تھا۔ اسی پیش نظر مقامی آبادی کو بروقت الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطرہ محسوس کرتے ہوئے زیادہ تر افراد پہلے ہی محفوظ مقامات کی تلاش میں اونچائی والے علاقوں میں منتقل ہو چکے تھے۔ اس پیشگی انخلا کی وجہ سے ایک بڑا انسانی المیہ رونما ہونے سے بچ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیپال کے اس پہاڑی خطے میں حالیہ برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ شدید بارشیں اور گلیشئرز کے پگھلنے کے عمل نے سیلاب کے خطرات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ نیپال اور متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سڑکوں کی بحالی اور متاثرین کے لیے عارضی خیمہ بستیوں کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/274/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
